محقق سے پراپرٹی ڈیلر تک کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے بھانجے نے ایک دن پوچھا۔ ماموں یہ چین والے کیسے لوگ ہیں۔ ایک دن گاڑی کے ٹائر تبدیل کروانے چاہ سلطان، راولپنڈی گیا۔ دکاندار کو پتہ چلا، کہ ہم چین میں ہوتے ہیں۔ کہنے لگا، یار چین والے بہت فراڈیے ہیں۔

ایک دن اپنی یونیورسٹی کی رینکنگ فیس بک کی وال پہ لگا دی۔ غضب خدا کا یونیورسٹی نے ایم آئی ٹی کو رینکنگ میں پیچھے دھکیلا ہوا تھا۔ ایک صاحب جو کسی پاکستانی درسگاہ میں پڑھا رہے ہیں ‌۔ ان سے وہ رپورٹ ہضم نہیں ہوئی۔ کہنے لگے یہ چین والے جعلی ریسرچ کرتے ہیں۔ ہم نے سوچا بجائے بھائی کو جواب دیں، پوسٹ ڈیلیٹ کر دیتے ہیں۔

کووڈ کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کسی یونیورسٹی میں سی وی دینے جائیں تو کہتے ہیں یار یہ چین والے بھی ہر ایک کو پی ایچ ڈی کروا کے بھیج رہے ہیں۔

آخر روزی روٹی کے لیے اپنے خاندانی کاروبار پراپرٹی ڈیلنگ اینڈ بلڈنگ کی طرف آ گئے۔ ایک دوست کو بتایا تو کہنے لگا ”یار جے انڈر میٹرک والا کم کرنا سی تے کی لوڑ سی ڈاکٹر بنن دی“ ۔

خیر ایک دن بیگم صاحبہ نے کہا تم کسی رشتے دار کے گھر نہیں جاتے۔ تمہارا دماغ خراب ہے۔ جایا کرو۔ اللہ نے تمہیں بیٹی دی ہوتی تو کچھ عاجزی آتی۔ خیر دل بڑا کر کے گیا۔ حال احوال ہوا۔ پوچھا آج کل دال روٹی کیسے کرتے ہو۔ اب ہم ذات کے مصلی۔ کبھی بیر سے بڑا پھل، مہران سے بڑی گاڑی، کھجور سے بڑی میٹھی چیز نہیں کھائی۔ ہمارے تو جب تک سولہ ریسرچ پیپر پبلش نہیں ہوئے تو یار لوگ کہتے تھے۔ کمینہ کسی سے لکھوا کے چمپئین بنا پھرتا ہے۔

جب رشتے دار کو بتایا تین کروڑ کی یہ زمین ہے۔ اس میں مجھے دس لاکھ بچا ہے۔ جس کا میں نے پلاٹ کنفرم کر کے تمام پیسے ادا کر دیے ہی‍ں، جو سوسائٹی نے کینسل کیا ہوا تھا۔ اس وقت مجھے سنتے رہے، بعد میں بیگم سے کہا۔ یار ہم نے اس کو سائنسدان سمجھا ہوا تھا۔ یہ سالا تو لمبی لمبی جھوٹی کہانیاں سنانے والا جعلی فراڈیا ڈیلر نکلا۔ بات مجھ تک پہنچی تو ہنسی کے ساتھ دکھ بھی ہوا۔

میں اس پاکستان کے ہر فرد کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم جعلی چھوٹے دل کے کنفیوز لوگ ہیں۔ جن سے کسی کی قابلیت برداشت نہیں ہوتی۔ جو قوم‌ آج تک اپنے جعلی ماضی پہ فخر، حال پہ دکھ اور مستقبل پہ چیختی ہے۔ جو قوم‌ ہزاروں سال پرانی اپنی زبان ثقافت کو ذلیل کر کے عربی، فارسی، چینی، اور انگریزی زبان کو عظیم گردانتی ہے۔ اب آپ کا دکاندار چین کا تھرڈ کلاس دس نمبر مال لا کر بیچتا ہے، تو اس میں چین کا قصور نہی‍ں ہے حالانکہ یہ چین پوری دنیا کو بہترین مال سپلائی کرتا ہے، کبھی مسائل نہیں بنے۔

آپ کے ٹیلنٹد لوگوں کوچین سکالرشپ دیتا ہے۔ وہ بہترین ریسرچ کر کے دنیا کے ایلیٹ جریدوں می‍ں اپنے مقالے شائع کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں سفارتی سطح پہ آپ فراڈیے ڈیکلیئرڈ ہیں، جبکہ پھر بھی چین نے باون ارب ڈالر کے پراجیکٹس سی پیک کی مد میں آپ کو دیے ہوئے ہیں۔ جب آپ کے عربی بھائیوں نے قرض واپسی کا تقاضا کیا تو اسی چین نے آپ کے حصے کا قرض واپس کر کے، آپ کی کاغذی عزت بچائی۔ وہ تحقیق، معاشیات، دنیا کی ہر فیلڈ میں سپرئیر ہیں۔

اگر لوکل پی ایچ ڈیز کو مقابلہ کرنا پڑتا ہے، تو انہیں ایلیٹ جریدوں میں اپنے مقالے شائع کروا کے کرنا چاہیے۔ پی ایچ ڈی ایک مکمل تحقیقی تعلیم ہے، نہ کہ رٹے لگا کے مضامین پاس کرنے کی عام تعلیم۔ چین والے ایک مکمل قوم پرست لوگ ہیں۔ وہ اپنی زبان بولتے ہیں۔ وہ اپنی بنائی چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ ان کے اپنے چینی ہیرو ہیں۔ کسی کا بنایا ہوا راکٹ اڑا کے داد نہیں سمیٹتے۔ وہ انوویٹرز، بہترین محقق ہیں، اوپریٹرز نہیں ہیں۔

وہ اپنی فیلڈ میں کام کرنے والے لوگ ہی‍ں۔ انہیں اگر کام نہیں آتا، تو وہ یہ کہتے ہوئے نہیں شرماتے ”i don’t know“ ۔ وہ دوسروں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ اپنی ڈومین اور ورک رول میں رہنے والے لوگ ہیں۔ وہ ٹیلنٹ کی قدر کرتے ہیں۔ وہ بکرا، گائے کہہ کے خنزیر، کتے، گدھے نہیں کھلاتے، وہ جعلی دوائیاں، جعلی دودھ نہیں بیچتے۔ ان کی عدالتیں آزاد ہیں۔ وہاں وکلاء گردی نہیں ہوتی۔ وہاں کے لیڈرز ذاتی مفاد کی بجائے ملکی مفاد کے لیے قربانی دیتے ہیں۔

وہاں لوگ اپنی مرضی سے اپنی تعلیمی فیلڈ کا انتخاب کرتے ہی‍ں۔ ہمارے ہاں جو بی اے کی انگلش میں دس دفعہ فیل ہو، ایل ایل بی کر کے وکیل بن جاتا ہے۔ یہاں جس لڑکی کا رشتہ نہیں ہوتا، جن لڑکوں کو نوکری نہیں ملتی وہ پی ایچ ڈی شروع کر دیتے ہیں۔ وہاں ڈاکٹریٹ کے لیے لوگ اپنی مرضی اور دلچسپی سے داخلہ لیتے ہیں۔ ان کی پولیس والے ہر جگہ ناکوں کی فیلڈنگ نہیں لگاتی۔ اگر آپ بہترین کام کریں۔ آپ کو واپس نہیں آنے دیتے۔

یہ تو پروازوں پہ پابندی ہے، جونہی پروازیں کھلیں، آپ کو یہاں ایک بھی محقق نہیں ملے گا۔ یہ پاکستانی یونیورسٹیز کے پاس بہترین وقت تھا، بین‌الاقوامی محققین‌ کو نوکریاں دے کر تحقیق سے آشنا ہوتیں، رینکنگ بڑھاتیں۔ تحقیق کے طالب علموں کو کچھ نیا سیکھنے کو ملتا۔ مگر یہاں لوکل پی ایچ ڈیز سے بیرون ملک کا ٹیلنٹ برداشت نہیں ہوتا۔ لائقوں کے آنے سے نالائقوں کو لالے پڑ جاتے ہیں۔ خیر ہمیں بھی بہت چل اٹھتی تھی محب وطنی کی، اب اس کووڈ نے بہت سی چیزیں دھو  کے ننگی کر دیں ہیں۔ کورونا نے ہمیں پاکستان میں پھنسا کر محقق سے پراپرٹی ڈیلر بنا دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “محقق سے پراپرٹی ڈیلر تک کا سفر

Comments are closed.