خداداد صلاحیت

ہمارے جاننے والوں میں ایک نام میر خداداد صاحب کا بھی ہے جن کو قدرت نے مانگنے کی ایسی صلاحیت دے رکھی ہے کہ لوگ اسے خداداد صاحب کی خداداد صلاحیت کہتے ہیں، مگر اُن کے مانگنے کا طریقہ روایتی نہیں بلکہ ذرا منفرد قسم کا ہے۔ ابھی چند دن پہلے کا قصہ ہے کہ مجھے اپنے ساتھ ایک ہوٹل میں کھانا کھلانے لے گئے۔ وہاں جاکر پہلے تو مجھے شاندار کھانا کھلایا۔ میں ہر چند کہتا رہا کہ اتنے

Read more

دو عقلمند

چنے خان اور منے خان کا نام تو دوستوں کی زبانی بہت سنا تھا مگر اُن سے ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ لیکن جس دوست سے بھی ان کا سُنا اُس نے ان لفاظ میں تعریف کی کہ ”جہاں عام انسان کی سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے ان کی سوچ شروع ہوتی ہے“ ۔ میرے اندر اُن سے ملنے کا اشتیاق حد سے بڑھ رہا تھا مگر شومئی قسمت کہ ابھی تک ملاقات کی کوئی سبیل پیدا نہ

Read more

مورخ صاحب

یونیورسٹی میں جب شعبہ تاریخ میں داخلہ لینے گیا تو جس شخصیت کا نام سب سے زیادہ کانوں میں گونجا وہ مورخ صاحب کا تھا۔ اُس دن کیونکہ وقت مختصر تھا اور کام بہت زیادہ اس لئے ملاقات نہ ہو سکی مگر دل میں ٹھان لی کہ جب ایم اے تاریخ میں داخلہ مل جائے گا تو ان سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کی تاریخ پر بھی دسترس حاصل ہو

Read more

استاد پردیسی

استاد پردیسی کا شمار اُن باورچیوں میں ہوتا ہے جنہیں اُس وقت ہی کسی تقریب میں کھانا پکوانے کے لئے بلایا جاتا ہے جب لاکھ کوشش کے باوجود کوئی اچھا کاریگر نہ ملے۔ وہ کون ہیں اور کیا کرتے ہیں ہمیں ان سب باتوں کا ہرگز علم نہیں تھا۔ ہمیں اُن کی ذات سے آگاہی اُس وقت ہوئی جب ہمارے ایک دوست نے اپنی بیٹی کے عقیقے کے لئے نہ چاہنے کے باوجود بھی اُنہیں بلا لیا کہ اتفاق سے

Read more

ایماندار افسر

” تمام سرکاری اہلکار یہ بات کان کھول کر سن لو۔ الراشی و المرتشی کلا ہما فی النار۔ رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ لہذا میرے دفتر میں آنے والے کسی بھی سائل سے رشوت لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کوئی اہلکار پکڑا گیا تو اُس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی“ ۔ یہ اعلان محکمہ صحت کے ضلعی دفتر کے اندر نئے تعنیات ہونے والے ”بڑے صاحب“ کی طرف سے تھا جنہوں نے

Read more

ٹیلرنگ شاپ

حسیب الحسن صاحب کو اچانک شام کے چھ بجے یہ اطلاع ملی کہ اُن کے بڑے بھائی نواب قطب الحسن صاحب کل صبح آٹھ بجے کی فلائیٹ سے ائر پورٹ اتریں گے اور ساتھ میں یہ تاکید بھی کی کہ ائر پورٹ پر اُن کا استقبال اُن کے چھوٹے بھائی خود کریں گے ورنہ وہ اُن کے گھر آنے کی بجائے اپنے کسی دوست کے ہاں جاکر چھٹیاں گزاریں گے۔ یہ اطلاع سنتے ہی حسیب صاحب مگر خوش ہونے کی

Read more

شکاری

اتوار کو چھٹی تھی اور امتحان دے کر گھر میں فرصت ہی فرصت تھی اس لئے جلدی بستر سے اٹھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں ابھی بستر پر لیٹا مستقبل کے سہانے خواب بن ہی رہا تھا کہ موبائل پر شاداب کی کال آ گئی۔ شاداب نے بتایا کہ اُس نے آج شکار کا پروگرام بنایا ہے جس کے لئے ایک عدد ایسے شکاری کی خدمات بھی اُس نے حاصل کر لی ہیں جس کا ثانی

Read more

سچی سرکار

سچی سرکار کا آستانہ نہر کے کنارے پھلاہی کے درختوں کے درمیان واقع تھا۔ پیر صاحب کی عمر چالیس کے قریب، سر کے لمبے بال جو کئی سالوں سے نہیں دھلے، مونچھیں چٹ، داڑھی غائب جبکہ ہاتھوں کے ناخنوں میں میل ایسے جمع تھا جیسے کوئی کسی کے گھر میں پناہ لیتا ہے۔ یہ صاحب یہاں کب سے مقیم تھے اس کا کوئی علم ہمیں نہیں تھا اور نہ ہی ہم ان کے آستانے سے واقف تھے۔ مگر ہوا یوں

Read more

روٹی کی قربانی

میں اور شاداب کافی عرصے سے اپنے بڑھتے وزن سے پریشان تھے جسے کم کرنے کے لیے صبح شام غور و خوض جاری تھا۔ کبھی شربتِ کریلا کے گلاس انڈیلے جا رہے تھے تو کبھی سفوفِ ہاضم کو شیرِ مادر کی طرح پھانکا جا رہا تھا۔ اگر کسی نے کوئی جڑی بوٹی بتائی تو شام سے پہلے وہ کمرے میں موجود ہوتی اور اگر کسی نے رسالے سے کوئی فارمولا بتایا تو اُس کے جملہ اجزاء اکٹھے کر کے اُن

Read more

کھانے دار مشاعرہ

اردو ادب کی تاریخ میں مشاعروں کا ایک نمایاں مقام ہے جس نے اردو زبان کی ترویج و ترقی کے علاوہ ہندوستان کو نامی گرامی شاعر بھی عطا کیے۔ ان محافل کی سرپرستی پہلے بادشاہ، ریاستوں کے نواب اور رئیس زادے فرماتے تھے مگر پھر دور بدلا تقاضے بدلے تو اس روایت کے اصول و محاسن بھی بدل گئے۔ لیکن ہر دور میں مشاعروں کا انعقاد ہوتا رہا ہے جو اب بھی جاری و ساری ہے۔ اسی ضمن میں ایک

Read more

ہم سا کوئی کہاں

گاڑی رکھنا اگر ایک فن ہے تو خریدنا اُس سے بھی بڑا فن ہے جس میں انسان کو پانچ کے ساتھ چھٹی حس کو بھی بیدار رکھنا پڑتا ہے ورنہ بدلے میں گاڑی نہیں ایک سر دردی ملتی ہے جو اُس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ گاڑی فروخت نہ ہو جائے۔ عظیم صاحب کا معاملہ کچھ ایسا تھا کہ زندگی بھر پہلے تانگوں پر اور پھر سرکاری بسوں پر دھکے کھاتے رہے، لیکن خوش قسمتی سے عمر کے

Read more

شوکے کا ہوٹل

شوکے کا ہوٹل اس شہر کے سب سے گنجان آباد علاقے کے مرکزی بازار میں واقع ہے۔ ہوٹل کیا ہے بس ایک متروکہ عمارت میں خستہ حالی کا مجسم نمونہ ہے جہاں مزدور طبقہ لنچ اور ڈنر کے لئے آتا تھا۔ یہ عمارت کسی زمانے میں ایک ساہوکار کا دفتر تھی جو دیوالیہ ہونے کے بعد حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ابدی سفر پر روانہ ہو چکا تھا۔ اس بازار کے قدیمی بزرگوں کے بقول اُس نے ورثے

Read more

نگینے

میں نے اُنہیں پہلی مرتبہ ریلوے اسٹیشن کے باہر دیکھا تھا جب وہ فٹ پاتھ پر نقلی دانتوں اور اصلی اوزاروں کا سٹال سجائے اس امید پر وہاں بیٹھے تھے کہ کوئی بھولا بھٹکا راہی جس کے دانت اور دماغ دونوں خراب ہوں وہ میرے پاس آ جائے، جہاں وہ اپنے وسیع تجربے اور پریکٹس کی بنیاد پر اُس کا ایسا علاج کریں کہ رہتی عمر تک انہیں اور خدا کو یاد کرتا رہے۔ میں اُس وقت فرسٹ ائر کا

Read more

چہ خوب است!

مرزا صاحب خاصے مرنجاں مرنج، خود دار اور کسر نفسی کے خمیر سے بنے ہوئے انسان ہیں۔ آپ کا حلیہ شریف کچھ ایسا ہے کہ انسان اگر ایک بار دیکھ لے تو دوسری بار دیکھنے کی تمنا نہیں ہوتی، اس لئے کہ رنگ سیاہ، سر سے بال گدھے کے سینگ کی طرح غائب، مونچھوں کا آدھا رنگ سفید آدھا براؤن، دایاں کان چونکہ قدرے بڑا تھا لہذا اُس کی لو یوں لٹکتی تھی جیسے ٹوٹا ہوا بازو جھولتا ہے۔ جس

Read more

سفر در سفر

قبلہ انتظام الدین صاحب مخدوش ہمارے محلے کی وہ شخصیت ہیں جو ہماری پہچان ہونے کے علاوہ اس محلے کے ماضی، اہلِ محلہ کے اصلی حسب و نسب اور شہر کی تاریخ کے معتبر گواہ ہیں اور جن کی روایات اتنی ثقہ اور قابلِ اعتماد ہوتی ہیں کہ شک و شبہ کرنے والے کا اپنا ایمان شبے میں پڑ جاتا ہے۔ آپ کا رئیس خانہ جو پورے پانچ مرلہ عمارت پر مشتمل ہے، محلے کی بالکل ابتداء میں واقع ہے

Read more

محبت کی ایک کہانی

” اجی! سنتے ہو؟ میں کب سے چیختی پھر رہی ہوں مگر تم ٹس سے مس ہی نہیں ہو رہے ہو“ ، شہزاد کی بیوی ہاتھ میں بیلنا پکڑے، باورچی خانے سے آئی اور شہزاد پہ برس پڑی، جو بستر پہ لیٹا، آنکھیں بند کیے سوچ کی وادیوں میں گم تھا۔ ”ارے سن رہا ہوں اور کئی دن سے سن رہا ہوں، مگر سنانے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے، وہ میرے پاس نہیں ہے“ ، شہزاد نے آنکھیں

Read more

اشفاق احمد۔ تعلیمات، اصلیت اور افسانہ

یہ ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ، جب انسان بیمار پڑتا ہے تو علاج کی خاطر کسی طبیب کا رخ کرتا ہے، تاکہ جلد سے جلد صحت یاب ہو کر دوبارہ کاروبار زندگی کی طرف لوٹ سکے۔ تاہم یہ طبیب کی قابلیت پر منحصر ہے کہ وہ مرض کی تشخیص کیسے کرتا ہے، اور اس کا علاج کیا تفویض کرتا ہے۔ اگر وہ ایک حاذق طبیب ہے، ماہر نباض ہے، تو مرض کی ظاہری علامات کی بجائے، اس کی حقیقی

Read more

بھول

بھادوں کی تپتی دوپہر میں، وہ پینسٹھ سال کا بوڑھا شخص، پسینے سے شرابور، ننگے سر ہانپتے ہوئے تیز تیز قدم اٹھاتا، ایک گلی سے دوسری گلی سے سر جھکائے گزرے جا رہا تھا۔ یہ شہر کا پررونق بازار تھا، لیکن گرمی اور حبس کی شدت اس زوروں پر تھی، کہ لوگ دکانیں بند کر کے، اپنے اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے اور اب بازار میں چند اکا دکا دکانیں ہی تھیں جو کھلی تھیں اور دکاندار وہاں

Read more

افسانہ: واپسی

چک مراد خان کے ریلوے اسٹیشن پہ سرد ہوائیں معمول کی رفتار سے کچھ زیادہ ہی تیز چل رہی تھیں، جس سے موسم کی خنکی میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا تھا۔ یہ فروری کی اوائل شام کا وقت تھا، مگر گہرے سیاہ بادلوں نے سورج کو اپنی اوٹ میں اس طرح چھپا رکھا تھا، کہ آدھی رات کا سماں محسوس ہوتا تھا۔ کہنے کو تو بہار کا پرفریب موسم تھا، لیکن اس وقت کالے بادلوں کی گھنی چادر نے

Read more

اقبال گئے دلی، غالب سے ملنے

دسمبر کا دھندلکا اور صبح کے چھ بجے کا وقت تھا، جب علامہ اقبال ایک اونی شال اوڑھے، دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے، کوچہ بلی ماراں سے گزرتے ہوئے، مرزا غالب کے مکان پر پہنچے۔ مکان کی حالت بہت بہتر تھی، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ غالب نے شاید انگریز سرکار سے ملنے والی پنشن سے، اسے دوبارہ تعمیر کروایا ہے۔ دروازے کے ساتھ دیوار پہ تختی آویزاں تھی، جس پہ مرزا اسداللہ خان غالب، مکان نمبر 366 / 2

Read more

میلے سے لکھا گیا باپ کو ایک خط

از نہاں خانہ دل وقت زرد دوپہر موسم خزاں میں لپٹی دھند محترم ابا جان! السلام علیکم! ہم سب گھر والے خیریت سے ہیں اور امید کرتا ہوں کہ آپ بھی قبر میں خیریت سے ہونگے۔ ابا جان! آپ کو یہ خط اس واسطے لکھ رہا ہوں کہ امسال ہمارے یہاں بابا جی کا میلہ ، نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ آج میلے کو شروع ہوئے چار دن ہوچکے ہیں ، مگر دل میں ہمت نہیں

Read more

گم شدہ

وہ ایک پہاڑی علاقے کا باسی تھا، جو دولت مند ہونے کے ساتھ ،تین عد بیٹیوں اور دو عدد بیٹوں کا باپ بھی تھا۔اُس کی عمر یہی کوئی ساٹھ برس کی ہوگی، جس میں سے دس برس اُس کے رنڈاپے کے تھے۔ دن کو وہ دوستوں میں بیٹھ کر وقت گزار لیتا، لیکن رات کو اُسے اپنی تنہائی بری طرح ستاتی۔ وہ اپنی جنسی ہوس کو دبائے زندگی کے ایام کاٹ رہا تھا، لیکن کچھ عرصے سے یہ دبی ہوئی

Read more

ناول انکشاف قسط 8

یہ گھرانا کچھ سال سرگودھا شہر میں ہی روزگار کی تلاش میں سرگرم عمل رہا، مگر انہیں یہ دیکھ کر شدید مایوسی ہوئی کہ یہاں زمینداری کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ روزگار نہیں ہے۔ عبدالشکور ایک دن دوستوں کے ساتھ کھیل کود کر جب واپس شام گھر آیا، تو اسے معلوم ہوا کہ بڑے چچا عبدالحمید نے یہاں سے فیصل آباد جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور پھر ایک دو دن بعد یہ سارا گھرانا فیصل آباد منتقل ہو

Read more

ناول انکشاف قسط 7

” آنسہ کیا کبھی ہمارے دن بھی پھریں گے اور ہم بھی اس محلے سے نکل کر ، کسی صاف ستھری جگہ پہ اپنا گھر بنا پائیں گے؟”عبدالشکور ، جمائی لیتے اور انگڑائی کرتے ہوئے ، بیوی سے مخاطب تھا جو چپ چاپ تارے گن رہی تھی۔” او آمنہ کی ماں! میں تم سے بات کررہا ہوں”۔ عبدالشکور نے اُسے اونچی آواز میں مخاطب کیا۔” مجھ سے کیا پوچھتے ہو۔ جب ہونا ہوگا تو ہوجائے گا۔ ابھی چپ کرکے سوجاؤ،

Read more

ناول انکشاف قسط 6

عبدالشکور دن بھر کا تھکا ہارا محنت مزدوری کر کے، جب شام کو واپس گھر لوٹا تو شہاب اور آمنہ اس سے لپٹ گئے اور پھر اس کے ہاتھوں سے وہ شاپنگ بیگ چھین لیا، جس میں وہ بچوں کے لئے چیزیں بازار سے خرید کر لایا تھا۔ ”ابا! میری مہندی کہاں ہے؟“ ۔ آمنہ شاپنگ بیگ کو مہندی کے چکر میں پاگلوں کی طرح تیزی سے خالی کرتی جا رہی تھی۔ ”ارے! وہ تو میں بھول گیا“ ۔ عبدالشکور

Read more

ناول انکشاف قسط 5

عبدالشکور کچھ دیر صحن میں اسی عالم میں یوں ساکت کھڑا رہا، جیسے کوئی بت ہو۔ پھر شکستہ قدموں کے ساتھ غموں کی گٹھڑی اٹھائے، وہ دھیرے دھیرے آگے بڑھا اور جوتے اتار کر پھوڑی والی دری پہ بیٹھ گیا۔ ”بس اللہ! ہمارے چاچا عبدالشکور کو صبر دے۔ بیچارہ بہت بڑی آزمائش میں آ گیا ہے“ ۔ حمیدہ نے مصنوعی غمگین لہجے کے ساتھ، بابا کی طرف دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا۔ ”اے بہن! کیا پوچھتی ہو، جوان اولاد

Read more

ناول انکشاف (4)

عبدالشکور جب کوچہ رحیم جان میں جس جگہ عبدالشکور کا گھر واقع تھا، وہ جگہ نہایت تاریک اور حبس زدہ تھی۔ یہاں زیادہ تر گھر سکھ برادری کے تھے، جو تقسیم کے وقت یہاں سے ہندوستان چلے گئے تھے، اور اب یہ گھر ان کی جگہ وہاں سے آئے ہوئے لٹے پٹے خاندانوں کو الاٹ ہوچکے تھے۔ ایک مختصر سی گلی تھی، جہاں دس مکان آمنے سامنے واقع تھے۔ گلی کسی زمانے میں کچی تھی، جس کو اس کے مکینوں

Read more

ناول: انکشاف قسط 3

شہر کے مرکزی بازار سے گزر کر اب وہ اپنے محلے میں داخل ہو گئے۔ کیونکہ یہاں راستہ تنگ تھا، لہذا موٹر سائیکل کے سوا کسی دوسری گاڑی کا شور سنائی نہیں دیتا تھا۔ گرمی کا موسم اور تنگ و تاریک گھر جن سے ہوا کا گزر نا محال اور اوپر سے لوڈشیڈنگ کا عذاب جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل کر دروازوں کے آگے ٹولیاں بنائے، گپیں ہانک رہے تھے، جبکہ دکانداروں نے گیس لیمپ

Read more

ناول انکشاف قسط 2

”اس کی موت کے آدھے ذمہ دار تو تم خود ہو بابا۔ تم خود“ ۔ اصفہان نے منہ جھکا کر، بہت مشکل سے یہ الفاظ ادا تو کر دیے، مگر دل ہی دل میں پچھتا یا بھی، کہ یہ بات کرنے کا محل نہ تھا۔ مگر وہ بابا کی حماقت، اس کی جہالت اور ضد پہ شدید طیش بھی کھا رہا تھا۔ ”تم ٹھیک ہی کہتے ہو میرے بچے۔ کاش میں نے تمہاری بات پہلے مان لی ہوتی، تو آج

Read more

افسانہ: انکشاف، قسط نمبر 1۔

”اے اللہ! اس میت کے سب گناہ فرما۔ اے اللہ! ہمیں موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما“ امام مسجد نے عبدالشکور کے بیٹے کو سپرد خاک کرنے کے بعد جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے، تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ دعا کے بعد تمام لوگ عبدالشکور سے رسماً ملے اور پھر ایک ایک کر کے ستر سالہ عبدالشکور کو وہیں چھوڑ کر جب رخصت ہو گئے، تو وہ ایک لاچار اور بے بس انسان کی

Read more

ادھ کھلی کھڑکی

وہ آج بھی حسب معمول ناشتہ کر کے، اپنے کمرے کی اس ادھ کھلی کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی، جس سے سامنے والے باغ کا نظارہ کیا جاسکتا تھا، اور جہاں بھانت بھانت کے لوگ آ کر اس ماحول سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ یہ کمرہ ایک ایسی کال کوٹھڑی تھی، جہاں وہ قریب بائیس برس سے مقید تھی، اور اپنی زندگی کے ایام بے بسی اور لاچارگی کے ساتھ کاٹ رہی تھی۔ وہ باہر کی دنیا

Read more

حسرت

آدھی رات گزر چکی تھی اور شہر کی اس گلی میں اکا دکا افراد ہی اٹکھیلیاں کرتے گزرتے جا رہے تھے۔ سٹریٹ لائٹس کی روشنی میں گلی کا ایک سرے سے دوسرا سرا آسانی سے دکھائی دے رہا تھا۔ کہیں کہیں چند آوارہ کتے تھڑوں کے نیچے بیٹھ کر اونگھ رہے تھے، تو کچھ کوڑے پہ منہ مار کر پیٹ کی بھوک کو مٹانے میں مگن تھے۔ اگرچہ کچھ گھروں کے اندر سے بلب کی روشنی چھن چھن کر باہر

Read more

کشمکش

وہ دونوں میاں بیوی رات کو صحن میں چارپائیاں ڈالے، آسمان پہ دمکتے تاروں کو دیکھ کر، اپنے ماضی کو یاد کر رہے تھے۔ رات کے اس سمے مہتاب کبھی بادلوں میں چھپ کر تو کبھی سامنے آ کر ان سے آنکھ مچولی کر رہا تھا۔ دونوں کے درمیان ذریعہ کلام خاموشی ہی تھا، کہ ایک ہی آنگن میں اکٹھے رہتے اب دونوں وہ ایک دوسرے سے اکتا چکے تھے۔ یہ اس کی محبت کی شادی ضرور تھی، مگر تھی

Read more

آخری ملاقات

بہار کی ٹھنڈی دھوپ دوپہر کی اس گھڑی اپنی سنہری کرنیں بھرپور جوبن کے ساتھ بکھیر رہی تھی، اور سکول کے باغ میں لگے سرو کے قد و قامت درخت پر کوئل چہچہا رہی تھی۔ فضا میں اس قدر خاموشی اور اداسی تھی کہ، ذرا سی آہٹ پہ بھی وہ چونک اٹھتا اور اپنے گرد و پیش کا پھٹی پھٹی آنکھوں سے جائزہ لینا شروع کر دیتا۔ صحن میں لگے جابجا گلاب کے پھول اپنی رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر

Read more

حصار

اس دنیا میں کچھ انسانوں پر بعض حادثات کا اثر اتنا گہرا ہوتا ہے، کہ وہ نقش کا الحجر کی مانند اس کے ذہن پہ ہمیشہ کے لئے پیوست ہو جاتے ہیں۔ اور پھر وہ انسان تمام عمر ان حادثات کے اثرات سے اپنے آپ کو نکال نہیں پاتا۔ گویا اس کی ذات کے گرد ایک ایسا حصار کھنچ جاتا ہے، کہ وہ تمام عمر چاہنے کے باوجود بھی اس حصار کی دیواروں سے باہر نہیں نکل سکتا۔ با الفاظ

Read more

محبت۔ زندگی کا ایک رنگ

کائنات میں یوں تو ہر ذی روح اپنی اپنی زندگی گزارنے میں مگن ہے، لیکن ایک انسان کی زندگی میں جو انفرادیت اور ہمہ ہمی ہے اس سے دیگر مخلوق محروم ہے۔ اس زندگی کے کئی پہلو ہیں اور ہر پہلو کا اپنا رنگ ہے۔ کہیں یہ رنگ بچپن کی معصومیت کی صورت میں چھلکتا ہے تو کہیں جوانی کی نوخیز کونپلیں بہار کا رنگ پیدا کرتی نظر آتی ہیں۔ پھر جیسے جیسے انسان شعور کی منازل طے کرتا ہوا،

Read more

تبلیغی جماعت کا منہج تبلیغ اور تعلیمات نبویﷺ

ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں تبلیغی جماعت کا لفظ اب ناآشنا نہیں رہا، اور اس لفظ کے سنتے ہی ذہن کی توجہ اس خاص جماعت کی طرف مرکوز ہوجاتی ہے جو ایک مخصوص وضع قطع اختیار کیے، ہمارے گلی محلوں میں گشت کی صورت میں اسلام کی دعوت دیتی نظر آتی ہے۔ اس جماعت کی بنیاد تقسیم ہندوستان سے قبل دہلی میں رکھی گئی اور مولانا محمد الیاس کاندھلوی اس کے بانی اور روح

Read more

وہی آبلے ہیں، وہی جلن ہے

وہ آج پچیس برس بعد اپنے وطن واپس لوٹ رہی تھی، اور اس کے ذہن میں خدشات کا ایک ہجوم تھا جو اسے کسی طرح بھی چین لینے نہیں دے رہا تھا۔ وہ ائر پورٹ کے مسافر لاؤنج میں بیٹھی اپنے بچپن اور جوانی کے ان ایام کو یاد کر کے وقت گزار رہی تھی، جب سکھیوں کا ایک ہجوم اس کے گرد یوں منڈلا رہا ہوتا تھا، کہ اسے تنہائی نام کی کسی چیز کا علم ہی نہیں تھا۔

Read more

یہ سوٹ لے لو

وہ ایک ٹھیٹھ قبائلی علاقے کے ایک سخت گیر انسان کے ہاں پیدا ہوا، اور پھر اس کی پرورش بھی مقامی روایات کے مطابق کی گئی، جس میں مرد کو ایک ایسی مخلوق بنا کر بڑا کیا جاتا ہے، جو مافوق الفطرت اور جذبات سے عاری ہوتا ہے۔ جو محبت نامی ایک لطیف جذبے سے نا آشنا اور عورت کے وجود سے انکاری ہوتا ہے۔ وہ جیسے جیسے دیوار پہ چڑھتی بیل کی مانند برگ و بار لا رہا تھا،

Read more

شیریں گفتار

صباحت کو آج علی الصبح کالج شاید جلدی جانا تھا، اس لئے وہ معمول سے پہلے ہی ناشتہ تیار کرنے کچن میں گھس گئی۔ وہ کالج میں اردو کی لیکچرار ہونے کے کے ساتھ ساتھ کالج کی ادبی سرگرمیوں کی بھی روح رواں تھی۔ اسی سلسلے میں آج محفل شعر و سخن کے نام سے کالج میں ایک تقریب تھی، جس میں شہر کے مشہور شعرائے کرام مدعو تھے۔ صباحت کا کیا تعارف کروایا جائے کہ خوشبو اپنا تعارف آپ

Read more

کوزہ گر

” ارے بیٹا! جلدی سے برتن ڈھانپ دو۔ وہ دیکھو تیز آندھی آ رہی ہے“ ۔ کوزہ گر کی ماں چھت پہ کھڑی جنوب کی جانب سے آنے والی آندھی کو دیکھ کر چلا رہی تھی اور کوزہ گر کو آنے والے خطرے سے خبردار کر رہی تھی کہ وہ صحن میں رکھے برتن ترپال سے ڈھانپ دے، تاکہ کوئی برتن ٹوٹ نہ جائے۔ کوزہ گر کا یہ خاندانی پیشہ تھا جو اسے باپ کی طرف سے وراثت میں ملا

Read more

تو جو نہیں ہے

خزاں کے موسم کی وہ اک اداس اور خاموش رات تھی، جب سردی کی جھڑی کی آواز رات کو ایک مترنم انداز میں کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ وہ دن بھر کا تھکا ہارا باوجود ہزار کوشش کے بستر پر پڑا پہلو پہ پہلو بدلتے سونے کی کوشش کر رہا تھا، مگر نیند تھی کہ کوسوں دور۔ گویا آج کی رات شاید اسے جاگ کر ہی گزارنی تھی اور کسی کے بے خواب راتوں کی اذیت اور اس کے

Read more

عورت کا یہ روپ بھی دیکھا ہے؟

اس وقت ہماری پڑھی لکھی کلاس کے اندر جو موضوع تواتر کے ساتھ زیر بحث ہے وہ عورت کی مظلومیت ہے۔ چنانچہ خواتین و حضرات کی ایک بہت بڑی تعداد یہ گلہ کرتے نظر آتی ہے کہ، ہمارے ہاں اس وقت سب سے مظلوم اور بے یار و مددگار طبقہ عورت ہے، جس کو مرد کئی لحاظ سے استحصال کا نشانہ بنا کر اس کے اوپر ظلم کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پھر کچھ ایسے واقعات بھی منظر عام

Read more

عمران خان کی تحریک اور اس کے ظاہر ہوتے ثمرات

کسی بھی ملک اور معاشرے میں کچھ سیاسی روایات ہوتی ہیں، جو ان کے تمدن کا خاصہ اور ان کے طرز زندگی کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ ان روایات میں مخالفین سے برتاؤ، مخاطب سے طرز گفتگو، خواتین کی عزت، بزرگوں کا ادب، چھوٹوں پہ شفقت، مخالف کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت وغیرہ شامل ہیں۔ یہ پیرامیٹرز دراصل اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اس معاشرے کی اٹھان کن خطوط پر استوار ہوئی ہے، اور یہ کس

Read more

برطانوی حملہ آور بمقابلہ دیگر اقوام: وجاہت صاحب سے اختلاف کے ساتھ

محترم المقام جناب وجاہت مسعود صاحب اور جناب رضوان رضی صاحب کو احقر العباد اپنے اساتذہ کا درجہ دیتا ہے، جن سے اس طالب علم نے تاریخ، ادب، فلسفہ، سیاسیات اور دیگر کئی علوم کو سیکھا۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ان دو اساتذہ صاحبان کی ہی بدولت احقر کو اختلاف رائے اور احترام انسانیت جیسے وصف کو استعمال کر کے اپنا نکتہ نظر دوسرے تک پہنچانے کا ملکہ بھی ملا۔ چنانچہ اسی تناظر میں وجاہت

Read more

کیا مرد ماہواری کے پیڈز نہیں خرید سکتا؟

ہم روزمرہ زندگی میں مختلف اشیائے زندگی خریدنے کے لئے بازار کا رخ جب کرتے ہیں تو عموماً گھر کی خواتین سے بھی پوچھ لیتے ہیں کہ آیا ان کو کسی چیز کی ضرورت ہے یا نہیں ہے۔ چنانچہ گھر میں موجود ماں، بہن اور بیوی اپنی اپنی اشیاء کی ایک فہرست ہمارے ہاتھ کرتی ہیں، جن میں بہن کے لئے نومی بھائی کے جنرل سٹور سے رنگ گورا کرنے والی کریم، امی کے لئے افی بھائی کی دکان سے موٹی اون کا ایک پیکٹ وغیرہ جیسی چیزیں شامل ہوتی ہیں۔

Read more

قدرتی آفات اور عذاب الہی کی منطق

کسی بھی معاشرے میں دو قسم کے طبقات پائے جاتے ہیں، اول وہ جو اپنی زندگی کو اس کی موجودہ حالت کے ساتھ اپنا مقدر مان کر جیتے ہیں اور دوسرا وہ جو اس کے اوپر سوال اٹھا کر ان معاملات کو حل کرنے کی تراکیب سوچتا ہے۔ کسی بھی مظہر یا فعل پہ سوال اٹھانے والا شخص وہ خوش نصیب انسان ہے، جو عقل و فہم سے مالا مال اور سوچنے سمجھنے کی قوت سے متصف ہے۔ اگر وہ

Read more

سسر کا شک۔ نتیجہ گھر کی بربادی

ہمارے معاشرے میں طلاق کا رجحان اب بڑھتا جا رہا ہے، اور ہنستے بستے گھر آن کی آن میں اجڑ رہے ہیں۔ طلاق کی ایک عمومی وجہ میاں بیوی کے درمیان ذاتی اختلافات ہیں، جن کے پس پردہ بہت سے عوامل میں زن و شوہر کے درمیان شک سب سے اہم وجہ ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب حالات اس نہج پر پہنچتے ہیں تو گھر کے بزرگ، اپنی مساعی سے اس آگ کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا

Read more

جبری نکاح یا زنا بالجبر

نکاح دراصل وہ معاہدہ ہے جو ایک مرد اور عورت کے مابین تشکیل پاتا ہے، جس کی رو سے اب وہ ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں آزاد ہو جاتے ہیں۔ نکاح نامی رشتے کا وجود ازل سے موجود ہے اور تمام مذاہب کے اندر اس کا ثبوت ملتا ہے۔ ایک عورت نکاح کے تحت جب، کسی مرد کے ساتھ منسوب ہوتی ہے، تو ایک عام تصور یہی ہے کہ گویا وہ عورت مرد کی ملکیت میں

Read more

تصوف۔ تزکیہ باطن یا ارتکاز طاقت

تصوف جس کو اسلامی دانشور طریقت کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں، ایک ایسا طریقہ یا طرز عمل ہے، جس میں انسان دنیوی تعلقات، اور حوائج سے کنارہ کش ہو کر اپنے باطن کی اصلاح کر کے اپنی روح کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کرتا ہے۔ تصوف کا نظریہ اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب میں بھی رائج ہے، جہاں مختلف ریاضتوں اور افعال کے ذریعے یہی کام کیا جاتا ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور کے اندر مروجہ

