پی۔ ڈی۔ ایم کی جدوجہد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل رحمان کا معنی خیز بیان کہ ہم اپنے کارڈ کبھی دکھا کے کبھی چھپا کے حکومت کا جینا حرام کر دیں گے۔ ہم پی۔ ڈی۔ ایم کے کارڈز ظاہر اور چھپ جانے پر اس کی ناکامی اور کامیابی کا فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ پی۔ ڈی۔ ایم کی تحریک میں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں اور ایک مذہبی نظریاتی پارٹی کے ساتھ صوبائی قوم پرست پارٹیوں کا ایک پیج پر اصولی سیاست کا اتحاد ہے۔ نہیں لگتا کہ اب ان کا اتحاد کسی لالچ مفاہمت یا مصلحت کی وجہ سے ٹوٹ جائے گا۔

پی۔ ڈی۔ ایم کے اتحاد کو اصل خطرہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ سے تھا جو ماضی میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے مواقعے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ اب اس ہائبرڈ نظام نے ان دونوں کو بھی یکجا کر دیا ہے اور اب یہ دور ماضی سے مختلف ہے۔ ان پارٹیوں کے لیڈر ایک دوسرے کو صحیح طرح سمجھتے اور جانتے ہیں اور ان دونوں پارٹیوں کے جانشین بلاول اور مریم نے ابتداء ہی ایک دوسرے کو سمجھ کر باہمی ہم آہنگی اور قربت سے کی ہے۔ مولانا فضل رحمان کی شاگردی اور چھتری کے نیچے یہ دونوں بھی پیزے سے کم کی شرط پر آمادہ نظر نہیں آتے۔

پی۔ ڈی۔ ایم کی تحریک وقتی طور پر کامیاب ہو یا ناکام لیکن اس کے بیانئے کے دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں کیونکہ ملک میں پہلی مرتبہ بڑی پارٹیاں مل کر اپنے بیانئے سے اس نظام کو چیلنج کرتی ہوئی نظر آتی ہیں جس میں طاقت کا منبہ عوام ہونے کی بجائے کہیں اور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیانئے کو عوام میں بہت پذیرائی ملی ہے۔ اب لوگ اسی طرز پہ سوچنے اور سمجھنے لگے ہیں۔ اصل طاقت عوام کو موبلائز کرنے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کے بیانئے نے اس نظام کو جھٹکا ضرور دیا ہے اور پس پردہ قوتوں کو بھی سوچنے پہ مجبور کر دیا ہے۔

پی۔ ڈی۔ ایم کا بیانیہ مضبوط ہو رہا ہے۔ پی۔ ڈی۔ ایم کا اتحاد اور بیانیہ ماضی میں چلنے والی تحریکوں سے مختلف ہے۔ اس بیانئیے نے مفاد پرست اور مصلحتی سیاست کو بھی دھچکا دیا ہے۔ پیپلز پارٹی شروع سے ہی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزہمت کرتی آئی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی ناپسندیدہ رہی ہے۔ نہیں لگتا کہ پیپلز پارٹی پی۔ ڈی۔ ایم میں رخنہ ڈالے گی بلکہ وہ پارلیمنٹ اور سینٹ میں رہ کر ہی اس نظام کے خلاف آئینی طریقے سے جدوجہد کرنے کو ایک آپارچونٹی سمجھتی ہے۔ یہ وقت کی ضرورت بھی ہے یہی وجہ ہے کہ اب نون لیگ اور دوسری پارٹیوں نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے۔ مسلم لیگ نون بھی ایک بڑے صوبے کی نمائندگی کرنے والی بڑی پارٹی ہے۔ پارٹی کے لوگ اور عوام نواز شریف اور مریم کے علاوہ کسی کو ویلکم کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آتے۔

زیرک سیاستدان مولانا فضل رحمان جو ایک مذہبی اور نظریاتی پارٹی کے لیڈر ہیں آج کل ملک کی سیاست میں چھائے ہوئے ہیں۔ مولانا کی جہاندیدہ سیاست کی وجہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ہمارے علماء کرام اصولی سیاست کریں تو دینی خدمات کے علاوہ سیاست میں بھی اپنے آپ کو منوا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب مولانا شیرانی اور حافظ حسین جیسے لوگوں کی اصولی سیاست کرنے والی پارٹیوں میں کوئی گنجائش نہیں رہی۔

پی۔ ڈی۔ ایم کو اس حکومت کو گرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اب اس حکومت کے پاس ڈھائی سال بچتے ہیں۔ پی۔ ڈی۔ ایم کو اپنا فوکس اصل مقاصد اور مطالبات پر کرنا چاہیے جو اس لولے لنگڑے اقتدار کو گرانے سے زیادہ اہم ہیں جس میں فری اور فئیر الیکشن کا انعقاد، نیب اور ادارں کو سیاست میں مداخلت اور سیاسی انجیئرنگ بند کر نے کا مطالبہ، صحیح اور ایماندار ججزز کے تقرری کے لئے ایک واضح طریقہ کار، عوام کی معاشی حالات بہتر کرنے اور بے روزگاری پہ قابوں پانے کے اقدامات، عوام کی حق رائے دہی کا احترام اور سیاسی نظام کو تواتر کے ساتھ چلنے دیے جانے جیسے اصولی موقف کے لئے سینیٹ اور پالیمنٹ میں جدوجہد کرنا اور عوام کی عدالت میں ان چیزوں کو پیش کرنا شامل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •