نئی دہلی میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر دھماکہ، تحقیقات موساد کرے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئی دہلی — بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اسرائیل کے سفارت خانے کے باہر ہونے والے دھماکے کے بعد اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ‘موساد’ تحقیقات کے لیے نئی دہلی آ رہی ہے۔

دہلی پولیس کے ایڈیشنل پی آر او انل متل کے مطابق کم طاقت والا بم دھماکہ جمعہ کی شام کو پانچ بج کر پانچ منٹ پر ہوا جس سے تین گاڑیوں کے شیشے ٹوٹے۔ دھماکے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی مزید املاک کو نقصان پہنچا۔ یہ دھماکہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان قائم ہونے والے سفارتی تعلقات کی 29ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا۔

موقع واردات سے چند کلو میٹر کی مسافت پر بھارت کے صدر رام ناتھ کووند، نائب صدر ایم وینکیا نائڈو اور وزیرِ اعظم نریندر مودی یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے آخری سلسلے ‘بیٹنگ رٹریٹ’ میں موجود تھے۔

دھماکے کے مقام کے قریب سے ایک لفافہ بھی ملا ہے جس میں اسرائیل کے سفیر کے نام ایک خط تھا۔ اس میں دھماکے کو ‘ٹریلر’ بتایا گیا ہے اور انتقام لینے کی بات کی گئی ہے۔

خط میں ایران کے جنرل قاسم سلیمانی اور جوہری سائنس دان محسن فخری زادے کا بھی ذکر ہے۔

خیال رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کو جنوری 2020 میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ جب کہ محسن فخری زادے کو بھی گزشتہ سال ہلاک کیا گیا تھا۔

‘بھارت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے’

بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے دھماکے کے بعد اپنے اسرائیلی ہم منصب گابی اشکینزی سے فون پر بات کی اور اسرائیلی سفارت خانہ اور اس کے کارکنوں کے مکمل تحفظ کا یقین دلایا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے اور مجرموں کو پکڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

اس واقعہ کے بعد بھارت میں اسرائیل کے سفیر ڈاکٹر رون ملکا نے بھارت کے نشریاتی ادارے ‘انڈیا ٹوڈے’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانے کے تمام لوگ محفوظ ہیں۔

ان کے بقول یہ ایک دہشت گرد دھماکہ تھا۔

اسرائیل کے سفیر کے مطابق وہ بھارت کی حکومت کے ساتھ مل کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس میں کون لوگ ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال کسی تنظیم کو ذمہ دار ٹھیرانا جلد بازی ہوگی۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان کافی قریبی تعلقات ہیں۔

اسرائیلی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ کئی ممالک میں اسرائیل کے سفارت خانوں پر حملے ہوئے ہیں۔ لہٰذا بھارت میں ہونے والے اس دھماکے پر حیرت نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپ میں بھی کئی اسرائیلی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ لہٰذا اسرائیل کے تمام سفارت خانوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دھماکے کا تعلق 2012 میں ہونے والے دھماکے سے ہو سکتا ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد

ایک سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ سفارت خانے کے پاس ایک ٹیکسی سے دو افراد اترے تھے۔

دہلی پولیس اس کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا دھماکے میں ان لوگوں کا ہاتھ تھا۔

ذرائع کے مطابق موقع واردات سے پائے جانے والی اشیا کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکے میں ہائی گریڈ ملٹری دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

اس قسم کا دھماکہ خیز مواد القاعدہ جیسے گروہوں کے پاس ہی موجود ہوتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروہ ‘داعش’ کے ایک گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم خفیہ اداروں کو ابھی اس دعوے پر یقین نہیں ہے کہ وہ گروہ اس دھماکے میں ملوث ہو سکتا ہے۔

مرکزی تفتیشی اداروں کو ایک ٹیلی گرام چیٹ بھی ملا ہے جس میں جیش الہند نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خفیہ ادارے اس دعوے کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب ایران جانے والی ایک پرواز میں تاخیر ہوئی۔ اس کے تمام مسافروں کی جانچ کی گئی مگر کچھ نہیں ملا۔

نئی دہلی میں ایران کے شہریوں کی معلومات جمع کرنے کا سلسلہ

مبینہ طور پر اس واردات سے ایران کے تعلق کے شبے کی وجہ سے دہلی پولیس دارالحکومت میں موجود تمام ایرانیوں کی تفصیلات جمع کر رہی ہے۔

دہلی کے تمام ہوٹلوں سے رابطہ قائم کیا جا رہا ہے اور وہاں مقیم ایرانیوں کی تفصیلات طلب کی جا رہی ہیں۔

دہلی ایئر پورٹ اور دیگر حساس مقامات پر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 13 فروری 2012 کو ایک اسرائیلی سفارت کار کی گاڑی میں ہونے والے دھماکے میں سفارت کار اور گاڑی کے بھارتی ڈرائیور سمیت چار افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس واردات میں بھی ایران کے ملوث ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ تاہم ایران کے حکام نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1154 posts and counting.See all posts by voa