2021: ویکسین کے بارے میں مفروضوں اور افواہوں کا سال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 2020 نہ صرف کورونا کی وبا میں جکڑی انسانی آبادیوں کی جدوجہد کا سال تھا جس میں جدید دنیا تقریباً جامد ہو کر رہ گئی۔ جہاں ایک طرف انسانی تکلیف اور سانس کو رواں رکھنے کا کٹھن بوجھ تھا وہیں دوسری طرف عوام کی نگاہوں سے دور لیبارٹریوں میں اس ان دیکھے دشمن کو سمجھنے اور اس کا توڑ نکالنے کی کوشش میں مصروف سائنس دان تھے جن کی محنت کا ثمر پچھلے ایک ماہ میں یکے بعد دیگرے تین ویکسینز کی صورت میں سامنے آ گیا اور اس موذی وبا سے بچاو کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی مہم کا آغاز ہو گیا۔

اسی دوران ایک اور تبدیلی آئی، پہلے سائنسی امور بارے مضامین اور دریافتیں یا نئی ایجادیں صرف سائنسی رسائل میں شائع ہوتی تھی اور تحقیق کے طریقوں جیسے خشک مضامین صرف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہی سمجھے اور سمجھائے جاتے تھے، پچھلے ایک سال میں سائنس کے بارے میں عوامی دلچسپی میں اضافہ ایک نہایت خوش آئند ہے جو شاید اس غیر یقینی کے زمانے میں ایک فطری امر لگتا ہے۔ میڈیا اور عوام میں اس خواہش کا اظہار دیکھا گیا کہ سائنسی تحقیق کیسے کی جاتی ہے اور مختلف دعوؤں کو کیسے جانچا جاتا ہے۔

اس وبا سے پہلے دنیا بالخصوص مغرب میں ایک ٹرینڈ چل نکلا تھا جس میں سوسائٹی کو درپیش مسائل اور سوالات کے حوالے سے ماہرین کی رائے کو نظرانداز کرنا فیشن بنتا جا رہا تھا مثلاً برطانیہ میں 2016 کے ریفرینڈم میں ہونے والی بحث یا امریکہ میں موجودہ وبا میں سیاست دانوں کی طرف سے ماہرین کو نظراندازکرنا، لیکن عمومی طور پر عوامی سطح پر پچھلے ایک سال میں سائنسی مشوروں کی پذیرائی دیکھی گئی، چاہے وہ صفائی کے سادہ اصول ہوں یعنی بار بار ہاتھ دھونا یا ماسک کا استعمال لیکن اب ایک بڑا امتحان عوام کو ویکسین کے استعمال پر آمادہ کرنا ہے۔

خدشہ ہے کہ مغربی ممالک میں لوگ حفاظتی ٹیکوں کی موجودہ مہم کے ابتدائی دنوں میں کہیں حفاظتی اقدامات کی ضرورت کو نظر انداز نہ کر دیں یا ان کی ایک بڑی تعداد حفاظتی ٹیکوں کے استعمال سے انکار نہ کر دے، چاہے اس کی وجہ یہ غلط فہمی ہو کہ اتنی جلد ویکسینز کی تیاری کا مطلب کہیں اس کا غیرمحفوظ ہونا تو نہیں۔ اس طرح کی افواہیں تو کورونا وائرس سے بھی زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ کیا ہمیں جھوٹ پر مبنی بیانیہ مثلاً کورونا کی موجودہ وبا ایک طرح کا چکمہ ہے یا یہ کہ ویکسین کا استعمال دراصل انسانی ذہن کو کنٹرول کرنے کی سازش جیسے خیالات کو ویسے ہی چھوڑ دینا چاہیے۔

سازشی نظریات کوئی نیا رجحان تو نہیں۔ کیا گپ لگانا، مبالغہ آرائی اور من گھڑت باتیں بنانا انسانی مزاج کا حصہ نہیں ہیں؟ اور کیا صاحب اقتدار طبقہ یا افراد اپنے سیاسی یا اقتصادی مفاد کے لیے خبر کو ذرا جھوٹ کا تڑکا لگا کر پروپیگنڈا نہیں کرتے؟ آج کل جب کہ ہم سب معلومات کے انتہائی تیز رفتاری سے پھیلاؤ کے دور میں جی رہے ہیں جس میں بہت سوں کے لیے یہ ایک مشکل امر ہے کہ وہ سچ کو جھوٹ سے تمیز کر سکیں۔

وبا کے شروع کے عرصے میں اس بیماری کی علامات اور اس کی تفصیل کو جاننے کے عمل کے دوران بہت بڑی تعداد میں اموات ہوئیں لیکن سمجھنے کا یہ عمل ترقی کرتا گیا، یہاں تک کہ اب نہ صرف اس وائرس کے توڑ کے لیے ویکسین تیار کر لی گئی ہے اور اس کے جسمانی اثرات کو سمجھتے ہوئے علاج میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس سارے عمل میں اب تک کا آزمودہ سائنسی طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ ویکسینز کے اثرات کو پرکھنے اور ناپسندیدہ اثرات کی نشاندہی کے لیے (Randomised controlled trials) کو اپنایا گیا اور اس عمل میں ہزاروں افراد نے اپنی مرضی سے حصہ لیا۔

فائزر/بایؤنٹک (Pfizer/Biontec) کے ٹرائلز میں 42,000 سے زیادہ افراد نے حصہ لیا اور ان میں سے 95 فیصد افراد اس بیماری سے بچے رہے۔ اسی طرح AstraZenca/Oxford کی تیار کردہ ویکسین کے ٹرائل میں ساڑھے گیارہ ہزار افراد نے حصہ لیا اور ایسی ہی تعداد میں لوگوں نے دوسری بننے والی ویکسینز کے ٹرائلز میں حصہ لیا اور ان ٹرائلز کی تمام تر تفصیل ریگیولیٹری اداروں کو مہیا کی گئی جہاں ان کے اپنے ماہرین نے ان کا بغور مطالعہ کیا اور پھر ان کی منظوری دی گئی۔ آج تک بننے والی تمام دوسری ویکسینز اور ادویات کو انسانی استعمال سے پہلے اسی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

انسانی صحت کے متعلق سائنسی عمل کی یہ مشق جدید دور میں اعلیٰ ترین معیار کی ضامن سمجھی جاتی ہے لیکن علم میں اضافے کے اس قابل اعتماد عمل بارے عوام میں کتنی آگاہی پائی جاتی ہے؟ اس بات کا خطرہ بہت زیادہ ہے کہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد ان عوامل مثلاً ویکسین بارے ان سازشی نظریات پر مبنی بیانیہ پر یقین کر بیٹھے، جن میں سے بہت نظریاتی بنیادوں پر استوار ہیں اور سوشل میڈیا پر طرح پھیلے ہوئے ہیں۔

چین جہاں سے یہ وبا شروع ہوئی، وہاں آبادی کے تناسب سے سب سے کم اموات ریکارڈ کی گئیں یعنی چار ہزار چھ سو چونتیس۔ اب آئیے وطن عزیز کی صورت حال پر نظر ڈالتے ہیں، ہم نے اس وبا کی پہلی لہر کو کامیابی سے ہینڈل کیا اور دنیا سے داد بھی پائی، جو حق بھی بنتا ہے۔ حکومت پاکستان کی ہیلتھ ایڈوائزری کے مطابق اب تک اس وبا میں دس ہزار چھ سو چوالیس اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ میرے پاس ان اعداد و شمار پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہ ہوتی اگر میری معلومات صرف سرکاری رپورٹ تک ہی محدود ہوتیں۔

تقریباً روزانہ دوستوں اور عزیزوں سے بات کے دوران پچھلے ایک سال میں جو تبدیلی نوٹ کی وہ مسلسل اموات کے اعلانات ہیں اور ان اموات کے ساتھ کورونا کا لاحقہ جڑ چکا ہے لیکن اگلے ہی جملے میں تسلی بھی دی جاتی ہے کہ باقی سب اچھا ہے۔ کیا ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے ہاں کسی کی موت کا سرکاری اندراج کتنی دیر سے کیا جاتا ہے؟ پچھلے چند ماہ میں کتنی ہی سرکردہ شخصیات اس بیماری میں چل بسیں؟ ایسے دوست بھی جو اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد شفایاب ہوئے لیکن اس بارے سازشی خیالات بالخصوص مغرب کی سازشوں بارے بتاتے نہیں تھکتے۔ ہم کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟

اگر ہمارے ہاں واقعی کورونا کا اثر اتنا کم ہوا تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اب تک کئی ادارے بالخصوص میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیاں اس سلسلے میں تحقیقی پروگرام شروع کر دیتے تاکہ اس کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کیا جا سکتا اور باقی دنیا اس سے مستفید ہو سکتی۔ اس بات کی گنجائش ہے شاید کوئی ایسا تحقیقی پروگرام شروع بھی ہو چکا ہو اور ہمیں معلوم نہ ہو۔

اسی طرح ہمارے ہاں آبادی کے تقریباً تمام طبقوں میں ویکسین کے بارے میں خیالات اسی ٹرینڈ کی نشاندہی کرتے نظر آتے ہیں۔ان میں ویکسین کے ذریعے لوگوں کے جسم میں کمپیوٹر چپ ڈالنے سے لے کر مسلمانوں کی آبادی کنٹرول کرنے اور لادینی نظریات سے مسلمانوں کے عقائد خراب کرنا شامل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ دہائیوں میں ہمارے ہاں مغرب کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے اور خاص طور پر 2011 میں ایبٹ آباد میں جعلی حفاظتی ٹیکوں کی مہم، جس کے نتیجے میں امریکہ نے اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا، نے بچوں میں حفاظتی ٹیکوں کی مہم کو شدید نقصان پہنچایا، جس کا ایک اثر یہ ہوا کہ پولیو کا مرض ابھی بھی وطن عزیز کے بچوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔

اس پس منظر میں سائنسی علوم کی سیاست بازی اس سال تو عروج پر پہنچی دکھائی دیتی ہے و، با کے دوران درست اور حقیقت پر مبنی معلومات کے حصول کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس موضوع پر باہم بات چیت بند کر دیں، صرف خیال رہے کہ دلائل حقیقت پر مبنی ہوں نہ کہ خیالی اور سازشی نظریات پر مبنی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •