ملزم گرفتار ہونے کے باوجود پبلک سروس کمیشن سے پیپرز کا ڈیٹا چوری
پبلک سروس کمیشن کے تین کمپیوٹرز کی فرانزک رپورٹ میں اہم انکشاف سامنے آئے ہیں، ملزم وقار سے برآمد ہونے والی یو ایس بی کی فرانزک رپورٹ نے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پبلک سروس کمیشن کے 3 کمپیوٹرز میں کب کب یو ایس بی لگی؟ پبلک سروس کمیشن کے تینوں کمپیوٹرز سے ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع اینٹی کرپشن کے مطابق پبلک سروس کمیشن کے تینوں کمپیوٹر میں 82 سے زائد یو ایس بی سینکڑوں بار لگائی گئی، کمپیوٹر ون کے ساتھ 40 سے زائد مختلف یو ایس بی سینکڑوں بار لگانے کا انکشاف، برآمد شدہ یو ایس بی میں ڈیٹا 2 جنوری کو کاپی کیا گیا جب کہ ملزم وقار اینٹی کرپشن کی تحویل میں تھا، یو ایس بی میں پبلک سروس کمیشن کے کمپیوٹر ون سے پرچوں کا ڈیٹا کس نے کاپی کیا؟ ڈیٹا فرانزک رپورٹ نے مزید سوالات پیدا کر دیے۔
تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن کے ایک سینئر افسر نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ ملزم وقار سے برآمد ہونے والی یو ایس بی میں لیک پیپرز کا ڈیٹا 2 جنوری کو کاپی ہوا۔
مذکورہ یو ایس بی دوپہر 12 بجکر 42 منٹ پر کمپیوٹر ون کے ساتھ لگائی گئی، 2 جنوری 2021 ء کو دوپہر 12 بجکر 42 منٹ پر تحصیلدار کے 4 پرچے کاپی کیے گئے، دوپہر 12 بجکر 13 منٹ پر ڈپٹی اکاؤنٹنٹ کا پرچہ بھی کاپی کیا گیا، 12 بجکر 45 منٹ پر لیکچرر ایجوکیشن، 12 بجکر 59 منٹ پر ایجوکیشن 20 / 20 ایم سی کیوز کا پرچہ کاپی کیا گیا، دوپہر ایک بجے یو ایس بی ہٹا لی گئی، یو ایس بی سے 2 آڈیو فائل اور 50 گرافکس ملے ہیں۔
اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق تین کمپیوٹرز کی فرانزک رپورٹ نے اہم رازوں سے پردہ چاک کیا ہے۔
کمپیوٹر ون میں یکم جنوری 2021 ء کو یو ایس بی لگائی گئی اور 2 جنوری کو ہونے والا تحصیلدار کا پرچہ کاپی کیا گیا، کمپیوٹر ون کے ساتھ 6 دسمبر، 7 دسمبر، 15 دسمبر، 18 دسمبر، 31 دسمبر 2020 کو یو ایس بی لگائی گئی، 3 نومبر اور 27 نومبر کو 3 مختلف یو ایس بی لگائی گئیں، 21 اکتوبر کو 9 بار یو ایس بی لگائی گئی، 22 اور 23 اکتوبر کو بھی یو ایس بی لگائی گئی۔
