شور کو نغمے میں بدلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں رائج رسم و رواج اور کلچر بھی اپنے اندر نئی جہتیں لے کر آیا ہے۔ بہت سی ایسی باتیں ہیں جو کسی زمانے میں بالکل بری نہیں سمجھی جاتی تھی ، اب لوگ ان کی اساس پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔ تہذیبی ارتقا کے اس سفر میں جن معاشروں نے اپنے لوگوں کے لئے نامساعد حالات اور غیر منطقی رسم و رواج سے پیچھا چھڑا کر، ایک قدرے بہتر معاشرے کو تشکیل دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے، وہیں کچھ معاشرے ایسے بھی ہیں جو کہ روایت پسندی کا بوجھ اٹھائے اپنی آنے والی نسلوں سے بھی اس کا خراج وصول کرنے پر مصر ہیں۔

انسان نے اپنے تہذیبی تنوع سے ایک دوسرے کا احترام اور بنیادی انسانی حقوق کا پرچار کیا ہے۔ وہیں کچھ معاشروں میں ابھی تک لوگ قدامت پسندی کو مذہب کا تڑکا لگا کر اس میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر مردوں کی مثال لی جائے تو تمام حضرات روزگار اور دوسرے روزمرہ کے خانگی اور معاشی مسائل اور امور انجام دینے میں اتنا مصروف ہیں کہ ان کی بقاء کی جنگ ہی ختم ہونے کا نام نہیں  لے رہی۔

ہمارے معاشرے میں ابھی تک خواتین کو برابری کی بنیاد پر انسانی حقوق اور شخصی آزادی حاصل نہیں ہے۔ انہیں ابھی بھی اپنی ذات کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے اردگرد موجود لوگوں کی رضامندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ چاہے معاملہ تعلیم کا ہو یا پھر اپنے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا، انسان کو اللہ نے آزاد پیدا کیا ہے مگر معاشرے میں خواتین پر اللہ کی نافذ کردہ حدود سے کہیں زیادہ بوجھ اپنے زمینی رسم و رواج کا نام لے کر ڈال دیا گیا ہے۔

ہمارے معاشرے میں ابھی تک مرد و زن کو سوچ کی وہ آزادی میسر نہیں آ سکی جس کی بنیاد پر تہذیبی ارتقا ممکن ہوتا ہے۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ مسئلہ کا احساس بھی نہیں ہے۔ بس زندگی کو ایک کار لاحاصل کی طرح کاٹا جا رہا ہے اور اس میں بہتری لانے کی گنجائش پیدا کرنے کے سلسلے میں ہمارا معاشرہ ابھی تک جمود کا شکار ہے۔ لوگ بھیڑ چال میں مگن ہیں۔

اس سارے سفر کے دوران اگر ہم اپنے معاشرتی رویوں کی تربیت کرنے کے بجائے اسی ‘منورنجن’ سے آنے والی نسلوں کا استقبال کرنے کی روش جاری رکھی، تو پھر ہمیں پسماندگی کی دلدل سے نکلنے کی خواہش بھی دل سے نکالنی ہو گی۔

معاشرے اسی فضا میں نمو پاتے ہیں جس میں  فکری آزادی اور شخصی وقار کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ انسان کو مذہب کی، نسل کی، یا مالی حیثیت کی بنیاد کے بجائے بحیثیت انسان ہی احترام دیا جائے۔ اور وسائل کی مساوی تقسیم کو ممکن بنایا جائے۔ اس سلسلے میں تعلیمی نظام اور معاشرتی اصلاح کو مدنظر رکھ کر ایسا نصاب تشکیل دیا جائے جو ہمیں دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکے۔

معاشرے میں ہر سیاسی جماعت بجائے اپنی دکان کا چورن بیچنے کے مجموعی سیاسی شعور اور اجتماعی ترقی کی طرف قوم کی توجہ مبذول کروایے۔ ہمیں اس بڑھتے ہوئے شور کو ایک نغمے میں ڈھالنا ہےاور کسی کے ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اپنے ملک کے لیے اور اس معاشرے کی تشکیل نو میں عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •