اداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے

لاک ڈاون کو تیسرا ہفتہ ہونے کو آیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ کارِ جہاں جسے ہم دراز سمجھتے تھے کچھ ایسا دراز بھی نہیں۔ سارا دن شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے، سارا ہفتہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور سارا سال ایک ملک سے دوسرے ملک بھاگے بغیر بھی زندگی گزر جاتی…

Read more

خود سے ملنے کے دن!

چھوت کی بیماری کووڈ 19 پاکستان میں آ چکی ہے اور پھیل رہی ہے۔ روز سینکڑوں نئے مریضوں کی تشخیص ہو رہی ہے ان میں ابھی زیادہ تر وہ ہیں جو حال ہی میں کسی دوسرے ملک سے آئے ہیں۔ ایران سے آئے ہوئے زائرین میں بھی بڑی تعداد میں متاثرین شامل ہیں۔ ملک کے…

Read more

وبا کے دنوں میں محبت

پاکستان سمیت پوری دنیا اپنے اپنے گھروں میں سمٹی بیٹھی ہے۔ موت، گلیوں بازاروں میں دندناتی، ایک ملک سے دوسرے ملک، ایک براعظم سے دوسرے براعظم, دھمال ڈالتی، دانت نکوسے پھر رہی ہے۔ چین کے شہر ووہان کے ایک بازار سے پھیلنے والا، کورونا وائرس اب ایک عالمی وبا بن چکا ہے۔ سکولوں کالجوں، یونیورسٹیوں…

Read more

وہ صبح کبھی تو آئے گی

سنتے آئے ہیں کہ قدیم زمانے میں جادوگر، منتر پڑھ کے انسان کو جانور بنا دیا کرتے تھے، کوئی اسم پھونک کے پورے شہر کو پتھر بنادیتے تھے، ’کھل جا سم سم‘ کے چار لفظ پہاڑ میں دراڑ ڈال دیا کرتے تھے ۔ تشکیک پسند فطرت کو لگتا تھا یہ سب کہانیاں ہیں، مگر ہر کہانی فکشن نہیں ہوتی کچھ کہانیاں حقیقت بھی ہو تی ہیں۔

’میرا جسم، میری مرضی‘ وہ منتر ہے کہ جس نے پل بھر میں کیسے کیسے لوگوں کے چہروں سے نقاب نوچ کر اصل چہروں کو برہنہ کر دیا۔ ادہان چر کے بھاڑ سے کھل گئے اور زبانیں کترنی کی طرح چلنے لگیں۔ مغلظات کے طوفان ابل پڑے اور صدیوں سے عورت کا حق مارے، اس کی طاقت سلب کئے اس کے سر پہ پدر شاہی نظام کی بساط بچھائے عفریت نما لوگوں کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔

Read more

دلی دیکھی؟ اور دیکھو گے؟

دو چھتی میں جست کے سیاہ روغن سے رنگے ٹرنک میں بڑا سا ہضمی قفل لگا ہوا تھا۔ جسے سو جتنوں سے کھولنے کے بعد صندوق سے نکلی بھی تو ایک شکستہ، سرورق پھٹی کتاب۔ اس کتاب کے دوسرے صفحے پر یہ تحریر لکھی تھی۔

’دِلی دل دینے کے قابل تھی مگر ہم ہی دل والے نہ تھے۔‘

یہ کتاب ہمارے ابا کے رشتے کے ماموں مرزا اجمل بیگ کے سامان سے نکلی۔ لکھنے والی کوئی خاتون تھیں۔

یہ وہ زمانہ تھا کہ دلی کے بارے میں مجھے بس اتنا معلوم تھا کہ جو بچہ بڑوں کی محفل میں زیادہ شور مچاتا، کوئی نہ کوئی پکڑ کر اسے ’دلی دکھا دیتا۔‘ یہ دلی دکھانا کیا تھا؟ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنھوں نے بچپن میں دِلی دیکھی ہو۔

Read more

ادبی میلے اور ٹھیلے

پچھلے چند برس سے دنیا بھر میں عموماً اور ہمارے ملک میں خصوصاً ادبی میلوں اور ان میلوں میں لگے ٹھیلوں کا رواج روز افزوں ہے۔ چند برس پہلے یہ میلے بپا ہونے شروع ہوئے تو ہمارے کان کھڑے ہوئے۔ نو آموزوں کے کان یوں بھی بات بے بات کھڑے ہو جاتے ہیں کھڑکنے جو…

Read more

ترکی ،سعودی عرب اور دو کشتیوں کا سوار

دنیا کا یہ قاعدہ ہے کہ بدلتی رہتی ہے۔ سیاست کے پلڑوں میں وقت کے باٹ ایسے توازن بگاڑتے بناتے ہیں کہ کبھی دائیں طرف جھکاؤ ہوتا ہے تو کبھی بائیں طرف۔ تاریخ کی کتابوں میں کئی کئی سو برس صفحہ پلٹنے پہ گزر جاتے ہیں اور جب یہ برس گزارنے بیٹھو تو نسلیں لگ جاتی ہیں اور ایک قدم غلط اٹھ جائے تو نسلیں بھٹک جاتی ہیں۔

ترکی کے صدر طیب اردوغان اپنا دو روزہ دورہ مکمل کر کے جا چکے ہیں۔ ان کا یہ دورہ آج کے حالات کے تناظر میں بہت اہم ہے۔ آج دنیا کے نقشے پہ نظر ڈالیں تو خلیجی ممالک سے لے کر افغانستان تک بارود کا دھواں اور گولیوں کی جھڑی نظر آتی ہے۔

Read more

منا بھاگ گیا، ‘توں ماما لگدا ایں؟’

دو ایک روز پہلے میں اپنے شریر بھانجے کو لے کر بازار گئی۔ گو میں نے اپنے تئیں کس کر اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا مگر آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ایک پیار کرنے والی خالہ، اپنے معصوم اور شریر بھانجے کا ہاتھ کتنی سختی سے پکڑ سکتی ہے؟ بچہ بار بار ہاتھ…

Read more

کورونا وائرس، جنگل آپ کے تعاقب میں ہے

چین میں کورونا وائرس پھیلنے سے ہونے والی اموات روز بڑھتی جا رہی ہیں۔ ہزاروں پاکستانی چین میں پھنس چکے ہیں اور پوری دنیا دم سادھے اس موت کو دیکھ رہی ہے۔ موت جو ہر طرف ہے مگر نظر نہیں آ رہی۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ کورونا وائرس جنگلی چمگادڑوں اور دیگر جنگلی…

Read more

راجہ کے گھر موتیوں کا کال ؟

پنجاب میں اکثریت کاشتکار ہیں۔ ہاڑی ساونی، گندم کی فصل سنبھالی جاتی ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں کے ہاں بھی بھڑولے ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ پہ جہیز کا ایک اہم جز، اٹی، مٹی اور پیٹی کا سیٹ ہوتا ہے، جس میں سے دو اول الذکر اشیا، بالترتیب گندم اور آٹا رکھنے کے کام آتی ہیں۔ ہڑپہ اور…

Read more