ابوظبی کتاب میلہ

ہوا یوں کی متحدہ عرب امارات والوں کو خیال گزرا کہ راقم جیسا فرد پاکستان میں کیا کر رہا ہے؟ ایسے ہیرے کو تو اماراتی تاج میں لگنا چاہیے۔ خیال کا آنا تھا کی آن کی آن میں راقم کو گولڈن ویزہ دے دیا گیا۔ ویزہ تو ہم نے اس لیے لے لیا کہ ایسے موقعے ہاتھ سے جانے دینا درویشی کی شان کے منافی ہے لیکن ویزہ لے کر اب کیا کیا جائے؟ ہمیں تو لکھنے پڑھنے کے علاوہ

Read more

غروب شہر کا وقت، ایک تاثر

ڈاکٹر اسامہ صدیق میرے شہر دار بھی ہیں، دوست بھی ہیں اور رقیب بھی۔ دوست کی کتاب پہ تبصرہ کرنا مشکل اور نہ کرنا اس سے بھی مشکل ہے۔ خاص کر اس صورت میں جب اس تعلق میں رقابت بھی شامل ہو۔ رقابت کی وجہ ظاہر ہے، وہی روایتی ہے، ہم دونوں ایک ہی شہر کی محبت میں مبتلا ہیں، شہر لاہور۔ ڈاکٹر اسامہ کا ناول ’غروب شہر کا وقت‘ اسی لاہور کے نام ایک محبت نامہ ہے، جس کی

Read more

فرخ سہیل گوئندی کا جہان

خواتین و حضرات! کتاب پڑھنے کا بھی موسم ہوا کرتا ہے، کھڑکیوں پہ دھند جمی ہو، آتشدان میں آگ جل رہی ہو، نرگس کے پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی ہو اور اس موسم میں ایک کپ گرم کافی کے ساتھ ”میں ہوں جہاں گرد“ پڑھنے کو مل جائے تو سبحان اللہ! قدرت مجھ پہ بہت مہربان ہے، میرا واسطہ ہمیشہ اچھے لوگوں، اچھی کتابوں اور اچھے شہروں سے رہا۔ جن میں ”میں ہوں جہاں گرد“ بھی شامل ہو گئی سبحان

Read more

سافٹ ویئر اپ ڈیٹڈ

زیادہ تین پانچ کرنے والوں کو ایسی جگہوں پر غائب کر دیا جاتا تھا جہاں سے ان کی خبر کبھی نہیں آتی تھی۔ یہ طریقے اب بھی رائج ہیں خاص کر ’گیدڑ کٹ‘۔ مگر نیا اور سب سے مقبول طریقہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنا ہے: آمنہ مفتی کا کالم

Read more

اچھا شوہر کیسے بنیں

بیوی کے زیور، اس کی جائیداد اور اس کے مال پر نظر نہ رکھیں، خاص کر امیر سسر کے جلد مرنے اور سالے کے خبط الحواس ہونے کے خواب دیکھنے سے زیادہ اپنے آپ کمانے پر زور دیں۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

یہ پاٹے پرانے

عورت کو رنڈی، گشتی، طوائف، کتیا اور جانے کیا کیا کہنے والے یہ بھی جانتے ہوں گے جسے یہ سچ مچ قحبہ کے ٹھیے پر بٹھا دیتے ہیں وہ بھی یہ پیسہ اپنے کنبے کو پالنے کے لیے کماتی ہے، آپ کے نام نہاد ہیروز کی طرح اپنے بچوں کی دوا کے پیسے بھی عیاشی میں نہیں اڑاتی۔ آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

ہماری لنکا کون ڈھائے گا؟

عجیب بات یہ ہے کہ یہ دستک سننے والے بجائے اس پر کان دھرنے کے حلق پھاڑ پھاڑ کر اپنا ہی راگ الاپے جا رہے ہیں۔ عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے جھنجھنے بجانے والوں کو آنے والا وقت بخوبی نظر آرہا ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

بات نکلے گی تو پھر۔۔۔

لیڈر تو غلط یا درست ہو سکتا ہے اتنے بہت سے لوگ کیسے غلط ہو سکتے ہیں؟ کون سا ایسا خلا تھا جسے خان صاحب نے کسی بھی واضح سیاسی نصب العین کے بغیر پر کیا؟ اتنے برس کی ناکام حکومت کے بعد بھی لوگ ان کی کمزور سی کہانی پہ یقین کر کے اپنے پیاروں سے لڑتے پھرتے ہیں؟ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

غلطی کرنے والے جن اور خلائی مخلوق

خان صاحب نے لاہور کے جلسے میں کچھ نادیدہ مخلوقات کا ذکر کیا ہے ‘جن’ سے غلطی ہو گئی۔ ایسی ہی ایک مخلوق کا ضرر نوازشریف صاحب نے بھی کیا تھا جسے وہ خلائی مخلوق کہتے تھے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

