مساج سنٹر اور بھتہ خور صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” جانتے نہیں ہو ہمیں، ڈھائی لاکھ روپے کا کل تک بندوبست کرو ورنہ تمارا حال بد حال کر دیں گے، ایس پی، ڈی سی اور ایس ایچ او کا بھی حصہ ہے اس میں“

اگر آپ اسے سلطان راہی کی کسی پر تشدد فلم کا ڈائیلاگ سمجھ رہے ہیں تو یقیناً یہ آپ کی معصومیت ہے کیونکہ یہ سب کچھ غنڈا نما نام نہاد صحافی حضرات ایک مساج سنٹر کی ویڈیو بنا کے اسے دھمکا رہے تھے، ایسے واقعات روزانہ کی بنیاد پر رونما ہو رہے تھے لہذا ہم نے بھی اس کی تحقیق کا فیصلہ کیا کیونکہ لٹیرے کچھ چینلز کا نام بھی استعمال کر رہے تھے۔ مساج سنٹر چلانے والوں نے ڈکیت نما بھتہ خور صحافیوں کو پہلی قسط میں پچاس ہزار دینے کا فیصلہ کیا، اور رقم وصولی کے لیے ایف ٹین مرکز میں تشریف لائے۔

کیونکہ معاملہ حساس نوعیت کا تھا اور اسلحہ کی موجودگی کی اطلاع پر ہم نے متعلقہ پولیس حکام کو بھی سارے کیس سے آگاہ کیا، خیر بد دلی سے تھانہ شالیمار کی پولیس پہنچی، جب صحافی حضرات قریب پہنچے تو پولیس پتلی گلی سے چلتی بنی، معاملہ اعلی حکام کے نوٹس میں دیا اس کے باوجود محافظوں کا چال چلن رہزنوں کی وکالت کی روداد سنا رہا تھا۔

خیر مبینہ طور پولیس اور انتظامیہ کے اعلی افسران کے حصے کا پرچار کرنے والے گھس بھیڑیئے دیدہ دلیری سے ایف ٹین مرکز مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے، موقع پر رقم پکڑے شخص کو انہوں نے ہمارے سامنے اپنی گاڑی میں ڈالا اور وہاں سے غائب ہو گئے اسی دوران ہم لوگوں نے چند لمحے پولیس کا انتظار تو کیا لیکن بعد میں ان کا تعاقب شروع کر دیا تو مرکز کی دوسری طرف پیسے وصول کر کے وہ حضرات گاڑی نکال ہی رہے تھے کہ ہمارے دوست یاسر ملک نے ان کی گاڑی کو روک لیا، پچاس ہزار روپے بر آمد ہو چکے تھے، ملزمان کو ہم نے قابو کیا ہوا تھا خیر دلچسپ بات یہ کہ وہ تو پکڑے گئے تاہم ان کی گرفتاری کے لیے آنے والی پولیس کو ڈھونڈنا اب ہمارا اگلا ہدف تھا، خیر ایک سپر سٹور کے سامنے محافظ صاحب سکون سے چاکلیٹ کے مزے لیتے پائے گئے۔

مظلوم کے خلاف جھٹ پٹ ایکشن کرنے والی پولیس رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے لٹیروں کی تصاویر بنانے سے بھی لوگوں کو روک رہی تھی، پولیس کا یہ رویہ انتہائی شرمناک تھا، ملزمان کو تمام تر ثبوتوں کے ہمراہ تھانہ شالیمار منتقل کیا گیا۔

پولیس کے اس رویئے سے زیادہ اس سارے مرحلے میں پریس کلب کا کردار انتہائی افسوس ناک رہا، ہم نے فوری طور پر قدرے اچھی شہرت کے مالک صدر پریس کلب شکیل انجم کو بھی آگاہ کیا جس پر حکومتی وعدوں کی طرح ایکشن لینے کا وعدہ تا دم تحریر لولی پاپ ہی لگ رہا ہے، حالانکہ انہیں متعلقہ لوگوں کی ممبر شپ فوری کینسل کرنی چاہیے تھی تاہم شاید وہ اپنے ووٹ کم نہیں کرنا چاہتے۔

دوستو یہ کوئی ایک واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی ایسے گروہ تیل ایجنسیوں سے لے کر شیشہ سنٹرز تک چلانے کا ماہانہ بھتہ وصول کرتے ہیں۔ شیشے سے لے کر مساج سنٹرز تک 80 فیصد شہر کے مبینہ کرائم رپورٹرز ملوث ہیں. یہ سب سے پہلے غیر قانونی معاملات کی ویڈیوز بناتے ہیں اس کے بعد بجائے کارروائی کے ان سے بھتے کی وصولی کی جاتی ہے بلکہ آج کل تو شہر میں ایسے غیر اخلاقی سنٹرز بنا کر صحافیوں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔

پاکستان کی صحافت کو ایسی کالی بھیڑوں سے زیادہ کسی سے خطرہ نہیں ہو سکتا۔ کل کے واقعہ نے پریس کلب، پولیس، انتطامیہ اور شہر کے نام نہاد کرائم رپورٹرز کو بری طرح چھلنی کر دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹویٹر پر متحرک یہ ادارے ایسی سرگرمیوں پر کیا ایکشن لیتے ہیں۔

تحریر کا اختتام زرد صحافت کو بے نقاب کرتی ایک انگریزی قول سے بہتر کچھ اور نہیں ہو سکتا

”The pen has always been mightier than the sword but sadly in today’s journalism the ink is sponsored.“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •