لگے کی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں


انسان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ اس کو کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے ، اسی طرح جنوں کے متعلق بھی فرمان ہے کہ آگ سے اور لو کے تھپیڑوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔ دنیا میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان کی پیدائش کسی نہ کسی خمیر کے نتیجے میں ہی وجود میں آتی ہے۔ کہیں بھی کوئی غلاظت پڑی ہو، کوئی جانور ہلاک ہو جائے، انسان مر جائے یا انسانوں کے بنائے ہوئے گٹر ابل پڑیں تو آخر ان سب کو مٹی بنا دینے کے عمل تک قدرت کی جانب سے ایسے انتظامات کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے یہ سب اجسام آخر کار اپنے منطقی انجام تک پہنچ ہی جاتے ہیں اور اللہ کی زمین، ہوائیں اور فضائیں آلودگیوں سے پاک صاف ہو کر اپنی فطرت کے مطابق ڈھال دی جاتی ہیں۔ کیڑے مکوڑے ہر غلاظت اور مردہ اجسام کو کھا کر خود بھی رزق خاک ہو جاتے ہیں۔ گدھ، چیلیں، کوے اور نہ جانے کتنے درندے مردہ اجسام کی ہڈیاں بوٹیاں تک چچوڑ جاتے ہیں اور اس طرح اللہ کی زمین پھر سے غلاظت اور تعفن سے پاک صاف ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں بھی جتنی سیاسی پارٹیاں اب تک وجود میں آتی رہی ہیں ، وہ بھی کسی نہ کسی توڑ پھوڑ کا نتیجہ ہی رہی ہیں۔ موجودہ حکمران پارٹی کی تعمیر خود ایک بہت بڑی توڑ پھوڑ کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے جس پر ”معمار“ کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ کیونکہ پوری کی پوری حکمران جماعت کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا جمع کر کے بھان متی کا ایک کنبہ بنائی گئی ہے ۔ اس لئے اس نے اپنی پیدائش کے پہلے ہی دن سے پورے پاکستان میں ”توڑ پھوڑ“ کے علاوہ اب تک کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں کیا جس کو قابل فخر کہا جا سکے۔ جس توڑا پھوڑی کے خمیر سے پارٹی کا اپنا وجود عمل میں آیا ہو تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اپنے خمیر کے بر خلاف کوئی کارنامہ انجام دے سکے۔

ایک ایسی پارٹی جس کے دعوے تو آسمانوں کی بلندیوں سے بھی بلند تر تھے، اس نے آتے ہی اپنے ہر دعوے کے خلاف کام شروع کیا اور ہنستے بستے گھروں اور بازاروں کو ڈھا کر کچھ معلوم نہیں کن کن معصوموں کی آہیں اپنے نامہ اعمال میں درج کرائیں۔ ملک میں ہر جانب مکانات اور بازار ڈھانے کا عمل تاحال جاری و ساری ہے لیکن کمال کی بات یہ ہے پورے پاکستان کے قریے قریے میں موجود اس پارٹی کے کسی ایک رہنما، ہمدرد یا کارکن کو اس بات پر ذرا بھی ملال نہیں ہوا کہ ہنستے بستے آشیانوں کو اجاڑ کر رکھ دیے جانے والوں کے دلوں پر کیا کیا قیامتیں گزر رہی ہوں گی اور وہ اپنے گھربار اور کاروبار کی تباہی کے بعد کس طرح گزر اوقات کر رہے ہوں گے ۔

کہتے ہیں کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوا کرتی ہے۔ یہ لاٹھی کب کسی ظالم پر برسے، اس کا پتا اس وقت چلتا ہے جب پڑنے کے بعد چودہ کے چودہ طبق روشن ہو جایا کرتے ہیں۔ پورے پاکستان میں ظلم و ستم کا کاروبار اپنے پورے عروج پر رہا لیکن حکمران پارٹی کو ذرہ برابر بھی ذہنی اذیت نہیں ہوئی بلکہ ظلم و ستم کے نتیجے میں بلند ہونے والی چیخ پکار اذیت پسندوں کے لئے وجہ تسکین و انبساط رہی۔

دلی کو کتنا ہی دور سمجھا جاتا رہے، آخر کار دلی سے دور نظر آنے والے دشمن دلی کے حکمرانوں کو لقمہ اجل بنا کر ہی دم لیتے ہیں۔ پوری پی ٹی آئی کو بھی گزشتہ 32 مہینوں سے ”دلی“ بہت ہی دور لگتا رہا۔ ان کا زعم ان کو یہی اطمنان دلاتا رہا کہ ان کی اپنی جائیدادیں مسمار کیا جانا تو دور کی بات، ان کی عمارتوں کی جانب کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا۔

خبروں کے مطابق کل اسی آگ کے شعلے جس کو پورے پاکستان میں لگانے کا سارا سہرا موجودہ حکمران پارٹی کے سر جاتا ہے، اس کے شعلے جب خود حکمران جماعت کے قبضہ مافیا کی اپنی ناجائز تعمیرات تک پہنچے اور سرکاری اہلکاروں نے بڑی بڑی دیوہیکل مشینوں سے ان کی ناجائز زمینوں پر تعمیر شدہ فارم ہاؤسز ،  دفاتر اور عمارتیں ڈھانا شروع کیں تو یہ توڑ پھوڑ ان کے سینے چیر گئی۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک حکمران جماعت نے اپنی ہی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا اور اہم ترین شاہراہ ”سپر ہائی وے“ کو کئی گھنٹوں تک بند رکھ کر اپنے ہی ملک کے عوام کو انتقام کا نشانہ بنایا۔

ایک ایسی حکمران پارٹی جس نے پورے ملک کو اجاڑ دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہو، اس کے خلاف کہیں بھی کوئی احتجاج نہ کیا ہو بلکہ اس عمل پر کھرب ہا کھرب روپے بڑے فخر کے ساتھ خرچ کر کے اسے ہر فورم پر سراہا ہو، آج جب ان کی پارٹی کے چوروں اور قبضہ مافیاؤں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں تو ایسا لگا جیسے انسانی آبادی پر ظلم کے سابقہ سارے باب ہیچ ہو گئے ہوں۔ راحت اندوری نے کیا خوب کہا کہ

لگے کی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

محاورہ بہت شستہ تو نہیں لیکن اعلیٰ قسم کی توڑ پھوڑ کے نتیجہ میں وجود میں آنے والی پارٹی کی پورے ملک میں ظالمانہ توڑ پھوڑ جیسے عمل کو مسلسل جاری رکھنے پر اگر اس محاورے کو استعمال کر ہی لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں کہ ”جس کی دم اٹھاؤ وہی مادہ“ ۔ سارے چوروں اور ڈاکوؤں کو ملا کر ایک پارٹی بنانے والے جب پاکستان میں ہر فرد و بشر کو چور اور ڈاکو کہتے پھریں گے تو مذکورہ محاورہ تہذیب و شائستگی کے دائرے میں ہی شمار ہو گا۔ پورے پاکستان کے مسمار شدہ بازاروں اور اجاڑ بستیوں سے بلند ہونے والی آہیں اور کراہیں، پی ٹی آئی کے قبضہ مافیاؤں کے ڈھائے جانے والے فارم ہاؤسز پر یہی کہتی سنائی دے رہی ہیں کہ

جو جلاتا ہے کسی کو خود بھی جلتا ہے ضرور
شمع بھی جلتی رہی پروانہ جل جانے کے بعد

Facebook Comments HS