میں بس ایک خبط تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں وجود اور عدم کے دہر کے درمیاں لٹکا ہوا وہ جسم تھا کہ جسے صفحوں میں کبھی نہیں لکھا گیا تھا۔ تاریخ کی مجھ پر کبھی جوں تک نہیں رینگی تھی۔ میں لا زماں تھا۔ یہاں زبانوں اور لغات کی کم مائیگی تو دیکھیے کہ مجھے اپنا آپ بتانے کے لیے لغت سے کوئی لفظ بھی نہیں مل رہا۔

میں نے مجبوراً یہاں جسم کا لفظ استعمال کیا ہے، البتہ میں جسم ہرگز نہیں تھا، جسم ہوتا تو ضرور اپنا مسکن وجود کی ذات میں رکھتا۔ میں عدم بھی نہیں تھا کہ عدم ہوتا تو سوائے وجود کی نفی کرنے کے میں کچھ نہ ہوتا۔

عدم کو تاریخ اور زمانے پہچان لیتے ہیں۔ مگر میں اپنے بارے خود لکھ رہا ہوں کیوں کہ مجھے کوئی اور نہیں جانتا تھا۔ میرا کوئی جہان نہیں تھا۔ زندگی موت کی کشمکش سے پرے، جہاں کوئی علم نہیں تھا، وہاں میں زندہ تھا اور نہ مردہ۔ میرے لیے رات بنی تھی نہ دن، اور یوں میں لامکاں تھا۔ میں بڑا تھا نہ چھوٹا، میں نرم خو تھا نہ سخت مزاج بلکہ یوں کہہ لیں کہ میرا کوئی مزاج تھا ہی نہیں۔ میں ذہن میں ٹکتا تھا نہ حساس سے جھلکتا تھا۔

میں چاہتا تو مجھے اندھیرے نظر آتے اور چاہتا تو اجالے تیرتے دیکھ سکتا تھا۔ مگر مجھے تاریکی چھپا سکتی تھی نہ نمود مجھے ظاہر کر سکتی تھی۔ مگر میرا یقین کریں کہ میں نے ان موجودات سے کبھی واسطہ نہ رکھا۔ اگر کسی مخلوق سے واسطہ ہوا تو محض ایکانت سے، محض تنہائی سے۔ صرف عزلت مجھے محسوس کر سکتی تھی جو مجھے دیکھ کر حیراں رہتی تھی۔ مجھے کسی خالق نے تخلیق نہیں کیا تھا، مجھے کسی ارتقا سے پالا نہیں پڑا تھا۔ میں آزاد تھا نہ مقید۔ میری کوئی ماہیت نہیں تھی میری کوئی خاصیت نہیں تھی۔ میں بس ایک خبط تھا۔

نہ جانے کیا حادثہ درپیش ہوا کہ سالہا سال عدم کے بھنور میں چلا گیا۔ جب ہوش آیا تو مجھے میرا اندر محسوس ہوا جہاں میرا وجود جنم لے رہا تھا۔ میں نے خود کو ایک دیوتا کے ذہن میں سمویا ہوا پایا۔ اس وجود کا نقصان یہ ہوا کہ اس دیوتا کے اندر جا کر میری پہچان پیدا ہو گئی تھی۔ مجھے اس دیوتا نے ”خیال“ کا نام دیا۔ میرے بغیر دیوتا نامکمل تھا اور میں اس دیوتا کا ایک جزو بن گیا تھا۔ اس جزو کو ’فنا فی الدیوتا‘ کا نام دیا جا سکتا ہے۔

یہی دیوتا میرے جزو سے کل بن گیا تھا۔ میں نے اس اجنبی دیوتا کو سوچ بخشی، اس کی حس تخلیق کو بیدار کیا، جس کے باعث اس دیوتا نے کائنات تخلیق کر ڈالی۔ اور پھر اپنی اسی خوبیٔ تخلیق سے انسان بھی تخلیق کر ڈالا۔ انسان کی تخلیق ممکن نہیں ہو رہی تھی جب تک میری نمو اس کے اندر نہ بھری جاتی۔ گو کہ میرے بغیر دیوتا خود بھی نامکمل تھا مگر بہر صورت اپنی تخلیقی حس سے مجبور ہو کر مجھے انسان میں منتقل کر دیا۔ اب میرا مسکن انسان کا وجود تھا۔

اب انسان کی ماہیت میرے بغیر نامکمل تھی۔ انسان بہت بے چارہ دکھائی دیتا تھا۔ انسان کی مفلسی دیکھ کر میں اس کے لیے علم بن گیا۔ میں نے خود ہنر بن کر انسان کو ہنر مند بنا دیا۔ میں اس کے لیے تہذیب بن گیا، اسی کے لیے تمدن ہوں، انسان کی ثقافت ہوں، اسی کے لیے ہی ریاست۔

اب جب کہ میرا بسیرا حضرت انسان کی ذات تھی، سو میں نے لامکاں لا زماں ہونے کا تفاخر ترک کر دیا۔ میں نے بلا ماہیت ہونے کا قصد چھوڑ دیا۔ میں نے خود کو تاریخ میں جاوداں کیا۔ تہذیب کو رنگ دیا، سائنس کی افزائش کی اور فنون کو کمال بخشا۔ میں اب وقت بھی ہوں، لا زماں بھی۔ لیکن ایک بات طے ہو گئی کہ مجھ میں پہلے کی سی خوبیاں نہیں رہیں۔ اب میں ہر لمحہ زندگی بھی جیتا ہوں اور موت بھی چکھتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وقاص بلوچ کی دیگر تحریریں