گرم صورت حال میں ٹھنڈا دماغ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ساری دنیا صرف ہماری نہیں ہے بلکہ اس میں رہنے والے دیگر انسانوں کی بھی ہے۔ ہم سب اپنے دائروں میں زندگی گزار رہے ہیں اور کبھی کبھار نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ ہر انسان کی زندگی میں اپنی مشکلات ہیں۔ میرا ذاتی فلسفہ یہی ہے کہ جتنا ہو سکے کسی کو کوئی پریشانی نہ دی جائے۔ اگر تنازعات کھڑے ہوں تو ان کو اس طرح سلجھانے کی کوشش کی جائے جس میں کسی بھی فریق کے ساتھ بے انصافی نہ ہو۔ پچھلے ہفتے میری بیٹی عائشہ نے مجھے فون ملایا اور بولی کہ امی میں بائیں بازو کا ٹرن لینے کے لیے ایک چوراہے پر رکی ہوئی تھی تو ایک خاتون نے میری گاڑی کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔ وہ دو لوگ گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے اور کوئی بھی روڈ پر توجہ نہیں دے رہا تھا، وہ پریشانی سے بولی۔ اب میں کیا کروں؟
تم ٹھیک ہو؟
ہاں میں ٹھیک ہوں۔
تم اس خاتون کی انشورنس کمپنی کو فون ملاؤ اور ان کے ساتھ رپورٹ فائل کرو۔ جو پیچھے سے رکی ہوئی گاڑی کو ٹکر مارے اسی کی غلطی ہوتی ہے اور جس کی غلطی ہو، اسی کی انشورنس کمپنی یہ نقصان پورا کرے گی۔
تقریباً ہر ریاست میں یہ لازمی ہے کہ کار کے مالکان کم از کم اتنی انشورنس رکھیں جس سے اگر کسی کو جسمانی نقصان پہنچے تو اس کے علاج کا خرچہ اٹھایا جاسکے اور اگر کسی اور کو ٹکر ماری ہے تو ان کی پراپرٹی کے نقصان کو پورا کیا جائے۔ اس کے علاوہ اگر چاہیں تو مزید انشورنس خرید سکتے ہیں جو آپ کی گاڑی کو کسی بھی حادثے سے ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں اس کو ٹھیک کرنے کا پورا خرچہ ادا کرے۔ ، چاہے وہ کسی کی بھی غلطی ہو۔ اوکلاہوما کا موسم عجیب و غریب ہے۔ کبھی اولے گرے، کبھی بگولے آئے، ایک ہی ہفتے ہیں شدید بارش، برف، ژالہ باری، بگولے سب ممکن ہے۔ اولے گرنے سے جو گاڑیوں میں ڈینٹ پڑ جاتے ہیں، ان کو نکلوانے پر کافی لاگت آتی ہے۔ اسی لیے میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرتی ہوں کہ گیراج میں گاڑی کھڑی کروں۔ کبھی کبھار آدھی رات میں کھڑکیوں پر اولے برس رہے ہوں تو میں شکر محسوس کرتی ہوں کہ گاڑی اندر کھڑی ہے۔

گاڑی کو قسطوں پر خریدا جاسکتا ہے۔ جب قسطوں پر گاڑی خریدی ہو تو بینک کا یہی مطالبہ ہوتا ہے کہ مکمل کوریج خریدی جائے کیونکہ وہ اپنا نقصان کرنا نہیں چاہتے۔ ظاہر ہے کہ مکمل کوریج، کم از کم لازمی کوریج سے کئی گنا مہنگی ہوتی ہے۔ قسطیں ختم ہونے کے بعد جب آپ کی گاڑی مکمل طور پر آپ کی اپنی ہو گئی تو پھر اس کوریج کو پیسے بچانے کے لیے کم کر سکتے ہیں۔ نوید کی نئی گاڑی اور میری ہانڈا کی قسطیں اپنی ختم نہیں ہوئی ہیں اس لیے ہماری پوری کوریج ہے لیکن عائشہ کی گاڑی پر صرف لازمی کم از کم کوریج ہے۔

آپ اپنی گاڑی کی انشورنس کا کتنا پریمیم دیں گی، وہ کئی باتوں پر مبنی ہے۔
خواتین کے بہتر اور محفوظ ڈرائیور ہونے کی وجہ سے ان کی گاڑی کی انشورنس سستی ہوتی ہے۔
اگر پہلے کوئی حادثے نہیں کیے ہیں تو بھی فیس کم ہو گی۔
اگر محفوظ ڈرائیور ہونے کا کورس کیا ہوا ہے۔
اگر ڈرائیور کی عمر 25 سال سے زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ اور حقائق جیسا کہ کوئی کتنی گاڑی چلاتا ہو اور کتنا سفر کرتا ہو۔ وغیرہ

عائشہ نے کئی بار وہی سوال پوچھے۔ اب میں کیا کروں؟ میں نے دوبارہ سے وہی جواب دہرائے کہ ان خاتون کی انشورنس کو فون کرو۔ ان کے پاس شکایت کا فارم ہوتا ہے وہ کچھ سوالات پوچھیں گے۔ پھر تمہیں بتائیں گے کہ کہاں گاڑی کو معائنے کے لیے لے جانا ہے۔ معائنے کے بعد وہ بتا دیں گے کہ کتنی لاگت میں یہ ٹھیک ہوگی۔ اس کے بعد ہم ان سے گاڑی ٹھیک کروا سکتے ہیں جس کے پیسے جس کی غلطی ہو، اسی کی انشورنس دے گی۔ اگر دونوں کی غلطی ہو تو ان کی انشورنس آدھے آدھے پیسے دیں گی۔

اگر ان کی انشورنس کور نہ کرے تو کیا ہوگا؟
پھر تمہیں خود ہی گاڑی ٹھیک کروا کر ان کو بل بھیجا ہوگا۔
اگر وہ پیسے نہ دیں تو؟

تو پھر اسمال کلیمز کورٹ میں شکایت جمع کروا سکتے ہیں۔ اس سے ان مقروض افراد کے خلاف فیصلہ لے لیا جائے تو جب بھی وہ کوئی پراپرٹی خریدنے کی کوشش کریں تو ان کی کریڈٹ رپورٹ پر یہ فیصلہ دکھائی دیتا ہے اور ان کو آگے مشکلات پیش آتی ہیں۔

یہ سوال جواب کرنے کے بعد عائشہ نے فون رکھ دیا۔

اگر کوئی بار بار حادثے کرے یا نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے حادثہ کرے تو ان افراد کی انشورنس کی پریمیم بڑھتی جاتی ہے۔ اس نظام میں سب کو سنبھل کر ذمہ داری سے چلنا پڑے گا۔

یہاں پر گیپ انشورنس کا ذکر مناسب ہوگا۔ نئی گاڑیوں کی قیمت بہت تیزی سے گھٹتی ہے۔ اگر گاڑی کا قرضہ اس کی قیمت سے زیادہ ہے تو اس کے مکمل تباہ ہونے کی صورت میں آپ پر اس کی بقایا لاگت کی ذمہ داری عائد ہو سکتی ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے گیپ انشورنس خریدتے ہیں۔

دو دن کے بعد مجھے گائیکو انشورنس نے فون کیا کیونکہ عائشہ کی گاڑی میرے نام پر ہے۔ جب عائشہ نے ڈرائیور لائسنس لے لیا تو میں نے اس کو اپنی گاڑی دے کر خود نئی گاڑی خرید لی تھی۔ وہ ایک سولہ سترہ سال کی لڑکی کے لیے کچھ زیادہ ہی اچھی گاڑی تھی لیکن میں چاہتی تھی کہ اس کی گاڑی محفوظ ہو، اس میں نیوی گیشن سسٹم ہو، تاکہ اگر وہ کہیں کھو جائے تو راستہ تلاش کرسکے۔ کم پیسوں والی گاڑیاں کچھ پرانی تھیں اور ان میں یہ جدید سہولیات موجود نہیں تھیں۔ ہم سب اپنے بچوں کا بھلا ہی سوچتے ہیں۔ گائیکو کی کلرک نے کہا کہ جس دن اس خاتون نے عائشہ کی گاڑی کو ٹکر ماری تھی، اس دن ان کی گاڑی کی انشورنس شروع نہیں ہوئی تھی۔ آپ اپنی انشورنس کمپنی کو فون کریں اور دیکھیں کہ وہ کیا کور کر سکتے ہیں۔ عائشہ کی گاڑی پر صرف کم از کم لازمی کوریج ہے۔ عائشہ نے کہا کہ ان خاتون کے بوائے فرینڈ نے اس کو ٹیکسٹ میسج بھیجے ہیں کہ چونکہ غلطی دونوں کی تھی اس لیے وہ آدھے آدھے پیسے دیں۔ عائشہ بہت غصے میں آ گئی کہ میری تو کوئی غلطی نہیں تھی میں کیوں پیسے دوں؟ اس کے بعد اس نے ایک لمبا ٹیکسٹ میسج لکھا اور ان خاتون کو بھیجنے سے پہلے مشورہ لینے کے لیے مجھے بھیجا۔ اس میں لکھا تھا کہ رکی ہوئی گاڑی کو نہ دیکھنا اور اس کو پیچھے سے ٹکر مار دینا آپ کی غلطی تھی اور یہ آپ کی انشورنس نے بھی کہا ہے۔ اگر مجھے پولیس رپورٹ جمع کروانی پڑے گی تو وہ میں کروں گی اور اگر آپ نے میری گاڑی کو ٹھیک کروانے کے لیے پیسے ادا نہ کیے تو پھر مجھے آپ کے خلاف قانونی قدم اٹھانے پڑیں گے۔
اس دن میں کلینک میں بہت مصروف تھی۔ اگلے دن میں نے اس کو فون ملایا اور کہا کہ سارے انسانوں کی زندگی مشکل ہے۔ ہم میں سے کسی کے پاس بھی اپنی ذمہ داریوں پر ایک اور حادثہ ڈالنے کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ لوگ بھی پریشان ہوں گے۔ تم شائستگی سے ایک جواب لکھو اور اس میں پولیس رپورٹ اور قانونی کارروائی کے بارے میں کچھ دھمکیاں مت دو۔ تقریباً تمام ڈرائیور یہ سارے بنیادی اصول جانتے ہیں۔ ان کو بھی صورت حال کا اندازہ ہوگا۔ بدقسمتی ہی ہے کہ ان خاتون کی انشورنس ایکسیڈنٹ کے اگلے دن سے شروع ہو رہی تھی۔ کس کو پتا ہوتا ہے کہ صرف ایک دن میں ایسے حادثہ ہو جائے گا؟ ساتھ میں یہ بھی کہہ دو کہ میں صرف ایک کالج اسٹوڈنٹ ہوں اور اپنے راستے پر جا رہی تھی۔ اس خرچے کی میرے بجٹ میں جگہ نہیں ہے۔

اس کے بعد اس نے مجھے ان خاتون کا جوابی ٹیکسٹ میسج بھیجا اور کہا کہ اب میں بہت برا محسوس کر رہی ہوں۔ کاش یہ حادثہ نہ ہوا ہوتا لیکن کیا کر سکتے ہیں؟ اسی کا نام زندگی ہے۔ اس پیغام سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح دو اجنبی ایک حادثے کے نتیجے میں اگر ایک کونے پر اکٹھے ہو گئے ہوں تو بھی وہ بنیادی انسانیت اور ہمدردی کے ساتھ ایک دوسرے سے پیش آسکتے ہیں۔ اس پیغام کا ترجمہ یہ ہے۔

“او کے! کول۔ میں جانتی ہوں کہ تم نے میری انشورنس سے بات کرلی ہے۔ انہوں نے بھی مجھے فون کیا اور کہا کہ بدقسمتی سے میری پالیسی دوبارہ سے اس حادثے کے اگلے دن سے شروع ہوئی۔ اس لیے مجھے معلوم ہے کہ میں اس مسئلے میں اب ذمہ دار ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ تمہاری انشورنس تمہاری گاڑی ٹھیک کروا کر مجھے بل بھیجے گی۔ مجھے یہ ساری صورت حال پہلے سے معلوم ہے۔ اس بات کا ذکر کرنے کی تمہیں ضرورت نہیں کہ تم ایک اسٹوڈنٹ ہو اور اس صورت حال نے تمہیں معاشی بوجھ دیا ہے۔ میں بھی 32 سال کی ایک اسکول ٹیچر ہوں اور ایک تنخواہ سے دوسری تنخواہ تک مشکل سے گزارہ کر رہی ہوں۔ یہ اس بارے میں نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے بوائے فرینڈ نے تمہیں پیغام بھیجے۔ وہ اس حادثے پر خود کو ذمہ دار بھی محسوس کر رہا تھا اور میری مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہم آپس میں اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔ میں ایک ذمہ دار خاتون ہوں اور اپنے تمام بل وقت پر ادا کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ امید ہے کہ تمہارا دن اچھا گزرے گا۔ کالج میں اچھی طرح سے پڑھائی کرنا۔ میرا سارا خاندان بھی اوکلاہوما یونیورسٹی کا المنائی ہے۔ میرے دادا کے نام کی اینٹ فٹبال اسٹیڈیم میں لگی ہوئی ہے۔

“Enjoy your education and make the most of it۔ God bless”

اس مضمون میں کچھ حقائق بیان کرنے کیے لیے مندرجہ ذیل مضمون کے کچھ حصوں کا ترجمہ کیا گیا ہے۔

https://www.iii.org/article/auto-insurance-basics-understanding-your-coverage

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •