ہم، ہسپتال، ڈاکٹرز اورٹاکا یاسو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم جس ملک میں رہتے ہیں ،یہاں صرف اقتدار کی کشمکش کی کہانیاں زبانِ زدِعام ہیں۔یہاں طاقت کی راہداریوں میں توازن اور عدم توازن کا معاملہ ہی زندگی کی اصل تصور کیا جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ چیزیں خرابی کی طرف جانا شروع ہوچکی ہیں،جو اس حد تک خراب ہوچکی ہیں کہ ٹاکا یاسو بن چکی ہیں۔

طبی لحاظ سے ٹاکا یاسو ،شریانوں کی سوزش کی بیماری ہے۔یہ سوزش چھوٹی اور درمیانے درجے کی خون کی رگوں کونقصان پہنچاتی ہے۔یہ اُن رگوں کوزیادہ متاثرکرتی ہے جو دماغ کو خون اور آکسیجن مہیا کرتی ہیں ،جو گردن سے ہو کر گزرتی ہیں۔علاوہ ازیں یہ بیماری اُن شریانوں کو جو دل ،آنتوں ،گردوں اور ٹانگوں میں خون کی روانی مہیاکرتی ہیں ،کو متاثر کرتی ہے۔اس سے شریانیں تنگ ہوسکتی ہیں اور مکمل طورپر بلاک بھی ہوسکتی ہیں۔

یہ بیماری زیادہ تر خواتین کو متاثرکرتی ہے ،تحقیق کے مطابق ایسی عورتیں ایشیاء میں زیادہ پائی جاتی ہیں،جن کی عمریں پندرہ سے پینتیس برس ہوتی ہیں۔اس بیماری کی کئی علامات اور مراحل ہیں۔ایک اہم علامت ہائی بلڈ پریشر ہوتا ہے ،جو عام بلڈ پریشر ادویات سے بھی قابو نہیں ہورہا ہوتا۔یہ بیماری کیسے پیدا ہوتی ہے ؟یہ ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوسکا۔

مَیں نے اس بیماری کا نام کچھ دِن ہوئے سُنا۔البتہ اس بیماری کے نام کا جو حصہ ’’یاسو‘‘کہلاتا ہے ،اس سے جزوی طورپر واقف تھا۔جاپان کے ایک ناول نگار کا نام یاسوناری کاواباتا ہے۔اِن کا ایک ناول جو نوبیل انعام کا حق دار ٹھہراتھا،اُردو زبان میں ’’پہاڑ کی آواز‘‘کے عنوان سے شائع ہواتھا،مَیں نے دوہزار چھ میں پڑھا تھا،یہ میرا آج بھی پسندیدہ ناول ہے۔یہ ناول اُردو کے ادیبوں اور قارئین کو ضرور پڑھنا چاہیے تاکہ اُن کو معلوم پڑے کہ بڑاادب کس چیز کو کہتے ہیںاوربڑا ادیب زندگی کے عام معمولات کو کیسے غیر معمولی انداز سے دیکھ سکتا ہے اور اُس کی وضاحت کرسکتا ہے۔

یہ عظیم ناول نگار اَٹھارہ سونناوے میں پیدا ہوتا ہے اور اُنیس سوباہتر میں وفات پاجاتا ہے ،جب یہ نوبیل انعام پاتا ہے توسن اُنیس سواَڑسٹھ کا ہوتا ہے اور یہ اعزاز پانے والا وہ جاپان کا پہلا ناول نگار بن جاتا ہے۔اسی طرح ٹاکایاسو ایک جاپانی ڈاکٹر تھے جنہوں نے خون کی شریانوں میں سوزش پیداکردینے والی بیماری جو کہ شریانوں کو تنگ اور بلاک کرسکتی ہے ،اُنیس سوآٹھ میں دریافت کی۔ جیسا کہ اُوپر کہیں کہہ چکا ہوں کہ مَیں نے اس بیماری کا نام کچھ دِن ہوئے سُنا۔

میری وائف اس بیماری میں مبتلا ہیں ،مگر ہمیں یہ لگ بھگ آٹھ برس مسلسل ڈاکٹرز کو چیک کروانے اور کئی ہسپتالوں میں دھکے کھانے ،متعدد ٹیسٹ کروانے اور لاکھوں روپے خرچ کروانے کے بعد معلوم ہوسکا۔لیکن اس دوران نقصان یہ ہوا کہ اس بیماری نے بیگم کے ایک گردے کی شریانوں کو بند کردیا اور گردن کی دائیں شریان کو جو دماغ کو خون لے کر جاتی ہے ،بھی مکمل بند کردیاہے ،جن کو کھولنے کا اب کوئی علاج نہیں۔اس دوران مجھے جو تجربات ہوئے ،وہ بہت حیران کن ہیں۔

سرکاری ہسپتالوں میں ،سہولیات زیادہ ہیں ،ڈاکٹرز بھی زیادہ اچھے ہیں ،جب کہ نجی ہسپتالوں میں جو اچھے ڈاکٹرز ہوتے ہیں ،وہ بھی زیادہ تر وہ ہوتے ہیں جو سرکاری ہسپتالوں میںجاب کررہے ہوتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے روّیے مجموعی طور پر بہتر ہوتے ہیں ،لیکن دیگر سٹاف جس میں نرسز بھی آتی ہیں،سخت مزاج ہوتی ہیں،نجی ہسپتالوں میں یہ سٹاف بہت حلیم طبیعت کا محسوس ہوتا ہے۔تاہم اِس عرصہ میں میرا ایمان سرکاری اداروں پر بڑھا ہے۔اگر اِن کے طریقہ کارکو جدید کردیا جائے تو اِن کی کارکردگی بڑھ جائے گی۔

مَیں یہاں ایک مثال راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی دینا چاہوں گا،جس کا طریقہ کار ایک حد تک پورا جدید ہے۔یہاں مریض ٹوکن لیتا ہے ،پھر ایک کارڈ بنواتا ہے ،یہ کارڈ لائف ٹائم کے لیے ہوتا ہے۔اس کارڈ کو سنبھال کررکھا جائے ،جب بھی کبھی کوئی مریض ہسپتال آئے ،ڈاکٹر ز کو چیک کرواتے وقت کارڈ دکھائے تو مریض کا گذشتہ ڈیٹا ڈاکٹر کے سامنے پڑے کمپیوٹر کی سکرین پر آجاتا ہے۔یہاں کسی بھی اہم معالج کو چیک کروانے کی فیس نہیں ہے۔

البتہ این جیوگرافی ،سٹنٹ ،یا بائی پاس کروایا جائے تو اس کی فیس ہوتی ہے ،لیکن ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر انجم جلال کی جانب سے پینافلیکس پر ایک پیغام درج ہے کہ یہاں ایمرجنسی کی صورت میں این جیوگرافی مفت کی جاتی ہے اور سٹنٹ بھی مفت ڈالے جاتے ہیں ،لہٰذا جو مخیر حضرات ہیں ،وہ اس ضمن میں مددفراہم کرسکتے ہیں۔

ہمیں آٹھ سال دھکے کھانے کے بعد یہاں کے ایک معالج ڈاکٹر عاصم جاوید کے توسط سے معلوم پڑا کہ ہماری بیماری کون سی ہے۔ایسے اداروں اور ایسے معالجین کی یہاں اشد ضرورت ہے۔لیکن ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی توجہ ایک مسئلے کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں۔یہاں کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف بہت ہی حلیم اور فرض شناس ہے ،مگر جو دیگر عملہ ہے ،وہ ہر وقت پیسے بٹورنے میں لگا رہتا ہے ،میری وائف کو جس وقت این جیوگرافی کے لیے لے جایا گیا اور جب واپس لایاگیا تو اُس وقت سکیورٹی گارڈ ،صفائی کرنے والے ،مجھے سے لگ بھگ ایک ہزار بٹور چکے تھے،یہ پیسے اُنھوں نے زبردستی کی دُعائوں کی صورت مجھ سے لیے۔

یہ عملہ سرپر کھڑا ہوجاتا تھا ۔کوئی کہتا کہ این جیوگرافی بہت اچھی ہوگئی ہے ،میرے چھوٹے بچے ہیں ،کوئی کہتا کہ خدا کا شکر ہے سٹنٹ نہیں پڑے اور میرے چھوٹ بچے ہیں۔ ایک گارڈ کو ،مَیں نے ایک روپیہ بھی نہ دیا،لیکن جب ڈسچارج سلپ لے کر باہر آنے لگا تو وہ دروازے پرکھڑا ہوگیا اور زبردستی دوسوروپے لے کر وہاں سے ٹلا۔

آخر میں ایک مسئلہ حکمرانوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اپنی لڑائیوں سے فرصت پائیں تو اس جانب توجہ فرمائیں،مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کسی بھی ٹیسٹ کی کوئی فیس متعین نہیں ہے ،جو لیب جتنی چاہے ،آپ سے ٹیسٹ کی فیس وصول کرلے۔کسی بھی ٹیسٹ کی فیس کتنی ہوتی ہے؟اس بارے مریض کو کچھ معلوم نہیں ہوتا۔یہاں ایک سوروپے کی ای سی جی بھی ہوجاتی ہے اور ایک ہزار روپے کی بھی۔خدا کے لیے نظام کو بچایا جائے ،اس سے پہلے کہ ٹاکا یاسو نظام کی ہر شریان کو بلاک کردے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •