مہنگائی اور حکومت کی چالیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت نے اس مہینے پانچ بار پیٹرول کی قیمتیں بڑھائی ہیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھی جواز یہ پیش کر رہے ہیں کہ گزشتہ حکومت نے قرضے ہی اتنے زیادہ لیے ہوئے ہیں کہ ان کی ادائیگیوں کے لئے تیل کی قیمتیں بڑھانی پڑ رہی ہیں۔ دوسری جانب حکومت اپنے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو نوازنے کے لئے ترقیاتی فنڈز کی مد میں پچاس پچاس کروڑ روپے عنایت فرما رہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ ایک جانب تو قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے پیسے نہیں ہیں اور دوسری جانب ترقیاتی فنڈ کے نام پر پچاس پچاس کروڑ روپوں کی خطیر رقم دینا کیا پیغام دے رہا ہے۔

کیا عوامی نمائندوں کو نوازنے کے لئے عوام ہی کے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے جھکے ہوئے نحیف کندھوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ لیکن یہاں پھر ایک سوال پیدا ہو رہا ہے کہ یہ کندھے اب اتنے توانا نہیں رہے ہیں، یہ اب مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور گرانی کی وجہ سے اتنے جھک چکے ہیں کہ ملیامیٹ ہونے کے قریب ہیں۔ خدا نخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اوپر چڑھنے کے لئے جو کندھے استعمال کیے جا رہے ہیں، ان پر اتنا بوجھ نہ پڑ جائے کہ وہ بالکل ہی جھک جائیں۔

پشتو کا ایک مقولہ ہے کہ موت کا کہہ کر بخار پہ راضی کیا جائے، بالکل یہ حکومت عوام کے ساتھ کچھ اس طرح کا کھیل، کھیل رہی ہے، پہلے تیل مصنوعات کا دس پندرہ روپے مہنگا کرنے کا شوشہ چھوڑ دیتی ہے پھر دو سوا دو یا تین ساڑھے تین روپے پر آ جاتی ہے۔ اور جب یہ عمل تواتر سے ہو تو پھر بات وہی پندرہ روپے تک پہنچ جاتی ہے، فرق اتنا ہے کہ ایک ساتھ نہیں ہوتا، اور جو تکلیف دہ بات اس میں پنہاں ہے وہ یہ کہ پینتالیس روپے سے لے کر سینتالیس روپے تک اس میں عوام سے ٹیکس کی مد میں لیا جاتا ہے۔

اور مزے کی بات یہ ہے کہ جب تیل مصنوعات میں کمی کرانا ہو تو حکومت بلا کی چالاکی سے کام لیتی ہے اور یہ احسان سے لدی پھندی کمی، پیسوں میں یا زیادہ سے زیادہ روپیہ یا ڈیڑھ روپیہ تک ہوتی ہے اور پھر ان کی ساری کسر اگلی بڑھوتری میں پوری کر لی جاتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب تیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو پھر اس کا اثر روزمرہ کی استعمال کی تمام اشیاء پر پڑتا ہے اور گرانی کا گراف عمودی اور افقی دونوں صورتوں میں نمایاں ہو جاتا ہے، جس سے براہ راست غریب طبقہ متاثر ہوتا ہے جس کی آواز ویسے بھی اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچ پاتی، مزید اور دب جاتی ہے۔ بجلی، گیس، آٹا اور چینی کی قیمتیں تو ویسے بھی بے قابو ہو چکی ہیں، ڈالر محو پرواز اور روپیہ کشش ثقل کے اصول پر عمل پیرا ہے۔

اب سینیٹ کا الیکشن آنے والا ہے، خریدو فروخت کا سلسلہ پھر سے شروع ہونے والا ہے، جس کے لئے بھر پور تیاری جاری ہے، اور اس لین دین میں جو خرچہ کیا جا رہا ہے، اس کا کفارہ عوام نے ادا کرنا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ ایک مسئلے کو حل کرنے کی بجائے ایک نئے مسئلے کی داغ بیل ڈالنی پڑتی ہے یا پھر عوام کو سطحی قسم کی سرگرمیوں میں الجھا دیا جاتا ہے تاکہ اصل مسئلے سے ان کا دھیان ہٹا رہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتیں چالوں سے چلتی ہیں لیکن حکومت یہ بھی نہ بھولے کہ حکومتیں گرتی بھی چالوں سے ہی ہیں اور یہ چالیں عوام کے درمیان سے اٹھتی ہیں یا پھر عوام کی وساطت سے ہی اٹھائی جاتی ہیں کیونکہ اصل وارث یہی لوگ ہوتے ہیں جو اسی دھرتی پر رہتے ہیں اور جب آدمی کو کوئی دیوار سے لگاتا ہے تو پھر ان کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں یا تو غاصب کے پاؤں پڑ جائے یا پھر غاصب کے گلے پڑ جائے۔ حکمران ڈریں اس وقت سے جب عوام دوسرے راستے کا انتخاب کرنے کا فیصل کر لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •