لیاقت ٹاؤن، فیصل آباد میں ننھی ایشال افضل کا اغوا اور قتل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افضل مسیح جو کہ دانامنڈی میں محنت مزدوری کرتا ہے اور اپنے بیوی اور تین بچوں سمیت لیاقت ٹاؤن نزد ملکھانوالہ فیصل آباد میں رہتا ہے اور اس نے بتایا کہ ہماری بیٹی ایشال ہمارے تین بچوں میں سے دوسرے نمبر پر تھی۔ ایشال کی عمر قریباً دو سال تھی۔ چھ جنوری 2021 کو صبح ساڑھے آٹھ بجے ایشال گھر سے گلی میں گئی اور جب کافی دیر ایشال واپس نہ آئی تو ہم نے پریشان ہو کر اسے ڈھونڈنا شروع کیا۔ تقریباً سارے محلے میں تلاش کرنے کے بعد ہمیں محلے داروں نے مشورہ دیا کہ آپ پولیس کو اطلاع دیں اور میں نے ساڑھے دس بجے 15 پر کال کی۔

پولیس کے آنے کے بعد پولیس نے اپنی تفتیش کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے اپنے ملازمین اور ہم محلے داروں کے ساتھ پورے محلے میں کڑی نگرانی شروع کر دی اور ہماری بیٹی کی تلاش جاری رکھی۔ ایشال کی والدہ جس کے دو ماہ قبل ہی بڑے آپریشن سے بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے، مسلسل روتے رہنے سے اس کی طبعیت خراب ہو گئی اور رات گئے ہم اسے لے کر ہسپتال چلے گئے۔ انہی پریشانیوں میں رات بیت گئی مگر ہماری بیٹی کا کوئی پتہ نہ چلا۔ 7 جنوری کے بھی ہم اسے ڈھونڈتے رہے مگر سارے دن رات کے بعد بھی ہماری ایشال نہ ملی اور پریشانی کے ایک اور رات بیت گئی۔

8 جنوری کی صبح ہماری گلی کے ایک خالی پلاٹ میں جہاں پانی جمع ہو کر چھپڑ کی شکل اختیار کر چکا تھا میں سے محلے داروں کو ایک بچی ملی تو انہوں نے ہمیں فوراً اطلاع دی۔ پولیس نے پہلے ہی ہمارے محلے میں موجود تھی اسی اثنا میں محلے داروں نے ایک ڈاکٹر کو بھی بلا لیا۔ ڈاکٹر نے تشخیص کے بعد ہمیں یہ خبر دے کر قیامت طاری کر دی کہ آپ کی بیٹی اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ پولیس ہماری بیٹی کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے گئی۔

پوسٹ مارٹم کے بعد ڈاکٹر نے تلقین کی ہماری بیٹی کی فوراً تدفین کر دی جائے۔ ہم چونکہ لیاقت ٹاؤن میں محنت مزدوری کی غرض سے ہجرت کر کے آئے ہیں اور ہمارا سارا خاندان پیچھے گاؤں میں آباد ہے تو ایسے میں ہمارے محلے داروں نے ہمارا کافی ساتھ دیا اور ایشال کے کفن دفن کا انتظام کر کے اسے منوں مٹی تلے دفن کر دیا۔

ایشال افضل کا اغوا اور پر اسرار قتل اپنے پیچھے بہت سے سوال چھوڑتا ہے جن کے جوابات ضرور پولیس کے تفیتش اور پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد مل جائیں گے مگر ایسے واقعات کا تسلسل ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ حکومت وقت نے اگرچہ ایسے واقعات کو روکنے کے لئے کافی عبرت ناک قانون سازی کی ہے مگر اس کے باوجود ایسے واقعات کم نہیں ہو رہے اور ہر روز کسی نہ کسی گلی، کسی محلے، کسی گاؤں، کسی شاہراہ اور کسی شہر میں معصوم بیٹیوں، بہنوں کا اغوا اور ان کا قتل تسلسل کے ساتھ ہو رہا ہے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا پڑے گا ہماری مذہبی اقلیتوں کی بچیوں کو نشانہ کسی مقاصد کے تحت تو نہیں کیا جا رہا کہ ملک میں انتشار پھیلایا جائے اور پاکستان کو بدنام کیا جائے۔

افضل مسیح کے مطابق پولیس کی کارروائی اور کارکردگی سے وہ کافی مطمئن ہے مگر جب تک قاتلوں کا سراغ نہ ملے اور انہیں کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے تو اس وقت تک پولیس کو اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے تاکہ مزید ننھی بیٹیوں کو ایسے واقعات کا نشانہ بننے سے پہلے ہی محفوظ بنایا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •