آؤ سازش سازش کھیلیں


فلک پر کوئی سازش ہو رہی ہے
سمندر پر ہی بارش ہو رہی ہے
ہٹائے جا رہے ہیں کام کے لوگ
نکموں پر نوازش ہو رہی ہے

سازش، سازش اور سازش۔ صبح شام ایک ہی لفظ جو سماعتوں میں گونجتا رہتا ہے۔ ہمارے ملک میں سازش اور غداری کے اس قدر سرٹیفیکیٹ بانٹے جاتے ہیں کہ کبھی کبھی یوں گمان ہوتا ہے کہ کہیں ہمسائے کے گھر پیدا ہونے والے بچے کو بھی کسی سازش کا شاخسانہ نہ قرار دے دیا جانے لگے۔ یہاں اس قدر سازش کے بیج بوئے گئے ہیں کہ اس سے جنم لینے والا ہر پودا غداری کا پروردہ معلوم ہوتا ہے۔ کچھ سازشیں ملاحظہ فرمائیں:

ن لیگ کا جلسے جلوس کرنا ایک سازش، پی ٹی آئی
پی ٹی آئی کو بیرونی فنڈنگ ایک سازش، نون لیگ
پی پی پی کا سینٹ میں صادق سنجرانی کو لانا ایک سازش، نون لیگ
نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بولنا ایک سازش، پی ٹی آئی
اٹھارہویں ترمیم پر موجودہ حکومت کی چہ میگوئیاں ایک سازش، پی پی پی

اگر سازشوں کو لکھنا شروع کر دوں تو شاید پیپرز کا ایک بنڈل بن جائے۔ یہاں پر ہر ایک ہی دوسرے کو غدار اور سازشی کے ٹکٹ تھما رہا ہوتا ہے۔ یہاں امام بھی غدار، مقتدی بھی غدار، حکومت بھی غدار، اپوزیشن بھی غدار، اسٹیبلشمنٹ بھی غدار، بیورکریٹ بھی غدار، مصنف بھی غدار، منصف بھی غدار، بیوروکریٹ بھی غدار، اینکرز بھی غدار۔ ہمارے وطن عزیز میں غداری کی ڈگری تو ٹماٹروں سے بھی سستی مل جاتی ہے۔ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ کون سے محب وطن ہیں جو سازشی اور غداری کے نوٹ پھینکتے ہی جا رہے ہیں۔

خدارا اب ہوش کے ناخن لیں۔ ان چیزوں سے باہر نکلیں۔ ایک دوسرے کو چور، ڈاکو، غدار کہنا بند کریں۔ یہاں جنم لینے والا ہر ایک شہری محب وطن ہے چاہے وہ نواز شریف ہو، عمران خاں ہو، زرداری ہو یا مشرف۔ اپنی سیاست کی ریڑھی ضرور لگائیں لیکن اس پر اتنے کڑوے پھل نہ بیچیں کہ کل کو آپ کو بھی وہی کھانے پڑ رہے ہوں۔

ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کو ہزاروں گندے نالے موجود لیکن غداری جیسی دلدل میں کسی کو دھکا دینے سے پہلے ہزار بار سوچیں، پاؤں آپ کا بھی پھسل سکتا ہے۔ یاد رکھیں جس اوزار سے آپ دوسرے کا گلا کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کو آپ کو گلا کاٹتے بھی دیر نہیں لگے گی، ہاں اوزار پکڑنے والا ہاتھ بدل چکا ہو گا۔

آئیں مل کر اس غداری ٹرینڈ کو ختم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے دل بڑا کریں۔

Facebook Comments HS