پاکستان پر مسلط ہونے والی اشرافیہ کی کہانی(1)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں یہ بات بڑے تواتر سے سننے کہ ملتی ہے کہ
1) پاکستان میں سیاست بہت گندی ہے
2) سیاست دان بہت کرپٹ ہیں ملک کو مقروض کر دیا ہے
3) سیاست میں موروثیت ہے اور ایسا دنیا بھر میں کہیں نہیں ہوتا ہے۔
4) فوج اور بیوروکریسی بالائے قانون ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ سیاسی نظام ہمیشہ کسی بھی ملک کے معاشی نظام کا عکس ہوتا ہے۔ سرمایہ دار ممالک دو طرح کے ہوتے ہیں ایک صنعتی سرمایہ دار ممالک ہوتے ہیں اور دوسرے غیر صنعتی سرمایہ دار ممالک ہوتے ہیں۔ زیادہ تر صنعتی سرمایہ دار ممالک وہ ہیں جو سامراجی ممالک کی صف میں شامل ہوتے تھے یا ہیں اور غیر صنعتی سرمایہ دار ممالک وہ ہیں جو پہلے یا تو مکمل نو آبادیاں تھیں اور اب وہ نیم نو آبادیات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ غیر صنعتی سرمایہ دار ممالک ایک تو صنعتی ممالک کو خام مال فراہم کرتے ہیں اور دوسرا ان کی تیار مصنوعات کی منڈی ہوتے ہیں۔ سیاست اور وہ بھی خصوصاً موجودہ سرمایہ دارانہ جمہوریت یہ کم و بیش تمام صنعتی سرمایہ دار ممالک میں ایک جیسی ہوتی ہے اور کم وبیش تمام غیر صنعتی سرمایہ دار ممالک میں ایک جیسی ہوتی ہے۔ٖٖٖٖ

صنعتی انقلاب یورپ میں برپا ہوا تھا اور اس میں عوام براہ راست شامل ہوئے تھے اس وقت ریناں ساں اور روشن خیالی کی تحاریک نے تو ان کا سماجی نظام ہی بدل کر رکھ دیا تھا۔ چرچ اور زرعی نظام کے رکھوالوں کو شکست دینے میں عوام براہ راست شامل تھے۔ فتح یاب ہو کر سب سے پہلے تو جاگیرداری اور زمینداری کامکمل خاتمہ ہوا، صنعت اور کاروبار کو پروان چڑھایا گیا اور اس کے ساتھ ہی ان کا سیاسی نظام بھی اسی شکل میں ڈھلتا چلا گیا یعنی اگر غور کریں تو یہ جمہوریت بالکل ایک جوائینٹ سٹاک کمپنی کی مانند ہے جس میں فقط ایک حصص کا مالک بھی کمپنی کا مالک کہلاتا ہے جبکہ حقیقت میں اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہوتی اور اصل مالکان اور فیصلہ کن ڈائریکٹر حضرات ہی ہوتے ہیں جن کے پاس انتہائی کثیر تعدادمیں حصص ہوتے ہیں اور جو حقیقت میں کمپنی کو چلا رہے ہوتے ہیں اور وہی اس کے حقیقی مالک بھی ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح ووٹ ڈالنے والا ملک کی تقدیر بدلنے والا کہلاتا ہے جبکہ اس کی حیثیت محض اس ایک شیئر ہولڈر والے جتنی ہی ہوتی ہے اور اصل طاقت اشرافیہ، کابینہ یا اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہی ہوتی ہے۔

چونکہ اس یورپی سرمایہ دارانہ انقلاب میں عوام براہ راست شامل تھے اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ روشن خیالی اور ریناں ساں کی تحاریک نے سماج کی سوچ کو تبدیل کر دیا تھا اور اس کے ساتھ صنعت و حرفت نے نظریات اور سسٹم بنانے میں ان کی رہنمائی کی، وہاں کے محنت کشوں نے اپنے حقوق کے لیے زبردست تحاریک چلائیں اور کام کے اوقات سے  لے کر صحت اور تعلیم اور وہ بنیادی سہولیات لیں جو آج بھی تیسری دنیا والوں کی نظر کو خیرہ کرتی ہیں۔

اسی طرح عورتوں نے اپنے حقوق کے لیے اور رنگ دار اقوام  نے اپنی قربانیوں اور جہد مسلسل سے وہ قوانین بنوائے اور دنیا نے اپنی انکھوں سے دیکھا کہ شخصیات کے بجائے اب انحصار اداروں پر ہوا۔ معاشرے اور عوام  نے اپنے شہری حقوق حاصل کیے اور یہ ممالک آج بھی پسماندہ ممالک کے عوام کے لیے ایک خواب کی طرح ہیں جو آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ انہیں یہ حقوق اللہ واسطے سے بخش دیے گئے ہیں۔

اسی طرح ماضی میں جب زراعت سے لوگ متعارف ہوئے تھے تو زرعی نظام کی طرز پر جاگیرداری اور بادشاہت کانظام وجود میں آیا تھا جس میں زیادہ زرعی ملکیت رکھنے والا جاگیردار، بادشاہ یا شہنشاہ کہلاتا تھا جو مختار کل ہوتا تھا چونکہ اس نظام میں شخصیات کی بہت اہمیت ہوتی تھی کیونکہ بادشاہ اور اس کے اچھے یا برے کارندوں کے اثرات عوام کی زندگیوں پر براہ راست پڑتے تھے۔ اس لیے اس دور میں لوگ اچھے انسانوں کی آمد کا بہت انتظار کرتے تھے۔

اب جہاں تک پسماندہ ممالک کا تعلق ہے ایک تو وہ زیادہ تر تو ان یورپی ممالک کے زیرنگیں رہے اور ان سامراجی ممالک نے ان کو غیر صنعتی ممالک ہی رہنے دیا بلکہ یہ سامراجی ممالک یہاں سے خام مال اپنے ہاں لے جاتے رہے اور ان نو آبادیاتی ممالک کی کسی حد تک موجود صنعت کو بھی ختم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا، مثال کے طور پر ہندوستان کی جیسی بھی صنعت تھی بہرحال دستکاری میں ریشم، پٹ سن اور ٹیکسٹائل تو مانی ہوئی تھیں، اس کو ختم کیا گیا اور ایسا دنیا بھر میں ہوا، خام مال تو آج تک ایشیاء اور افریقہ سے جاتا ہے اور یہ خام مال اجناس کی شکل میں بھی ہے اور انسانی شکل میں بھی ہے۔

انسانی شکل میں اس طرح کہ جو بھی اچھا اور اعلیٰ ذہن ہو اس کو کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت دے دی جائے تاکہ وہ صرف ان ممالک کی کمپنیوں کو اور ان ممالک کو ہی اپنی خدمات دے سکیں جس سے وہ فائدہ اٹھائیں جبکہ جہاں کی وہ پیداوار ہیں وہ ممالک صرف زرمبادلہ کے ملک میں آنے سے ہی خوش رہیں جیسا کہ ہمارے ہاں حکومت غیر ملکی ترسیلات کے بڑھنے پر بغلیں بجاتی ہے۔

سامراجی ممالک کی تمام تر کوشش یہ رہی کہ مستقبل میں یہ ان کی وہ منڈیاں ہوں جہاں سے یہ اپنی صنعتوں کے لیے ارزاں خام مال لے سکیں اور اس سے اپنے ملک کی فیکٹریوں سے مال تیار کروا کر پھر ان ہی ممالک کو بیچ کر منافع کمائیں۔ اگر ان ممالک میں کوئی شخص اچھا پڑھ لکھ جائے تو اسے بھی اپنے ملک میں لے جا کر نوکری دیں تاکہ ان کی فیکٹریاں اور کارخانے چلیں اور یہ ممالک پسماندہ ہی رہیں،  شدید ضرورت کے تحت اگر ان ممالک میں کوئی انڈسٹری لگانی بھی پڑے تو وہ بھی فارن انویسٹمنٹ کے نام پر لگائی جائیں تاکہ ایک تو ٹیکنالوجی کی منتقلی نہ ہو اور منافع کی کم از کم شرح تقریباً ایک ڈالر کے عوض پندرہ ڈالر ہو اور اس طرح یہ غریب ممالک ہمیشہ غریب ہی رہیں، پھر غربت ختم کرنے کے لیے ان کو بھاری شرح سود پر یہ ممالک اور ان کے ادارے قرض دیں جو کبھی بھی ختم نہ ہو اور یہ تماشا اسی طرح چلتا رہے۔

صرف وہ ممالک جہاں انقلابات آئے اور عوام  نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامراج کی انگلیوں پر ناچتی حکومتوں کا خاتمہ کیا اور اپنا تشکیل کردہ نظام چلایا، صرف وہی اقوام اس غلامی سے نجات حاصل کر سکیں۔

اب ہم اس امر کو زیر بحث لاتے ہیں کہ کیوں ان نیم نو آبادیات ممالک میں حکومتی سطح پر کبھی تبدیلی ممکن نہیں ہو سکی۔

سامراجی ممالک کو اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ مقامی لوگوں کی ضرورت رہی اور اس کے لیے انہوں نے مختلف ہتھکنڈے اختیار کیے جیسا کہ ہندوستان میں مقامی شاہی خاندان کا خاتمہ کرنے کے بعد انگریزوں نے جب نہری نظام متعارف کروایا، انہوں نے اپنے وفاداروں کو موروثی جاگیروں سے نوازا۔ ان وفاداروں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے 1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا اور ان کو سر، خان بہادر اور سردار وغیرہ کے خطابات سے نوازا گیا۔