Read more

عقل سے پنجہ آزما ملائیت

اس دنیا کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں صاحبان عقل و خرد کی بات سننے اور ان کو ماننے والے اقلیت میں رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اس دھرتی کا زیور اور اس کے اسرار و رموز سے واقف ہوتے ہیں، ان کے لئے سب سے بڑی یہی آزمائش رہی ہے، کہ زمانہ ان کی مخالفت پہ ہمیشہ کمربستہ رہ کر ان کے لئے عرصہ حیات کو تنگ کر دیتا اور وہ دربدر اور کبھی پابند سلاسل رہ کر

Read more

گھر سے بھاگ کر شادی: ایک وجہ یہ بھی ہے

انسان کو اس کائنات میں اشرف المخلوقات جو کہا جاتا ہے تو اس کی وجہ اس کے اندر عقل جیسی صفت کا ہونا ہے، جس کی بدولت وہ واقعات اور تجربات کا مطالعہ کر کے اپنے مستقبل کی صف بندی کر سکتا ہے۔ وہ ان واقعات کو محض تقدیر اور قسمت کا کھیل سمجھنے کی بجائے، ان میں علت اور معلول کے مابین واسطے کو معلوم کرتا ہے، اور پھر ایسے اقدامات کی جانب قدم اٹھاتا ہے، جن کی بدولت

Read more

بدلتے مداریوں کے ساتھ پرانا تماشا

ہمارے ملک میں خلقت کثیر کو گمراہ کرنے اور اپنے مقاصد اصلی سے غافل رکھنے رکھنے کے لئے طاقت کے سرچشموں کی طرف سے ہر دور میں ایسے مداری میدان میں اتارے جاتے ہیں، جو تماشا لگانے اور لفاظ کی مرصع کاری سے عوام الناس کی توجہ اپنی جانب مبذول کر کے ان کو حقیقت سے بے خبر رکھنے میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ بظاہر یہ تماشے علم و دانش کے عنوان سے منعقد کیے جاتے ہیں،

Read more

کیا پرائی آگ میں جھونکے بچے کچرے سے اٹھائے گئے تھے؟

ہمارے یہاں مفاد پرست طبقے کو ہر دور میں جب بھی ذاتی اور معاشی فوائد کے لئے کوئی بھی موقع ملتا ہے، اس کے لئے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اس کے واسطے ہزاروں انسانوں کو بھی اگر بلی چڑھانا پڑھ جائے، تو وہ اس کے لئے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان نوجوانوں کو بلی چڑھا کر بے شمار فوائد سمیٹنے کے لئے جو نسخہ کیمیا اس طبقے کے یہاں معروف و مقبول

Read more

غیر ازدواجی تعلقات اور ہمارا دہرا معیار

ہمارے معاشرے میں کئی جگہ ایسے دہرے معیارات قائم ہیں جو نسل بعد نسل منتقل ہوتے آ رہے ہیں، اور ان کو آج تک ختم کرنے یا ان کی اصلاح کرنے کی طرف کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ انہی میں ایک غیر ازدواجی تعلقات ہیں، جن میں ہمارا مجموعی دہرا رویہ عمومی طور پر یہ رہا ہے کہ ہم مرد کی جانب سے چشم پوشی کر جاتے ہیں، مگر جونہی بات عورت کی طرف مڑتی ہے، تو اس پر

Read more

دو محبتوں میں گھری لڑکی کی کتھا

وہ بیس اکیس برس کی الہڑ مٹیار تھی، جس کی شوخ اور چنچل آنکھوں میں خوبصورت خواب بستے تھے۔ اکلوتی ہونے کے کارن بلا کی ضدی جو اپنی ہر خواہش جب چاہتی منوا کر ہی دم لیتی۔ وہ خوشیوں میں پلی بڑی اور محبت کے سائے میں جوان ہوئی۔ غضب کا سراپا اور قیامت کی چال جو کسی بھی حسین شخص کا خاصہ ہوتا ہے وہ اس میں تھا۔ مسکراتی تو گویا بہار کا سماں، موتیوں سے الفاظ، ادا جیسے

Read more

اوریا مقبول جان کا خوابوں پہ چلتا کاروبار

دنیا میں ہمیشہ سے بالادست طبقے کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھاتے رہتے ہیں جن سے عوام الناس کو جاہل رکھ کر ، ان کی عقلی اور شعوری قوت سلب کردی جاتی ہے اور یوں وہ منطقی انداز میں سوچنے کی بجائے محض جذباتی تقاریر اور کھوکھلے نعروں کے اوپر یقین کر کے زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ اس جابر، حاکم اور بالادست طبقے کو اس بات کا اچھی طرح سے اندازہ ہے کہ ان کی جابریت،

Read more

رشتہ ازدواج اور معاش میں وسعت۔ ایک شدید غلط فہمی

رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا ایک بنیادی انسانی تقاضا اور مرد و زن کی باہمی ضرورت ہے۔ تاہم شادی کا مقصد صرف جنسی جبلت کی تسکین ہی نہیں بلکہ مونس و ہمدردی کے ایک رشتے کی بنیاد رکھنا ہے، جس میں میاں اور بیوی ہر قسم کے حالات میں ایک دوسرے کے رفیق اور مددگار ثابت ہوں۔ یہی وہ رشتہ ہے جو نسل انسانی کی بقاء اور اس کی پرورش کا ضامن ہے۔ تاہم کیا ہر انسان ان تقاضوں سے

Read more

نظریاتی اختلافات اور وسعت قلبی کیسے پیدا ہو؟

عہد رفتہ میں جہاں انسان بہت سے بندھنوں سے آزاد ہوا ہے، وہیں قاری اور صاحب تحریر کے درمیان تعلق اور رابطے کا استوار ہونا بھی ہے، جس کی بدولت ایک قاری مصنف کی تحریر سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا مافی الضمیر یا مدعا اس تک پہنچا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف مصنف کو قاری کی رائے سے واقفیت ہوجاتی ہے، بلکہ وہ اس کے ذریعے اپنے نکتہ نظر کی مزید وضاحت بھی کر کے قاری کو اطمینان دلا

Read more

تاریخ کا مطالعہ اور نتائج کا استخراج

دنیا کی تمام اقوام اور ممالک کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے، جو اس کے ارتقا اور فکری سفر کا پتہ دیتی ہے، اور جس کے مطالعہ سے ہم اس کے حال کی حالت اور مستقبل کی سمت کا ادراک کر سکتے ہیں۔ مگر تاریخ نگاری اگر ایک خاص اسلوب کی محتاج ہے، تو تاریخ کا مطالعہ بھی ایک خاص ذہنی حالت اور کیفیت کا متقاضی ہے۔ اگر ہم تاریخ کو بھی محض مذہبی کتب کی طرح عقیدت کے رنگ

Read more

حب الوطنی اور ذاتی دوستی کی گرہیں

ہم لوگ ایک معاشرے میں رہنے کے باوصف ایک دوسرے سے مربوط ضرور ہیں، اور اسی بنیاد پر ہماری دوستی بھی قائم ہوتی ہے، تاہم اس دوستی کے آگے اگر وطن کے دستوری تقاضوں کو پس پشت ڈال دیا جائے تو اس سے بڑی خود غرضی اور ذاتی مفاد پرستی کی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ وطن سے محبت کا دعوی زبانی لحاظ سے کرنا تو نہایت آسان ہے، تاہم اس کا حقیقی منظر اس وقت نکھر

Read more

سیاست میں جذبات کے برآمدہ نتائج

انسانی طبیعت کا ایک خاصہ ہے کہ یہ بیرونی حالات سے متاثر ہوتی ہے، اور اس کے اثرات پھر قول و فعل اور فکر کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔ لہذا وہ تمام طبائع جو خام حالت میں اور فکری نا بلوغت کی عمر میں ہوتی ہیں، وہ ہر بیرونی محرک سے تحریک پاکر اپنا زاویہ فکر و نگاہ تبدیل کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اور اس قسم کی طبائع کو ہم جس سمت موڑنا چاہیں، وہ نہایت آسانی کے

Read more

آئین پاکستان یا شرعی قانون؟

کسی بھی ملک کے باشندے جب ذہنی ابہام اور شکوک و شبہات کا شکار رہیں، تو وہ نہ صرف ہر قدم پہ غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنی منزل مقصود کے تصور کو بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ جب قوم اسی مخمصے کا شکار رہے کہ ان کے اہداف کیا ہیں، ترجیحات کیا ہیں، ہمارا نظریاتی اور فکری تشخص کیا ہے، ہم نے نسل نو کی اٹھان کن خطوط پہ استوار کرنی ہے، ہماری منزل مقصود کیا ہے اور

Read more

شخصی اقتدار اور اصطلاحات کا منجن

بین الاقوامی سیاست اور اس سے جڑے تمام پہلوؤں کو اگر بنظر غائر دیکھا جائے، تو یہ بات ہم پر عیاں ہوتی ہے کہ وہ تمام ممالک جو ترقی یافتہ کہلاتے ہیں، ان کی ترقی کا سب سے نمایاں سبب قومی وحدت اور اجتماعی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دے کر، ایسے منصوبہ جات کا اجراء ہے جو محض کسی خاص گروہ یا شخص سے ہٹ کر پورے ملک اور قوم کے واسطے مفید ہو۔ ہم اپنی نجی محافل

Read more

آئین کی حرمت اور آج کا المیہ

کسی بھی معاشرے اور ملک میں کچھ نظریات، عقائد اور دستاویزات ایسی ہوتی ہیں، جن کی حرمت کا پاس اور ان کے ساتھ وابستگی کسی بھی منطق یا سوچ سے بالاتر جانی اور سمجھی جاتی ہے۔ اور یہی وہ بندھن ہوتا ہے، جو مختلف الخیال اور مختلف المشرب افراد کو وحدت کی اکائی میں پرو کر ان کو ایک قومی شناخت عطا کرتا ہے۔ اگر یہ بندھن کسی کی سازش یا ریشہ دوانی سے کمزور ہونا شروع ہو جائے، تو

Read more

ہماری سیاسی تاریخ میں بد تہذیبی کب اور کیسے داخل ہوئی

سیاست ایک ایسا مقدس شعبہ ہے، جو نفسانی، ذاتی اور شخصی اغراض سے بالاتر ہو کر معاشرے کے تمام طبقات کی بے لوث خدمت اور ان کے مسائل کو حل کرنے کا نام ہے۔ یہ وہ پیشہ ہے جس میں اپنی زندگی کو کھپا دینے والا انسان کسی طمع، لالچ یا جزا کے عمل سے بے نیاز ہو کر، ایک دھنی کی طرح اپنی منزل کی جانب بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تاہم اس مقدس شعبے کے اندر جب سے موقع

Read more

ہماری بنیادی غلطی اور اس کے نتائج‎

اقوام عالم کی تاریخ میں بے شمار تحریکات اس عزم اور ارادے کے ساتھ منصہ شہود پر نمودار ہوئیں جن کا مدعا موجودہ نظام کی بساط لپیٹ کر ایک نئے نظام کی داغ بیل ڈالنا ہوتی تھی۔ ان تحریکات سے وابستہ افراد اس نظریے کے تحت اکٹھے ہوتے تھے، کہ موجودہ بندوبست بحیثیت مجموعی معاشرے کے تمام افراد کو یکساں تحفظ، قانون، صحت، تعلیم اور روز گار جیسی بنیادی سہولیات دینے میں یکسر ناکام ہو چکا ہے، لہذا وقت کا

Read more

ریاست مدینہ۔ مفہوم اور تقاضے

اسلام کی تیرہ سو سالہ تاریخ میں کئی حکمران آئے، اور اپنے اپنے انداز سے حکومت کرتے ہوئے رخصت ہو گئے، جن کے مفصل حالات اب تاریخ کی کتب میں بتمامہ موجود ہیں، اور جن کو منطقی اور فلسفیانہ انداز میں پڑھنے سے جہاں اس وقت کے حالات کا علم ہوتا ہے، وہیں ہم اس سے اپنے موجودہ دور کا موازنہ کر کے حالات کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ اسلام میں فرمانروائی کی ابتداء خلافت علیٰ منہاج النبوۃ سے ہوتی

Read more

منطقی سوچ کی اہمیت و ضرورت

ہمارے ہاں روز مرہ زندگی میں بے شمار واقعات ہمارے سامنے رونما ہوتے ہیں، مگر اس کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد ان واقعات کی ہے جو ہم تک روایات کے وسیلے سے پہنچتی ہے۔ ان روایات کا وسیلہ کوئی انسان بھی ہو سکتا ہے یا دیگر کوئی اور واسطہ جیسے تاریخی کتب اور ذرائع مواصلات جن میں ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا شامل ہیں۔ تاہم ان روایات کو اپنے اذہان و قلوب کے اندر من و عن سما

Read more

بعثت محمدی ﷺ و قرآن کا مقصد

دنیا میں جب بھی انبیاء علیہ السلام نئی شریعت کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں، تو اس کا ایک خاص بنیادی مقصد ہوتا تھا، جس کی تکمیل وقت کا سب سے اہم تقاضا اور اس دور کی سب سے اہم ضرورت ہوتی تھی۔ تاہم اس مقصد کی تکمیل کی خاطر دیگر ثانوی باتیں یا چیزیں بھی ان کے ساتھ مربوط ہو جایا کرتی تھیں، مگر ان کی حیثیت بطور ایک معاون یا شارح کے ہوتی تھیں۔ مگر بعد میں اگر اس

Read more

طارق فتح اور ان کا مطمح نظر

کچھ دن قبل مشہور مفکر جناب طارق فتح صاحب کا ایک انٹرویو سننے کا موقع ملا، جو انہوں نے محترمہ آرزو کاظمی صاحبہ کو دیا اور جس میں انہوں نے کئی حوالوں سے ہماری اغلاط اور کمزوریوں کی نشاندہی فرمائی۔ اسی نشست میں انہوں نے ہماری اس غلطی کی بھی نشاندہی فرمائی جس میں ہم طالبان اور امریکہ کا تقابل کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے نقطہ نظر کی رو سے گویا یہ وہ دو متحارب اور متضاد قوتیں ہیں،

Read more

نکتہ نظر کا اطلاق۔ اجتماعی یا انفرادی

کچھ دن قبل احقر العباد کی نظر سے ایک پوسٹ گزری جس میں سورۃ یوسف کا خلاصہ یہ دیا گیا تھا کہ بچھڑے ہوئے مل جاتے ہیں، جن کو چاہا جاتا ہے ان سے وصل ہوجاتا ہے اگر اللہ چاہے۔ تاہم حیرت انگیز طور پر اس سورۃ کے اندر جو اتنا اہم موضوع زیر بحث لایا گیا ہے، اور جس سے ہمیں بہت ہی عمدہ معلومات ملتی ہیں، اس کا ذکر ندارد تھا۔ جس کی بایں وجہ ہماری سوچ کا

Read more

مخلوق خدا کی! ملک بادشاہ کا! حکم کمپنی بہادر کا!

انسان کو بہت سی نعمتیں کائنات میں ودیعت کی گئی ہیں، جن کا اسے شاید احساس تک نہیں ہوتا، مگر جب ان میں سے کوئی ایک نعمت بھی چھن جائے تو وہ کف افسوس ملتا ہے، مگر پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ان میں سے ایک نعمت آزادی بھی ہے، جس کا بظاہر ہمیں کوئی احساس نہیں ہوتا، مگر یہ نعمت جہاں ایک طرف کئی وجوہات کے لحاظ سے بہت قیمتی ہے، وہیں اس کا حصول اور اس

Read more

علم کیا ہے؟

زمین پر موجود تمام مخلوقات کے اندر ہر سطح پر کسی نہ کسی طرح کا علم ہوتا ہے، جس کے مطابق وہ اپنی زندگی کے افعال کو سرانجام دیتی ہے۔ مثلاً اس نے کیا کھانا ہے، کیا پینا ہے، کس چیز کے پاس جانا ہے، کس چیز سے اپنے آپ کو بچانا ہے، اپنی نسل کی بڑھوتری کیسے کرنی ہے، اپنی اولاد کی پرورش کیسے کرنی ہے اور اپنے کنبے کو مختلف آفات سے کیسے بچانا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تاہم

Read more

ہیرو ازم کا تصور اور اس کے نتائج

دنیا کے سبھی ممالک میں جو ادب تخلیق کیا جاتا ہے اس میں ہیرو کا کردار ایک خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ کردار دراصل تخلیق کار کے تخیل کا تراشا ہوا وہ بت ہوتا ہے، جس کو وہ اپنے روبرو دیکھنا چاہتا ہے اور جس کے کردار کے اندر تخلیق کار کے لاشعور کا چھپا ہوا انسان منصہ شہود پر نمودار ہو کر، ہمیں اس کے ذہنی اور فکری سوچ کے بارے میں آگاہی دیتا ہے۔ تاہم اب

Read more

اشفاق احمد اور ڈرامہ من چلے کا سودا

اسلامی روایت میں تصوف کی تحریک اپنی جگہ مستقل اہمیت کی حامل ہے، جس کی ابتداء دنیوی اغراض سے منہ موڑ کر ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے ہوئی تھی، مگر دھیرے دھیرے دوسری تہذیبوں سے اختلاط کے باعث اس میں بھی ارتقاء کا عمل نمودار ہوا اور یوں آج اس کی موجودہ شکل جس میں ہم اس کو دیکھتے ہیں، وہ اپنے ابتدائی تصور سے کافی مختلف ہے۔ اسلامی تصوف کے اندر پہلی نمایاں تبدیلی اس وقت

Read more

ہم اور ہماری شناخت

کسی بھی خطے، معاشرے یا قوم کے اندر کچھ ایسے افراد گزرتے ہیں، جن کی صلاحیتیں ایک عام انسان سے مختلف اور بڑھ کر ہوتی ہیں، اور جس کی بناء پر معاشرہ ان کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا، سراہتا اور ان کے منسوب واقعات کو اپنے اذہان و قلوب میں محفوظ کر کے، آنے والی نسلوں کو ان سے آگاہ کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف ان شخصیات کا نام تاریخ میں زندہ رہتا ہے، بلکہ آنے والے نسلوں

Read more

تبدیلی: انفرادی اور اجتماعی تناظر میں

گزشتہ کچھ عرصے سے ایک ہی صدا بازگشت کی طرح وطن عزیز کے طول و عرض سے سننے کو ملتی ہے، کہ تبدیلی، تبدیلی اور بس تبدیلی۔ تاہم اس کے تناظر میں تبدیلی کے وہ تمام عناصر جو اس کے لوازمات میں شامل ہیں، ان کا ادراک معدودے چند اشخاص کے شاید ہی کوئی اور کر پایا ہو۔ یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ ہمارا معاشرہ اب جس نہج پہ چل رہا ہے، اور جس ڈگر کو اپنا چکا ہے،

Read more

اظہار رائے کی آزادی اور اسلام

انسانی معاشرہ کئی عناصر کے باہم ملاپ سے تشکیل پاتا ہے، جن میں اختلاف کے باوجود ایک کشش موجود ہوتی ہے جو ان سب کے اوپر غالب رہتے ہوئے ان عناصر کو یکجا رکھتی ہے۔ انسان کی کئی ضروریات بنیادی نوعیت کی ہیں جن کے بغیر وہ زندگی نہیں گزار سکتا جن میں مکان، خوراک، صحت کی سہولت، وغیرہ شامل ہے۔ تاہم یہ وہ ضروریات ہیں جو باقی حیوانات کو بھی درکار ہیں اور یوں ہم محض ان ضروریات تک

Read more

رعایا اور سلطنت کے حقوق و فرائض کی تحدید

رعایا اور سلطنت دو ایسے اجزاء ہیں جو ایک دوسرے کا جزولاینفک ہیں اور ان میں اسے ایک جزو کے عدم ہونے کی صورت میں دوسرے جزو کا عدم ہونا ظاہر و ثابت ہے۔ تاہم ریاست ایک تجریدی شے ہے، جس کا صفحہ ہستی پہ اظہار چند کرداروں کی صورت میں نمو پذیر ہوتا ہے اور یہی چند کردار ریاست کے کردار، افکار، بیانیہ اور قانون کو مرتب کر کے رعایا کو اس کا بات کا پابند کرتے ہیں کہ

Read more

اخلاقی اقدار میں گراوٹ اور عوامل کا تعین

حسن خلق یا اخلاق وہ معاشرتی قدر یا پیمانہ ہے جس سے ہم کسی بھی معاشرے کے حسن و قبح کو ماپ کر اس کے متعلق کوئی رائے قائم کرتے ہیں۔ اور یہی وہ قدر ہے جو کسی بھی قوم، معاشرے یا ملک کی دنیا میں پہچان بنتی ہے۔ یہی وہ صفت ہے جس کو مؤرخ تاریخ میں محفوظ کر کے، بعد میں آنے والوں کے لئے تعارف کے واسطے چھوڑ کر جاتا ہے۔ اخلاقی اقدار کی بنیاد کن پہلوؤں

Read more

نااہل حکمران اور روحانیت کی اداکاری

یہ دنیا جس کو اس کے خالق نے اسباب کے ساتھ جوڑا ہے، ایک خاص ڈگر پر ابتدائے آفرینش سے چل رہی ہے جس کے پیچھے کچھ خاص قوانین ہیں ، جن سے انحراف کا مطلب اپنی تباہی کو آپ دعوت دینا ہے۔ اس دنیا میں جو مختلف کاروبارہائے حیات چل رہے ہیں ، ان میں امور مملکت کا کارخانہ سب سے اہم اور بنیادی حیثیت کا حامل ہے، اس کا براہ راست عام انسان کی زندگی سے تعلق ہے۔

Read more

دین اور سیاست میں تضاد نہیں ہے

کسی بھی معاشرے میں مذہب کا چلن اور اس کے احکامات کے تحت زندگی گزارنا عین سعادت اور اخروی فلاح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مذہب کی تاریخ دراصل سب سے پہلے انسان کی اس دنیا میں آمد سے شروع ہوتی ہے۔ دنیا کا سب سے پہلا مذہب جسے اسلام کہا جاتا ہے اس کا نقطۂ آغاز حضرت آدم ؑ سے ہوتا ہے اور وہ جب دنیا میں نبی کی حیثیت سے مبعوث ہوئے تو اپنے ساتھ ایک ضابطۂ حیات

Read more

سرابوں کے تعاقب میں

کچھ ہفتے قبل راقم کی نظر سے محترم پرویز ہود بھائی صاحب کا ایک مضمون گزرا، جس میں انہوں نے دنیا بھر کی جامعات کی درجہ بندی اور اس کے طریقہ کار کے متعلق خامہ فرسائی تھی۔ اپنے اس مضمون میں آنجناب میں جس اہم حقیقت کی طرح اشارہ کیا وہ اس نظام میں پائے جانے والے بنیادی نقائص ہیں جس کی وجہ سے اعداد و شمار کا ہیر پھیر کر کے غیر مستحق جامعات اور اساتذہ کو ابتدائی درجہ

Read more

صوبائی اور لسانی عصبیت کی اٹھتی بادِ صر صر

کسی بھی انسان کے اندر اپنی قوم، وطن یا زبان سے محبت کا جذبہ فطری طور پہ موجزن ہوتا ہے، اور یہ ایک زندہ دل انسان کے زندہ ہونے ہونے کی علامت ہے۔ تاہم یہ جذبہ ایک فطری حد تک برقرار رہے تو معاشرے میں توازن کا عنصر برقرار رکھتا ہے، مگر جب یہ جذبہ اپنی فطری حدود و قیود سے تجاوز کرے تو معاشرے میں عدم توازن کی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے اور یوں نتیجہ انارکی اور طوائف

Read more

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

ملک پاکستان کے علاقہ گوجر خان کے نواح کی خبر ملاحظہ فرمائیں جہاں، میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور اس کے نتیجے میں بیوی نے 3 بچیوں سمیت کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ اہل محلہ کے اکٹھے ہونے پر بد نصیب ماں کو تو زندہ نکال لیا گیا، تاہم 3 معصوم پھول ہمیشہ کے لئے مرجھا کر، ابدی راحت کی تلاش میں اپنے خالق کے ہاں روانہ ہو گئے۔ اس حادثہ جانکاہ نے قلب و ذہن پہ اس قدر اثر کیا کہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ بندہ کس سے پوچھے اور کہاں جائے۔

Read more

عمرانی علوم کے زوال کا المیہ

ہمارے معاشرے میں جو مروجہ علوم پائے جاتے ہیں، ان کو عمرانی علوم اور سائنسی علوم میں منقسم کیا گیا ہے۔ اس تقسیم سے قطع نظر یہ تمام علوم کسی بھی معاشرے کی ذہنی، مادی اور سماجی ترقی کے لئے لازم عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کے وجود سے انکار گویا ایک طبعی عنصر سے محرومی کے مترادف ہے۔ یہ تمام علوم جو ہر دور کے اندر رائج رہے ہیں اور اقوام عالم نے اس امانت کو نہایت دیانت

Read more

بدلتی اقدار کی تیز ہوا

کائنات کے اندر زمان و مکان کا تعلق ایک واشگاف حقیقت ہے، جن کے اندر وقوع ہونے ہونے والے واقعات باہم ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں۔ چونکہ دنیا تغیر پذیری کے اصول پہ کارفرما ہے، لہذا ہر بدلتی رت اور واقعہ کے ساتھ ایک غیر محسوس طریقے سے کچھ نئی تبدیلی واقع ہو کر رہتی ہے۔ تاہم اس نئی وقوع پذیر تبدیلی کا انحصار بہت سے عوامل پر منحصر ہے، جس میں ایک عمومی معاشرتی اقدار، سوچ کی سمت،

Read more

عصر حاضر کے مسائل اور فکری انتشار

اس دنیا میں جب سے انسانی آبادی کا آغاز ہوا ہے، اس وقت سے کچھ بنیادی نوعیت کے مسائل بھی ساتھ ساتھ پیدا ہوتے چلے گئے جن سے بر سر پیکار رہنا اور ان کے خلاف حکمت عملی سے جدوجہد کرنا انسانی سرشت میں شامل رہا ہے۔ اگر بنظر غائر اس بات کا جائزہ لیا جاوے، تو دراصل یہی بات سر حیات اور انسان کی بقاء کی ضامن ہے۔ تاہم ان تمام مسائل میں سے کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں

Read more

وحی الہی اور ہمارے مسائل

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بہت ساری نعمتوں اور خوبیوں سے متصف فرمایا، ان میں سے ایک بہت بڑی نعمت عقل و شعور بھی ہے، اور درحقیقت یہی وہ نعمت کبریٰ ہے جو وجہ تمیز مابین انسان و دیگر مخلوقات ہے۔ ایک انسان معنوی لحاظ سے اسی وقت انسان کہلوائے جانے کا سزاوار ہے، جب وہ قوت عقل اور شعور سے مالا مال بھی ہو اور اپنے تمام امور میں اس کو وزیر بھی بناتا ہو۔ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہ کے اقوال سے منسوب کتاب نہجہ البلاغہ میں ایک نہایت شاندار خطبہ درج ہے، جس سے جناب امیر المومنین رض کی علمی بصیرت اور مقام کا پتہ چلتا ہے۔

Read more

تصوف کا مفہوم اور دائرہ اثر

کرہ ارض پہ رہنے والے تمام انسان خواہ کسی بھی خطے سے تعلق رکھتے ہوں اور کسی بھی مذہب کے معتقد ہوں، ان کے اندر ہمیشہ اپنے اندر کو جاننے اور اپنی روح کے تزکیہ کرنے کا جذبہ ہر حال میں موجود ہوتا ہے۔ اس معاملے میں باقی مذاہب کے ساتھ ساتھ اسلام، کے متبعین بھی اس بات میں ہمیشہ کوشاں رہے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ جن نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کا مبعوث

Read more

وجاہت مسعود صاحب کے جواب میں

جناب وجاہت مسعود صاحب نے اپنے حالیہ کالم میں کسی راؤ غلام مصطفیٰ صاحب کے کالم کا جواب لکھا ہے، اور راقم السطور اس کالم کے ذریعے اسی بحث کا احاطہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جہاں تک فاضل کالم نگار جناب وجاہت صاحب کے اس بیان کی بات کی جائے، جہاں وہ پاکستان کی نام نہاد اشرافیہ یعنی اسٹیبلشمنٹ کو ملک عزیز کی اس حالت کا ذمہ دار گردانتے ہیں، تو میں اس بات کے اندر وجاہت صاحب کے

Read more

مولانا حسین احمد مدنی اور علامہ محمد اقبال کے درمیان تنازع

کسی بھی انسانی معاشرے کے اندر دو افراد یا مکاتب فکر کے درمیان اختلاف کا پایا جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ یہ فکری، نظریاتی یا قولی اختلاف دراصل ایک زندہ معاشرے کی جہاں ایک طرف عکاسی کرتے ہیں، تو دوسری طرف باقی افراد معاشرہ کو بھی سوچنے اور اپنے لیے ایک راہ متعین کرنے کا کام دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں تحریک آزادی کے اندر بھی کچھ ایسی ہی صورت حال رہی ہے، اور اس کے اندر ہمیں دو

Read more

کیا اکثریت سچائی کا معیار ہو سکتی ہے؟ ایک اہم فکری مغالطہ

ایک عام فکری و ذہنی مغالطہ جس سے ہر فرد کو واسطہ پڑتا ہے وہ ہے یہ تصور کہ معاشرے کی اکثریت جس رواج کی پیروی کرے یا جس راہ کو اختیار کرے وہی حق اور سچ ہے۔ لیکن اگر بنظر ِ غائر اس چیز کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من ا لشمس ہوجاتی ہے کہ یہ تصور سراسر غلط اور بودا ہے۔ اس بات کی سب سے بڑی دلیل حضرت نوح ؑ کی قوم ہے، کہ

Read more

کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے

راقم السطور اعنی ہیچمداں کو جن اساتذہ سے شرفِ تلمذ حاصل ہے، ان میں سے ایک گرامیِ ذی قدر جناب انوار احمد صاحب کی ہستی بھی ہے۔ آنجناب سے شرف ِ تلمیذ کا باقاعدہ سلسلہ اُس وقت شروع ہوا، جب احقر، اعلیٰ ثانوی تعلیم کے حصول کے واسطے عازم ِ اسلام آباد ہوا اور وہاں کی ایک معروف درسگاہ علمی میں جنابِ ممدوح کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ حضرتِ ذی قدر ہمیں اردو کے مضمون کی تعلیم دینے پہ

Read more

حکایت ِ جنوں

اس کائنات کے اندر جتنی بھی انواع و اقسام کی مخلوقات بستی ہیں، ان میں انسان کو یک گونہ فضیلت اور شرف حاصل ہے کہ جس کے سبب وہ اشرف ا لمخلوقات کہلوائے جانے کے قابل ٹھہرا۔ یہ رتبہ جس صفت کی بدولت حاصل ہواس کی بناء دو چیزیں ہیں اعنی عقل جو پیدائشی ودیعت کی گئی اور دوسرا حصول ِ علم۔ ہم بنظر ِ غائر عقل اور علم کو باہم ایسے مربوط دیکھتے ہیں، کہ ان کے درمیان تمیز

Read more

قومی بیداری اور عصبیت

کرہ ارض پہ آباد انسان کسی نہ کسی معاشرے اور قوم سے تعلق رکھتا ہے۔ تاہم اگر تمام اقوام کو پرکھا اور جانچا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ ان سب کے اندر جو قدر مشترک ہے وہ ہے انسانیت۔ اعنی اگر بنظر ِ غائر دیکھا جائے تو انسانیت ہی وہ لڑی ہے کہ جس کے اندر ان سب کو پر و کر یکجا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم تاریخ کے صفحات الٹنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس قدر مشترک کے باوجود انسان نے انسان کا خون روا رکھا، اور اپنی عددی یا مالی برتری کو ثابت کرنے کے واسطے کسی جائز اور ناجائز چیز کی پرواہ نہ کی۔ دنیا کے اندر ان بسنے والی تمام اقوام کا اپنا تمدن، اپنی زبان اور اپنی روایات ہیں، جس پہ وہ بلا شبہ ناز کرنے کی مجاز ہیں۔ مگر ان میں سے کسی بات کو لے کر دوسری اقوام کی تضحیک اور ان کے امن و امان کو پائمال کرنا بھلا کیسے درست مانا اور کہا جا سکتا ہے۔

Read more

قفس سے فریاد

جیسے جیسے اس انسان دنیا میں نشوونما کے مختلف مراحل طے کیے جاتا ہے، ویسے ویسے اُس کی عقل کی بھی تربیت ہوتی جاتی ہے۔ مگر یہ عقل کس چشمہ سے سیراب ہوکر ترقی کے زینے طے کرتی ہے، یہ ایک مختلف چیز ہے جو انسانی زندگی کی جہت کا مقصد متعین کر کے یا تو اُسے اعلیٰ و ارفع انسان بنادیتی ہے یا جانور سے بھی بدتر مقام کہ جہاں ماسوائے ذاتی اغراض کی تکمیل کے کوئی دوسرا مقصد کارفرما نہیں ہوتا۔ یہ چشمہ کہ جہاں سے عقل کو حیات ِ جاودانی یا قعر ِ مذلت ملتی ہے، دراصل معاشرے کے مجموعی تائثر کی آئینہ دار ہوتی ہے، کہ ایک انسان جس معاشرے میں آنکھ کھولتا ہے وہ اُسی کے رواج و تہذیب کے سائے تلے پروان چڑھ کر ہی اپنی زندگی کی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔ یہ ترجیحات کس قسم کی ہیں، اور اُن کا مال کیا ہے، اس کو سمجھنا اور پھر اس کے اندر موجود مفاسد کو الگ کرنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔

Read more