کمپیوٹر ٹو پر بھی 42 سے زائد مختلف یو ایس بی سینکڑوں دفعہ لگانے کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع اینٹی کرپشن کے مطابق کمپیوٹر ٹو میں 2019 ء کو صبح 10 بجکر 30 منٹ پر یو ایس بی لگائی گئی، 2 نومبر سے 15 نومبر 2017 تک 10 بار یو ایس بی لگائی گئی، اسی طرح کمپیوٹر تھری میں 4 مختلف یو ایس بی 2015 ء اور 2016 ء میں لگانے کا انکشاف ہوا ہے، براؤزنگ ہسٹری کمپیوٹر ون نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا، یکم جنوری 2021 ءشام 4 بجے تحصیلدار کے پرچے تک رسائی حاصل کی گئی، 24 دسمبر 2020 ء کو لیکچرر ایجوکیشن کے پرچے تک رسائی حاصل کی گئی، 22 دسمبر 2020 ء کو لیکچرر اکنامکس کے پرچے تک رسائی حاصل کی گئی، 22 دسمبر 2020 ء کو لیکچرر بیالوجی کے پرچے تک بھی رسائی حاصل کی گئی، 18 دسمبر 2020 ء کو لیکچرر پولیٹیکل سائنس کے پرچے تک رسائی حاصل کی گئی، 15 دسمبر 2020 ء کو لیکچرر فزکس کے پرچے تک رسائی حاصل کی گئی، 25 نومبر 2020 ء کو پاک سٹڈیز کے پرچے تک رسائی حاصل کی گئی، 17 نومبر 2020 ء کو لیکچرر عربی کے پرچے تک رسائی براؤزنگ ہسٹری میں ملی ہے۔
براؤزنگ ہسٹری کمپیوٹر ٹو نے بھی حقائق سے پردہ اٹھا دیا، 31 دسمبر 2020 ء کو صبح 11 بجکر 56 منٹ پر ”ان سیو“ کے نام سے محفوظ ڈیٹا تک رسائی حاصل کی گئی، ”ان سیو“ فائل میں تحصیلدار کے پرچے تک رسائی حاصل کی گئی، یکم جنوری 2021 ء کو شام 5 بجکر 15 منٹ کو تحصیلدار کے شام میں ہونے والے پرچے تک رسائی حاصل کی گئی، 15 دسمبر 2020 ء کو لیکچرر پولیٹیکل سائنس کے پرچے تک صبح 11 بجکر 12 منٹ تک رسائی حاصل کی گئی، 25 دسمبر 2020 ء کو پاک سٹڈیز کے پرچے تک دوپہر 4 بجکر 10 منٹ پر رسائی حاصل کی گئی، 15 دسمبر 2020 ء کو لیکچرر سائیکالوجی کے پرچے تک صبح 10 بجکر 10 منٹ پر رسائی حاصل کی گئی، 27 دسمبر 2020 ء کو تحصیلدار کا پرچہ 5 بجکر 45 منٹ پر حاصل کیا گیا۔
تحصیلدار کے فولڈر میں سوالیہ پرچہ انگلش کے نام سے محفوظ پرچے تک رسائی حاصل کی گئی، 27 دسمبر 2020 ء کو 5 بجکر 12 منٹ پر انگلش کا پرچہ حاصل کیا گیا، 24 دسمبر 2020 ء کو اسسٹنٹ کوڈ اے کے نام سے محفوظ پرچے تک 5 بجکر 19 منٹ تک رسائی حاصل کی گئی، 24 دسمبر 2020 ء کو لیکچرر پولیٹیکل سائنس کے پرچے تک ایک بجکر 38 منٹ پر رسائی حاصل کی گئی۔
براؤزنگ ہسٹری کمپیوٹر تھری میں بھی ہوشربا انکشافات سامنے آئے، یکم جنوری 2021 ء کو تحصیلدار 2 کوڈ اے کے نام سے پرچہ محفوظ کیا گیا، 24 دسمبر 2020 ء کو بائیو 2 اور بی 33 کے نام سے محفوظ پرچے تک دوپہر میں رسائی حاصل کی گئی، ملزم وقار سے برآمد ہونے والی یو ایس بی کی ڈیٹا رپورٹ فہد شہباز خان نے حاصل کرلی، ذرائع اینٹی کرپشن کے مطابق ملزم فہد کے لیپ ٹاپ سے لیک شدہ پرچوں کا کوئی مواد نہیں ملا، لیپ ٹاپ سے ملزم فہد اور ریجنل ڈائریکٹر ملزم فرقان کی چیٹ ملی ہے۔
فہد شہباز خان کی ارسال کردہ یہ رپورٹ پہلے دنیا نیوز میں شائع ہو چکی ہے۔


