پنجاب میں ایک نہیں دو تبدیلیوں کا امکان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ساہیوال کے اکثر لوگوں کی طرح میں بھی حیران ہوا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار تین دن مسلسل شہر میں بیٹھے رہے‘ انہوں نے کئی اعلیٰ افسران کو اپنے پھوپھا تیمور کے گھر بلا کر میٹنگ کی۔ ساہیوال میں کئی ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا اور ایک ہی سڑک کا پچھلے دو سال میں تین بار افتتاح کیا ہے۔ یہ حیرانی اور بڑھ جاتی ہے جب پتہ چلتا ہے کہ گورنر پنجاب چودھری سرور ہفتے میں دو دن ساہیوال میں گزار رہے ہیں۔میں ان کے تعاقب میں ساہیوال جا پہنچا جہاں معاملات ایک نئے ڈھب پر دیکھے۔

چودھری سرور مقامی سیاست میں ستون کی حیثیت رکھنے والے رائے حسن نواز‘ چودھری زاہد اور وسیم رامے کے ذریعے گھر گھر رابطہ کر رہے ہیں۔ خاندان اور برادریوں کے سربراہوں سے مل رہے ہیں۔ یہ سب کسی انتخابی تیاری جیسا ہے لیکن یہاں کوئی ضمنی انتخاب نہیں ہورہا‘ الیکشن کے لیے 2023ء کا انتظار کرنا پڑے گا۔ پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے۔ این اے 148 ہڑپہ اور کمیر کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے چودھری اشرف ایم این اے منتخب ہوئے جبکہ ان کے نیچے کی دونوں صوبائی نشستوں پر بھی مسلم لیگ ن کے ملک ارشد اور نوید اسلم لودھی رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔

ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے ڈھکو اور کاٹھیا برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار کھڑے کئے۔ حلقے میں آرائیں برادری کا ووٹ سب سے بڑا ہے لیکن تحریک انصاف کے تمام امیدوار غیر آرائیں ہونے کی وجہ سے چودھری اشرف برادری کا ووٹ لے گئے۔ ان کی جیت کا مارجن چالیس ہزار سے زائد ووٹ تھے۔ یہ ایک بڑا فرق ہے جسے صرف جماعت کی بنیاد پر ووٹ حاصل کر کے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

چودھری سرور تیزی سے اپنی ٹیم بنا رہے ہیں۔ آرائیں ہونے کی وجہ سے وہ برادری کے بڑے دھڑوں کی حمایت حاصل کر رہے ہیں۔ لوگوں کے بہت سے کام ہورہے ہیں۔ اس حلقے میں کروڑوں کے ترقیاتی منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ حلقہ آدھا ملتان روڈ کے دائیں طرف اور آدھا بائیں جانب ہے۔ دونوں حصے ایک ریلوے پھاٹک کے ذریعے ملتے ہیں۔ اس پھاٹک پر رش کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے تھے۔ حکومت نے اوور ہیڈ برج کی تعمیر شروع کردی ہے۔ کئی جگہ واٹر فلٹر پلانٹ لگ رہے ہیں۔ سڑکوں کی مرمت اور تعمیر کا کام ہورہا ہے۔

چودھری سرور کے مقامی ساتھیوں میں چودھری زاہد بہت بڑے سیڈ بزنس کے مالک ہیں۔ وہ ہڑپہ میں اپنی جیب سے ڈائیلسز مشین نصب کروا چکے ہیں۔ چودھری زاہد آرائیں ہیں اور اوور سیز کمیشن ساہیوال کے ضلعی صدر بھی۔ اوورسیز کمیشن پنجاب کے چیئرمین وسیم رامے ساہیوال سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی املاک پر قبضوں کے خاتمہ اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ بظاہر یہ عجیب بات ہے کہ عام انتخابات سے دو ڈھائی سال پہلے ایک ایسا حلقہ پی ٹی آئی کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے جہاں اسے جیتنے کے لیے پچاس ہزار ووٹ مزید لینا ہوں گے۔

رائے حسن نواز کا ووٹ بینک ہے۔ ان کے ووٹ بینک کی وجہ سے سید صمصام بخاری نے رینالہ کی بجائے ساہیوال کے نواح والے صوبائی حلقے سے الیکشن جیتا۔ صمصام بخاری اس وقت پنجاب کابینہ میں شامل ہیں۔چودھری سرور بھی رائے حسن نواز پر انحصار کر رہے ہیں۔ چودھری سرور نے اپنے آبائی علاقے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انتخابی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں۔ ان کا ہوم ورک بتاتا ہے کہ وہ مرکز میں کوئی اہم ذمہ داری نبھانے کے آرزو مند ہیں۔ چودھری سرور گورنر ہیں‘ آئین کی رو سے گورنری چھوڑنے کے دو سال سے پہلے وہ کسسی انتخابی عمل میں بطور امیدوار شریک نہیں ہو سکتے۔

ہڑپہ سے ان کے الیکشن لڑنے کی خبر کو درست مان لیا جائے تو پھر اس بات کا امکان موجود ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں چودھری سرور گورنر شپ سے سبکدوش ہوسکتے ہیں۔ ایسا ہوا تو نئے گورنر کی تعیناتی ہوگی۔ نیا گورنر پی ٹی آئی سے لیا جاتا ہے یا اتحادیوں کی دلجوئی کا سامان ہوتا ہے یہ معاملات دلچسپی کا باعث ہوں گے۔ طیور اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہیں۔ کچھ لوگ بڑی تبدیلیوں کی خبر دے رہے ہیں۔ اپوزیشن ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے گریزاں ہے‘ اسے معلوم ہے کہ یہ سب حکومت کا داخلی انتظام ہے۔ اپوزیشن کو کہیں سے حصہ ملنے کی امید نہیں۔

تونسہ اور ساہیوال میں کہانیوں کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں۔ ان ٹکڑوں سے تحریک انصاف کے پائوں زخمی ہو سکتے ہیں۔ ساہیوال میں تو پی ٹی آئی کارکن اور مقامی ذمہ دار نالاں دکھائی دیتے ہیں کہ انتظامی مشینری انہیں اجنبی سمجھتی ہے اور دو تین حویلیوں کے پھیرے لگا کر نوکری پکی کر رہی ہے۔ یہ سوال تو اب بھی تشنہء جواب ہے کہ آخر گورنر اور وزیر اعلیٰ بیک وقت ساہیوال پر کیوں مہربان ہو رہے ہیں ،پنجاب میں ایک تبدیلی آنے کی اطلاعات کونوں کھدروں سے باہر آ چکی ہیں ،دوسری تبدیلی آثار سے ظاہر ہو رہی ہے ۔

ایک انتخابی حکمت عملی کو بروئے کار لانے کے اشارے ہیں،فرض کیجیئے ایک آرڈیننس کے ذریعے جنوبی پنجاب کو عبوری صوبہ بنا دیا جاتا ہے تو عثمان بزدار کو وہاں بھیجا جا سکتا ہے۔دوسرا یہ کہ ان تمام انتخابی حلقوں پر توجہ دی جائے جہاں سے ن لیگ بھاری مارجن سے جیتی اس سے آئندہ انتخابات کی تصویر میں نئے رنگ ابھر سکتے ہیں۔تحریک انصاف نے اگر انتخابی تیاری شروع کر دی ہے تو پھر تین سال سے رکے ترقیاتی فنڈز کا منہ بھی کھولنا پڑے گا۔ ایک نقشہ بنا کر دیکھئے‘ اس نقشے میں کردار اور چہرے بدل دئیے جائیں‘ اختیارات گورنر‘ وزیراعلیٰ اور سپیکر میں تقسیم کرنے کی بجائے ایک ہی شخص کو بااختیار بنا کر پنجاب اس کے سپرد کردیا جائے تو کیسا لگے گا؟

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •