پھر چراغ لالہ سے۔۔۔

29 نومبر کو وہ لال رنگ، جسے دفن ہوئے اب تو چار دہائیاں بیت چکی تھیں، اچانک پاکستان کے گلی کوچوں، شاہراہوں پہ لالہ کی خود رو کھیتیوں کی طرح لہرانے لگا۔ شگفتہ چہروں والے نوجوانوں کے ساتھ سفید بالوں والے وہ لوگ بھی اس میں شامل تھے جو اپنی جوانی میں ’سرخے‘ یا کامریڈ…

Read more

اب کیوں نکالا؟

’پیارے بچو! پھر یوں ہوا کہ عمرو عیار نے اپنی زنبیل سے سفوف عیاری نکال کر پہرے داروں کو سنگھایا۔ سب کے سب جہاں تھے وہیں کے وہیں بت بن کر ساکت ہو گئے۔ عمرو نے زنبیل سے روغن عیاری نکالا، اپنے اور شہزادے کے منہ پہ ملا، جس سے شہزادہ ایک قریب المرگ بوڑھے…

Read more

سیاست کا عہد کنٹینر!

ملک کی سیاسی سٹیج پر ہڑبونگ مچی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کا نعرہ لے کر اٹھے اور بڑے بڑے بت زمیں بوس نہ بھی ہو ئے تو لرز ضرور گئے۔ لرزے اس لیے کیونکہ ان کے پائیدانوں تلے، کئی برسوں کے غلط فیصلوں کی سیلن، اقربا پروری کی کیچڑ، سمجھوتوں کی دلدل…

Read more

دھرنے کا موسم آ گیا!

لیجیے صاحبو! دھرنے کا موسم آ گیا، مولانا فضل الرحمان کا دھرنا سامنے دھرا ہے اور سیاسی مبصرین نے الٹی گنتی گننا شروع کر دی ہے۔ ہم چونکہ ریاضی میں نہایت کمزور واقع ہوئے ہیں اس لیے سیدھی گنتی بھی بہت ٹھہر ٹھہر کر گِن رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو آئے سال، سوا…

Read more

نوبل انعام برائے ادب تو ہمارا تھا

گذشتہ ہفتے ادب کا نوبل انعام پانے والے دو ادیبوں کے نام کا اعلان ہوا تو پاکستان کا ہر لکھنے والا ایسے خفا ہو گیا جیسے یہ انعام اسی کو ملنا تھا۔ حد یہ کہ وہ برگزیدہ ادیب جنھوں نے عمر بھر سوائے انجمن ستائش باہمی چلانے کے اور لابی لابی کھیلنے کے کچھ نہ…

Read more

مصلحت کی سرحد کے اس پار

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آج کرفیو کو دو ماہ ہو گئے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز بھی معطل ہیں۔ گاہے گاہے جو خبریں کان میں پڑتی ہیں وہ کچھ اچھی نہیں۔ عالمی ضمیر نامی وہم بھی خیر سے دور ہوا۔ پاکستان جس حد تک احتجاج کر سکتا تھا کر لیا۔ اقوام متحدہ کی…

Read more

ماحول بچائیے!

20 ستمبر کو دنیا بھر میں ماحول کو بچانے کے لیے احتجاج کیا گیا۔ یہ احتجاج پاکستان میں بھی ہوا۔ شرکا، ظاہر ہے جن میں سول سوسائٹی کے لوگ آگے آگے تھے، بڑی شدومد سے ماحول کی تبدیلی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ ان کی باتوں کا مقصد جو کچھ میں اخذ کر…

Read more

سارنگ، نارنگ!

دو تین سال پہلے کا ذکر ہے، ایک رات گھر جاتے ہوئے ایک گیدڑ عین گاڑی کے سامنے آگیا، دراصل یہ ایک مادہ گیدڑ تھی اور اس کے ساتھ اس کے دو بچے بھی تھے۔ وہ گاڑی کی روشنی میں چند لمحے ہراساں سی کھڑی رہی پھر بھاگ کے پپیتے کے باغ میں گھس گئی۔ پیچھے پیچھے دونوں بچے۔

عقل مندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ میں ان کو بھول بھال جاتی۔ مگر مجھے تجسس نے گھیرا اور میں چپکے چپکے ان کے پیچھے باغ میں پہنچ گئی۔ وہ اماوس کی رات تھی مگر آسمان اتنا روشن تھا کہ اگر کوئی ہل چل ہوتی تو نظر آجاتی۔ یوں بھی پپیتے کا نہ تو اتنا گھن ہوتا ہے اور نہ ہی سایہ۔ اس لیے سارا باغ ہی نظر کے سامنے تھا۔

Read more

حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب!

پچھلے دنوں ایک ہوائی سی اڑی، یقیناً کسی دشمن نے اڑائی ہو گی۔ دشمنوں کو اس کے علاوہ کوئی اور کام نہیں، بیٹھے بیٹھے ہوائیاں اڑایا کرتے ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ ا ن کی اڑائی، ہوائیاں، ہمارے چہروں پہ چھوٹ جاتی ہیں اور پھر دشمن گنگناتے پھرتے ہیں، ؂ یہ اڑی اڑی سی رنگت،…

Read more

کراچی مر رہا ہے!

کراچی میرے ذہن میں ایڈگر ایلن پو کے ایل ڈوراڈو جیسا ایک شہر تھا۔ سمندر کے کنارے بسا شہر جہاں سنا تھا کہ راتیں جاگتی ہیں، شریفے، پپیتے اور ناریل کے درخت جھومتے ہیں۔ سمندری کھاڑیوں کے کناروں پر سمندری بگلے مچھلیوں پر تاک لگائے بیٹھے ہوتے ہیں، جہاں موہٹہ پیلس اور قائد اعظم کا…

Read more