عوامی تاثر بدلنے میں وقت لگے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مملکت اس وقت کئی گمبھیر مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ قدرتی گیس کے ملکی ذخائر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے، ہر سال گیس کی طلب بڑھ رہی ہے، شارٹ فال اڑھائی سو ایم ایم سی ایف ڈی ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سعید لارک کا کہنا ہے کہ ”عام صنعتوں کے کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس نہیں دیں گے“ ۔ عام صنعتوں کو گیس کی عدم فراہمی کے مضر نتائج ملکی معیشت کے لئے سخت نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ صنعتی زون کو گیس لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اپنے آرڈر وقت پر پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مملکت پہلے ہی برآمدات کے حوالے سے خاطر خواہ پوزیشن میں نہیں، ان حالات میں اگر صنعتی اداروں کو بجلی و گیس کی فراہمی میں دقت کا سامنا ہوتا ہے تو یقینی طور پر اس کا اثر ملکی معیشت پر پڑے گا۔ توانائی کے بحران اور وسائل کی تقسیم تک ایشوز اور مسائل کی ایک طویل فہرست ہے، جو قابل غور ہے اور جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حکومت کا ماننا ہے کہ وہ کرپشن کے خاتمے اور عوامی مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ ہے، لیکن دیکھا جائے تو تمام تر سنجیدگی کے باوجود کرپشن اور بدعنوانی میں خاطر خواہ کمی واقع نہیں ہو رہی، لمحہ فکریہ یہ کہ جو حکومت کرپشن کے خلاف ’جہاد‘ کا نعرہ لے کر اقتدار میں آئی تھی، کرپشن کم ہونے کے بجائے وہاں کرپشن میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اسی طرح عوامی مسائل کے حل میں کمی کے تمام دعوے بھی مٹی کا ڈھیر ثابت ہو رہے ہیں، عوامی مسائل مسلسل بڑھنے کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ انسانی زندگی کو مشکل بنا رہا ہے۔

ضروری امر یہ ہے کہ مملکت کو سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے عمل کا آغاز کر دینا چاہیے تھا، تاخیر سے کوئی حل نہیں نکلتا بلکہ خلیج میں اضافہ ہی نظر آتا ہے۔ حکومت کا جن اصولی بنیادوں پر اپوزیشن سے اختلاف ہے، اسے ایجنڈے سے ہٹا کر ان مسائل پر بات کی جا سکتی ہے، جو سب کے نزدیک مشترکہ ہوں۔ اس حوالے سے حزب اقتدار و اختلاف کو کسی ضد و انا کو آڑ بنانا مناسب خیال نہیں دیتا۔

انتہا پسندی، توانائی کے بحران اور معاشی مسائل کو حکومت تن تنہا کبھی حل نہیں کرسکتی۔ مملکت میں اس وقت تمام ادارے نہ تو اس قدر مضبوط ہیں اور نہ ہی برداشت کا ایسا ماحول موجود ہے جو ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکے۔ حکومت کے لئے اقتدار میں ہونے کے باعث ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل و بحرانوں کے خاتمے کے لئے سیاسی جماعتوں کے مفادات کا بھی خیال رکھے، تاہم سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ عوام کو درپیش مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے کیونکہ عوام اگر مطمئن نہیں ہوں گے تو کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت کو استحکام نہیں دے سکے گی۔ سیاسی مفاہمتی عمل وقت کا ناگزیز مرحلہ ہے اسے اپنائے بغیر مملکت کو درپیش مشکلات سے نکالنا جوئے شیر لانے کے مترداف ہے۔

وفاق و سندھ کے درمیان کشیدگی میں کمی اور دیگر صوبوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لئے ان شکوؤں کو فوری دور کرنے کی ضرورت ہے جس سے عوام براہ راست متاثر ہو رہے ہیں، جائز شکوے شکایات کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ عوام کو درپیش مشکلات دور کرنے پر توجہ دی جائے اور توانائیاں صرف کی جائیں۔ عوام کا عمومی تاثر تاحال یہی ہے کہ موجودہ حکومت سے جو توقعات وابستہ قائم کی گئی تھی بدقسمتی سے وہ پوری نہیں ہو سکی ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے ہوں یا اجناس کے نرخوں کو پر لگ جانا، مہنگائی کا عفریت تاحال لوگوں کے وسائل کو چاٹ رہا ہے، انہیں اس ہیبت ناک عفریت سے نجات دلانے کے لئے ضروری ہے کہ ان تمام عوام کو کنٹرول کیا جائے جو مہنگائی بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں، اس کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ حکومت اپنے اردگرد موجود مافیاز کے خلاف سخت و بے رحم کارروائی پر کمر بستہ ہو جائے، ذخیرہ اندوز اور منافع خور مافیاز کو نتھ ڈالنے کے لئے اپنی رٹ کا استعمال کرے، یہ بات پورے یقین اور وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ حکومت اگر صرف مہنگائی کو اطمینان بخش حد تک کم کرنے میں کامیابی حاصل کر لے تو اس سے جمہوریت کو درپیش خطرہ بھی کم ہو جائے گا اور موجودہ سیٹ اپ کے خاتمے کے لئے کوئی اندیشہ سر بھی نہیں اٹھا سکے گا۔

عوام کی سپورٹ اگر ختم ہوجاتی ہے تو حکومت کے لیے اپنی رٹ قائم کرنا مشکل سے مشکل ہوتا چلا جائے گا، گزشتہ چند برسوں میں پیدا ہونے والے مسائل حل کرنے اور خرابیاں دور کرنے کے کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں، حکومت کو عوام کے درد کا درماں کرنا چاہیے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ آمرانہ اور جمہوری حکومتوں میں فرق ہوتا ہے۔ ملک کو سنگین صورتحال سے نکالنے کے لئے قومی یکجہتی کے تحت مشترکہ حکمت عمل اپنانا ہو گی۔ ملک کے لیے ایک ایسی جامع اور پائیدار مالیاتی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

معاشی پالیسی کو مرتب کرتے ہوئے اس امر پر زیادہ توجہ دینا ہو گی کہ کوئی بھی نئی آنے والی حکومت اسے کسی طور تبدیل نہ کرے، حکومتوں میں تبدیلیوں کے بعد معاشی پالیسیوں کی تبدیلی سے معیشت میں استحکام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، منی لانڈرنگ و ناجائز طریقوں سے سرمایہ کی منتقلی سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک صفحے پر آنا ضروری ہے، عوام بھی یہ امید کرتے ہیں کہ اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے، عوام 41 سے زائد اشیاء پر براہ راست ٹیکس دیتے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں اشرافیہ کی بڑی تعداد قانون کی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر ملکی معیشت کے زوال کا باعث بن جاتی ہیں۔

مملکت میں امن و امان کی قدرے بہتر صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں دہشت گردی کے بڑھتے اور بڑے واقعات کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں تھا، اب جب کہ شدت پسندی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ، اس لئے اس امر کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے معاشی استحکام کو توانا کرنے کے لئے حکومت اپنی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی پیدا کرے، کیونکہ سیاسی عدم استحکام سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکی مفاد کی خاطر تحمل و برداشت کے ساتھ مینڈیٹ کو تسلیم کرنا سب کے لئے بہتر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •