شاید مجھے سلیکٹ کر کے پچھتا رہے ہوں آپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ صادق اور امین ہے، تابعدار ہے، فرماں بردار ہے، ایمان دار ہے اور سب سے بڑھ کر وہ سیلیکٹڈ ہے۔ یہ وہ القابات ہیں جو وزیراعظم عمران خان کو پچھلے اڑھائی سالوں میں اپوزیشن کی طرف سے دیے گئے ہیں۔ لیکن ہوا کیا؟ عمران خان آج بھی وزیراعظم ہیں اور اپوزیشن پہلے سے زیادہ کمزور اور منقسم، اختلافات کا شکار اور نہ صرف اسمبلیوں سے استعفوں اور لانگ مارچ کے فیصلوں پر یو ٹرن لینے پر مجبور بلکہ مشرقی اپوزیشن جماعتوں کی طرح سینیٹ اور ضمنی انتخابات کو ”قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے“ کہنے پر بھی راضی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کی بیڈ گورننس، نا اہلی، معیشت سمیت خارجہ پالیسی معاملات میں ناکامی کی کوئی مثال نہیں۔ وزیراعظم اور ان کی ٹیم آئے روز اپنی ہی نالائقیوں اور نا اہلیوں کے ریکارڈ توڑتی ہے۔ چینی، آٹے اور پٹرول اسکینڈلز سمیت متعدد تحقیقاتی رپورٹس آنے کے باوجود حکومت ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لینے سے قاصر ہے۔ لیکن نہ تو اپوزیشن اور نہ ہی پاکستان تحریک انصاف کو ووٹوں کے ذریعے منتخب کرنے والوں میں اتنا دم ہے کہ وہ اس حکومت کو گھر بھیج سکیں۔

اس حکومت اور خاص کر عمران خان نے ان اڑھائی سالوں میں وہ کام کر دیا ہے۔ جو لندن پہنچ کر نظریاتی ہونے والے اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسوں میں آئٹم سانگ پیش کرنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف بھی نہ کر سکے۔ جن کی تمام سیاست اسٹیبلشمنٹ کی مرہون منت رہی اور اب ان کا بذریعہ پانامہ لیکس ریجیکٹ ہو جانے کے بعد مبینہ مقصد سیاست کو فوج کے کردار سے پاک کرانا ہے۔ تاہم عمران خان کی ہٹ دھرمی، گمراہ کن صلاحیتوں اور بے لوث خود غرضی نے انہیں ایک ضدی بچے کی طرح منتخب کرنے والوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ جس کے سامنے نواز شریف کئی ماہ اسپتالوں میں زیر علاج رہنے کے بعد لندن پہنچ کر لگنے والے اسٹیرائیڈز کے انجیکشن کے بعد مبینہ طور پر کھڑے ہونے کے قابل ہوئے ہیں۔

عمران خان نے اپنی انتھک نا اہلی، بے مثال ڈھٹائی اور ناکامیوں کے تسلسل سے منتخب کرنے والوں کو اپنی سلیکشن پر نہ صرف سوچنے پر مجبور کر دیا ہو گا بلکہ بظاہر لگتا ہے کہ منتخب کرنے والے عسکری پولٹری فارم میں بذریعہ ٹیسٹ ٹیوب تیار کردہ لیڈر عمران خان سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ انہیں ڈر ہے کہ کہیں اگر انہوں نے ہمیشہ کی طرح پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کی تو ان کا یہ فیصلہ بھی عمران خان کو اقتدار میں لانے کے فیصلے کی طرح ان کے گلے پڑھ سکتا ہے۔ لہٰذا وہ کسی ایسے معجزے کی تلاش میں ہیں کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ وہ مستقبل میں بھی حکومتوں کو منتخب کرنے جوگے رہ جائیں۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو متحدہ اپوزیشن درحقیقت عمران خان کو سیلیکٹ کرنے پر سراپا احتجاج نہیں، بلکہ جولائی 2018 کے انتخابات میں انہیں ریجیکٹ کرنے پر ماتم کر رہی ہے اور چونکہ منتخب کرنے والوں کی سلیکشن عمران خان کو منتخب کرنے والوں کے کھاتے پڑ گئی ہے۔ چنانچہ اپوزیشن جماعتیں اور خاص طور پر پیپلز پارٹی اور نواز لیگ، جمعیت علما اسلام، ف کے تعاون سے منتخب کرنے والوں کو یہ باور کروانے کی کوششوں میں ہیں کہ دیکھا، انہیں ریجیکٹ کر کے سلیکٹ کرنے والا لے پالک ان سے بھی زیادہ نافرمان اور ناہنجار نکلا۔ جو نجی محافل میں کہتا ہے کہ اگر حکومت فوج چلا رہی ہوتی تو پنجاب کا وزیراعظم عثمان بزدار ہوتا؟

عمران خان اور ان کے غیر منتخب شدہ مشیروں کی حکومت اپوزیشن کے ہتھکنڈوں اور اعلانات کے جواب میں حکومتی کارکردگی کو بہتر کرنے کی بجائے ہر پندرہ دنوں بعد پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کو یہ پیغام دیتی ہے کہ مہنگائی میں اضافہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے ادوار میں کیے جانے والے معاہدوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ جن سے اس حکومت کو اقتدار میں لانے والے وقتی طور پر لاتعلقی تو ظاہر کر چکے ہیں۔ تاہم اس حکومت میں بھی وزارت خزانہ اور وزارت توانائی انہی صاحبان کو سونپی گئی ہے جنہیں ق لیگ، نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے دور میں سونپی گئی تھی اور اس کی وجہ یہ کہ 22 کروڑ کی آبادی میں یہی دو شخصیات ایسی ہیں جو کہ آنے والی حکومتوں کے لیے موجودہ دور اقتدار میں ہی مہنگائی کے اسباب پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

جو بھی کہیں یا کچھ نہ بھی کہیں۔ عمران خان نے ان اڑھائی سالوں میں ہی منتخب کرنے والوں کو احساس دلا دیا ہے کہ بدلتے وقت اور جدید تقاضوں کی خاطر لائحہ عمل میں تبدیلی وقت کا تقاضا ضرور ہوتی ہے۔ تاہم فوری تبدیلی اکثر اوقات بلنڈر اور مشکلات کا سبب بنتی ہے۔ نیز چناؤ میں تبدیلی اور ادارتی مفادات کے حصول کی خاطر کی گئی سیاسی سلیکشن کی تبدیلی کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ اس سارے عمل میں بلی کا بکرا بننے والی عوام کو بھی کسی حد تک ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے۔ کیونکہ عسکری پولٹری فارم میں منتخب کرنے والوں کے مفادات کے حصول کے لیے نئے لیڈرز تو افزائش پا سکتے ہیں۔ تاہم عوام کو ان کی سلیکشن کے مضمرات برداشت کرنے کے قابل نہیں بنایا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •