ہزارہ کے دکھ ،عام آدمی کے دکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آخر کار وزیر اعظم عمران خان کو فتح ملی، انھوں نے اپنی رٹ قائم کی، ہزارہ کی لاشوں سے بلیک میل نہ ہوئے۔

میتیں تو میتیں تھیں، آخر دفن ہونا تھیں۔ میتیں دفن کر دی گئیں لیکن ایک حساس معاملے پہ ایک بار پھر نہایت بھدے انداز سے بات کی گئی۔ بلیک میلنگ ایک نہایت برا فعل ہے۔ اس سے مراد کسی کی دکھتی رگ دبا کر فائدہ حاصل کرنا ہے۔ اس فعل کو مقتولین کے لواحقین سے منسوب کرنا برا تھا۔ چاہے بعد ازاں اس جملے کو حسب اختلاف کی طرف موڑ دیا گیا لیکن حرف غلط، کمان سے نکلے تیر کی طرح اب واپس نہیں آ سکتا۔

ہمارے وزیراعظم صاحب، خدا، رسول اور روحانیت پہ یقین رکھتے ہیں۔ تسبیح پھیرتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو اپنے ہر بیان سے بالکل الگ جا کے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

مذہبی ’اقلیت‘ نہ ہونے کے باوجود ہزارہ قبیلے کی کہانی ویسی ہی ہے جیسی روہنگیا یا کسی بھی اقلیت کی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ ایک پہاڑ کے دامن میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور ان پہ زمین تنگ ہو چکی ہے۔ اس کی وجوہات جو بھی رہی ہوں لیکن بہر حال یہ انسان ہیں۔

کسی بھی ملک میں آباد اقلیت اس ملک کی اکثریت اور اس کے حکمرانوں کے ظرف کا امتحان ہوتی ہے۔ جن ممالک میں رنگ،نسل اور مذاہب کی بنا پہ لوگوں کے محلے الگ ہوتے ہیں انہیں فلاحی ریاستیں نہیں سمجھا جاتا۔

اقلیتوں سے نفرت، ان پہ حملے کرنا بھی ہر جگہ تنگ دل انسانوں کا شیوہ ہے۔ اس کی مثالیں ہمیں حالیہ تاریخ میں ہر طرف ملتی ہیں لیکن ان معاملات کو ارباب حل و عقد کس طرح حل کرتے ہیں اس کی سب سے بڑی مثال نیوزی لینڈ میں مسجد پہ حملے کے بعد جیسنڈا آرڈن کا ردعمل تھا۔

وہاں تو زبان، رنگ، نسل، مذہب، کچھ بھی نہ ملتا تھا۔ تب بھی تسلی کے دو بولوں نے ملک کے اندر اور باہر ملک کی توقیر بڑھائی۔ وہی دو بول اگر آج ہمارے وزیراعظم کے منہ سے ادا ہو جاتے تو۔۔۔۔

یہ ہی وہ ’تو‘ ہے، جہاں آ کے ہماری معیشت، ہماری خارجہ پالیسی، ہماری داخلہ پالیسی سب ٹھٹھک جاتی ہیں۔ اگر یوں ہو جاتا تو ووں ہو جاتا۔ اگر اس وقت فلاں شخص یہ کر لیتا تو آج یہ نہ ہوتا۔ لیکن جب بھی کوئی ایسا فیصلہ کن موڑ آیا تب ہی وہی کیا اور کہا گیا جو نہ کہا جاتا تو بہتر ہوتا۔

بہر حال، وزیراعظم جیت گئے، مظاہرین ہار گئے۔ وزیر اعظم کی شرط مان لی گئی اور مقتولین کی تدفین کر دی گئی۔ وزیراعظم صاحب حسب وعدہ پہنچے اور ،حسب توقع وہی کہا جس کی امید تھی۔

عام آدمی اور وزیراعظم میں فرق واضح کیا، اپنے آنے کا احسان جتایا، بڑی بڑی باتیں کیں اور رخصت ہوئے۔ ہزارہ قبیلے کی زندگی ویسی کی ویسی رہے گی۔ وہی خوف، وہی معاشرتی تنہائی، وہی روزگار کے غم اور وہی موت کے سائے جو ہر گلی کوچے میں ’نامعلوم افراد‘ کی صورت موجود ہیں۔

ہزارہ جوان پاکستان سے جان بچا کر بھاگتے ہیں اسی طرح جیسے روہنگیا اور شامی مسلمان بھاگتے ہیں۔ مہاجروں کی کہانیاں ایک سی ہوتی ہیں۔ ان کے دکھ ایک سے ہوتے ہیں اور ان کے دکھ دوسرے مہاجر ہی سمجھ سکتے ہیں جن پہ ان کی اپنی زمین ہی تنگ کر دی جاتی ہے۔

ہزارہ قبیلے کے نصیب میں ہجرت در ہجرت لکھ دی گئی ہے۔ یہ ’نا معلوم‘ جب ’معلوم‘ ہوں گے تب تک جانے کتنے لوگ مارے جا چکے ہوں گے، کتنے اپنی موت سے بھاگتے بھاگتے مر جائیں گے اور جو زندہ رہ جائیں گے ان کی اس زندگی کو ہم کیا کہیں گے؟

وزیراعظم کی سب باتیں درست ہیں، کم سے کم انھوں نے سچ تو کہا کہ ایک وزیراعظم اپنے ملک کے مظلوموں کے آنسو پونچھنے تب ہی آتا ہے جب اسے مناسب لگتا ہے، جبکہ ایک عام آدمی جب چاہے آ سکتا ہے۔

اصل میں یہ ہی ان کی ریاست کا اصل ماڈل ہے، جس میں سب لوگ برابر مگر کچھ لوگ کچھ زیادہ برابر ہیں۔ باقی سب حاشیہ آرائی ہے۔ یہ سچ ہے اور خان صاحب کے منہ سے یہ سچ نکل ہی جاتا ہے۔

وزیراعظم صاحب پہنچ گئے، اچھا ہوا، نہ جاتے تو بھی ہم کیا کر لیتے؟ عام آدمی اور وزیراعظم میں بہت فرق ہوتا ہے اور جس قدر یہ فرق بڑھتا جاتا ہے، وزیراعظم کی مقبولیت کم ہوتی جاتی ہے۔ عام آدمی کو مقبولیت کی ضرورت نہیں ہوتی، وزیراعظم عوام کی رائے کا محتاج ہوتا ہے۔

کاش کوئی خان صاحب کو یہ بات بھی سمجھا دے۔ مگر سمجھانے والے انہیں جو پٹیاں پڑھا رہے ہیں وہ آگے چل کے گلے کے پھندے اور سانپ کے منہ کی چھچھوندر بن جاتی ہیں۔ آہنی ہاتھ اور حکومتی رٹ قائم کرنے کی باتیں منتخب نمائندوں کے منہ سے اچھی نہیں لگتیں۔ خان صاحب اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم سے کم اچھی اچھی باتیں ضرور کر لیا کریں۔ زخموں پہ مرہم نہیں رکھ سکتے تو نمک پاشی کی کیا ضرورت ہے؟

ایک اور بات جو خان صاحب سے زیادہ کون جانتا ہو گا کہ خون ناحق، حکومتوں کو لے ڈوبتا ہے۔ مظلوموں کی لاشیں دفن بھی کر دی جائیں تو وہ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔ خون کے دھبے کسی بھی ملک کے وزیراعظم کے دور حکومت پہ لگنے والا سب سے بڑا داغ ہوتا ہے اور یہ داغ بالکل بھی اچھا نہیں ہوتا۔ آستینوں میں سانپ نہ پالیں، مبادا یہ کل کو اژدھے بن جائیں اور آپ جو تریاق ڈھونڈ کے بیٹھے ہیں وہ دھرا رہ جائے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •