فارن فنڈنگ کیس: دودھ کا دودھ اور۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی سیاست کس نہج پر چلتی ہے ، اس کا اندازہ لگانے لے لیے کتب التواریخ کا مطالعہ ضروری نہیں ، بس شام کو ٹی وی چینلز پر چلنے والے ٹاک شوز ہی کافی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان یا حزب اختلاف کے کسی رہنما کے ایک بیان پر ہر پارٹی کے ترجمان ایسی ایسی دکانداری چمکا رہے ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔

آج کل پوری قوم اس بات کے پیچھے پڑی ہوئی ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کیا ہے۔ وزیراعظم صاحب نے کل وانا میں ایک بیان میں کہا ہے کہ بالکل اس کی انکوائری براہ راست کی جائے تاکہ سبھی لوگ دیکھ سکیں کہ جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا ہے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ جس پر مخالفین کی طرف سے بھی اندھا دھند جوابی بیان بازی کی شروع ہو گئی۔

کسی ملک کے ایک بادشاہ سے وزیر نے کہا کہ حضور عوام میں کرپشن بہت بڑھ گئی ہے لہٰذا ان پر ٹیکس لگانے ضروری ہو گئے ہیں۔ بادشاہ سلامت نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے کہ سبھی لوگ کرپٹ ہوں، ابھی بھی بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جو ملک و قوم سے وفاداری نبھانے کے لئے اپنے ایمان کی پاسداری کے لئے دل و جان سے خدمت کے لئے تیار ہوں گے اور وہ کسی قسم کی اخلاقی و سماجی برائی کا حصہ نہیں ہوں گے۔

وزیر خاص نے کہا کہ سرکار ایسا کرتے ہیں کہ ایک شاہی فرمان جاری کرتے ہیں کہ سلطنت کو خالص دودھ کی ضرورت ہے لہٰذا شہر کے باہر ایک تالاب بنا دیا گیا ہے اور ہر کوئی ایمان داری کے ساتھ صرف ایک گلاس دودھ وہاں رات کے اندھیرے میں ڈال آئے۔

سرکاری فرمان جاری کر دیا گیا۔ رات کا وقت ہوا تو ایک شخص نے سوچا کہ اماوس کی رات ہے اور اس اندھیرے میں کون دیکھے گا کہ دودھ خالص ہے کہ پانی ہے۔ لہٰذا اگر وہ ایک گلاس پانی تالاب میں ڈال آئے گا تو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ اب جب صبح کو بادشاہ سلامت اپنے وزرا کے ساتھ اس تالاب پر تشریف لائے تو یہ دیکھ کر حیران ششدر رہ گئے کہ تالاب، دودھ کی بجائے پانی سے لبریز تھا۔

کچھ ایسا ہی ماحول ہماری سیاست کا بھی ہے بلکہ مجھے تو شورش کاشمیری کی سیاسی دور اندیشی کو داد دینی پڑے گی کہ جنہوں کہ آج سے چند دہائیاں قبل ہی یہ شعر لکھ کر ثابت کیا کہ ملک کے سیاسی مسائل کا اب کوئی حل نہیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سیاست دان جو ہماری سیاست کا حال کر رہے ہیں بہت جلد سیاست بے حال ہو جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ

میرے ملک کی سیاست کا حال مت پوچھو
گری ہوئی ہے طوائف، تماش بینوں میں

آج بھی جب شام کو ٹاک شوز کے لئے ٹی وی آن کرتا ہوں تو کاشمیری صاحب کے مذکورہ شعر کو داد دیے بغیر نہیں رہ پاتا۔ آج بھی سیاست کا وہی حال ہے جو کہ کاشمیری صاحب کہہ چکے ۔ فرق صرف چہروں کا ہے۔ چہرے بھی ایسے میدان میں آ گئے ہیں جو نظریات کی بجائے اپنے لیڈر کی نظر میں رہنے کے لئے اپنے اپنے رہنماؤں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ واقعی کسی نے سچ ہی کہا تھا کہ رہبروں کے ضمیر مجرم ہیں۔

ضمیر جگانے کے لیے سب سے اہم ہتھیار انسان کا ایمان ہوتا ہے۔ ایمان کے بارے میں تو صرف اور صرف ذات باری تعالیٰ ہی جانتی ہے۔ مگر پاکستانی عوام کے پاس کون سی کسوٹی ہے کہ جس پر پرکھتے ہوئے نتیجہ نکال سکیں کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹ پر مبنی بیانات داغ رہا ہے کیونکہ ہر کوئی اپنی ہی ہٹی کا ہوکا دیتا ہے۔

ذرا سوچیے کہ اس طرف وزیراعظم نے بیان دیا کہ عوام کے سامنے اس پر انکوائری ہونا چاہیے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا تو اسی وقت حزب اختلاف کے مورچوں سے بیانات کی فائرنگ شروع ہو گئی۔ ابھی حزب اختلاف کے بیانات کا شور کم نہیں ہو پایا تھا کہ شام ہوتے ہی ٹی وی ٹاک شوز میں حزب اقتدار کے ترجمانوں نے اپنا موقف پیش کرنا شروع کر دیا۔ جناب والا! جب پاکستانی پارلیمان کے سب سے بڑے شخص یعنی وزیر اعظم نے اپنا موقف پیش کر دیا ہے تو پھر اس پر اتنا واویلا چہ معنی دارد۔

اب مخالفین جانیں اور عدالتیں جانیں۔ اب عدالتوں کا کام ہے کہ وہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ آئندہ انتخابات میں وہ اپنی ووٹ کا استعمال حق اور سچ کا ساتھ دینے کے لیے کر سکیں۔ یہی جمہوریت کا فلسفہ بھی ہے اور حسن بھی کہ عوام اپنی مرضی سے اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •