پی ایس ایل 6: کیا کرس گیل اور راشد خان پاکستانی شائقین کی خاص توجہ کا مرکز ہوں گے؟

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گیل اور راشد
Getty Images
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں شہرت رکھنے والے کرکٹرز جب میدان میں اتریں اور یہ میدان شائقین سے خالی ہوں تو ایسے میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اپنی روایتی چمک دمک دنیا کو کیسے دکھا سکتی ہے۔

کووڈ کی وجہ سے کرکٹ اس وقت اسی طرح کی صورتحال سے دوچار ہے اور پاکستان سپر لیگ بھی اس سے مبرا نہیں ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کی طرح چھٹا ایڈیشن بھی مکمل طور پر پاکستانی میدانوں میں سجنے والا ہے لیکن پاکستانی شائقین کا سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا وہ اپنے پسندیدہ کرکٹرز کو میدان میں جاکر دیکھ سکیں گے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے اگرچہ کہا ہے کہ وہ شائقین کو اسٹیڈیم میں میچز دیکھنے کے معاملے پر حکومت سے بات کریں گے لیکن اگر یہ اجازت نہیں ملتی تو شائقین کے لیے اس سے بڑی مایوسی کیا ہوگی کہ وہ ان کھلاڑیوں کو اپنے سامنے کھیلتا نہیں دیکھ سکیں گے جو پہلی بار پاکستان میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔

پاکستان میں پہلی بار کون کون کھیلے گا؟

پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والے کرکٹرز میں بیشتر اس سے قبل بھی پاکستان میں آکر کھیل چکے ہیں تاہم کچھ کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی بار پاکستان سپر لیگ کے میچز پاکستان میں کھیلیں گے اور شائقین کے لیے انہی میں کشش نظر آرہی ہے۔

سب سے قابل ذکر نام ویسٹ انڈیز کے کرس گیل کا ہے جنھیں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پلاٹینم کیٹگری میں حاصل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ایس ایل کیا کیا بیچے گی؟

کھلاڑی میں کورونا کا خدشہ، پی ایس ایل کے بقیہ میچ ملتوی

کورونا کا خوف پی ایس ایل پر بھی اثر انداز ہونے لگا

کرس گیل اس سے قبل پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائٹڈ، کراچی کنگز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور لاہور قلندرز کی نمائندگی کرچکے ہیں لیکن انھوں نے ان ٹیموں کی طرف سے تمام میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے تھے اور ان تمام ٹیموں کی طرف سے کھیلتے ہوئے وہ کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے، جس کے لیے وہ شہرت رکھتے ہیں۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چودہ میچوں میں وہ صرف ایک نصف سنچری اسکور کرنے میں کامیاب ہو پائے تھے۔

کرس گیل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے کامیاب ترین بیٹسمین سمجھے جاتے ہیں۔

وہ اس طرز کی کرکٹ میں چار سو سے زائد میچ کھیل چکے ہیں اوربائیس سنچریوں کی مدد سے تیرہ ہزار سے زیادہ رنز بناچکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کرس گیل کے چھکوں کی تعداد ایک ہزار کو عبور کرچکی ہے۔

کرس گیل 2006 میں پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیل چکے ہیں۔ اس سیریز کے ملتان ٹیسٹ میں انھوں نے 93 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

کرس گیل کے علاوہ افغانستان کے راشد خان، مجیب الرحمان اور قیس احمد بھی پہلی بار پی ایس ایل پاکستان میں کھیلیں گے۔

راشد خان کی خدمات لاہور قلندرز نے پلاٹینم کیٹگری میں حاصل کی ہیں۔

اس سے قبل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے دو مرتبہ ان کی خدمات حاصل کی تھیں لیکن دونوں مرتبہ انھیں افغانستان کرکٹ بورڈ نے این او سی جاری نہیں کیا تھا۔

پی ایس ایل

Getty Images
راشد خان

تاہم اس بار افغانستان کے کرکٹرز کو پی ایس ایل کھیلنے کے این او سی جاری ہوچکے ہیں۔

راشد خان اس بار پی ایس ایل میں مکمل طور پر دستیاب نہیں ہوں گے کیونکہ فروری اور مارچ میں افغانستان کی ٹیم زمبابوے کے دورے پر ہو گی جہاں اسے ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے ہیں۔ اگر کووڈ کی وجہ سے یہ دورہ ممکن نہیں ہوتا تو پھر راشد خان پی ایس ایل کے تمام میچوں میں لاہور قلندرز کو دستیاب ہوں گے۔

افغانستان کے انیس سالہ آف اسپنر مجیب الرحمان بھی اس وقت ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں اپنی عمدہ کارکردگی کی وجہ سے شہ سرخیوں میں ہیں۔ گذشتہ سال انھوں نے بگ بیش۔کیریبئن لیگ اور آئی پی ایل میں حصہ لیتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں 37 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

تین بہترین بولرز ایک ہی ٹیم میں

ٹی ٹوئنٹی میں گذشتہ سال کے تین کامیاب بولرز حارث رؤف، شاہین شاہ آفریدی اور راشد خان اس بار ایک ہی ٹیم لاہور قلندرز میں شامل ہیں۔

حارث رؤف گذشتہ سال ٹی ٹوئٹی مقابلوں میں57 وکٹیں حاصل کرکے سرفہرست رہے تھے۔

افغانستان کے اسپنر راشد خان 56 وکٹیں حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے تھے جبکہ شاہین شاہ آفریدی کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 52رہی تھی۔

گیل

Getty Images

کون سا کھلاڑی کتنا مہنگا؟

پاکستان سپر لیگ میں آئی پی ایل کی طرح کھلاڑیوں کی نیلامی نہیں ہوتی بلکہ ہر کیٹگری میں کھلاڑیوں کا معاوضہ مقرر ہوتا ہے۔ اس بار پاکستان سپر لیگ کی مجموعی رقم میں کمی ہوئی ہے اور اب یہ ایک اعشاریہ ایک ملین ڈالرز سے کم ہو کر نو لاکھ پچاس ہزار ڈالرز ہو گئی ہے۔

اس بار پلاٹینم کیٹگری میں شامل تین کرکٹرز میں سے دو کو ایک لاکھ ستر ہزار ڈالرز ملیں گے جبکہ تیسرے کرکٹر کو ایک لاکھ تیس ہزار ڈالرز ملیں گے۔

ڈائمنڈ کیٹگری میں شامل تین کرکٹرز میں سے ایک کو پچاسی ہزار ڈالرز اور بقیہ دو کو ساٹھ ساٹھ ہزار ڈالرز ملیں گے اسی طرح گولڈ کیٹگری میں شامل تین کرکٹرز میں سے ایک کو پچاس ہزار ڈالرز اور بقیہ دو کو چالیس چالیس ہزار ڈالرز دیے جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17265 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp