زرعی ملک میں زراعت زوال پذیر کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زراعت کا پاکستان کی معیشت میں ہمیشہ سے نہایت اہم کردار رہا ہے۔ پاکستان کی تقریباً 67 فیصد آبادی براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس شعبے سے منسلک ہے۔ جی ڈی پی میں زراعت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حصہ آج کل 18.3 فیصد ہے، 2016۔ 17 میں تقریباً 18.9 فیصد تھا اور جو تقسیم ہند کے بعد تقریباً 20 سال تک 40 اور 50 فیصد کے درمیان تھی لیکن اس کے بعد باوجود اس کے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس میں زراعت کے شعبے پر توجہ نہیں دی گئی اور یوں جی ڈی پی میں اس کا حصہ کم ہوتا گیا۔

حال ہی میں ختم ہونے والے عشرے میں پاکستان کی جی ڈی پی میں سب سے زیادہ گروتھ ( 4.1 فیصد) سال 2017 میں ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن یہ رفتار زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکی۔ چند ماہ قبل وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکورٹی فخر امام نے کہا تھا کہ تقسیم ہند کے بعد زراعت کا جی ڈی پی میں حصہ 50 فیصد تھا اور اگر ہم آج بھی زراعت کا حصہ جی ڈی پی میں چالیس فیصد تک (جو بہت مشکل ہے، ناممکن ہرگز نہیں ) بڑھائیں تو ہمیں کبھی آئی ایم ایف جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

پاکستان میں تقریباً 5000 انڈسٹریل یونٹس ہیں جن میں سے ساٹھ فیصد ایگرو بیسڈ ہیں۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 33 واں بڑا ملک ہے اور پاکستان میں جو زمین قابل کاشت ہے، وہ تقریباً 28 ملین ہیکٹرز ہے جس میں سے 4 ملین ہیکٹرز ایسی زمین ہے جو قابل کاشت تو ہے لیکن اس پر فصل کاشت نہیں کی جاتی یعنی عام الفاظ میں ضائع ہوتی ہے۔

اسی طرح 7 ملین ہیکٹرز زمین ایسی ہے جو ایک سال کاشت کی جاتی ہے اور ایک سال نہیں یا مطلب مستقل کاشت نہیں ہوتی لیکن ہوتی ضرور ہے۔ زراعت کی ترقی کے لئے ایسی زمینوں کو مستقل طور پر کاشت کیا جانا چاہیے۔ (ذرائع اعداد و شمار: ایگریکلچر سٹیٹس ٹیکس آف پاکستان، 2016۔ 17 )

بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ قابل کاشت زمینوں پر بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھر تعمیر کرتے ہیں جس سے رفتہ رفتہ قابل کاشت زمین کم ہوتی جاتی ہے۔ اسی طرح جو جاگیردار پہلے اپنی زمینوں کی کاشت پر بذات خود توجہ دیتے تھے، آج کل سیاسی معاملات پر ان کی توجہ زیادہ ہے جس کی وجہ سے ان کی زمینوں کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔

میرے نزدیک آبادی میں اضافہ ہرگز مسئلہ نہیں ، اگر آپ کی قوم کے افراد کارآمد ہوں۔ سلطنت عثمانیہ کی کامیابی کا ایک بڑا راز یہ بھی تھا کہ انہوں نے آبادی بڑھانے کے کام کی حوصلہ افزائی کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ سب لوگوں کو کارآمد بنایا۔ ہماری قوم میں تخلیقی صلاحیتوں کی کمی ہرگز نہیں لیکن ان صلاحیتوں کو صحیح جگہ پر صرف نہیں کیا جاتا۔ سبزیوں کے مہنگا ہونے کا رونا رونے کی بجائے کچن گارڈننگ اور ہائیڈرو پونکس جیسی چیزیں سیکھنے پر خاص توجہ دینی چاہیے جو نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی بہت کام آئیں گی۔

زراعت کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بحیثیت قوم ہماری چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے کی عادت ہے۔ مثلاً پاکستان دنیا بھر میں چینی پیدا کرنے والا آٹھواں بڑا ملک ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر چینی پیدا کرنے والے ملک کو جہاں چینی برآمد کرنی چاہیے تھی وہاں ہم اسے درآمد کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں چینی کو سفید زہر کہا جاتا ہے ، وہاں ہماری قوم اس کے بے جا استعمال کی عادی ہے، چائے میں چینی ڈالنے کا تصور بھی سب سے پہلے برصغیر میں شروع ہوا تھا۔

اسی طرح دیگر پھلوں کی بات تو چھوڑیں، پاکستان دنیا بھر میں کجھور (جسے عرب کا پھل سمجھا جاتا ہے ) پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے اور دنیا کی کجھوروں میں سے سات فیصد کجھوریں پاکستان میں پیدا ہوتی ہے، اس کے باوجود ہم دیگر ممالک سے کجھوریں برآمد کرتے ہیں اور انہیں پسند کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اس کی مختلف اقسام کھانی ہوتی ہیں۔ اس طرح کی بے شمار اور بھی مثالیں ہیں لیکن تحریر طویل ہو جائے گی، اس پر ایک الگ کالم لکھا جا سکتا ہے۔

دنیا بھر میں جہاں بہت کم قابل کاشت زمینوں کے حامل ممالک نے جدید ٹیکنالوجی اور سائنس میں ترقی سے اپنی پیداوار کو بڑھایا ہے، وہاں پاکستان اس دوڑ میں بھی بہت پیچھے رہ چکا ہے اور آج تک ہمارے کسانوں نے قدیم طریقوں کو اپنائے رکھا ہے جس سے پیداوار میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں جہاں کسانوں کی اچھی تعلیم اور ان کے زرعی فہم پر توجہ دی جاتی ہے، وہیں پاکستان میں کسانوں کی اکثریت ان پڑھ اور جدید ٹیکنالوجی اور نئے طریقوں سے ناآشنا ہے۔

چند دن پہلے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اسرائیل سے تعلقات بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا بہترین رہے گا کیونکہ اسرائیل پاکستان کو زراعت کی ترقی کے لئے جدید ٹیکنالوجی فراہم کرے گا اور پاکستان اس شعبے میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ ایسے نازک معاملے پر یہ بات کرنا یقیناً زراعت کی کسی ملک کی ترقی میں افادیت ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔

کرپشن اس ملک کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت اور آفت ہے۔ دوسرے شعبوں کی طرح زراعت کا محکمہ بھی کرپشن سے خالی نہیں ۔ یہاں ایک صوبے میں کئی ہزار ٹن کے گندم کی قیمت اڑا کر الزام بے زبان چوہوں پر لگا دیا جاتا ہے۔ کارخانہ دار طبقہ اور جاگیردار طبقہ اس ملک پر بڑے عرصے تک حکومت کرتا رہا ہے اور دونوں طبقوں سے وابستہ لوگوں نے بڑے پیمانے پر خرد برد کر کے ملک کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا ہے۔ برسر اقتدار حکومت کی جماعت کے کئی ارکان پر چینی چوری کا الزام ہے۔

پہلی حکومتوں کی طرح من پسند لوگوں کو ٹھیکے دینے کی روایت اب بھی برقرار ہے۔ اب بھی سندھ کے اندر گندم چوری اور ذخیرہ اندوزی کی خبریں گرم ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جہاں ہم کبھی گندم اور چینی میں خود کفیل ہوا کرتے تھے، اب ہمیں یہ دونوں چیزیں درآمد کرنی پڑ رہی ہیں جس کا بوجھ قومی خزانہ برداشت کرتا ہے اور یوں ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی مستحکم یا خراب معیشت میں زراعت کے شعبے کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ملک بھر میں زرعی جامعات کی تعداد بہت کم ہے۔ پنجاب میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور خیبر پختونخوا میں جامعہ زرعیہ پشاور کا شمار زراعت کی تعلیم کے حوالے سے بڑی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے، اس کے علاوہ دونوں صوبوں میں زرعی تعلیم حاصل کرنے کے لئے کوئی قابل قدر یونیورسٹی نہیں، دیگر صوبوں کا مجھے علم نہیں۔

زراعت کی ترقی کے لئے زرعی جامعات کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، ریسرچ کے کام کو بہتر بنانا چاہیے اور ایک زرعی ملک میں ہونے کی وجہ سے انہیں عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ خاکم بدہن! میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پاکستان میں اچھے زرعی ادارے نہیں لیکن ایک زرعی ملک کے لیے یہ اچھے ادارے ناکافی ہیں اور انہیں جدید آلات سے لیس کرنا اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس وقت سرپلس میں تبدیل ہوتا ہے جب ملک کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی درآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے زیادہ ہو، یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب آپ بہترین اور معیاری چیزیں پیدا کر رہے ہوں، آپ کے کارخانے چل رہے ہوں اور آپ کو مارکیٹنگ کے اچھے طریقے آتے ہوں۔ ہمارے ہاں معیاری اشیاء پیدا کرنے والوں کی کمی نہیں لیکن نہ تو کارخانوں کو حکومت کی اچھی سپورٹ حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی ہمارے لوگوں کو مارکیٹنگ اسکلز سکھائے جاتے ہیں۔

ای۔ کامرس جہاں دنیا بھر ایک تیزی سے پھیلنے والی انڈسٹری ہے، ہمارے ہاں کے بہت بڑے تاجر اس سے تقریباً لاعلم ہیں یا پھر اب تک آزمانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو رہے۔ جن کارخانوں کا ذکر ہوا ان میں ساٹھ فیصد ایگرو بیسڈ ہیں یعنی ان کا انحصار زراعت پر ہے، مثلاً شوگر انڈسٹری، کھاد بنانے کے کارخانے، جراثیم کش دواؤں کے کارخانے، تمام فوڈ انڈسٹریز اور ملک کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل انڈسٹری۔

کپاس پیدا کرنے کے حوالے سے پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے اور اسے پاکستانی معیشت کی لائف لائن کہا جاتا ہے۔ ان سارے کارخانوں کو حکومتی سرپرستی اور امداد کی ضرورت ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب آپ گراس روٹ لیول سے زرعی پیداوار بڑھانے اور ملک میں اچھی زرعی تعلیم دینے کے مواقع پیدا کریں۔

پاکستان دنیا بھر میں ویجیٹبل آئل خریدنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ جن فصلوں سے تیل حاصل ہوتا ہے، یہ نہیں ہے کہ پاکستان میں وہ فصلیں پیدا نہیں ہوتیں یا ان کے لئے یہاں کا موسم سازگار نہیں ، اس کی بڑی وجہ کارخانوں کی خرابی ہے جہاں آئل ایکسٹریکشن کے لیے موجود مشینری یا تو ناقص ہے اور یا میسر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تیلوں کی  70 فی صد ضروریات درآمدات سے پوری ہوتی ہیں جنہیں تھوڑی سی توجہ دینے سے چند سالوں میں پچاس فیصد تک لایا جا سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ اگر حکومت معیشت کو سنبھالا دینے میں سنجیدہ ہے تو زرعی تعلیم کے ساتھ ایگرو بیسڈ انڈسٹریز کو اچھی طرح سے فعال بنانے پر توجہ دے۔ عوام کی آگہی کے لیے چھوٹے چھوٹے زرعی یونٹس قائم کرے اور ان کو کچن گارڈننگ جیسے طریقوں سے آگاہ کرے۔ ایگریکلچر ایکسٹینشن کے ڈیپارٹمنٹ کا ازسر نو جائزہ لے کر اسے مزید فعال بنائے، ورنہ ہم بہت جلد ان ممالک سے بھی پیچھے رہ جائیں گے جن کے پاس زرعی زمینیں پاکستان کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

(اس تحریر میں موجود اعداد و شمار میں سے اکثر جامعہ زرعیہ پشاور کے شعبہ ایگرانومی سے تعلق رکھنے والے مدرسین ڈاکٹر انعام اللہ اور ڈاکٹر اسد علی خان کی کتاب ”ایگریکلچر دی بیسکس“ سے لئے گئے ہیں جو 2019 میں شائع ہوئی)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد عمر حقدار کی دیگر تحریریں