ووٹوں کی خریداری؟


وزیراعظم عمران خان کی اپنی پارٹی کے ارکان کے بارے میں یہ انکشاف انگریزی اخبار کی لیڈ سٹوری کی شکل میں پڑھ چونک گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا کے بیس ارکان صوبائی اسمبلی کو سینیٹ کے پچھلے الیکشن میں فی کس پانچ کروڑ روپے دے کر اپنے من پسند امیدواروں کو ووٹ کرانے کے لئے ہمدردیاں خریدی گئی تھیں۔ وزیراعظم خان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں رشوت دے کر ہمدردیاں خریدنے کا سلسلہ گزشتہ تیس سال سے جاری و ساری ہے۔

انہوں نے اپنی بات میں مزید وزن پیدا کرنے کے لئے دعویٰ کیا کہ ایوان بالا کے الیکشن میں دھندا ہوتا ہے اور مال چلتا ہے۔ ووٹوں کی جمہوریت کی آڑ میں خرید و فروخت ہوتی ہے۔ وزیراعظم خان نے دعویٰ کیا کہ ووٹوں کی خرید و فروخت کے لئے پیسہ اوپر تک جاتا ہے۔ ایوان بالا میں دھندا کی شکل میں مال اوپر تک جانے کی تصدیق کے لئے اپنی گواہی یوں بھی ڈالی کہ مجھے بھی پچھلے سینیٹ کے الیکشن میں پیسوں کی آفر کی گئی تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ووٹوں کی شکل میں ہمدردیاں خریدنے کے لئے کون پیسہ جمع کر رہا ہے لیکن موصوف نے کسی کا نام نہیں لیا۔

شاید ابھی تک وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اس دھندے میں ملوث کرداروں کا نام لے سکیں یا پھر اس پارٹی کے ساتھ اپنی پارٹی کے لوگ بھی رابطے میں ہو سکتے ہیں؟ وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خریداری کی مشق کو پاکستان کے ساتھ غداری سے بھی جوڑ دیا، اس کے علاوہ اس بات پر زور دیا کہ جو لوگ پیسہ خرچ کرنے کے بعد جب صوبوں کی نمائندگی کرنے کے لیے ایوان بالا میں پہنچتے ہیں تو ان کا فوکس عوام کی نمائندگی نہیں ہوتی ہے، بلکہ مال پانی ہوتا ہے، مطلب چونچ گیلی کرنا ہوتا۔

اس گفتگو کے دوران ایمان دار وزیراعظم عمران خان نے سوالیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں قانون ساز پیسہ کے لئے اپنا ووٹ بیچتے دیتے ہیں۔ وزیراعظم خان نے یہاں اس بے بسی کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ ان کے پاس قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ اس کے باوجود وہ سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ کی ترمیم پیش کریں گے۔ مطلب اس بار بھی وہ قوتیں سینیٹ الیکشن میں دوبارہ ووٹوں کا دھندا کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں؟

راقم الحروف ابھی سویرے سویرے کی بیگم صاحبہ کی چاہ سے بنی چائے کی پیالی کے ساتھ وزیراعظم عمران خان کی سینیٹ الیکشن میں دھندا پر انکشاف بھری بات چیت کو ہضم کرنے میں لگا ہوا تھا لیکن یہ سوال ذہن میں ابھر رہا تھا کہ کیا واقعی اس ملک کا ایوان بالا الیکشن میں بکتا ہے؟ پورے نظام کو ماموں بنایا جاتا ہے؟ وقت کے قاضی کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ دھندا ہو رہا ہے؟ جمہوریت برائے فروخت لگ چکی ہے؟ اور مافیا جمہوریت اور جمہوریت پسند عوام کے منہ پر طمانچہ مار کر تماشا دیکھتا ہے؟

ادھر ذہن میں یہ بات بھی آ رہی تھی کہ وزیراعظم عمران خان جو کہ دیگر کو بھاشن دے رہے ہیں اور شاید درست دے رہے ہیں لیکن ان کے اپنے اردگرد بھی مافیا کی شکل میں وہ کردار موجود ہیں جو اس دھندے میں کارروائی ڈالتے ہیں؟ عوام کی جمہوری عمل سے جڑی امیدیں توڑ دیتے ہیں؟ یہاں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ آخر پاکستانی قوم کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ ان کے ساتھ ایک کے بعد ایک فراڈ ہوتا ہے؟

ہم بحیثیت قوم پتا نہیں قیام پاکستان کے بعد کس جمہوریت کے ہاتھ آ گئے ہیں جو کہ پیسے کے گرد گھومتی ہے اور مال پر مال بنایا جاتا ہے۔ ادھر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو ڈاکو چور سے لے کر مافیا کا نام دیتے ہیں لیکن بعد میں اقتدار کی خاطر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر وزیراعظم خان پنجاب کے ان چودھریوں کے پاس لاہور پہنچتے ہیں، جن کو موصوف اپوزیشن میں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دے چکے تھے۔

اسی طرح اس نواز شریف کو بھی وزیراعظم خان اپنے دور حکومت میں لندن خصوصی پروٹوکول کے ساتھ بھجواتے ہیں اور ساتھ نواز شریف کو ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا ذمہ دار بھی قرار دیتے ہیں۔ وزیراعظم خان کی سینیٹ الیکشن میں دھندے پر تابڑ توڑ حملوں کی کہانی اور پھر انہی کرداروں کے حصار میں ان کا بیٹھنا، بہت سارے سوالات کو جنم دے رہا تھا؟ وزیراعظم عمران خان کی اس بات کو بھی پوری قوم نے نوٹ کیا کہ وہ پنجاب کے بڑے ڈاکوؤں کا دفاع یوں کرتے ہیں کہ ٹی وی پروگرام کے دوران اینکر کو کہتے ہیں کہ چھوڑیں منصور کوئی اور بات کریں۔

میں خان صاحب کی انہی دھرے معیار کی کہانیوں میں الجھا ہوا تھا کہ انگریزی اخبار ڈان کے کارٹونسٹ ظہور نے میری مشکل یوں حل کر دی کہ ڈان کے ادارتی صفحہ اپنے کارٹون میں ایک ٹرک کو اپنی کچی پنسل کی کاریگری سے بنایا، پھر اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر وزیراعظم خان کو دکھایا، ٹرک کی باڈی پر لکھا کہ اپ لفٹ فنڈز فار ایم پی ایز، اس کارٹون میں دلچسپ بات یہ تھی کہ ظہور نے دکھایا کہ ٹرک کے اندر نوٹ ہیں اور بھوک اور غربت کی ماری قوم کا ایک فرد بھی دیکھ رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایک ٹرک سے ارکان اسمبلی کو فنڈز دینے کے لیے نوٹ اتار رہے ہیں، اس کے بعد ساری کہانی کھل کر کارٹون میں یوں بیان ہو گئی تھی کہ وزیراعظم عمران خان کو سینیٹ الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو فنڈز دینے کا خیال کیوں آ گیا؟

Facebook Comments HS