بانسری نواز اور چوہے

اگر پی ٹی آئی حکومت اپنے وعدوں میں سے کسی ایک وعدے کو بھی کسی حد تک ہی پورا کر دیتی تو شاید باقی کی مدت بھی پوری ہو جاتی۔ خیر اب پرویز الٰہی صاحب کا معاملہ اللہ کی عدالت میں اور خان صاحب کا مقدمہ عوام کی عدالت میں ہے۔ مسلم لیگ ن نے جانے کس مصلحت میں یہ کانٹوں کا تاج اور دلدل پر قائم تخت سنبھالا ہے۔

Read more

کیوں نکالا؟

ایک صفحے کی جس کہانی پہ ان کو بہت مان تھا چاہتے تو اس کا فائدہ اٹھا کر ملک اور عوام کے لیے بہتری کرتے لیکن انھوں نے جانے کس کے مشورے پہ عوام سے بھی سیاست شروع کر دی اور سوائے بھینسیں بیچنے، سرکاری عمارتوں کو بھوت یونیورسٹیاں بنانے، مقبول سیاست کے پتے اچھالنے کے کچھ نہ کیا۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

گھبرائے ہوئے سے رہتے ہیں

نہ الیکٹ ایبلز ہی کسی کے سگے ہوتے ہیں اور نہ ہی اتحادی، یہ سیاست کا وہ موٹا سا سبق ہے جو نظریاتی سیاست کرنے والے پہلے دن ہی سمجھ جاتے ہیں۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

ہم ہیں خوامخواہ اس میں

موجودہ سیٹ اپ کا انتخاب جب کیا گیا تو وہ تینوں علتوں سے پاک تھا لیکن اقتدار کی کشش پہلے ایک اور پھر باقی دو برائیوں کو بھی دامن میں سمیٹ لائی۔ پونے چار برس میں کہانی یہاں تک پہنچ جائے گی، کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔

Read more

میرا بچہ ایسا کیوں ہے؟

مغرب میں روس کی یہ پیش قدمی کیا پھر دنیا کو کسی عالمی جنگ میں دھکیلے گی یا نئی سرد جنگ شروع ہو گی۔ ان سب باتوں سے قطع نظر ہم سب یہ سوچ سوچ کر خوش ہو رہے ہیں کہ لیاقت علی خان نے روس نہ جا کے جو غلطی کی تھی شاید وہ سدھر گئی ہے۔

Read more

طلاق، شادی اور حس مزاح

دوسری شادی ،تیسری چوتھی ،پانچویں شادی، ان سب کا ذکر کر کے ایک نادیدہ لذت کے تصور سے جھوم اٹھنے والے شاید اس تکلیف کو نہیں سمجھتے جو کسی گھر کے ٹوٹنے سے پہنچتی ہے۔ پڑھیے امنہ مفتی کا کالم

Read more

سپورٹس ڈپلومیسی

عمران خان صاحب، جو پہلے سپورٹس مین ہوا کرتے تھے اور اب ہمارے محترم وزیراعظم ہیں، آج کل سرمائی اولمپکس میں شرکت کے لیے چین گئے ہوئے ہیں اور حسب معمول و حسب توقع، ہم سب کی تفنن طبع کا سامان بھی مہیا کر رہے ہیں۔

Read more

پڑا ہوا جزیرہ، مرا ہوا دریا

ارباب حل و عقد کا یہ ہے کہ کرایہ دار ہیں اپنا مکان تھوڑی ہے کے مصداق، جتنے منصوبوں کا افتتاح کر جائیں، جس قدر دوستوں کو خوش کر جائیں، اور جس جس پیارے کو نواز جائیں بس یہ ہی حکمرانی کی معراج ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم

Read more

توبہ یہ تبدیلی

پاکستان کے حالات اس وقت اہل پاکستان ہی جانتے ہیں۔ چولہے میں گیس ندارد ہے اور بل حاضر، پٹرول کی قیمت مت پوچھیے، بجلی کے نرخ بالا سے بالاتر، دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتیں بھی اسی حساب سے گراں تر ہوتی جا رہی ہیں۔ پڑھیےآمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

’گڈ گورننس‘ چھوڑیے، ’گورننس‘ بھی کہیں نظر نہیں آ رہی

لوگ اگر مری نہیں جائیں گے تو وہ مالم جبہ جائیں گے، وہاں نہیں تو کہیں اور جائیں گے۔ بدانتظامی اور نااہلی کے لیے حادثے کا شکار ہونے والوں کو مورد الزام ٹھہرانا بھی آج کل چلنے والی منھ توڑ تحریک کا حصہ ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

میرا لیڈر کیسا ہو

عمران خان صاحب، ایک مناسب رفتار سے سیاسی سفر طے کر رہے تھے جو اگر اسی طرح چلتا رہتا تو آج شاید سینیٹر ہوتے یا بہت ممکن ہے کہ توبہ تائب ہو کر کہیں سکھ کی زندگی گزار رہے ہوتے مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

غریب الوطنی

سمندر پار پاکستانیوں کا ملک سے دور رہتے ہوئے ملکی سیاست کے لئے ان کا جوش و جذبہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ وہ زمینی حقائق جو اس زمین کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے بھی ہماری نظروں سے اوجھل ہیں ان کی عقابی نگاہ سے چھپ نہیں پاتے۔ اس بارے میں پڑھیے آمنہ مفتی کا تازہ ترین کالم۔

Read more

ہجوم کی جمالیات

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ جو کئی دہائیوں سے کیا جارہا ہے اس کے پیچھے کیا کوئی خاص سوچ کار فرما ہے؟ کچھ حاصل کرنے کے لئے کیا جارہا ہے یہ سب کچھ؟ کیا وہ سب حاصل کر لیا گیا؟ اور وہ جو حاصل کیا گیا کیا اسے ثبات ہے؟

Read more

تم جیتو یا ہارو

تو اب نوید مسرت یہ ہے کہ آپ یہ سردیاں گزارنے کے لیے توانائی کا ایک ہی ذریعہ استعمال کر سکتے ہیں اور وہ ہے دل۔ دل جلانے پر کوئی ٹیکس نہیں، کوئی بل نہیں، کسی کو کوئی تکلیف نہیں۔ جی بھر کے دل جلایے اور ہاتھ سینکیے، اس سے سستا اب کچھ بھی نہیں۔ آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

’فیر ساڈے جیہا وی نہیں لبھنا‘

اب کے انتخابات میں عین ممکن ہے کہ باقی سب کے ساتھ کچھ کالعدم تحریکیں بھی شامل ہوں گی تب آپ کو تحریک انصاف کی حکومت یاد آئے گی اور خادم رضوی مرحوم کا فقرہ بھی یاد آئے گا،’پترو! فیر ساڈے جیہا وی نئیں لبھنا۔‘

Read more

دھرنے کی نئی فصل

دھرنے کا یہ نیا فیشن جو شروع تو تحریک انصاف ہی نے کیا تھا مگر اب ہر موسم سرما کے ساتھ ایسے لازم و ملزوم ہو گیا ہے کہ زمستانی ہوا کے ساتھ اگر کنٹینروں کی دھمک اور نعروں کی گونج نہ سنائی دے تو لگتا ہے موسم ہی نہیں بدلا۔ آمنہ مفتی کا کالم۔۔۔

Read more

چار دن کی خدائی

مہنگائی، کم ظرفی، بدزبانی، بد امنی، ڈینگی، کورونا اور سیاسی عدم استحکام کے اس دور میں جب بولنے اور اپنی رائے دینے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، نہ تو کسی کالم لکھنے والی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی کسی ’حساس موضوع‘ پہ قلم اٹھانے کی اجازت ڈرامہ نگاروں کو ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

کم سے کم کام کی رائلٹی تو دے دیں

فنکاروں کا کام ہی ان کی جاگیر ہوتا ہے اور یہ جاگیر ایک ایسے معاہدے کے ذریعے ان سے ہتھیا لی جاتی ہے جسے شاید آنے والے وقت کے انسان حیران ہو کر دیکھا کریں گے اور اس کی کاپیاں انسانی حقوق کے عجائب خانوں میں ملیں گی۔

Read more

نئی تگڑم، طور پرانے

ترکی، چین، افغانستان، ان تین کے سوا بھی دنیا ہے، نیوزی لینڈ کی ٹیم کے واپس جانے سے دنیا ختم نہیں ہو جاتی۔ ہر وقت کوئی دیوار کے اس طرف بیٹھا سازش نہیں بن رہا ہوتا، بعض اوقات قصور ہمارا اپنا ہوتا ہے۔ آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

ڈاکٹر بننے کے سپنے

پچھلے ڈیڑھ دو برس سے تعلیم اور صحت کے درمیان جو آنکھ مچولی چل رہی ہے اس میں فوقیت صحت ہی کو ملنی چاہیے۔ میرٹ سسٹم کو کورونا حالات میں دیکھنا چاہیے اور پہلے ہی سے پریشان طلبا کو ایم ڈی کیٹ کے نئے تجربات کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔ آمنہ مفتی کا کالم۔۔۔

Read more

خوشبو کی زبان

کورونا اپنی تمام تکلیفوں اور سختیوں کے ساتھ گزر گیا۔ آہستہ آہستہ قوت شامہ واپس آرہی ہے۔ روز ایک نئی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ جیسے دنیا میں آہستہ آہستہ پھر سے رنگ بھرے جا رہے ہیں۔ کوشش کریں یہ خوشبوئیں آپ سے نہ روٹھیں۔ ویکسین لگوائیں اور احتیاط کریں۔ آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

کابل، شہر افسوس!

برصغیر سے انگریز جانے کے لیے نہیں آیا تھا، دوسری جنگ عظیم نے اس کی کمر توڑی تو وہ جوتے چھوڑ کر بھاگا۔ امریکہ کو بھی افغانستان سے کم انس نہیں، اپنی داخلی مصیبتوں اور مسائل کے تحت اچانک نکل بھاگتے ہوئے اس نے صرف اور صرف اپنا سوچا۔ پڑھیے آمنے مفتی کا کالم۔

Read more

شریک جرم

نور مقدم کیس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ عورت پہ ظلم کرنے، اسے تشدد کا نشانہ بنا کے قتل کرنے کے لیے کسی خاص طبقے سے تعلق رکھنا ضروری نہیں۔ اس سانحے کے ہر پہلو پہ بحث کی گئی مگر یہ سوال وہیں کا وہیں ہے کہ اس بے چاری کو اتنی بےرحمی سے قتل کیوں کیا گیا؟ آمنہ مفتی کا ہفتہ وار کالم۔

Read more

ایک اور گم گشتہ کتاب!

کچھ کتابیں برسوں کا فاصلہ طے کر کے اپنے قاری کے پاس واپس آتی ہیں لیکن تب پڑھنے کا موسم گزر چکا ہوتا ہے۔ کتاب چوروں سے التماس ہے کہ کتاب خرید کر پڑھیں آدھی پڑھی کتابوں کی بد دعا بہت بری ہوتی ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم

Read more

’میاں کلچر‘

میرا خیال ہے مارچ سے پہلے ایک کلچرل کانفرنس بھی ہونی چاہیے، جس میں ‘میاں کلچر’ کے اہم پہلوؤں پہ روشنی ڈالی جائے تاکہ وہ لوگ جو آج صدف کی بات پہ سیخ پا ہورہے ہیں اس کلچر کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔

Read more

آ گیا غصہ، کیا کرتا؟

سچ یہ ہے کہ یہاں اخبار میں لکھنے والی، ٹی وی پر گانے والی، سٹیج پر ناچنے والی، نکڑ پر بھیک مانگتی عورت، گھر میں جھاڑو برتن کا کام کرنے والی، یومیہ اجرت پر پتھر کوٹنے والی، سکول کی استانی، سب کی سب کسی بھی وقت، کسی بھی وجہ کے بغیر قتل کی جا سکتی ہیں۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

افغان باقی، کہسار باقی

جس طرح دائیں بازو کے لوگوں کو اسرائیل کے ساتھ نئے روابط پر اعتراض رہے گا، اسی طرح بائیں بازو کے لوگوں کو طالبان حکومت پسند نہیں آئے گی لیکن جب تک طالبان اور امریکہ کے مفادات آپس میں نہیں ٹکراتے، طالبان کے لیے کچھ خاص مسائل نہیں ہوں گے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

سبق پھر پڑھ۔۔۔

کیا انگریز کے جانے کے بعد ہم کالونیل اداروں کے اثر سے آزاد ہو گئے؟ تو صاحبو! یاد رکھنے کا سبق یہ ہے کہ افغانستان سے صرف اتحادی فوج جا رہی ہے امریکہ کس شکل میں وہاں رہے گا وہ خان صاحب کی تقریر کے پردے میں سے ایسے چھلک رہا تھا جیسے کٹ گلاس کے جام سے روح افزا کا رنگ جھلکتا ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

مزید گندی باتیں

ریپ جرم ہے، ایک بھیانک جرم ،جس کے لیے عورت کے کم یا زیادہ کپڑوں کا ہونا، بلکہ عورت کا ہونا نہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ مثالیں سوشل میڈیا پہ وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور برسات کے ختم ہوتے ہوتے امید ہے مزید مثالیں سامنے آ جائیں گی۔

Read more

گالیاں دے کے بے مزہ نہ کریں

تقدس مدرسے کا بھی ہوتا ہے، اسمبلی کا بھی۔ کسی دوسرے کی ماں بہن کے ساتھ بد فعلی کے ارتکاب کا زبانی اظہار بھی اتنا ہی کریہہ ہے جتنا مدرسے میں طالب علموں کے ساتھ حقیقت میں بد فعلیاں کرنا۔ دونوں ہی اداروں کے بارے میں عوام بہت حساس ہیں، مگر کیا ان لوگوں کو جو ان اداروں میں بیٹھے ہیں ذرا بھی اپنی عزت یا اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے؟ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

عرفان صدیقی صاحب کا کالم اور ایڈیٹر کی مجبوریاں

میں نے عرفان صدیقی صاحب کے زیر بحث کالم کو دو تین بار پڑھا۔ مجھے اس میں کوئی بات بھی ناقابل اشاعت نہیں لگی۔ جتنا میں اپنے پریس لاز کو جانتی ہوں مجھے اس کالم کا کوئی نقطہ یا جملہ پریس کے مروجہ قوانین یا ضا بطوںسے متصادم نظر نہیں آتا۔ اگر صحافتی اقدار کی بات کریں، تو بھی اس کالم میں کوئی شے قابل اعتراض نہیں۔ سو میری رائے میں یہ کالم کسی بھی پہلو سے ناقابل اشاعت نہیں

Read more

چٹاخ چھنن، پٹاخ چھنن

یوں تو ہر سیاسی پارٹی نے بد لحاظی اور بدتمیزی میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے لیکن پی ٹی آئی کے ترجمان جس طرح بنوٹ، گتکے اور دھول دھپے کے ماہر ثابت ہو رہے ہیں وہ ایک اور ہی رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

ہاؤسنگ سوسائٹی کا وائرس

کوئی شہر نامی اس کینسر کو ہمارے کھیت نگلنے سے روک سکتا ہے؟ ہاؤسنگ سوسائٹی نامی اس وائرس کا کوئی علاج دریافت کر سکتا ہے جو ایک شہر سے دوسرے شہر پھیلتا جا رہا ہے، سرمایہ کار عرف ’کالونی کاٹنے‘ والے اس عفریت کے لیے کوئی سد سکندری بن سکتی ہے؟ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

ترین صاحب نے تراہ ہی نکال دیا

جہانگیر ترین صاحب کا گروپ بنانے کا اعلان سنتے ہی ایک سرگوشی سی دوڑ گئی کہ کیا مائنس ون ہونے والا ہے؟ کیا ڈیل ناکام ہو گئی؟ فارورڈ بلاک بننے والا ہے؟ کیا پی ڈی ایم پھر سے زندہ ہو گی؟ کیا اس بار اس میں ترین صاحب بھی شامل ہوں گے؟ بقول شخصے ترین صاحب نے ایک بار تو ’تراہ‘ ہی نکال دیا تھا۔ آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

فلسطین اور محمود درویش کی نظم

یہ کہنا تو عبث اور بے کار ہے کہ کاش مسئلہ فلسطین حل ہو جائے۔ گرہیں لگانے والوں نے بہت سوچ سمجھ کے گنجل ڈالے ہیں۔ دنیا صرف دم سادھے دیکھ رہی ہے اور شاید حالیہ ہوائی حملے کے بعد دنیا کی آنکھیں بھی پھوٹ گئی ہیں۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔۔۔

Read more

جانے نہ دوں گی!

جانے کس نے یہ اور کب یہ بس گھولا کہ جلاوطنی، دکھ نہیں عین راحت بن گئی۔ ملک کیکڑوں کی وہ ٹوکری بن گیا جس پہ ڈھکن اس لیے نہیں رکھا گیا کہ ہر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہا ہے۔

Read more

وبا کا قہر

بے بسی سی بے بسی ہے۔ پچھلے ایک برس سے زائد عرصے میں کورونا دنیا کے ہر خطے میں تباہی مچاتا پھرا ہے لیکن جو تکلیف انڈیا کے المیے سے پہنچ رہی ہے اس کی شدت زیادہ ہے۔ شاید یہ درد مشترک ہے۔ آمنہ مفتی کا کالم

Read more

مذاکرات کی میز پر بھی طالبان ہی جیتے

امریکی فوجی تو گھر جا رہے ہیں، گھر جہاں امن، خوشی سکون اور سکھ ہوتا ہے مگر پیچھے ہمارے گھر میں کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ کہتے ہیں کہ مہمان کے جانے کے بعد جھاڑو نہیں دیتے، اس کی موجودگی میں ہی گھر صاف کر لیتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی بیان باجوہ صاحب نے پچھلے دنوں دیا تھا۔

Read more

تہمت گندم و حوا

میں نے ریپ سے متعلق وزیراعظم عمران خان کے بیان کو ایک بار نہیں، بار بار سنا، سیاق و سباق کے ساتھ سنا اور جتنی بار سنا، دُکھ اتنا ہی گہرا ہوتا چلا گیا۔ صرف الفاظ ہی نہیں ان کے پیچھے موجود ایک مخصوص ذہنیت پہ دُکھ ہے: پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم

Read more

منظر بدل گئے، پس منظر بدل گئے

کیا پاکستان، جہاں انڈیا مخالف جذبات نصاب میں پڑھائے گئے، مودی جیسے سربراہ کی موجودگی میں انڈیا سے اچھے تعلقات بڑھا کے اندرونی انتشار کو دعوت تو نہیں دے رہا؟ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

ابو گھر پر نہیں ہیں!

وہ جن کو حزب اختلاف کی تحریک پر بہت مان تھا، جھینپے جھینپے پھرتے ہیں۔ منہ چھپائے چھپائے جب نظر اٹھا کے دیکھتے ہیں تو حکومت کے حامی بھی اتنے ہی شرمندہ نظر آتے ہیں۔ وہ تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ابو گھر پر نہیں ہیں۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

یوسف رضا گیلانی: ایک اور الف لیلوی کہانی

کہانی اتنی دلچسپ ہے کہ سانس روک کے سن رہے ہیں اگر ذرا بھی تاب ہوتی تو ایک سوال ضرور کرتے کہ کیا سارے ضائع شدہ ووٹ گیلانی صاحب کو ہی ملے تھے؟ سنجرانی صاحب کا ایک ووٹ بھی ضائع نہ ہوا؟ مگر ڈر یہ ہے کہ ڈانٹ نہ پڑ جائے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

‘دیوار پہ لکھی تحریر صاف پڑھی جا رہی ہے مگر ہم پس دیوار جھانکنے میں محو ہیں’

خفیہ رائے شماری کا ممکنہ نتیجہ کیا ہو سکتا تھا دیوار پہ جلی حروف میں یہ ہی لکھا ہے۔ گو اس کے نیچے وہ بھی لکھا ہے جو کہ پاکستان میں اکثر دیواروں پہ لکھا ہوتا ہے لیکن ہماری دور کی نظر کمزور ہے۔

Read more

دے جا سخیا راہ خدا

ہر نئی حکومت میں بہت سے اچھے برے اقدامات کئے جاتے ہیں لیکن کئی دہائیوں سے یا تو فقیروں کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا گیا ہے یا لوگوں نے ذہنی طور پر انھیں قبول کر لیا ہے یا پھر تیسری کوئی بات ہے جو مجھ جیسے کوتاہ بین لوگ نہیں دیکھ پاتے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

زاہد ڈار بھی چلا گیا!

زاہد ڈار صاحب شاعر تھے۔ اپنی ڈائری، شعر میں لکھتے تھے۔ یہ ہی ڈائری غالبا صفدر میر کی کرم فرمائی سے’سب رنگ‘ کے ایڈیٹر حسن عسکری صاحب کے ہاتھ لگی اور ’مادھو‘ کے قلمی نام سے زاہد ڈار کا کلام منظر عام پر آیا۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

خوابوں سے جنگ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے

کسانوں کی تحریک، بہر حال خالصتان کی تحریک نہیں تھی، اس میں بہت سے علاقوں کے مختلف مذاہب کو ماننے والے کسان نظر آ رہے تھے لیکن کیا کیا جائے خالصتان کے بھوت کا۔ ہمیں نظر آیا تو ہم چپ سادھ کے بیٹھے رہے لیکن ریحانہ کی ٹویٹ نے بھس میں چنگاری پھینک دی۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم

Read more

ایہہ پتر ہٹاں تے نہیں وکدے!

لڑکوں نے زیادہ سے زیادہ کیا کیا ہوگا؟ نعرے بازی، جلسہ، جلوس؟ لڑکوں نے کم سے کم وہ نہیں کیا ہو گا جو آج کی اکثر جامعات کے مالکان اپنے زمانہ طالب علمی میں کرتے رہے۔ آن کلاسز لینے والے طلبا اگر آن لائن امتحانات کا مطالبہ کر رہے تھے تو اس پہ کیا پولیس بلا لی جاتی ہے؟

Read more

جو بائیڈن، معاہدہ پیرس اور ماحول

قدرتی تیل اور گیس کو انسان نے جس طرح بغیر کسی اصول کے دھڑادھڑ نکالا اور استعمال کیا اس کا لازمی نتیجہ وہی تھا جو ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ کاربن کی آلودگی، گرین ہاوس گیسز کے نقصان، عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ۔ یہ کوئی قصہ کہانی نہیں۔

Read more

بندر بانٹ

ایسے مواقع پاکستان کی مختصر سی تاریخ میں بار بار آئے اور ہر بار ان کا حل ایک سا نکالا گیا۔ خاموشی، ایک بے حس خاموشی، مصلحتوں کے مکروہ غلافوں سے ڈھکا سناٹا جس کی آڑ میں غریب عوام کا لہو، ان کے وقار کو گروی رکھ کے مانگی گئی بیرونی امداد کی رقوم اور جانے کن کن ذرائع سے کمائے گئے مشکوک سرمائے کے سراغ دبا دیے جاتے ہیں ۔

Read more

ہزارہ کے دکھ ،عام آدمی کے دکھ

ہزارہ قبیلے کی کہانی ویسی ہی ہے جیسی روہنگیا یا کسی بھی اقلیت کی ہوتی ہے، کچھ لوگ ایک پہاڑ کے دامن میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور ان پہ زمین تنگ ہو چکی ہے، اس کی وجوہات جو بھی رہی ہوں لیکن بہرحال یہ انسان ہیں۔

Read more

فرات کے کنارے کتا

اب تو لکھتے ہوئے بھی رائیگانی کا احساس ہی رہتا ہے۔ پتھر کی سماعتوں پر ہمارے الفاظ کیا اثر کریں گے؟ جو دل سانحہ ساہیوال پر نہ پسیجے، جو کلیجے تربت کے واقعے پر نہ پھٹے، جن کو سرفراز کی موت پر شرم نہ آئی انھیں اب کیا فرق پڑے گا؟ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

استعفے، کہرا اور ملاقاتیں

پچھلے دو ڈھائی سال کے سیاسی حالات ہمیں بہت کچھ بتاتے ہیں۔ شہباز شریف صاحب کے پاس وقت کم ہے وہ بلاول اور مریم کی طرح لمبی اننگ کھیلنے نہیں آئے اور اپنی باری کے منتظر نہیں۔ وہ تو اپنی اننگ کھیل رہے تھے کہ ان کو بیچ کھیل کے اٹھا کے باہر کر دیا گیا۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

ماں کی گالی مت دیجیے!

فن یہ ہی ہے کہ غلیظ زبان استعمال کیے بغیر اپنے مخالف کو نفسیاتی دباؤ میں کیسے لایا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی یہ فن نہیں سیکھ سکتا تو اسے گالی کے بہانے ننگی گفتگو کرنے کا بالکل حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

جلسہ اور بٹ کڑاہی

یہاں تک تو ہم مان گئے کہ حکومت روایتی انتظامی ہتھکنڈوں سے جلسے کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن جب ’بٹ کڑاہی‘ لکشمی چوک والوں پر مقدمہ بننے کی خبر آئی تو روکتے روکتے بھی ’ہاسا‘ ہی نکل گیا۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم

Read more

ہنسنے کی کیا بات ہے؟

ابھی کچھ روز پہلے کی بات سنیے۔ ہمارے وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ ایلف شفق صاحبہ کا ناول’چالیس چراغ عشق کے’ پڑھیے۔ اس میں ہنسنے کی کیا بات تھی؟ کیا آپ نے تاریخ میں کوئی ایسا وزیر اعظم دیکھا جو فرصت کے اوقات میں پڑھنے کے لیے کتابیں بھی بتاتا ہو؟ نہیں دیکھا نا۔ یہ جو منہ پھاڑ پھاڑ کے ہنس رہے ہیں انھوں نے بھی نہیں دیکھا۔

Read more

پی ٹی وی کی سالگرہ کا تحفہ

موجودہ حکومت نے جب پی ٹی وی کی بہتری کا بیڑہ اٹھایا تو پھر ایک میٹنگ ہوئی جس میں چئیرمین پی ٹی وی کی جگہ وزیر اعظم عمران خان تھے جس سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ پچھلی تمام حکومتوں کی نسبت پی ٹی وی کے بھلے کے لیے زیادہ فکرمند ہیں۔

Read more

لاہور، موسم سرما اور ابن انشا

لطافتوں سے بھرا موسم سرما دروازے پہ دستک دے رہا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ کورونا کی دوسری لہر بھی سر اٹھا چکی ہے۔ کتنی ہی تقریبات، جن میں لاہور کا مشہور ’فیض فیسٹیول‘ بھی شامل ہے اس بار منعقد نہیں ہوئیں۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

انکل نے یہاں بدتمیزی کی ہے

اس عمر میں اتنے روز ماں سے دور رہنا اور ایک ایسے جرم کا شکار ہونا جس کو بیان کرنے کے لیے اس بچی کے پاس الفاظ بھی نہیں تھے۔ سچ پوچھیے تو شاید اس ویڈیو کو دیکھنے والا کوئی بھی شخص اب کبھی چین کی نیند نہیں سو سکتا۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم

Read more

یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا

آزادی اظہار بھی ایک مقدس لفظ ہے لیکن جس طرح کسی شخص کو مذہب کی تقدیس کی آڑ لے کر فساد کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اسی طرح کسی کو آزادی اظہار کی ڈھال کے پیچھے چھپ کر اپنی سیاست چمکانے کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

تقریر سے تقریر تک

پی ڈی ایم کے جلسے میں میاں صاحب اپنی تقریر میں کہی بھی کہہ گئے، ان کہی بھی اور ان ہونی کے اشارے بھی دے گئے۔

وطن عزیز میں جب کبھی اپوزیشن کی جماعتوں کا اتحاد ہوا، ہم نے سیاست کی بساط الٹتے دیکھی۔ پکڑ دھکڑ بھی دیکھی، مار پیٹ بھی ہوئی، جیل بھرو تحریکیں بھی اٹھیں اور کوئی بھی حکومت سوا پچھلی دو حکومتوں کے، اپنا دور پورا نہ کر سکی۔

اس تیسری حکومت کو بھی جیسی بھی لولی لنگڑی جمہوریت سمجھ لیں، لیکن کم سے کم اتنا تو ہے کہ سامنے آنے سے اجتناب کیا گیا مگر گوجرانوالے کی تقریر میں میاں صاحب نے ’کھینچ لینا وہ میرا پردے کا کونا دفعتا‘ کی سی حرکت کی۔

Read more

ایک کھوئی ہوئی کتاب

کتابوں، انسانوں اور شہروں کے درمیان عجیب نہ سمجھ میں آنے والا تعلق ہوتا ہے۔ ہر شہر کے اپنے ہی باسی ہوتے ہیں۔ جن کو وہ نہ بسانا چاہے، وہ چاہتے ہوئے بھی اس شہر میں نہیں بس سکتے۔ کتابیں بھی شہر ہوتی ہیں جنھیں وہی آباد کرتے ہیں جنھیں وہ چاہیں۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

ناگورنو قرہباخ میں جنگ کے شعلے

دور جدید کی بہت سی جنگوں کی طرح کیا یہاں بھی کسی اور ملک کی پراکسی لڑی جائے گی؟ آنے والا وقت بتائے گا کہ کس جنگ کا چھوٹا ہوا تیر، کہاں پیوست تھا اور اس کا زہر کہاں تک پھیل گیا ہے لیکن اتنا صاف نظر آرہا ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہونے والی نہیں۔ آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

میاں صاحب کے لیے تالیاں

میاں صاحب کی تقریر اچھی ہو گی، شاید کسی کو اس پر یقین بھی ہو لیکن معاش کی چکی میں پستے ہوئےعوام کو یہ چمکیلے نعرے، سماجی انصاف، غیر مرئی قوتوں سے جنگ کے نادیدہ خواب اور کوہ ندا کی کہانیاں سمجھ نہیں آتیں۔ آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

آخر یہ ’ریپ کلچر‘ ہے کیا؟

ریپ کے شکار لوگ معاشرے کے نام نہاد اصولوں کے تحت خود ہی چور بن کے رہ جاتا ہے۔ یہی ’ریپ کلچر‘ ہے کیونکہ پورا معاشرہ مل کر اس جرم کی راہ ہموار کرتا ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے۔

Read more

اگلے جنم بھی موہے بٹیا ہی کیجو

عورت اکیلی ہو، جوان ہو، بوڑھی ہو، کمسن ہو، خوب صورت ہو یا بد صورت، وقت دیکھ کے گھر سے نکلی ہو یا بے وقت، بلکہ گھر سے بھی نہ نکلی ہو تب بھی ہر طرح کے جسمانی اور ذہنی تشدد کی تلوار اس کے سر پر منڈلاتی رہتی ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم

Read more

اپنی کرپشن خود چھپاؤ

مردوں کی مالی بے ضابطگیوں پر گھر کی خواتین کی تصاویر اور ان کے نام اچھلتے دیکھ کر اتنا ہی دکھ ہوتا ہے جتنا ملازمت پیشہ، کاروبار کرنے والی یا کسی نہ کسی طرح سماج میں اپنی موجودگی کا ثبوت دینے والی خواتین کے لیے ‘دو نمبر عورت’ کا خطاب دیکھ کر ہوتا ہے۔

Read more

زیادہ بارش ،زیادہ پانی، خوب مزے

اس برس کے بھیگنے،ڈوبنے اور ابھرنے کے بس چند ہی دن رہ گئے ہیں پھر جم کے سوکھا پڑے گا اور سب پہلے جیسا ہو جائے گا۔ کسی کو یاد بھی نہ رہے گا کہ کتنا برسا تھا اور کہاں کہاں برسا تھا؟ پڑھیے آمنہ مفتی کا ہفتہ وار کالم اڑیں گے پرزے۔

Read more

شفقت محمود صاحب، ایس او ایس!

ہمارے وفاقی اور صوبائی وزرائے تعلیم بیانات کی حد تک تو مذمت کر رہے ہیں لیکن دو لاکھ سے زائد طلبہ کے مستقبل اور والدین کی جیب پر اس بھار کا سچ مچ بھی کچھ مداوا کیا جائے گا یا کیمبرج کے ان طلبہ کے ساتھ ہمیشہ کی طرح سوتیلے بچے کا سا برتاو کیا جائے گا؟ آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

جا چھوڑ دے میری وادی، آزادی!

نیا نقشہ جو کہ دراصل پرانا ہی نقشہ ہے، سوائے سوشل میڈیا پہ ہنسی ٹھٹھول اور ’میم بازی‘ کے کسی کام نہ آیا۔ اخلاقی یا بین الاقوامی سطح پہ اگر نقشوں، دعووں اور بیانات کی کچھ اہمیت سمجھی جاتی تو آج دنیا اس حال میں نہ ہوتی۔

Read more

دنیا بدل رہی ہے!

جس وقت آدھی دنیا کو دہشت گرد اور باقیوں کو ان کے اعمال کا ذمہ دار قرار دے کے ایک بے مقصد جنگ لڑی جا رہی تھی، چین اپنی جڑیں مضبوط کرتا گیا، حتی کہ آج سب نے دیکھا کہ آخر کار چین نے انجے پنجے نکال لیے ہیں اور اپنے ہونے کا احساس دلانے کے لیے انڈیا کی طرف اپنا رویہ بدل لیا ہے۔

Read more

مبینہ اغوا، مصدقہ اغوا

جس طرح ’مبینہ پولیس مقابلے‘ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور سب جانتے ہیں کہ یہ ماورائے عدالت قتل ہے مگر سب اسے جرم و سزا کا ایک ضروری باب سمجھ کر خاموش ہیں، اسی طرح یہ اغوا بھی کوئی راز نہیں۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more