لوہڑی،دلا بھٹی اور گنے کی فصل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


لوہڑی پنجابیوں کا ایک تہوار ہے جسے ہر سال 13 جنوری کو منایا جاتا ہے ۔ اگرچہ ہندو متھالوجی میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے لیکن بنیادی طور پر یہ ایک زرعی تہوار ہی ہے، جسے سرد راتوں پر سورج کی فتح کے طور پر ہی منایا جاتا تھا۔

لوہڑی (لوہری) نیند کے بعد مٹیار (دوشیزہ ) کی پہلی آکڑ (انگڑائی) جس کے بعد گرم بستر تہ کر کے رات کا احتتام اور صبح کا آغاز ہوتا ہے۔

وقت کے ساتھ اسے ایک دن کے ساتھ مخصوص کر دیا گیا جو کہ 13 جنوری ہے۔ یہ دن کیوں رکھا گیا، یہ جاننے کے لیے پس منظر دیکھتے ہیں۔

پنجاب دھرتی کا ایک سورما دُلا بھٹی کا ٹاکرا آج کے حاٖفظ آباد کے نزدیک جنگل میں چھپے کچھ اغواکاروں سے ہو گیا جو کسی بیرونی علاقے سے ایک چھوٹی بچی کو اغوا کر کے اس جنگل میں آ چھپے تھے۔ یہ سارا علاقہ اس وقت دلا بھٹی کا تھا۔ اس لیے جب ان اجنبیوں سے پوچھ گچھ کی تو بجائے کوئی جواب دینے دے وہ مقابلے پر اُتر آئے اور مارے گئے، ان میں ایک آخری زخمی نے مرتے وقت صرف اتنا ہی بتایا کہ یہ بچی کسی جاگیردار کی ہے اور ہم مغل گورنر کے کارندے ہیں ، اسی کے حکم پر اسے صرف اغوا کرنے کے کا حکم تھا۔

دلا بھٹی نے اسے اپنی بیٹی بنا لیا۔ بچی جوان ہوئی تو اس کا بیاہ کر دیا اور اس بیاہ کی تاریخ ہندی اور انگریزی کیلنڈر کے حساب سے 13 جنوری بنتی ہے۔ دھرتی کے اس پتر کی دھی کے ویاہ اور مٹیار کی پہلی انگڑائی آج ابھردے پنجاب میں لوہڑی ( لوہری ) کے طور پر منائی جاتی ہے۔

دلا بھٹی پنجاب کا عظیم بیٹا تھا، جس نے مغلیہ سلطنت کے خلاف بغاوت کی، بیس سال تک گوریلا جنگ لڑی، راوی سے چناب کا علاقہ مغلوں سے آزاد کروا کے پنجابی راج قائم کیا، آج کے دور میں اسے لوگوں نے پنجاب کا رابن ہڈ کہا۔  معاملات بگڑتے گئے، بات بڑھتی گئی، شہنشاہ ہند اکبر اعظم مجبور ہوا، پایۂ تخت دہلی چھوڑ کر اسے لاہور آنا پڑا۔

پھر 20 برس تک اکبر بادشاہ شاہی قلعہ لاہور میں مقیم رہا، فرمان مغلیہ سلطنت شہر لاہور پایہ تخت پنجاب سے جاری ہوتے ۔ لفظ ’تخت لہور‘ بھی اسی زمانے سے مروج ہوا۔ جہانگیر بادشاہ کو بھی زندگی لاہور میں گزارنا پڑی، وہ شہر لاہور میں دفن ہوا اور چہیتی ملکہ نورجہاں بھی۔

آخرکار دلا بھٹی گرفتار ہوا، معافی نہ مانگی، شیر جوان کی طرح پھانسی کے تختے کو چوما، دہلی دروازہ لہور وہ جگہ ہے جہاں پنجاب کا یہ عظیم ہیرو پھانسی چڑھ گیا۔ یہ ان روایتوں میں سے ایک ہے جو پنجابی ہر سال جنوری میں منائے جانے والے تہوار لوہڑی کے پس منظر کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

اگر میں تاریخ کے طالب علم کے طور پر قیاس کروں تو پنجاب کے زیادہ تہواروں کے پس منظر میں زراعت ہے۔ لوہڑی کا تہوار گنے کی کٹائی کے بعد منایا جاتا ہے۔ شوگر ملز تو اب آئی ہیں۔ پہلے وقتوں میں مٹھاس کے لیے گڑ اور شکر ہی استعمال ہوتی تھی۔ مطلب پورے سال کا میٹھا جمع ہو گیا۔ پھر میٹھا ہر گھر کی ضرورت تھی۔ مطلب بارٹر سسٹم کی ایک اہم کرنسی،  دوسروں سے جو مرضی خرید لیں۔ دریاں، کھیس، جوتے، چارپائیاں۔ مطلب اس وقت جو بھی اشیاء دستیاب تھیں، گڑ دیں اور لے لیں۔

محنت مشقت کے بعد ایک الگ سا سکون ملتا ہے۔ اب اس سے کسان کی ذہنی کیفیت، خوشی کا اندازہ کریں۔ اب اس کے بعد پوری، پوری فیملیز بلکہ دیہات کا خوشی منانا بنتا تھا۔ لکڑیوں کے علاوہ گنے چوس چوس کر اس کے چھلکے بھی خشک ہو کر آگ جلانے کا کام دے سکتے تھے۔ ایسے حالات میں سردی کے موسم میں درمیان میں آگ کا الاؤ جلا کر اس کے اردگرد بیٹھ کر مونگ پھلی، گڑ، پھلیاں کھانا اس سے پُر لطف کیا ہو سکتا تھا۔ گانے بھی گائے جاتے تھے۔ مونگ پھلی ختم ہو جاتی تو اس کے بچے ہوئے چھلکے اسی آگ پر پھینک کر تقریب کے خاتمے کا اعلان کیا جاتا تھا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •