اے ابن آدم!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حیرت ہے کہ یہاں ہر بندہ اپنی اپنی آسانی کے سامنے برے وقت کو اچھا اور اچھے وقت کو برے میں بدل دیتا ہے۔ بات کو گہرائی میں دیکھا جائے تو دو رخ نکلتے ہیں ، ایک تو یہ کہ ہماری قوم بہت ہوشیار اور عقل مند ہے اور دوسری یہ کہ وہ عقلمند ہونے کے باوجود بھی عقل کو کسی درست کام میں استعمال نہیں کرتے۔ کئی لوگ بے وقوف ہونے کے باوجود بھی ایسے کئی کام کر لیتے ہیں جو ایک عقل مند نہیں کر پاتا۔

بات صرف دماغ کو چلانے کی نہیں،  اس کو صحیح جگہ لگانے کی ہے بلکہ ہم ایسی قوم ہیں کہ ہمارا دماغ گھوڑے کی رفتار سے چلتا تو ضرور ہے پر کسی صحیح جگہ لگتا نہیں۔ دماغ چلنے اور لگنے میں زمین آسمان کا فرق ہے، لوگ صرف یہی سوچ کر خوش ہو جاتے ہیں کہ واہ یار اس کا دماغ تو کافی چلتا ہے اور وہاں دوسرا شخص جس کو کوئی کچھ سمجھتا ہی نہیں دماغ درست جگہ لگا کر نہ صرف خود کو منوا لیتا ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے کہ صرف دماغ چلانا ہی کافی نہیں بلکہ صحیح جگہ لگانا بھی معنی رکھتا ہے۔

انسان بہت کچھ حاصل کرنے کی دوڑ میں کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتا کیونکہ وہ ایک وقت میں کئی چیزوں میں خود کو مصروف کر لیتا ہے ، جو طاقت وہ ایک کام کر کے دوسرے کام کو شروع کرنے کی طرف استعمال کر سکتا ہے ، وہ کئی کاموں میں الجھ کر ایک کام بھی ٹھیک طریقے سے انجام دینے میں ناکام ہو جاتا ہے۔

وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا بدلتا رہتا ہے لیکن انسان وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا نہیں ، بدتر ہوا جاتا ہے۔

ڈھونڈتا پھرتا ہے تو اوروں کے عیب اے ابن آدم
اور سوچتا ہے تو بچا رہے گا اس طرح اے ابن آدم
وہ جو اوپر بیٹھا ہے وہ تجھ سمیت سب کے رازوں پر پردا ڈالے ہوئے ہے
تو کون ہوتا ہے انہیں رسوا کرنے والا اے ابن آدم
لوگ تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تو خود کو شہنشاہ سمجھنے لگتا ہے
نفرتیں بانٹتا ہے اور بدلے میں محبت کی امید لگائے رکھتا ہے
واہ ابن آدم، اپنے سے بندوں سے اپنی سی امید رکھتا ہے
سن تو خاک ہے، خاک ہی رہے تو بہتر ہے
ورنہ اس خاک کو خاک میں دفنانے میں وقت نہیں لگتا اے ابن آدم
رک جا، جھک جا، نہ کر اتنا غرور اے ابن آدم
کہیں ایسا نہ ہو تو رسوا کر دیا جائے اپنوں میں ہی اے ابن آدم
سن، رک جا، جھک جا، اے ابن آدم

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •