EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی نقل مکانی اور حکمران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"

بین الاقوامی سطح پر مشہور اور اعلیٰ درجہ بندی والے تعلیمی اداروں اور تحقیقی مراکز کے اندر بین الاقوامی طلباء کے بیچ پاکستانی طلباء کا تناسب پاکستانی نوجوان نسل کی فطری استعداد کا مظہر ہے۔ اس بات کا مشاہدہ حال ہی میں طبیعات کے اندر ہونے والے ثقلی موجوں(gravitational Waves) سے متعلق ایک کامیاب تجربے کے اندر دو پاکستانی ساائنسدانوں کی شراکت سے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اکثر پاکستانی طلباء پردیس جا کر ادھر ہی مستقل سکونت اختیار کر لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ پاکستانی تعلیمی اداروں کے اندر پڑھنے والے طلباء کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ موقع ملنے پر ترقی یافتہ ممالک کی طرف نقل مکانی کریں۔ قابل اور ہنر مند لوگوں کا ملک سے باہر کی طرف بہاؤ اپنے عروج پر ہے۔

اس سلسلے میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اپنی بھر پور کوشش کر رہی تا کہ ان با صلاحیت اور ہنر مند افراد کی نقل مکانی کو روکا جا سکے۔ لیکن سکالر شپ ہولڈرز کے پرانے نا خوشگوار تجربات کے سبب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نا ہو سکی۔ ماضی قریب میں تقریباً 177 کے قریب ایم فل اور پی ایچ ڈی طلباء اپنی تعلیم مکمل کرنے میں ناکام رہے جب کہ 110 کے قریب طلباء نے باہر ممالک میں ہی مستقل رہائش اختیار کر لی۔

اس انتہائی اہم مسئلے کے اوپر بات چیت وقت اہم ضرورت ہے جب کہ ایک ہمہ گیر پالیسی وضع کرنا ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حکومت کی سنجیدہ کوششوں کے بغیر مسئلے کا حل کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کے اندر طلباء کو ان کی قابلیت کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے نا کہ کسی رسید، خط، ٹیلی فون، تعلق اور یا پھر سفارش کی بنیاد پر۔ وہاں ان کی قابلیت کو سامنے رکھ کر ان کو انتظامی کرسی کے اوپر با اختیار ہو کر بیٹھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے تا کہ وہ اپنے علم اورہنرکی بدولت اپنے حاصل شدہ تجربے کو استعمال کرتے ہوئے تعلیم و تحقیق کے نظام کے اندر بہتری لا سکے۔
بد قسمتی سے وطن عزیز کے تعلیمی اداروں کے اندر سیاست نے اداروں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ذاتی مفادات کی بالاتری اور انتظامی کرسی کے لئے ہینج ٹانگ جیسے روؤیوں نے قابل اذہان اور با صلاحیت افراد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جو اچھی تنخواہوں اور بہترین طرز زندگی کی تلاش میں ترقی یافتہ ممالک کی طرف نقل مکانی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کی عزت کی جاتی ہے۔

حکومت کے تعلیمی بجٹ سے متعلق کیے گئے وعدے صرف الفاظ کا کھیل ہی ثابت ہوئے۔ تعلیم اور خصوصاً سائنس و ٹیکنالوجی کے لئے مختص رقم کو دیکھ کر حکومتی پالیسی اور تعلیم کے حوالے سے ان کی سنجیدگی کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ نئے اداروں کے قیام کے بعد ان اداروں کو مکمل نظر انداز کیا گیا جب کہ ان ہی قائم شدہ اداروں میں سے کچھ کے اندر افراد اور فیکلٹی کا انتخاب مکمل طور پر سیاسی بنیادوں پر کیا گیا۔ عملی اقدامات اسی صورت ممکن ہیں جب ذاتی، سیاسی اور خاندانی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا جائے۔

پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا لیکن ہم پالیسیوں اورمثبت اقدامات کے حوالے سے ابھی تک پرانے دور کے اندر سانس لے رہے۔ 69 سال گذرنے کے باوجود تاریکیٔ جمہور کی صبح خوش جمال کا سورج طلوع ہونے کے لئے بے کس عوام ٹکٹکی باندھ کر انتظار میں ہیں۔

آقاوؤں کے رؤیوں کو دیکھ کر تو محسوس ہوتا ہے جیسے اس زمین کے حصول کے لئے قربانیاں دینے والوں کے خون کا مذاق اڑایا جا رہا ہو۔ ملک کو کئی اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے لیکن ملک کے ناخدا ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور جن کو سرحدات کے اندر سکونت پذیر محب وطن عوام سے زیادہ سرحدات کے باہر تجارت، کاروبار اور کاروباری شراکت داروں کی فکر لگی ہوئی۔ شاہی مزاج کے حامل حب ّ جاہ کے یہ دیوانے بھول چکے ہیں کہ یہ عوام اس سرزمین کی عشق و محبت میں اب بھی اس وطن کی سرحدوں کو اپنے خون سے سینچنے کے لئے تیار ہیں اور امید کی کرن کے ظہور کے لئے بڑے سمیم قلب کے ساتھ منتظر ہیں۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تعلیم کو سیاست سے کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام قائدانہ صلاحیتیں تعلیم ہی کی مرہون منت ہیں۔ غیر تعلیم یافتہ سربراہ سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید تحقیق سے متعلق دور حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ کبھی بھی مؤثر طریقے کے ساتھ نہیں کر سکتا۔ یہ بھی ایک نروئرودھ حقیقت ہے کہ تعلیم یافتہ اور فطری استعداد کے مالک سربراہ کی بنائی جانے والی پالیسیاں دور رس اثرات رکھتی ہیں اور ایک باصلاحیت اور با وقار معاشرے کی ضامن ہوتی ہیں۔

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری پے سوال ہے۔

محمد نعمان کاکا خیل کینگ پوک نیشنل یونیورسٹی جنوبی کوریا میں پی ایچ ڈی ریسرچ سکالر جب کہ یونیورسٹی آف واہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے