ملک کا سیاسی مولا جٹ اور سچائی کا گنڈاسا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

براڈ شیٹ کی تحقیقات کے لئے پانچ رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان بالآخر یک رکنی کمیشن میں تبدیل ہو گیا اور کابینہ کے فیصلہ کے مطابق جسٹس (ر) عظمت سعید پر مشتمل اس ایک رکنی کمیشن کو وسیع اختیارات اور ہائی کورٹ کا پروٹوکول حاصل ہوگا۔ یعنی کمیشن کے طریقہ کار اور اس کے سربراہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو ’توہین عدالت‘ کے الزام میں سزا دی جاسکے گی۔

آج ہی مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے عظمت سعید سے اس کمیشن کی سربراہی قبول نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق جج از خود اس نئے عہدے سے دست بردار نہ ہوئے تو ان کی پارٹی نیب پراسیکیوٹر کے طور پر اس اسکینڈل میں ان کا کچا چٹھا عوام کے سامنے لے آئے گی۔ مسلم لیگ (ن) نے جسٹس (ر) عظمت سعید کا نام سامنے آتے ہی اس کی مخالفت کی تھی اور اس کا دعویٰ ہے کہ سابق جج نیب کے علاوہ شوکت خانم ہسپتال کے بور ڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف مقدمات قائم کرنے میں بھی ملوث تھے۔ اس طرح ان سے کسی غیرجانبداری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ عظمت سعید سپریم کورٹ کے اس پاناما بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تھا۔ اس لئے مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کا واویلا اور وفاقی وزرا کی خوشی قابل فہم ہے۔ مریم نواز کو سمجھنا ہوگا کہ معاملہ سچائی کا نہیں قومی مفاد کا ہے۔

یہ کہنا تو قبل از وقت ہے کہ جسٹس (ر) عظمت سعید جب براڈ شیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کا آغاز کریں گے تو بطور انکوائری کمیشن و چیئرمین، وہ مریم نواز اور دیگر لوگوں کے تند و تیز بیانات کا نوٹس پہلے لیں گے یا ان ساٹھ پینسٹھ ملین ڈالرز کے ناجائز مصرف کے بارے میں قوم کو آگاہ کریں گے جو براڈ شیٹ کے ذریعے ملکی دولت چوری کرنے والوں کا سراغ لگانے کی خواہش اور پھر یہ خواب ٹوٹنے کے طویل عمل میں ضائع کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اگر براڈ شیٹ کیس اور اس کے موجودہ یا حقیقی مالکان کو خطیر رقم کی ادائیگی اور اس کے بعد شروع کی گئی پر تاثیر بحث پر غور کیا جائے تو عظمت سعید کا اصل کام درحقیقت ان ’چوروں‘ کو پکڑنا ہوگا جن کا سراغ لگانے کے لئے پرویز مشرف کے دور میں براڈ شیٹ سے معاہدہ کیا گیا تھا لیکن باہمی تنازعہ میں یہ کام بیچ میں ہی رہ گیا۔ اسی لئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے عظمت سعید کی نامزدگی پر اپوزیشن کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ مریم نواز کی اصل پریشانی یہ ہے کہ جسٹس عظمت سعید نے پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد۔ 10 کا مطالعہ کیا ہوا ہے۔

اس ملک میں اصل حقائق کو ہمیشہ عام آدمی کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جاتا ہے کیوں کہ یہ یقین کر لیا گیا ہے کہ سچائی سامنے آنے پر یا تو عوام اس صدمہ کو برداشت نہیں کرسکیں گے اور نڈھال ہوجائیں گے یا یہ کہ ان کا غصہ حکمرانوں پر بھاری پڑے گا۔ وجہ کچھ بھی ہو پاکستان میں نظام حکمرانی کا بنیادی اصول اخفائے راز ہے۔ اسی اصول کی وجہ سے پاناما کیس یا اس میں قائم کی گئی جے آئی ٹی رپورٹ کی تکہ بوٹی مباحث، سیاسی بیان بازی اور ٹاک شوز کے ذریعے کی جاتی رہی ہے لیکن جلد۔ 10 کی مقدس پراسراریت کا پردہ بہر حال قائم ہے تاکہ بوقت ضرورت شیخ رشید جیسے کہنہ مشق سیاست دانوں اور حکومتی نمائندوں کے بیانات کو قابل بھروسا بنا سکے۔ حالانکہ عمران خان نے وزیر اعظم بننے سے پہلے اور اڑھائی سالہ دور حکومت میں اپنے سیاسی مخالفین اور خاص طور سے نواز شریف کی کردار کشی کے لئے کون سی حد عبور نہیں کی۔ ان کے طاقت ور رابطوں کا سلسلہ اس وقت بھی دراز تھا جب میمو گیٹ اسکینڈل کیس کے آغاز میں ہی انہوں نے حسین حقانی کو اصل قصور وار ٹھہرا دیا تھا، عدالتیں تو بہت بعد اس معاملے کی تہ تک پہنچیں اور یہ مقدمہ لغو قرار دے کر داخل دفتر کیا گیا۔ حیرت ہے کہ پانامہ کی جلد۔ 10 میں ایسی کون سی معلومات ہیں جنہیں الزامات کی صورت میں پہلے ہی عام نہیں کیا جا چکا۔

براڈ شیٹ کیس کی تحقیقات اور اس پر مریم نواز کے اعتراضات کو جانچنے کے لئے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جسٹس عظمت سعید کی قیادت میں بننے والا کمیشن اس بات کا سراغ لگائے گا کہ گزشتہ ماہ اچانک کیسے پاکستانی ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے 29 ملین ڈالر براڈ شیٹ کو ادا ہو گئے یا یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ رقم برطانیہ منتقل کیوں کی گئی تھی۔ یا اس کے مینڈیٹ میں یہ بات شامل کی جائے گی کہ نیب نے یہ ادائیگی تاخیر سے کیوں کی؟ یا اس کا کام یہ پتہ لگانا ہوگا کہ پرویز مشرف کے دور میں نیب نے کس بنیاد یا میرٹ پر براڈ شیٹ کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کیا تھا جس سے نکلنے کے لئے اسے ہرجانہ اور وکیلوں کی فیس کے طور پر اربوں روپے صرف کرنا پڑے۔ اس کے باوجود اب تک کوئی یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ نیب اور پاکستان کی جان اس ’کمبل‘ سے چھوٹ گئی ہے۔ اس کمپنی کی صلاحیت اور اثاثے تلاش کرنے کے تجربہ کے بارے میں اس سے زیادہ ثبوت ابھی پاکستانی عوام کے سامنے نہیں آ سکا کہ اس نے برطانوی نظام عدل کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے احتساب بیورو سے ساڑھے چار ارب روپے وصول کرلئے اور ابھی مزید کا مطالبہ جاری ہے۔

جسٹس عظمت سعید کے تجربہ اور بصیرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دراصل نواز شریف کی لوٹ مار کا سراغ لگانے کی ایک نئی کوشش کا آغاز کیا جائے گا۔ براڈ شیٹ کا نام تو محض اصل مقصد کا پردہ رکھنے کے لئے، استعمال کرنا مقصود ہے۔ یعنی پاکستانی عوام اس زر کثیر کو بھول جائیں جو حکومتوں کے تعصب اور اہلکاروں کی نا اہلی یا لالچ کی وجہ سے اب تک اس مد میں صرف کیا جا چکا ہے۔ حکومت کی گرمجوشی اور مسلم لیگ (ن) کی پریشانی کے تناظر میں دیکھا جائے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ حکومت کے نزدیک براڈ شیٹ سے معاہدہ اور اس سلسلہ میں ہونے والی غلطیاں سامنے لانا ’وقت کا ضیاع‘ ہوگا۔ البتہ اگر اس بہانے سے نواز شریف کے گرد گھیرا تنگ کیا جاسکے تو عمران خان کا ایک نکاتی سیاسی ایجنڈا بھی پورا ہو سکتا ہے، فوجی قیادت پر کھلے عام نام لے کر الزام تراشی کا جواب بھی دیا جاسکتا ہے اور ملک میں ایک محبوب شفاف حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے اٹھنے والے نت نئے سوالات کو جواب دیے بغیر خاموش کروایا جاسکتا ہے۔ گویا ایک پنتھ کئی کاج والا معاملہ ہو سکتا ہے۔ ان مقاصد کی تکمیل کے لئے جسٹس (ر) عظمت سعید سے زیادہ موثر اور قابل بھروسا بھلا اور کون ہوگا۔

یہ انکوائری جوں جوں آگے بڑھے گی اور سرکاری ترجمان اور ’سچی و اصلی‘ خبروں کا متلاشی قومی مفاد کا خیر خواہ میڈیا، ان معلومات کو عام کر کے عوام کے ان زخموں پر مرہم رکھ سکے گا جو براڈ شیٹ اسکینڈل کی وجہ سے ان کے دلوں پر لگے ہیں۔ یہ امید بھی کی جا سکتی ہے کہ اس ہنگامے میں ایک طرف عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی پریشانیاں بھول کر حکومت اور فوج کے خلوص پر پھر سے ایمان لے آئیں اور پاکستان جمہوری تحریک کے نام سے شروع ہونے والے احتجاج کا تمت بالخیر ہو جائے۔ تب ہی عوام کو یقین دلایا جاسکے گا کہ ’ووٹ کی عزت‘ کوئی چیز نہیں، اصل شے خلوص نیت ہے۔ یہ خلوص ملک کے صرف ایک ہی ادارے میں پایا جاتا ہے یا پھر اس مقدس ادارے کے نامزدگان میں اس کی رمق محسوس کی جا سکتی ہے۔ باقی سب تو پنجاب کے مولاجٹ کے مقابلے میں چھان بورا ہی ہوتا ہے۔

’مولا جٹ‘ کی دہشت اور راست گوئی کی کئی نسلیں گواہ ہیں۔ اب پاکستان میں ایک سیاسی مولا جٹ کا کامیاب تجربہ کیا جا رہا ہے۔ اسی لئے ملک بھر کے ’نوری نت‘ پی ڈی ایم کے نام سے قائم کیے گئے اتحاد کے ذریعے سچائی کی اس قوت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ شبلی فراز کی قیادت میں حکومت کے سارے ترجمانوں نے کئی ماہ سے اس ’جعلی اتحاد‘ کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لئے دن رات ایک کیے ہیں۔ تب جاکر ملک کے صحافیوں اور مبصرین کو یہ سمجھایا جا سکا ہے کہ اس اتحاد کے تو اندر ہی انتشار ہے، یہ کیسے حکومت کو گرا سکتا ہے۔ قطار اندر قطار قوم پرست مبصر عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی جمہوریت جی ایچ کیو کی براہ راست یا بالواسطہ سرپرستی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ جس قوم کو بھارت جیسے دشمن کا سامنا ہو اور جہاں نریندر مودی جیسا فاشسٹ حکمران ہو، اس کے لوگوں کو ووٹ کی عزت اور انسانی حقوق جیسے نعروں پر کان دھرنے کی بجائے یہ جاننا چاہیے کہ عوام کے مفاد پر ڈاکہ ڈالنے والے کون ہیں اور ان کی حفاظت کون کر رہا ہے۔ پرچہ ترکیب استعمال کے مطابق اس کا جواب آسان ہے : پی ڈی ایم میں شامل سارے لیڈر عوام دشمن ہیں اور عمران خان کی قیادت پر ایمان لانے والے سارے محب وطن ہیں۔

خیر اور شر کی یہ لڑائی ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ براڈ شیٹ کمیشن اس لڑائی کا محض ایک محاذ ہے۔ طے کیا جا چکا ہے کہ اس جنگ میں ’آخری سپاہی اور آخری گولی‘ تک لڑا جائے گا۔ چالیس سال تک فوجی وردی پہن کر قوم کی خدمت کرنے والے ریٹائرڈ میجر جنرل کا بیٹا بھی اگر اس جنگ کی صداقت پر سوال اٹھائے گا تو اسے بھی جوابدہ ہونا پڑے گا۔ آئی ایس آئی کا سابق سربراہ بھی اگر اس بازی میں مہروں کی چالوں کا راز افشا کرے گا تو وہ بھی دشمن کا ایجنٹ ہی کہلائے گا۔ سچائی کا گنڈاسا بدستور مولا جٹ کے ہاتھ میں ہے۔ ابھی اسے دفن کرنے کا وقت نہیں آیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1766 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali