ہزار گنجی نیوزی لینڈ کا علاقہ نہیں!

جمعے کی صبح کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں واقع سبزی منڈی میں خود کش دھماکہ ہوتا ہے اور 20 سے زائد افراد ہلاک اور 48 کے قریب زخمی ہو جاتے ہیں۔ جمعے کا دن ہے اور یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں آٹھ ہزارہ افراد بھی شامل تھے۔ بظاہر یہ حملہ ایک بار پھر ہزارہ برادری ہی پہ کیا گیا ہے۔ہزارہ برادری، کوئٹہ میں دوسری اینگلو افغان جنگ کے زمانے سے آباد ہے۔ وسطی افغانستان میں بسنے والے اس قبیلے پہ خطے کے سیاسی حالات کے باعث ایسی آفات آتی رہیں کہ یہ پہلے 1880 کی دہائی میں اپنے آبائی علاقے ہزارہ جات سے ہجرت کر کے کوئٹہ میں آباد ہوئے پھر آنے والے وقتوں میں جوں جوں حالات بگڑتے گئے ان مہاجروں کی تعداد بڑھتی گئی، آج اندازاً آٹھ لاکھ کے قریب ہزارہ کوئٹہ کے علاقہ ہزارہ ٹاؤن، مہر آباد اور علمدار روڈ پہ آباد ہیں۔

Read more

لاہور اور پشاور کی دو لڑکیاں، ایک کہانی

بہار آتی ہے تو لاہور پر ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے۔ زمین کے کونے کونے سے روئیدگی پھوٹتی ہے اور اینٹ اینٹ سے سبزہ جھلکنے لگتا ہے۔ آموں میں بور پڑتا ہے اور بکائین کے پھولوں کی پاگل کر دینے والی خوشبو حواس پر سوار ہونے لگتی ہے۔ اچھے وقتوں میں اس موسم میں لاہور کا آسمان پتنگوں سے ڈھکا ہوا ہوتا تھا۔چونکہ اچھے دن ہمیشہ باقی نہیں رہتے اس لیے وہ دن بھی گزر گئے۔ اب لاہور کے آسمان پہ چیلیں اڑتی ہیں اور ٹی وی چینلز پر دل دہلا دینے والی خبریں چلتی ہیں۔ ایسی خبریں جن کو سن کر یہ سمجھ آ جاتا ہے کہ بسنت کا تہوار کیوں ختم کیا گیا۔لاہور ہی کی رہائشی ایک لڑکی کو اس کے شوہر نے سر کے بال مونڈ کر تشدد کا نشانہ بنایا اس لیے کہ وہ اس کے دوستوں کے سامنے ڈانس نہیں کر رہی تھی۔

Read more

پروفیسر صاحب، مر جائیے!

صادق ایجرٹن کالج کے پروفیسر خالد حمید کو ان ہی کے ایک طالبعلم نے درسگاہ ہی میں چھری کے وار کر کے قتل کر دیا۔ پروفیسر مرحوم، انگریزی کے استاد تھے۔ ملزم کے بقول ‘اسلام کے خلاف بولتے تھے۔۔۔ روز بولتا تھا، بہت زیادہ توہین کرتا تھا ‘ جب اس سے پوچھا گیا کہ اگر ایسا تھا تو تم نے شکایت کیوں نہیں کی؟ قانون موجود ہے۔لڑکے کا جواب صاف تھا، ‘ کون سا قانون؟ قانون تو گستاخوں کو رہا کرتا ہے۔’

Read more

اسلامو فوبیا کی بنیاد کیسے پڑی

نیوزی لینڈ کے سانحے پر پوری دنیا دکھی ہے۔ 50 جیتے جاگتے انسان لمحوں میں جان سے مار دیے گئے۔ اسی پر بس نہیں، اس قتلِ عام کو اس طرح نشر کیا گیا کہ دنیا بھر کے تارکینِ وطن اور خصوصاً مسلمانوں میں دہشت پیدا ہو۔ملزم ایک 28 سالہ سفید فام ، نسل پرست شخص ہے جو مبینہ طور پہ ‘ اسلامو فوبیا ‘ کا شکار نظر آتا ہے۔ابتدائی تفتیش سے اس کا ایک ذاتی مینی فیسٹو بھی نظر آتا ہے۔ گویا وہ کوئی نفسیاتی مریض نہیں بلکہ باقاعدہ ایک نظریے کا بانی یا حامی ہے جس کے تحت، مسلمان تارکینِ وطن کو واپس ان کے ملکوں میں دھکیل دیا جائے۔

Read more

ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

بارش ژالہ باری اور اس بیچ میں سنہری دھوپ سے بھرا مارچ کا پہلا ہفتہ پھر آیا، آٹھ مارچ کا دن آیا اور پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ‘عورت مارچ ‘ ہوا۔اس مارچ میں عورتوں، لڑکیوں اور بچیوں کے ساتھ کچھ مرد فیمنسٹ بھی گتے اٹھائے شریک تھے۔ یہ گتے، عام گتے نہ تھے، ہانکا کرنے کے کنستر تھے۔آپ میں سے جن لوگوں کو شکاریات سے دلچسپی ہے اور انھوں نے جم کاربٹ جیسے شکاریوں کی داستانیں پڑھ رکھی ہیں، انہیں یقیناً ‘ ہانکے‘ کی تکنیک کے بارے میں بخوبی علم ہو گا۔

Read more

جنگ کے دنوں میں محبت !

ایک بار پھر کشمیر کے ناسور سے اٹھی ٹیس، ایک درد بن کے پورے خطے پہ چھائی ہے۔ عوام چلا رہے ہیں، 'جنگ نامنظور'۔ بھارتی چینل چلا رہے ہیں، مار دو، گرا دو، نیست و نابود کر دو۔ فوجیں دونوں طرف سرحدوں پہ پرے جمائے کھڑی ہیں اور جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ جھڑپیں ،پتھروں کے…

Read more

دوستی جرم نہیں دوست بناتے رہیے!

سیاسی ماہرین آج کل جنگ کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کو تو جنگی جہاز سنائی اور دکھائی بھی دے گئے۔ جنگ کے باقی شائقین کے لیے سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا نے بھی خوب اہتمام کر رکھا ہے۔ بقول شخصے ‘رونق’ لگی ہوئی ہے اور ‘شغل میلہ’ جاری ہے۔

یہ سارا قضیہ، پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے اور اس کے نتیجے میں مارے جانے والے انڈین سپاہیوں کی موت کے بعد شروع ہوا۔

انڈیا سے لمحہ بھر کی تاخیر کے بغیر پاکستان پر الزام لگا دیا گیا۔ عقل کہتی ہے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان، سعودی ولی عہد کے استقبال کی تیاری کرنے اور خود پر لگے، مختلف طرح کے داغ دھونے میں مصروف تھا، یہ حملہ کرانا کوئی دانش مندی نہیں تھا۔

اس حملے سے اگر کسی کو فائدہ ہوتا ہے تو وہ مودی حکومت ہے۔

Read more

مائی نیم از انور اینڈ آئی ایم ناٹ اے ٹیررسٹ !

پلوامہ میں بھارتی ریزرو فورس کے کانوائے پہ خودکش حملہ ہوا اور کم وبیش پچاس فوجی مارے گئے۔ ہمیں فوجیوں کے مرنے پہ ہمیشہ بہت دکھ ہوتا ہے ۔ چاہے سرحد کے ادھر مریں یا ادھر۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک فوجی تیار کرنے میں ، ہر ملک و قوم کے غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی شامل ہوتی ہے اور وہ یہ فوجی اس لئے تیار کرتے ہیں کہ جیت کر سینے پہ تمغہ سجا کر گھر آئیں ۔ اس طرح ایک نادیدہ دشمن کی بھینٹ نہ چڑھیں ، دشمن بھی وہ جو خود کو اس جرم کی سزا پہلے ہی دے چکا ہوتا ہے ۔

کشمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے میں اتنی جذباتی ہو جاتی ہوں کہ زمینی حقائق تک سے نظریں چرا جاتی ہوں۔ میں تو خیر برصغیر کے ان کروڑوں باشندوں میں سے ہوں جو سرحد کے ادھر اور ادھر پتا نہیں کس کی چھیڑی ہوئی جنگیں لڑنے اور ان جنگوں میں ہر لمحے بے موت مرنے کو تیار رہتے ہیں ۔لیکن کشمیر کا معاملہ ایسا ہے کہ بڑے بڑے جغادری بھی دیوانے سے ہو جاتے ہیں ۔

Read more

علانیہ گرفتاریاں ہوں، چپکے سے غائب نہ کیا جائے

جب میکسم گورکی کا ناول ‘مدر’ پڑھا تو وہ زمانہ بڑا پرسکون تھا۔ جنرل ضیاء کا مارشل لأ تھا۔ ابا تہجد کے وقت اٹھ کے تلاوت کرتے، فجر کے بعد بھٹو صاحب اور اندرا گاندھی کو برا بھلا کہا جاتا، جنرل ضیا کی برکات پہ تفصیلی روشنی ڈالی جاتی اور گفتگو کا انجام ’پاک فوج کو سلام‘ وغیرہ پہ ہوتا۔

’مدر‘ مجھے سخت برا لگ رہا تھا، مگر امی کے حکم کے تحت پڑھنا پڑ رہا تھا۔ بھلا کہاں وہ شورش زدہ روس کی کہانی اور کہاں میری پر سکون ارضِ پاک؟ اس میں جو گرفتاریاں، نعرے اور فضول کی باتیں تھیں، میرا ان سے دور دور کا ناطہ نہیں تھا۔

مر مر کے ایک ایک باب ختم کیا، جس روز میں اپنے تئیں اس ناول سے عمر بھر کے لیے جان چھڑا چکی تھی امی نے ایک دبی دبی خوشی سے مجھے بتایا کہ میں نے 1965 کے انتخابات میں فاطمہ جناح کو ووٹ ڈالا تھا، ایوب خان کو نہیں ۔

Read more

ریڈ برڈز، دکھ کا منظر نامہ!

محمد حنیف، ہمارے ہم عصر ہیں۔ پہلا ناول لکھنے کے بعد ان کے تائب ہو نے کے بہت ساز گار حالات تھے۔ ناول بہت معروف ہوا، بورا بھر کے رائلٹی ملی۔ اب اگر سیانے ہوتے تو پرنٹنگ پریس کھولتے، زیادہ سیانے ہوتے تو ڈیفینس یا بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ لے کر پراپرٹی کا بزنس کرتے۔ ادبی محفلوں میں جاتے، باقی وقت، دفتر کی جھولنے والی کرسی پہ، منہ پہ اخبار ڈالے دن میں خواب دیکھا کرتے، چاہے نہ بھی دیکھتے، فقط اونگھتے رہتے۔ سیانے ہوتے تو دوسرا ناول کبھی نہ لکھتے۔

دوسرا ناول لکھنے کے بعد بھی وقت تھا، ادبی میلوں میں سپیچیں دیتے اور ٹی وی پہ تجزیہ نگاری کرتے۔ باقی وقت ٹوئٹر اور فیس بک پہ دانشوری بگھارتے۔ تیسرا ناول نہ لکھتے لیکن مشیت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ناول نگاری کا مرض، دق کے دائمی بخار کی صورت ہڈیوں میں اتر چکا تھا اور اب لکھنے اور لکھتے رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

ریڈ برڈز، لکھا جاتا رہا۔ چھہ سال کی تنہائی، تکلیف۔ ایک پورے عہد کا اکلاپا اور ایک زمانے کے لاپتہ لوگوں کا نوحہ۔ ناول کا لوکیل، تنہائی ہے۔ جدید انسان کی ازلی و ابدی تنہائی۔ صحرا، جہاں ریت ہے، جہاں بکر وال ہیں اور ان کی جنگلی تہذیب اور اس تہذیب سے خائف، اسے تباہ کرنے کے درپے ایک امریکی پائلٹ جو کہانی شروع ہونے سے پہلے مر چکا تھا۔

Read more