سرکاری امور کو چلانے کے لیے بیوروکریسی کو متعارف کروایا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا طبقہ بنایا جائے جو دیکھنے میں تو مقامی لگے لیکن یہ وہ تمام فرائض ادا کرے جس سے ہزاروں میل دور بیٹھا انگریز اپنی حاکمیت قائم رکھے سکے۔

پولیس کا محکمہ بنیادی طور پر اس لیے تشکیل دیا گیا تھا کہ چھوٹی موٹی بغاوتیں شروع ہی میں پکڑ لی جائیں لیکن عوام کے لیے بظاہر اس کا مقصد جرائم کی روک تھام تھا۔ اسی طرح مسلح اور بڑی بغاوتوں کو روکنے کے لیے فوج کا محکمہ بنایا گیا جس کے ذمہ مقامی آبادی میں اٹھنے والی آزادی کی لہر کو ختم کرنا تھا ورنہ انگریز کو تو فوج کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ اس کے دشمن یا تو فرانسیسی تھے یا جرمن اور ان دونوں کا ہندوستان میں آ کر جنگ کرنا تو بالکل ہی احمقانہ قدم ہوتا۔اردگردبھی کوئی ایسا دشمن ملک دور دور تک نہیں تھا، اس لیے فوج بنانے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔

انگریز نے اس فوج کو جنگ عظیم میں ہندوستان کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ انگلستان کی حفاظت کے لیے لڑوایا اور آفرین ہے ان بہادر سپاہیوں پر جنہوں نے 1857ء کی جنگ آزادی کے سپاہیوں کی طرح حکم ماننے سے انکار نہیں کیا بلکہ اس دفعہ اپنے آقاؤں کی زندگی اور عزت بچانے کے لیے اپنی زندگیاں نچھاور کر دیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ 1857ء کی جنگ آزادی لڑنے والے بھی گو کہ فوجی ہی تھے جنہوں نے بغاوت کی تھی لیکن اب ایک ایسا طریق کار مرتب کر دیا گیا تھا کہ آئندہ بغاوت نہ ہو بلکہ اگر عوام کی طرف سے کوئی سر اٹھائے تو خود ہندوستانیوں کی طرف سے ہی اس کی سرکوبی ہو۔

اس سلسلے میں یہ ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا جو بنیادی طور پر اکیڈمیوں پر مبنی تھا، جہاں آنے والے نوجوانوں کی برین واشنگ کی جاتی تھی اور ان کو عوام سے دور کر کے ان کے ذہنوں میں ایک چیز ڈالی جاتی تھی کہ تم حاکم ہو اور باقی تمام تمہاری رعایا ہیں جو کہ گھٹیا ہیں، صرف وہ جو تمہاری ہاں میں ہاں ملائیں اور تمہاری ذات کے وفادار ہوں اور جن سے تم فائدہ حاصل کر سکو یعنی کہ جو ان کے ٹاؤٹ کا کردار ادا کر سکے، صرف وہ تھوڑی بہت مراعات یا مالی فوائد کا مستحق ہے ۔ اس طرح معاشرے میں کرپشن کو فروغ حاصل ہوا اور معاشرہ تقسیم ہوا۔

اب اگر یہاں عوام کے حالات زندگی بہتر کیے جاتے تو شاید اتنی ارزاں قیمت پر بکاؤ لوگ میسر بھی نہیں آتے۔ ان بیوروکریٹ حضرات نے بھی انگریز بہادر کی طرح اپنے آپ کو مائی باپ کہلانا شروع کر دیا، انگریز کی پیروی کرتے ہوئے ان کی طرح ان کی طرز زندگی اور بودوباش اختیار کیا، اپنا ناتا اپنے لوگوں سے توڑ کر اوپر کی اشرافیہ سے جوڑنا شروع کر دیا اور اس کو انگریز بہت پسند کرتے تھے کہ اس طرح یہ کالی اشرافیہ عوام سے دور اور ان کے وفادار بنتی جا رہی تھی۔

آزادی کے بعد بھی چوں کہ اسی ریاستی سیٹ اپ کو ہی چلایا گیا،  اس لیے اس سیٹ اپ سے آج بھی اسی سامراجی نظام کی اشرافیہ وجود میں آ رہی ہے جو اپنے آپ کو حاکم اور عوام کو اپنی رعایا سمجھتی ہے اور اپنا اولین فریضہ عوام کو کنٹرول کرنا اور اسے اپنا تابع کرنا ہی سمجھتی ہے، اس لیے ہمیں زیادہ تر تیسری دنیا کے ممالک میں یہی طبقہ حکومت پر قابض نظر آتا ہے۔

(جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •