محمود خان کی سیاست کسی کی سمجھ میں نہیں آتی

\"\" پشتونخوا میپ کے سربراہ محمودخان اچکزئی پاکستان کے ان سیاستدانوں میں شامل ہیں جن کو میڈیا کی خاص توجہ حاصل رہی ہے۔ اس کی وجہ شاید موصوف کی وہ تقاریر ہیں جو انہوں نے مختلف ادوار اور مواقع پر قومی اسمبلی میں کیں۔ آپ پشتون قوم پرست کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتے ہیں اور پشتونوں کے حقوق کے علمبردار سمجھتے جاتے ہیں۔ ان کی جماعت کی داغ بیل ان کے والد محترم نے 19 جولائی 1970 کو خان عبدالولی خان سے اختلاف کی بنیاد پر پشتونخوا نیپ کے نام سے ڈالی تھی۔
اچکزئی صاحب نے ہر عام و خاص کی توجہ اس وقت حاصل کی جب انہوں نے 2013 کے الیکشن کے بعد بلوچستان کی مخلوط حکومت میں بھاری بھر کم حصہ لیا اور مرکز میں نواز شریف کی حمایت کی۔ یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا، جو موصوف کو کھل کر عوام کے سامنے لے آیا۔
اس سے پہلے کچھ صحافی اپنے کالموں اور ٹاک شوز میں اچکزئی صاحب کی سیاست اور دو ٹوک موقف کے حوالے دیا کرتے تھے اور جن کو لے کر میپ کے کارکن سوشل میڈیا اور بحث مباحثوں میں حوالے کے طور پر پیش کیا کرتے تھے۔ لیکن جب موصوف نے ہر جائز و ناجائز کام پر نواز شریف کا ساتھ دینا شروع کیا تو ان کے چاہنے والے صحافی ہی ان کے پیچھے پڑ گئے۔ پرنٹ، الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر جیسے جنگ ہی چھڑ گئی۔ بعضوں کے جواب میں تو اچکزئی صاحب نے خود مضامین لکھے باقی کسر سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والے آج تک گالی کے قریب تر الفاظ سے آج تک پورا کرتے نظر آ رہے ہیں۔
وجہ صاف ظاہر ہے، جب اپوزیشن میں تھے تو ایسی باتیں کرتے تھے کہ فرشتہ صفت انسان دکھائی دیتے تھے۔ لیکن جب اقتدار میں آئے تو جو امور ان کے سیاست کا محور تھے، ان کو نہ صرف بھول گئے بلکہ بعض مواقع پر ان کے خلاف اقدامات کے مرتکب ہوئے۔ ان کی سیاست پشتون قوم اور افغان معاملات کے گرد گھومتی تھی۔ پنجاب اور پنجابی اسٹیبلش منٹ کو سامراج اور استعمار کی عینک سے دیکھتے تھے۔ یہ ان کا سیاسی عقیدہ اور وطیرہ بن چکا تھا۔ بلوچستان کے پشتون بیلٹ کی پرانی دیواریں آج بھی اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

\"\"جس بنیادی اختلاف کو لے کر نیپ سے پشتونخوا نیپ نے جنم لیا تھا، وہ وہ یونٹ کا خاتمہ تھا۔ اچکزئی صاحب کے والد محترم اور ان کے ادنیٰ کارکن تک یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خان عبدالولی خان نے ان کو صوبہ بلوچستان میں شامل کرکے انہیں بلوچوں کو فروخت کر دیا۔ ولی خان کی مخالفت کو لے کر وہ بلوچستان کے پشتوں بیلٹ میں اے این پی کے مقابلے میں چھا گئے۔ اس کی دو وجہ ہیں۔ اول اے این پی کی اپنی کمزوریاں ہیں۔ دوسری وجہ میپ کی بلوچ مخالف وہ جارحانہ سیاست تھی جسے حقوق کا نام دے کر برادر اقوام کے درمیان خیلج پیدا کر دی گئی بلکہ بعض مواقع تو قتل و غارت پر بھی منتج ہوئے۔ مثلاً وہ بلوچستان کو بلوچ پشتون صوبہ کہتے ہیں۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کو کوئٹہ یونیورسٹی کہتے ہیں۔ برابری کی بنیاد پر اس صوبے میں وسائل کی تقسیم چاہتے ہیں۔ آبادی کی بنیاد پر نہیں، کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں پشتونوں کی آبادی بلوچوں کے برابر ہے۔ کبھی برٹش بلوچستان کا مطالبہ کیا، تو کبھی چیف کمشنر صوبے کا۔ تحریر و تقریر میں صوبے کی پشتون بیلٹ کو جنوبی پشتونخوا کہتے اور لکھتے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ اس نئے صوبے کا نام افغانیہ یا پشتونستان رکھا جائے۔

فاٹا کی آزاد آئینی حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی مطالبہ کرتے ہیں کہ فاٹا، خیبر پختونخوا، بلوچستان کا پشتون بیلٹ اور اٹک و میانوالی کو ملا کر ایک صوبہ بنایا جائے۔ ڈیورنڈ لائین کو بین الاقوامی سرحد نہیں مانتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو مبینہ طور پر دیواروں پر خفیہ ایجنسی مخالف نعرے لکھتے تھے۔ لیکن اچکزئی صاحب جب بھی کابل گئے پاکستان کے پاسپورٹ پر افغانستان کا ویزا لگوا کر گئے۔ ایک دورہ تو ان کا ایسا بھی تھا جب وہ نوازشریف کے نمائندے کے طور پر وہاں گئے اور یہ راز فاش کیا کہ افغانستان پاکستان پر حملہ کرنے والا تھا۔ تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن کو کسی نے نہیں چھیڑا لیکن موصوف جب شریک اقتدار بنے تو سرحد پر ایسی خندق کھودی گئی کہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔ اور اس کا ٹھیکہ لینے کا الزام بھی ان ہی پر لگا۔ حال ہی میں ان کا مطابلہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو یہاں کی شہریت دی جائے۔
میپ نے بلوچستان میں پشتون بلوچ آبادی کو بنیاد بنا کر ہمیشہ اختلافات کو ہوا دی۔ 1998 میں مردم شماری کا بائیکاٹ کیا اور اب زور و شور سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 98ء میں مردم شماری کا بائیکاٹ کرنے والوں نے اپنے آبائی ضلع میں بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا۔ تبھی تو قعلہ عبداللہ کی ہر تحصیل صوبائی اسمبلی کے حلقے پر مشتمل ہے اور ضلع ایک قومی اسمبلی کا حلقہ ہے۔ یہ کوئٹہ کے بعد دوسرا ایسا ضلع ہے۔ باقی ضلعے دو اور تین تین کو ملا کر ایک قومی اسمبلی کا حلقہ بناتے ہیں۔ کیونکہ وہاں حقیقی معنوں میں مردم شماری کا بائیکاٹ ہوا تھا۔ یہاں رہنے والے خوب جانتے ہیں کہ کس شہر کی آبادی کتنی ہے۔ لیکن ان کی کارکردگی کچھ اور ہی بتاتی ہے۔ لوکل باڈیز ایکٹ میں ترمیم کر کے چمن اور پشین میونسپل کارپویشنز بنا دیئے گئے جب کہ ژوب اور لورالائی جیسے بڑے شہر میونسپل کمیٹی کی حیثیت سے ہی رہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے چمن ان کے بھتیجے کا انتخابی حلقہ ہے اور پشین وزیر بلدیات مصطفیٰ ترین کا۔

پشتون بیلٹ میں کوئٹہ کے علاوہ زیارت اور پشین کے شہروں کو گیس فراہم کی گئی تھی۔ موجودہ دور حکومت میں اس فہرست میں صرف ایک تحصیل کا اضافہ ہوا اور موصوف کے آبائی گاؤں عنایت کاریز واقع تحصیل گلستان تک نواز شریف سے اس کا سنگ بنیاد رکھا۔

2008 میں میپ نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔ جب انتخابات قریب آئے اور صورت حال واضح ہو گئی تو ان کے آبائی علاقہ گلستان کی صوبائی اسمبلی کے حلقہ نے ان کی انا پرستی کو جگا دیا۔ یہاں ایک آزاد امیدوار، جس کا تعلق اچکزئی قبیلے کی ذیلی شاخ غیبزئی سے تھا اور جن کے ساتھ محمود خان کے خاندان کی دشمنی چلی آ رہی تھی، کی پوزیشن مضبوط نظر آئی۔ لیکن جب نتائج سامنے آئے تو محمود خان کے زیر اثر انتخابی پولنگ اسٹیشنوں سے جمعیت علماء اسلام کے امیدوار کو بھاری ووٹ پڑے تھے۔ اور وہ جیت بھی گئے تھے۔ یہ ایسے پولنگ اسٹیشنز ہیں جہاں محمود خان کے قبیلے کی مرضی کے خلاف پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔

تمام سیاسی کارکن اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سیاست میں حرف آخر نہیں ہوتا۔ لیکن اچکزئی صاحب کی سیاست سے جیسے حروف ہی مٹ گئے ہوں۔ اے این پی کی سیاسی پالیسیوں کو حدف تنقید بنا کر پشتونوں میں اپنی ساکھ بچائے رکھنے والوں نے تمام معاملات پر وہی موقف اپنایا جو اے این پی ان سے بیس پچیس سال پہلے اپنا چکی تھی اور جس کو انہوں نے پشتونوں کے حقوق کا سودا اور پنجابی استعمار سے ڈیل کا نام دیا تھا۔

بلوچ پشتون دشمنی کو ہوا دینے والی جماعت آج کل صوبائی حکومت میں اس شخص کی زیر قیادت شامل ہیں جس پر جماعت کے چوٹی کے کارکنوں کو قتل کرنے کا الزام تک لگایا گیا تھا۔ میپ کے منشور، دعوے، نعروں اور عمل کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی سیاست ہمیں سمھ نہیں آتی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا خود ان کو اپنی سیاست سمجھ آ رہی ہے یا نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words