راجہ کے گھر موتیوں کا کال ؟

پنجاب میں اکثریت کاشتکار ہیں۔ ہاڑی ساونی، گندم کی فصل سنبھالی جاتی ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں کے ہاں بھی بھڑولے ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ پہ جہیز کا ایک اہم جز، اٹی، مٹی اور پیٹی کا سیٹ ہوتا ہے، جس میں سے دو اول الذکر اشیا، بالترتیب گندم اور آٹا رکھنے کے کام آتی ہیں۔ ہڑپہ اور…

Read more

ٹڈی دل آپ کو کھا جائے گا!

گذشتہ برس ٹڈی دل افریقہ سے اٹھا، ایتھوپیا سے چلا، عمان سے ہوتا ہوا ایران اور وہاں سے چاغی اور پھر سندھ پہنچا، عین اسی طرح جیسے آبی پرندوں کے جھلڑ ایک خطے سے دوسرے خطے میں سفر کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ٹڈی دل مہمان پرندہ نہیں ایک آفت ہے اور ہم…

Read more

خاموشی کی زبان

پاکستان تو بنتے ہی ہائی جیک ہو گیا اور انڈیا کو ہائی جیک ہونے میں 28 سال لگے۔ بابری مسجد کے واقعے نے انڈیا کو بھی پاکستان کے ساتھ لا کر کھڑا کر دیا۔ اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چوٹی سے کھسکا یہ ایک سنگریزہ کیسے برف کا طوفان لائے گا مگر…

Read more

ذہنی مریضوں کو تلاش کیجیے!

مانسہرہ میں ایک دس سالہ بچے کے ساتھ مدرسے کے منتظم کی مبینہ بد فعلی کے واقعے نے ایک بار پھر ہماری توجہ معاشرے کے بیمار جنسی رویوں کی طرف مبذول کرائی۔ نہ یہ سانحہ نیا ہے نہ اس کی تفصیلات نئی۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا، اخبارات میں اس نوعیت کی خبریں پڑھتی…

Read more

مولا نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا!

سردی، دھند، گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے درمیان، ٹھنڈ سے تھر تھر کانپتے خصوصی عدالت کا فیصلہ سنا ۔ ایک لمحے کو لگا کہ زمین اپنے محور پہ الٹی گھوم گئی ہو۔ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کا وہ دن آنکھوں کے آگے آ گیا جب بوٹوں کی دھڑدھڑاہٹ سے سول اداروں کے…

Read more

وکلا کو غصہ کیوں آیا؟

پی آئی سی میں جہاں پھول لے جانا بھی منع ہے ہمارے وکیل بھائی پتھر، ڈنڈے اور پستول لے کر پہنچ گئے۔ مبینہ طور پر ایک مریضہ کا آکسیجن ماسک اتارا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی اور ایسا بلوہ کیا کہ ڈاکٹروں کے تو کیا سب مریضوں کے ہوش بھی ٹھکانے آ…

Read more

کھوجی کی بھی تو مجبوریاں ہوتی ہیں!

پرانے وقتوں میں، پنجاب میں مویشی چوری عام تھی۔ پنجاب کے دریا اتھرے ہوئے تھے اور ابھی ان پر کیمیائی فضلے کا عذاب نازل نہ ہوا تھا نہ ان پر بندہی باندھے گئے تھے اور نہ ہی ان کا بٹوارا ہوا تھا۔ ان اتھرے ہوئے دریاؤں کے کنارے دلدلی جنگل تھے اور سرکنڈوں کے جھنڈ۔…

Read more

پھر چراغ لالہ سے۔۔۔

29 نومبر کو وہ لال رنگ، جسے دفن ہوئے اب تو چار دہائیاں بیت چکی تھیں، اچانک پاکستان کے گلی کوچوں، شاہراہوں پہ لالہ کی خود رو کھیتیوں کی طرح لہرانے لگا۔ شگفتہ چہروں والے نوجوانوں کے ساتھ سفید بالوں والے وہ لوگ بھی اس میں شامل تھے جو اپنی جوانی میں ’سرخے‘ یا کامریڈ…

Read more

اب کیوں نکالا؟

’پیارے بچو! پھر یوں ہوا کہ عمرو عیار نے اپنی زنبیل سے سفوف عیاری نکال کر پہرے داروں کو سنگھایا۔ سب کے سب جہاں تھے وہیں کے وہیں بت بن کر ساکت ہو گئے۔ عمرو نے زنبیل سے روغن عیاری نکالا، اپنے اور شہزادے کے منہ پہ ملا، جس سے شہزادہ ایک قریب المرگ بوڑھے…

Read more

سیاست کا عہد کنٹینر!

ملک کی سیاسی سٹیج پر ہڑبونگ مچی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کا نعرہ لے کر اٹھے اور بڑے بڑے بت زمیں بوس نہ بھی ہو ئے تو لرز ضرور گئے۔ لرزے اس لیے کیونکہ ان کے پائیدانوں تلے، کئی برسوں کے غلط فیصلوں کی سیلن، اقربا پروری کی کیچڑ، سمجھوتوں کی دلدل…

Read more