لیفٹ آرم اسپنر نعمان علی : سانگھڑ کی ٹیپ بال سے پاکستانی ٹیسٹ سکواڈ تک

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرکٹ پاکستان
BBC
مڈل آرڈر بیٹسمین سعود شکیل، کامران غلام، آغا سلمان، لیفٹ آرم سپنر نعمان علی، آف سپنر ساجد خان اور فاسٹ بولر تابش خان کے لیے جنوبی افریقہ کے خلاف ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے 20 رکنی پاکستانی ٹیسٹ سکواڈ میں شمولیت دراصل ان کی اس محنت کا صلہ ہے جو وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں کرتے آ رہے ہیں۔

نعمان علی: ماموں کو دیکھ کر سپنر بنا

34 سالہ نعمان علی کا تعلق سانگھڑ کے تعلقہ کِھپرو سے ہے جہاں انھوں نے اپنی کرکٹ کسی بھی دوسرے نو عمر لڑکے کی طرح ٹیپ بال سے شروع کی۔ جب وہ 13 سال کے تھے تو والد کی ملازمت کی وجہ سے فیملی حیدرآباد منتقل ہو گئی جہاں نعمان علی نے فضل الرحمن کلب کی طرف سے باقاعدہ کلب کرکٹ شروع کی۔

نعمان علی کو کرکٹ کا شوق اپنے ماموں رضوان احمد کو دیکھ کر ہوا جنھوں نے ایک ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

نعمان علی ٹیپ بال میں تیز بولنگ کیا کرتے تھے لیکن ماموں کے کہنے پر سپن بولنگ شروع کر دی۔

نعمان علی فرسٹ کلاس کرکٹ میں حیدر آباد کے آرایل اور ناردن کی ٹیموں کی نمائندگی کر چکے ہیں جبکہ یو بی ایل کی طرف سے گریڈ ٹو کرکٹ کھیلے۔

وہ پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کی طرف سے بھی کھیل چکے ہیں۔انہوں نے انگلینڈ میں بریڈ فورڈ لیگ کرکٹ بھی کھیلی ہے۔

نعمان علی اس سال ناردن کی طرف سے کھیلتے ہوئے قائداعظم ٹرافی میں 61 وکٹیں حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔ انھوں نے چھ مرتبہ اننگز میں پانچ یا زیادہ وکٹیں حاصل کیں جبکہ وہ تین بار میچ میں دس یا زیادہ وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔

نعمان علی گذشتہ سال بھی قائداعظم ٹرافی میں سب سے زیادہ 54 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے تھے جس میں 71 رنز کے عوض 8 وکٹوں کی کریئر کی بہترین کارکردگی بھی شامل تھی۔

پاکستانی ٹیم کے دورۂ نیوزی لینڈ کے سلیکشن کے موقع پر بھی یہ کہا جارہا تھا کہ نعمان علی کو ضرور موقع ملے گا۔ چیف سلیکٹر مصباح الحق سے ان کے بارے میں سوال بھی ہوا تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ چونکہ 42 نام نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کو پہلے بھیجے جا چکے تھے لہذا نعمان علی اسکواڈ کا حصہ نہیں بن پائے۔

نعمان علی کہتے ہیں کہ اس وقت انہیں ٹیم میں شامل نہ ہونے کا افسوس ضرور ہوا تھا لیکن وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ محنت رائیگاں نہیں جاتی۔

اس سوال پر کہ 34 سال کی عمر میں کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ اب آپ کے پاس انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے زیادہ وقت نہیں رہا؟

نعمان علی کہتے ہیں کہ عمر محض اعداد و شمار ہے اگر آپ فٹ ہیں اور میدان میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں تو پھر عمر کا کوئی تعلق نہیں۔

یونس خان اور مصباح الحق بھی فٹ رہ کر انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے رہے ہیں اور ان کی راہ میں عمر حائل نہیں ہوئی۔

نعمان علی کہتے ہیں کہ اس وقت ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کے علاوہ دوسرے لیفٹ آرم سپنرز میں ظفر گوہر اور کاشف بھٹی شامل ہیں۔ ان دونوں کو دیکھ کر وہ یہی سوچتے رہے ہیں کہ اگر ان دونوں کو موقع مل سکتا ہے تو مجھے کیوں نہیں؟

سعود شکیل: اس بچے کو کہیں گیند نہ لگ جائے ؟

کراچی میں پاکستان کرکٹ کلب کی نیٹ پریکٹس جاری تھی۔ فاسٹ بولرز انور علی اور تابش خان بولنگ کررہے تھے سرفراز احمد بھی وہیں موجود تھے اس دوران ایک گیارہ، بارہ سال کا لڑکا پیڈ کر کے نیٹ میں آیا تو ان کرکٹرز نے ٹیم کے منیجر اعظم خان سے کہا یہ چھوٹا سا بچہ ہے اسے کہیں گیند نہ لگ جائے۔

اعظم خان نے انہیں جواب دیا کہ میرے الفاظ یاد رکھ لیں یہ آنے والے دنوں کا اسٹار ہے۔

سعود شکیل بھی ان کرکٹرز میں شامل ہیں جنھیں کلب کرکٹ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سربراہ ندیم عمر کی حوصلہ افزائی شامل رہی ہے۔

سعود شکیل کی ابتدائی کرکٹ میٹروپولیٹن کلب اور عالمگیر جم خانہ سے شروع ہوئی اور وہ پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ تک جاپہنچے۔

انھوں نے 2014 کے انڈر19 ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ انڈر19 کرکٹ میں ان کی کینیا کے خلاف دو سنچریاں بھی شامل ہیں۔

25سالہ سعود شکیل بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے ہیں۔ وہ فرسٹ کلاس سیزن میں 10 سنچریاں بناچکے ہیں۔ اس سیزن میں انھوں نے تین سنچریوں اور پانچ نصف سنچریوں کی مدد سے 970 رنز بنائے جن میں ناردن کے خلاف کریئر بیسٹ 174 کی اننگز بھی شامل ہے۔ ان کے 970 رنز سیزن میں کسی بھی بیٹسمین کے دوسرے سب سے زیادہ رنز ہیں۔

کامران غلام کا ریکارڈ ساز سیزن

25 سالہ کامران غلام کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقہ اپر دیر سے ہے۔ وہ 2013 سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہے ہیں تاہم اس سال قائداعظم ٹرافی میں انھوں نے1249 رنز بنائے ہیں جو کسی ایک قائداعظم ٹرافی ٹورنامنٹ میں کسی بھی بیٹسمین کے سب سے رنز کا نیا ریکارڈ ہے۔

کامران غلام کے علاوہ آف سپنر ساجد خان۔ مڈل آرڈر بیٹسمین آغا سلمان اور فاسٹ بولر تابش خان بھی پہلی بار قومی اسکواڈ کا حصہ بنے ہیں۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ آف سپنر ساجد خان نے اس سیزن کی قائداعظم ٹرافی میں خیبر پختونخوا کی طرف سے کھیلتے ہوئے 11 میچوں میں سب سے زیادہ 67 وکٹیں حاصل کی ہیں۔انھوں نے اننگز میں پانچ وکٹیں پانچ مرتبہ جبکہ ایک مرتبہ میچ میں دس وکٹیں حاصل کی ہیں۔

37سالہ فاسٹ بولر تابش خان فرسٹ کلاس کرکٹ میں مجموعی طور پر598 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ وہ گذشتہ کئی برس سے ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں تاہم اس کے باوجود انہیں انٹرنیشنل کرکٹ میں موقع نہیں مل سکا۔

آغا سلمان کا تعلق لاہور سے ہے اور اس سال قائداعظم ٹرافی میں انہوں نے دو سنچریوں اور چھ نصف سنچریوں کی مدد سے941 رنز اسکور کیے ہیں۔

ٹیم سے کون کون باہر ہوا ہے؟

نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنے والی ٹیم میں شامل شان مسعود، حارث سہیل، محمد عباس، نسیم شاہ اور ظفر گوہر جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز سے باہر ہو گئے ہیں۔ نسیم شاہ ان فٹ ہیں۔

اوپنر شان مسعود دو ٹیسٹ کی چار اننگز میں صرف 10 رنز بنا پائے تھے۔ کرائسٹ چرچ ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں وہ صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔

مڈل آرڈر بیٹسمین حارث سہیل کے لیے بھی نیوزی لینڈ کی سیریز انتہائی مایوس کن رہی تھی اور وہ چار اننگز میں صرف 28 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے تھے۔

حسن علی کی واپسی

حسن علی مسلسل فٹنس مسائل کا شکار ہونے کے سبب گذشتہ سال ورلڈ کپ کے بعد سے ٹیم سے باہر تھے لیکن اس سیزن میں عمدہ آل راؤنڈ کارکردگی انہیں دوبارہ پاکستانی سکواڈ میں لے آئی ہے۔

حسن علی نے حالیہ قائداعظم ٹرافی میں نہ صرف 43 وکٹیں حاصل کیں بلکہ خیبر پختونخوا کے خلاف فائنل میں جارحانہ سنچری بھی سکور کی۔ ان کی قیادت میں سینٹرل پنجاب کی ٹیم خیبرپختونخوا کے ساتھ قائداعظم ٹرافی کی مشترکہ فاتح بنی ہے۔

پاکستان کا بیس رکنی اسکواڈ

پاکستانی سکواڈ کا اعلان چیف سلیکٹر محمد وسیم نے جمعہ کے روز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پریس کانفرنس میں کیا۔ چیف سلیکٹر کی حیثیت سے محمد وسیم نے پہلی بار پاکستانی ٹیم کا انتخاب کیا ہے۔ بابراعظم کی کپتان کی حیثیت سے بھی یہ پہلی ٹیسٹ سیریز ہوگی۔ اگرچہ انہیں نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے کپتان مقرر کیا گیا تھا لیکن انگوٹھے میں فریکچر کے سبب وہ دورے میں ایک بھی میچ نہ کھیل سکے تھے۔

بابراعظم ( کپتان ) محمد رضوان ( نائب کپتان ) عابدعلی، عمران بٹ، اظہرعلی، فوادعالم، سرفرازاحمد، فہیم اشرف، یاسر شاہ، شاہین شاہ آفریدی، عبداللہ شفیق، آغا سلمان، سعود شکیل، کامران غلام، محمد نواز، نعمان علی، ساجدخان، حسن علی، حارث رؤف اور تابش خان۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پہلا ٹیسٹ 26 سے 30 جنوری تک کراچی میں کھیلا جائے گا۔ دوسرا ٹیسٹ 4 سے 8 فروری تک راولپنڈی میں ہو گا جبکہ تینوں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل لاہور میں 11 ۔13 اور 14 فروری کو کھیلے جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17686 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp