گھبرانے کا وقت ہوا چاہتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل جرمنی کی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو 1993ء میں قائم کی گئی، اس کے قیام کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر معاشرہ میں بدعنوانی کا انسداد ہے، نیز عالمی بدعنوانی سے نمٹنے اور اس کی وجہ سے ہونے والی مجرمانہ سرگرمیوں کے سدباب کے لئے کارروائیاں کرنا ہے۔ اس غیر سرکاری و غیر منافع بخش تنظیم کی دو انتہائی اہم مصنوعات ہیں جن میں عالمی بدعنوانی بیرومیٹر (عالمی کرپشن بیرومیٹر/GCB) اور بدعنوانی پرسیپشن انڈیکس (کرپشن پرسیپشن انڈیکس/CPI) ہے۔

ان کی رپورٹس کو ہر سال جاری کیا جاتا ہے اور دنیا میں موجود تمام ممالک کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ اس کا طریقہ کار جو ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے، اس کے مطابق سب سے پہلے اعداد و شمار کو اکٹھا کرنے کے لئے وسائل درکار ہوتے ہیں، پھر ان اعداد و شمار کا معیار بنایا جاتا ہے، اعداد و شمار کو مجموعی طور پر جانچا جاتا ہے، اور آخر میں کمی بیشی یا کوتاہی کا عندیہ دیا جاتا ہے کہ اعداد و شمار پیش تو کیے گئے ہیں مگر کمی بیشی یا کوتاہی کا عنصر کتنے فیصد ہے۔ اس طرح کے تمام سرویز کے مستند اور شفاف ہونے کا انحصار ان کے نمونہ جات (سیمپل) حاصل کرنے کے طریقہ کار پر ہے۔

الحمدللہ، پہلے 50 ممالک کی فہرست میں صرف 4 اسلامی ممالک شامل ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات 21 ویں، قطر 30 ویں، برونائی دارالسلام 35 ویں اور سلطنت عمان 49 ویں نمبر پر موجود ہے۔ باقی 46 ممالک جو اس فہرست میں موجود ہیں وہ تمام یہودی، نصرانی اور لادین ریاستیں ہیں۔ پہلے دس ممالک میں نیوزی لینڈ، ڈنمارک، فن لینڈ، سوئٹزرلینڈ، سنگاپور، سویڈن، ناروے، نیدرلینڈ، لیکسمبرگ، اور جرمنی شامل ہیں، ان میں سے اکثریت کی حکمران خواتین ہیں، ان تمام حکومتی سربراہان کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں، کوئی بھی رجعت پسند خیالات سے تعلق نہیں رکھتا ہے، تمام ممالک میں مے خانے و قحبہ خانے بکثرت موجود ہیں۔ مگر بدعنوانی پھر بھی سب سے کم، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہمیں بحیثیت قوم ضرور دریافت کرنا چاہیے۔ جو اسلامی ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں، وہ بھی کافی حد تک آزاد خیال ہیں۔

حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔

رشوت کی اگر عرف عام میں تعریف کریں تو اسے بدعنوانی کہا جا سکتا ہے۔ ہم بحیثیت قوم پیدائشی بدعنوان ہیں، برتھ سرٹیفیکیٹ سے لے کر ڈرائیونگ لائسنس، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تک بنوانے کے لئے سرعام رشوت دیتے اور لیتے ہیں بلکہ اب یہ چائے پانی کے طور پر ہماری روایات کا لازمی حصہ ہے۔

28 جنوری 2021ء کو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنے سالانہ سروے میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں ایمان دار، نیک، شریف اور ہینڈسم قیادت کے برسراقتدار میں آنے کے بعد بھی پاکستان نے بدعنوانی میں 4 درجہ تنزلی کا فاصلہ پچھلے ایک سال میں طے کیا ہے اور پاکستان اب 124ویں نمبر پر براجمان ہے جبکہ 2017ء میں پاکستان 117ویں نمبر پر، 2018ء میں 117ویں، اور 2019ء میں 120ویں نمبر پر تھا۔

2018ء تک ایک نااہل، بدعنوان اور غدار جماعت کی حکومت تھی، نااہل وزیراعظم اور نااہل حکومتی ارکان حکومت کا نظم و نسق چلا رہے تھے۔ میرے کپتان ان دنوں اکثر ان رپورٹس کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ ان رپورٹس میں اول درجہ پر آنے والے ممالک کی سیاسی و اخلاقی اقدار کا بھی بکثرت حوالہ دیتے تھے۔

اب ماشاءاللہ بفضل رب ذوالجلال میرے کپتان کی حکومت ہے اور میرے کپتان کی انتھک محنت کی بدولت ہم نے 117 سے 124 درجہ تک تنزلی میں ترقی کی ہے۔ سب سے اہم اور مثبت خبر یہ ہے کہ جہاں ڈالر کے درجات اس حکومت نے بلند کیے ہیں، وہیں بدعنوانی کے درجات بھی بلند ہوئے ہیں، کیونکہ مسلم لیگ نون کی حکومت نے اس درجہ کو مصنوعی طور پر روکا ہوا تھا۔ حالانکہ بقول کپتان وہ بس آفس جاتے ہیں اور پھر گھر جا کر بھی آفس کا کام کرتے ہیں، حقیقی معنوں میں غریب کا درد بھی رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے لنگر خانے اور سرائے خانے کھلوائے ہیں۔ جبکہ میرے محبوب قائد اور ان کے بیشتر حکومتی ارکان شام 6 بجے کے بعد میسر نہیں ہوتے تھے۔

سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ اب تک راوی اربن ڈویلپمنٹ اور کراچی میں دو نئے جزائر کی تعمیر کے علاوہ اس حکومت نے کوئی ایک میگا پراجیکٹ نہیں شروع کیا، بلکہ جن میگا منصوبوں (ایک کروڑ نوکریاں، 50 لاکھ گھر، نظام میں اصلاحات، بیورو کریسی میں اصلاحات، یکساں تعلیمی نظام، معاشی و معاشرتی انصاف) کا اعلان میرے کپتان نے قبل از انتخابات کیا تھا وہ بھی ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے۔ ان میں سے کسی منصوبے میں حکومت نے ذاتی حیثیت میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی کیونکہ ان تمام منصوبوں کے لئے سرمایہ کاری درکار نہیں بلکہ چند ایک اہم انتظامی امور کی اصلاح درکار تھی اور یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جانے تھے۔ لیکن منصوبہ جات مکمل ہوئے ہیں نہ ہی بدعنوانی میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے اور نہ وعدے ایفا ہوئے ہیں۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ میرے کپتان کے اوپننگ بلے باز جناب ڈاکٹر شہباز گل نے اس رپورٹ کی معلومات پر سوالات اٹھائے ہیں اور سنا ہے کہ انہوں نے اس بد صورت تصویر میں بھی رنگ بھر دیے ہیں کہ یہ ڈیٹا (معلومات) پرانے حکومتی ادوار سے ہے، مزید حماقتوں میں انھوں نے اضافہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ رپورٹ کا جب اردو ترجمہ آئے گا تو تحریک انصاف سرخرو ہو جائے گی اور تمام حزب اختلاف کو اس رپورٹ کی بنیاد پر سزائیں سنا دی جائیں گی۔ خس کم جہاں پاک۔

انہیں کوئی ذی شعور یہ بات بتلائے کہ جناب بانس حکومت کے پاس ہوتا ہے اور بانسری عوام انتخابات میں بذریعہ ووٹ بجاتے ہیں۔ لیکن ان کا اس سب سے کیا تعلق، جس دن حکومت ختم ہو گی اس دن یہ درآمدی (امپورٹڈ) حضرات واپس اپنے اصل مقامات کی طرف لوٹنا شروع ہو جائیں گے۔ جیسے شوکت عزیز و ہمنوا لوٹ گئے تھے۔

وزیراعظم صاحب نے سب سے اچھا جواب دیا ہے کہ میں نے رپورٹ ابھی نہیں پڑھی، پڑھوں گا تو مزید حماقتوں میں اضافہ کروں گا، فی الحال ذرائع ابلاغ کے لئے ڈاکٹر شہباز گل سے رجوع کریں۔

خیر رپورٹ پڑھنے کے بعد بھی ان کے اقوال زریں کچھ اس طرح ہونے ہیں ”سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں، اور یہ مافیا جتنا مرضی زور لگا لے چاہے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ذریعے ہی لیکن میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا، شروع میں تو ہمیں سمجھ ہی نہیں آئی کہ کیا کرنا ہے، اب آ گئی ہے تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم بدعنوانی میں ترقی کر رہے ہیں، یہ سب پچھلی حکومتوں کا کیا دھرا ہے، نیز ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو مسلم لیگ نون نے پیسہ دیا ہے، رہ گئی کارکردگی تو اس کا اللہ مالک ہے کبھی نہ کبھی تو بہتر ہو ہی جائے گی، اس دور حکومت میں نہ سہی اگلے دور حکومت سہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •