بلاول بھٹو کی وزیر اعظم کو استعفیٰ کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ٹویٹس، ’اسٹیبلشمنٹ اب سیاسی جنگیں سیاستدانوں کے لیے چھوڑ دے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاول
Getty Images
پاکستان میں حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ اب سیاسی جنگیں سیاستدانوں کے لیے ہی چھوڑ دے۔‘

یہ انھوں نے ایک ایسے وقت میں کہا ہے کہ جب ملک میں متحدہ اپوزیشن پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور حالیہ مہنگائی کی بنا پر استعفی پیش کرنے کے لیے 31 جنوری کی ڈیڈلائن گزر گئی ہے۔

11 سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ڈیڈلائن گزرنے کے بعد اپوزیشن فیصلہ کرے گی کہ ’لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف کیا جائے گا یا پھر راولپنڈی کی طرف۔‘

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

فضل الرحمان: الیکشن کمیشن بدترین دباؤ اور مفاد پرستی کا شکار ہو چکا ہے

‘پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف ہو گا یا راولپنڈی کی طرف ہو گا‘

اپوزیشن کی کون سی حکمت عملی حکومت پر دباؤ کا باعث بنے گی؟

تاہم پاکستان کی حکومت پی ڈی ایم کے مطالبات کو کئی بار رد کر چکی ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے 25 جنوری کو اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’ایک پی ڈی ایم اور کئی بیانیے۔ بلاول کا عدم اعتماد پر زور، احسن اقبال کے اس پر شکوک و شبہات اورمریم کا لانگ مارچ پر اصرار۔‘

’پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھرنے کا واضح ثبوت ہے۔ شاہراہوں پر عوام کو گمراہ کرنے کے لیے نکلے تھے، عوام کی جانب سے مسترد ہونے کے بعد واپس ایوانوں کا رُخ اختیار کر رہے ہیں۔‘

بلاول نے اپنے پیغام میں کیا کہا؟

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کی شب اپنی ٹویٹس میں کہا ہے کہ ’سلیکٹڈ‘ وزیر اعظم پی ڈی ایم کی ڈیڈ لائن تک استعفی دینے میں ’ناکام‘ ہوئے ہیں۔

’ہم نے ان کی غیر قانونی حکومت کو عزت کے ساتھ ہٹنے اور صاف شفاف انتخابات کے ذریعے جمہوری عمل کو جاری رکھنے کا موقع دیا۔ امید ہے کہ پی ڈی ایم کی میٹنگ میں لانگ مارچ اور عدم اعتماد کی تحریک پر بات چیت ہوگی۔ حکومت کی مایوسی واضح ہے۔ وہ اصول بدل کر سینیٹ الیکشنز میں دھاندلی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی شکست دیکھ رہے ہیں۔ سینیٹ انتخابات سے ظاہر ہوگا کہ حکومت کے پیروں تلے زمین متزلزل ہوچکی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لوگوں کو تاریخی غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کا سامنا ہے کیونکہ ان پر یہ حکومت مسلط کی گئی۔ متحدہ اپوزیشن کو اب یہ کٹھ پتلیاں زبردستی نکالنا ہوں گی۔ پیپلز پارٹی جمہوری حکمت عملی پر یقین رکھتی ہے۔ پارلیمان کے اندر اور باہر مشترکہ اور مسلسل کوششوں سے ہمیں کامیابی مل سکتی ہے۔‘

’اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ سیاسی جنگیں اب سیاستدانوں کے لیے چھوڑ دیں یا پھر تنازعات کا حصہ بنائے جانے کے خدشے میں رہے۔ لوگوں کی منتخب حکومت ہی لوگوں کے کام کر سکتی ہے۔‘

یاد رہے کہ یکم جنوری کو پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد فضل الرحمن نے کہا تھا کہ ’پاکستان کو ایک ڈیپ سٹیٹ بنا کر یہاں کی اسٹیبلشمنٹ نے پورے نظام کو یرغمال بنایا ہے اور عمران خان ایک مہرہ ہیں جن کے لیے انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور ان کو قوم پر مسلط کیا اور ایک جھوٹی حکومت قائم کی۔‘

’استعفے تو اپوزیشن کو دینے تھے‘

سوشل میڈیا پر بلاول کے ٹویٹ کے ردعمل میں کئی طرح کے تبصرے سامنے آئے ہیں۔

بعض لوگوں کی جانب سے بلاول کے مطالبات کی حمایت کی گئی ہے جبکہ کچھ نے انھیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

عادل نامی صارف نے پی ڈی ایم کو ان کا وہ موقف یاد دلایا جس میں ان کے بعض رہنماؤں نے تمام اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’استعفے اِن صاحب نے دینے تھے لیکن دھمکیاں خان کو لگاتے ہیں۔‘

ملیحہ نامی صارف نے لکھا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کو منانے میں کامیاب ہوجائے گی کہ پہلے آئینی راستوں کا استعمال کیا جانا چاہیے۔

کچھ صارفین نے بلاول کے بدلتے لہجے پر بھی بات کی جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’وزیر اعظم استعفی دینے میں ناکام ہوئے۔‘

عاصم نے لکھا کہ ’شکر ہے آپ کے ذہن میں ڈیڈلائن تھی اور اس کے بارے میں ٹویٹ بھی کیا۔ مجھے دوسروں پر شک ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18927 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp