گلے کٹی لاشیں اور ضدی بادشاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم بہت خوش ہیں کہ ہزارہ قبیلہ نے اپنے دس بے گناہ شہدا کی ان کے فرمان کے مطابق تدفین کر دی، گھر کا سربراہ ہو یا ملک کا، اس کے لیے یہ بات باعث تسکین ہوتی ہے کہ اس کا ہر حکم مانا جاتا ہے، ویسے ایسا تو آمریت میں ہوتا ہے جس میں ہر جائز و ناجائز، قانونی و غیرقانونی، شرعی اور غیر شرعی آمر کے حکم کی تعمیل کی جاتی ہے جس سے آمریت مزید مضبوط ہوتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں ملک کے آمر یا گھر کے آمر سربراہ کی دھاک بیٹھ جاتی ہے اور ہر شریف انسان، بیوی، بچے ڈرتے ہیں جس سے ہر آمر کو تسکین ہوتی ہے کہ اس کی چودھراہٹ (بدمعاشی) قائم ہے۔

شہدا کی تدفین سے جہاں وزیراعظم کو خوشی ہوئی اور لاشعوری طور پر دلی تسکین بھی ہوئی وہاں، انہوں نے اپنا وعدہ فوراً پورا کیا اور شہدا کے لواحقین سے تعزیت کے لیے کوئٹہ پہنچ گئے، چند بچیوں کو بلا کر تعزیت کی اور چھوٹی بچیوں سے شفقت کا اظہار کیا، وزیراعظم یقیناً اس بات پر فخر محسوس کرتے ہوں گے کہ ان کی آمریت بھرپور طریقے سے قائم ہے۔

مچھ میں شہید ہونے والے 10 بے گناہ شہدا کے ورثا کو شاید غلط فہمی ہو گئی تھی کہ ان کا وزیراعظم عوام کا منتخب کردہ نمائندہ ہے جس کے دل میں عوام کا دکھ اتنا ہوگا کہ اس سانحہ پر وہ رات کو سو بھی نہیں سکا ہو گا، اسی لیے شاید تعزیت کے دوران ایک بچی نے کہا کہ آپ ہماری آخری امید تھے، یعنی آپ 7 روز کی تاخیر سے پہنچے جس سے یہ امید ختم ہو گئی، سمجھنے والے بچی کی بات کو سمجھ گئے مگر شاید وزیراعظم کے سر سے گزر گئی۔

تعزیت اسلامی اور معاشرتی اعتبار سے بہت اہمیت کی حامل ہے، بدترین دشمن پر بھی مصیبت آ جائے یا اس پر کسی نے ظلم کے پہاڑ توڑتے ہوئے اس کے گھر کے دو، چار، آٹھ، دس افراد کو قتل کر دیے ہوں اس موقع پر کم دشمنی رکھنے والوں کے دل بھی نرم ہو جاتے ہیں، ان حالات میں اگر وہ اپنے دشمن کے گھر تعزیت کے لئے چلا جائے تو دہائیوں کی کدورتیں ختم ہو جاتی ہے، اس سے تعزیت کرنے والے عزت بڑھتی ہے اور دشمنی بھی ختم ہوجاتی ہے۔

شہدا کے ورثا جن کے 10 پیارے شہید کر دیے گئے اور شہید بھی ظالمانہ طریقے سے کہ گلے کاٹ کر کیا ہو، ان ورثا سے ان کے دشمن بھی ہمدردی کرنے اور دکھ بانٹنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں مگر کیا کیا جائے بعض لوگوں کے دل بہت سخت ہوتے ہیں یا شاید وہ احساسات سے عاری ہوتے ہیں وہ ایسے مواقع پر بھی اپنی انا کے ہاتھوں مجبور ہو کر اکڑے رہتے ہیں اور تعزیت کے لئے شرائط رکھ دیتے ہیں۔

اپوزیشن میں ہوتے ہوئے اخلاقیات کا درس دینے والا مسند پر بیٹھتے ہی تمام اخلاقیات بھول گیا، بعض لوگوں کا نفسیاتی مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ کسی کا جنازہ نہیں دیکھ سکتے، سانحہ مچھ میں شہید ہونے والوں سے شاید زیادہ خوف آ رہا ہو گا کہ ایک تو دس جنازے ہیں اور پھر ان کے گلے بھی کٹے ہیں، نفسیاتی مسئلہ ہو سکتا ہے کہ وہ سوچے کہ جب تعزیت کے لیے پہنچا تو کہیں گلے کٹی لاشیں اٹھ کھڑی نہ ہو اور وہ اپنے خون کا حساب مانگنے لگیں اور پھر خوف کے مارے وہاں سے جوتے چھوڑ کر بھاگنا نہ پڑ جائے، ایسے لوگوں پر ترس کھانا چاہیے نہ کہ تنقید۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ تعزیت کے لیے شرائط رکھی گئیں اور پھر قبیح کھیل کھیلا گیا، اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی، ”پالتو سماجی“ میدان میں آئے اور مقتولین کو ایرانی کہنا شروع کر دیا، کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ نے مقتولین کے شناختی کارڈ اور دیگر شناختی دستاویزات طلب کر لیں۔

وزیراعظم کی ضد کو پورے ہوئے تین دن ہو گئے، لاشیں سپرد خاک کر دی گئیں، جب لاشیں سپرد خاک ہو گئیں تو ضلعی انتظامیہ نے کیوں نہ ان لاشوں کی شناخت کے لیے قبر کشائیاں کیں اور ایرانیوں کی لاشیں ان کے ملک کے حوالے کیوں نہیں کیں، جیسے ہی شہدا کی تدفین ہوئی اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی دفن کر دی گئی، کیسے کیسے ظالم لوگ ہیں مگر خون بھی کبھی چھپا ہے۔

جب امید ٹوٹتی ہے تو زندگی کی امنگ ہی ختم ہو جاتی ہے، یہی حال ہماری حکومت کا ہے، تبدیلی اور کرپشن کے خاتمے کے لیے ووٹ لے کر حکومت بنانے والوں نے اڑھائی برسوں میں جو حال عوام کا کیا ہے، وہ سب کے سامنے ہے، اب تدفین کے لئے شرائط رکھ کر عوام کی اپنے پسندیدہ وزیراعظم سے یہ امید بھی ٹوٹ گئی کہ اسے عوام کے دکھ کا احساس ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •