کشمیریوں کو جھوٹی تسلیوں کی ضرورت نہیں
قید ہے آج بھی جنت نظیر وادی
ظلم سہہ رہی ہے شہ رگ پاکستان
فروری پھر سے آیا ، اب ہر طرف پھر سے یکجہتی کہ کھوکھلے نعرے لگیں گے کہ ہم کشمیر کے ساتھ ہیں۔ ہر ایک اپنی سیاست چمکانے کے لئے تقریر کرے گا اور واپس گھر کو لوٹ جائے گا۔ کشمیر جسے جنت نظیر وادی کہا جاتا ہے ، جسے پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے ، افسوس کے ساتھ پاکستان کی وہ شہ رگ کتنے برسوں سے ظلم و زیادتیوں کی شکار ہے۔ حیرانی اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم کچھ کرنے کی بجائے فقط نعرے ہی لگا رہے کہ کشمیر ہمارا ہے۔ کشمیر ہمارا ہے۔
مانگ رہی ہے آزادی
کشمیر کی وادی
جب سے پاکستان بنا ہے ، کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری ہے لیکن صرف یہ جدوجہد لفظوں اوریکجہتی تک ہی محدود ہے۔ میں ماضی کو کرید کر کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہتی لیکن افسوس کے ساتھ مجھے لکھنا پڑھ رہا ہے کہ ہماری یکجہتی صرف دعووں تک ہی محدود ہے اور نہیں۔
بڑی بڑی باتیں کرنے والے کبھی یہ ضرور سوچ لیں کہ قید و ظلم زیادتی ہوتی کیا ہے۔ ہم صرف چپ چاپ تماشا دیکھ کر دعوے کر دیتے ہیں۔ کبھی سوچا ہے ان ماؤں کا جو ہر روز دروازے کی چوکھٹ کے ساتھ بیٹھ کر اس انتظار میں ہوتی ہیں کہ آج ان کا بیٹا قید سے آزاد ہو کر آ جائے گا۔ بہنیں اسی آس پہ ہر روز بیٹھی ہوتی ہے کہ آج ان کہ نخرے اٹھانے والا بھائی واپس آئے گا، بٹیا اسی آس پر زندگی گزارتی ہے کہ ان کے سر پر شفقت بھرے ہاتھ پھرنے والا باپ آ جائے گا اور بیویاں اس آس پر راہ دیکھتی ہیں کہ ان کا سہاگ واپس لوٹے گا لیکن افسوس ان آسوں کے ساتھ دن سے رات اور رات سے دن ہو جاتی ہے لیکن ان کے پیارے لوٹ کر نہیں آتے۔
یہ بے خبر اپنے پیاروں کے انتظار کے دیے جلائے بیٹھی رہتی ہیں اور دوسری طرف ان کے پیارے ظلم و بربریت برداشت کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے خون سے جنت نظیر وادی کو نہلایا جاتا ہے۔
کبھی دعوے کرنے والے یہ ضرور سوچیں کہ اپنوں کو اپنی آنکھوں کہ سامنے ظلم کا شکار ہوتے دیکھنا کیسا لگتا ہے ، ہر روز اپنے پیاروں کے آنے کی امید رکھنا کیسا لگتا ہے۔ کیسا لگتا ہے اپنی عزت کو سرعام لٹتا ہوا دیکھنا۔ مجھے یہ لکھتے ہوئی اتنی تکلیف ہو رہی ہے تو سوچیں ان کا کیا حال ہو گا جو یہ سب سہتے ہیں۔
میں ایک بیٹی ہوں ، ایک بہن ہوں ، جب ان عورتوں کے بارے میں سوچتی ہوں جو کئی برسوں سے اس ظلم و زیادتی کے تحت زندگی گزار رہی ہیں، میری روح تک کانپ جاتی ہے۔
ہمیں اگر کشمیر کو اس ظلم سے نکلنا ہے تو اپنے ملک کو مضبوط کرنا ہو گا ۔ اس میں امن لانا ہو گا۔ پہلے خود کو اس قابل بنانا ہو گا کہ ہم جب کسی سے اپنی شہ رگ سے متعلق بات کریں تو ہمیں کوئی یہ طعنہ نہ دے کہ جا کر پہلے اپنے ملک کو صحیح کرو ، اس میں امن لاو ، پھر آنا کشمیر کی بات کرنے۔
اگر ہم اپنے ملک کی بات کریں تو یہاں ہر ایک اس کو لوٹنے میں لگا ہوا ہے ۔ کشمیر کو یہ لوگ فقط چند خاص دنوں میں ہی یاد کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کر کے ہر ایک اپنے گھر کا چلا جاتا ہے ، کچھ کرنا ہی ہے تو خدارا کچھ کر ہی لو ، نہیں کرنا تو یہ کشمیر کے نہتے لوگوں کو جھوٹی امید تو نہ دلاو۔ اسی امید اور اسی آس کے ساتھ وہ کتنے برس سے جی رہے ہیں اور ہماری جدوجہد لفظوں اور احتجاج تک ہی محدود ہے۔
کشمیر کا چمن جو مجھے دلپذیر ہے
اس باغ جاں فزا کا یہ بلبل اسیر ہے
ورثے میں ہم کو آئی ہے آدم کی جائیداد
جو ہے وطن ہمارا وہ جنت نظیر ہے
موتی عدن سے، لعل ہوا یمن سے دور
یا نافہ غزال ہوا ختن سے دور
ہندوستان میں آئے ہیں کشمیر چھوڑ کر
بلبل نے آشیانہ بنایا چمن سے دور

