دین اور سیاست میں تضاد نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی معاشرے میں مذہب کا چلن اور اس کے احکامات کے تحت زندگی گزارنا عین سعادت اور اخروی فلاح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مذہب کی تاریخ دراصل سب سے پہلے انسان کی اس دنیا میں آمد سے شروع ہوتی ہے۔ دنیا کا سب سے پہلا مذہب جسے اسلام کہا جاتا ہے اس کا نقطۂ آغاز حضرت آدم ؑ سے ہوتا ہے اور وہ جب دنیا میں نبی کی حیثیت سے مبعوث ہوئے تو اپنے ساتھ ایک ضابطۂ حیات اور اخلاق لے کر آئے جس کو مذہب اسلام کا نام دیا گیا اور اس وقت ان کی تمام اولاد بھی اسی مذہب پہ کاربند رہی۔

پھر جیسے جیسے ایک نبی کے جانے کے بعد دوسرے نبی کی آمد ہوتی رہی ویسے ویسے ہی مذہب کی تعلیمات میں اس دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی بھی واقع ہوتی رہی اور سابق مذہب یا دین کی تعلیمات میں سے چند کو باقی رکھا جاتا اور اس کے ماسوا سب پہ خط تنسیخ پھیر دیا جاتا۔ تاہم ناسخ اور منسوخ کا جملہ کام خدا کی طرف سے ہی ہوتا اور نبی محض ایک ذریعہ تھا جس سے دیگر انسانوں کو اس نئی تبدیلی سے آگاہی ملتی تھی۔ تاہم اسی کے ساتھ ساتھ دنیا میں بیک وقت کئی مذاہب کا تصور بھی رائج ہو گیا اور یوں بات ایک مذہب سے بڑھ کر تفرقہ بازی تک پہنچی اور عوام الناس مذاہب کے لحاظ سے مختلف مکاتب اور نظریات میں بٹ گئے۔

ہمارے یہاں موجودہ دور میں ویسے تو کئی مذاہب موجود ہیں تاہم ان میں اسلام، عیسائیت، ہندو مت اور یہودیت کے نام بہت نمایاں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ عیسائیت، یہودیت اور ہندو مت اپنے اپنے زمانے کے وہ مذاہب ہیں جو اس دور کے اسلامی مذہب کا درجہ رکھتے تھ، مگر ایک رسول کے بعد دوسرے رسول کی بعثت نے اپنے سے پہلے والے مذہب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے مذہب کو اسلام کا نام دیا۔

جب نبی مکرم ﷺ کی دنیا میں بعثت ہوئی تو آپ ﷺ کے زمانے میں رائج الوقت دین عیسائیت تھا جس کی وجہ آپ ﷺ سے معاً پہلے سیدنا عیسیٰ ؑ کے زمانے کا ہونا ہے۔ مگر جب آپ کو اس شرف نبوت سے سرفراز کیا گیا تو آپ ﷺ نے بھی سنت قدیمہ کے موافق عیسائیت کے منسوخ ہونے اور اپنے اوپر نازل ہونے والی تعلیمات کو اسلام کا نام دیا اور اس کی پیروی کو راہ نجات کہا۔

اگر ہم قرآن مجید کے اندر آپ ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد دیکھیں تو وہاں خدا نے واضح طور پہ آپ ﷺ کی آمد کا مقصد اسلام کا غلبہ اور اپنے دین کا نفاذ بتلایا ہے اور اس کی تعلیمات کے سائے میں زندگی گزارنے کو موجب نجات قرار دیا ہے۔ چنانچہ اگر ہم دین محمدی ﷺ کا موازنہ دوسرے مذاہب سے کریں تو ہمیں دو باتوں کے اندر اسلام باقی مذاہب سے ممتاز نظر آتا ہے ، اول اس کی عالمگیریت اور دوم دین و دنیا کا امتزاج۔ با الفاظ دیگر اسلام کے اندر ایسی کسی تفریق کا سراغ دور نبوی ﷺ میں نہیں ملتا جہاں کچھ امور کو کار دنیا اور باقی کو کار آخرت کے نام سے منسوب کر کے دین و دنیا کی تقسیم کی گئی ہو۔

آپ ﷺ نے اپنی سنت مطہرہ کے اوپر عمل کو عین اسلام اور اپنے احکامات کی روشنی میں انجام شدہ تمام امور کو دین کا ہی ایک حصہ بیان فرمایا اور پھر یہی چیز ہمیں خلافت راشدہ کے زمانے میں بھی نظر آتی ہے۔ تاہم مرور زمانہ اور کچھ دیگر عوامل کے تحت اسلام کا دین و دنیا میں منقسم ہونے کا نظریہ مقبولیت پا رہا ہے اور یہ بات شد و مد سے بیان ہو رہی ہے کہ فلاں فلاں امور تو دین کے زمرے میں نہیں آتے اور یہ مخصوص افعال ہی بس دین کا حصہ ہیں۔ ان ہی کچھ امور میں ایک اہم امر سیاست بھی ہے جس کے بارے میں ہمارے یہاں دنیوی طبقہ تو چھوڑیے، دین دار طبقہ تک اس بات کو عقیدے کی حد تک مان چکا ہے کہ اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی کسی اسلامی سوچ اور تشخص کے حامل فرد یا ادارے کو سیاسی سرگرمی میں حصہ لینا چاہیے۔

اگر یہ بات یہیں تک ہی محدود رہتی تو چنداں مضائقہ نہ تھا مگر نوبت با ایں جا رسید کہ سیاسی عمل میں حصہ لینے کو آخرت سے بے خبری اور دنیا کے حریص ہونے کے نظریے سے جوڑ کر سیاست کو ایک شجر ممنوعہ کی حیثیت دے دی گئی ہے اور اس کو شرفاء کے عمل سے بارہ پتھر باہر سمجھ لیا گیا ہے۔ لیکن وہ تمام احباب جو اسلام کا درد اور اس کی ترقی کے دل و جاں سے خواہاں ہیں ، انہوں نے نہ جانے یہ کیسے باور کر لیا ہے کہ اسلام کا غلبہ ایک مضبوط سیاسی نظام کے بغیر ممکن ہے۔

جب اللہ تعالیٰ خود اپنے نبیﷺ کی آمد کا مقصد غلبہ دین فرما رہا ہے اور نبیﷺ کی زبان مبارک سے وہ حدیث بھی موجود ہے جس میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے (الی آخرہ) تو پھر کیا اس کے بعد کسی چیں و چناں کی کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟ اور دین کو سیاست سے الگ کرنے کے نظریے کی کوئی حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟

چونکہ ہمارے یہاں وہ طبقہ جس نے آج کے سیاسی ماحول میں آنکھ کھولی ہے اور اسی کے زیر سایہ پرورش پائی ہے، وہ جب ان حالات کو دیکھتا ہے تو اس کا دل لامحالہ سیاست سے متنفر ہو ہی جاتا ہے، مگر خالص اسلامی تعلیمات کی روشنی اور مستند تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم سیاسی عمل اور نظام کا جائزہ لیں تو یہ معلوم ہو گا کہ سیاسی عمل دراصل وہ سرگرمی ہے جس میں انسان تمام گروہی اور فکری تعصبات سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت کی خدمت کو اپنا مطمح نظر اور مقصد زندگی بنا لیتا ہے اور وہ معاشرے کی فلاح و بہبود اور اس کی اجتماعی ترقی کے لئے دوڑ و دھوپ کو عین سعادت سمجھتا ہے۔

جب نبی اکرم ﷺ کی مدینہ منورہ میں آمد ہوئی تو آپﷺ نے وہاں ایک حکمران وقت کے طور پر مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے دیگر اقوام اور مذاہب کے ساتھ تعلقات استوار کیے اور مدینہ کو اپنی سیاسی سرگرمی کا مرکز بناتے ہوئے ایک صالح نظام کا نظریہ دیا جس کے تحت انسان کی دنیا اور عاقبت دونوں کی کامیابی کی ضمانت موجود ہے۔ آپ ﷺ نے حدیبیہ کے بعد مختلف حکمرانوں کو خطوط لکھ کر ان کو اسلام کی دعوت کی اور ان کو اپنے نظام کا تعارف کروایا تو کیا یہ سیاسی عمل نہ تھا؟

اگر آپ ﷺ کی حیثیت محض ایک داعی اور نبی کی تھی تو بھلا آپ ﷺ نے اسلام کی تبلیغ کے لئے محض وفود بھیجنے کو کافی کیوں نہ سمجھا اور کیوں جہاد کر کے وہاں اسلام کو نافذ کیا۔ اگر سیاسی عمل دنیوی امور میں سے ایک امر ہے جس کی وجہ سے انسان اپنی عاقبت سے اغماض برتتا ہے تو کیا نبی ﷺ کو اس بات کی خبر نہ تھی۔ مگر چونکہ آپ ﷺ صرف مسلمانوں کے واسطے نہیں بلکہ تمام عالم کے لئے رحمت للعالمین بن کر مبعوث ہوئے تھے، لہٰذا تمام انسانیت کو ظالمانہ سیاسی اور معاشی نظام سے نجات دلانا ہی آپﷺ کی بعثت کا مقصد اولین تھا اور آپ ﷺ نے مدینہ منورہ میں عمر عزیز کے تیرہ برس اسی مقصد کی آبیاری میں وقف کیے۔

آپ ﷺ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ اگر قیصر و کسریٰ کے ظالمانہ نظاموں اور ان کی حکومتوں کو گرایا نہ گیا تو انسانیت کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی۔ چنانچہ انسانیت ظلم سہتے سہتے اس حد تک آ چکی تھی جہاں اس کے اور اس کے خالق کے درمیان کئی حجابات حائل ہو چکے تھے، جنہوں نے کہیں دین اور کہیں تقدس کا لبادہ اوڑھ کر انسانوں کو ظلم کی چکی میں پسنے پر اس حد تک مجبور کر دیا تھا کہ انسان خود درجۂ انسان سے گر کر درجہ حیوانیت پہ زندگی گزار رہا تھا۔

لہٰذا آپ ﷺ نے اپنی کل امت کو اس ظلم سے نجات دلاتے ہوئے ان کو ایک متبادل سیاسی اور معاشی نظام پیش کیا جس کی بنیاد کل انسایت کی فلاح اور تمام طبقات کی یکساں ترقی تھی اور پھر اسی مشن کو آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے چاروں خلفاء نے بڑھایا اور اسلامی نظام کو وسعت بخشتے ہوئے اس کو عرب و عجم میں پھیلا دیا۔ لہٰذا آج ہمارا دیندار طبقہ جو سیاست سے لاتعلقی کو عین دینی تقاضا اور اپنا کمال سمجھتا ہے اس کیلئے  سوچنے کا مقام  ہے کہ اگر ایک صالح سیاسی جماعت کا وجود جو ظالم قوت کے سامنے مزاحم ہو، نہ ہو تو اس دکھیاری انسانیت کے دکھوں اور غموں کا مداوا کون کرے گا اور کیسے کرے گا؟اور جس غلبۂ دین کے وہ خواہاں ہیں اس کا خواب شرمندہ تعبیر کیسے ہو گا؟

دین کو سیاسی عمل سے الگ کرنے کا مطلب معاشرے میں موجود ان ظالم قوتوں کے لیے راستہ صاف کرنا ہے جو اپنے مقاصد اور اغراض کے لئے انسانوں کو مذاہب اور دیگر امتیازات میں تقسیم کر کے ان کو فرقہ بازی میں مبتلا کر رہے ہیں اور خاموشی سے اپنے من مانے نتائج حاصل کرتے ہوئے مزید ظلم کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں سیرت نبوی ﷺ کو ایک مرتبہ پھر اس نظر سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی روشنی میں ہم اپنا نظریہ درست کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •