EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بچوں میں بڑھتے ذہنی مسائل اور ان کا حل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن کا صحت مند ہونا بے حد ضروری ہے۔ معاشرہ تبھی آگے بڑھے گا جب اس میں بسنے والے لوگ صحت مند رویے اور عادات اپنانا شروع کریں گے۔ اس کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ عوام میں ان رویوں اور عادات کے حوالے سے شعور پیدا کیا جائے۔ والدین اپنے بچوں کے ساتھ ایک سرپرست کے کردار علاوہ دوستانہ تعلق بھی استوار کریں۔ ان کے ساتھ بات چیت کریں، ان کی سوچ کو جانیں اور اگر وہ کسی مسئلے یا الجھن کا شکار محسوس ہوں تو اس کو سلجھانے کی ہر ممکن کوشش کریں تاکہ بچہ اپنی الجھن یا مسئلے کے حل کے لئے کسی غلط راستے کا مسافر نہ بن جائے۔

بچوں کے والدین کو چاہیے کہ وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے ماحول کے بارے میں اچھی طرح جانیں تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ گھر سے باہر بچوں کو کن مسائل سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ اور صرف گھر سے باہر نہیں، بلکہ گھر میں رہتے ہوئے بھی اب موبائل اور انٹرنیٹ کی بدولت ایسی بہت سی معلومات بچوں کی رسائی میں آ سکتی ہے جو ان کے معصوم ذہنوں کے لئے خطرناک ہو سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں ہائی اسکول اور کالج کے طلبا میں منفی رویے اور نفسیاتی مسائل بہت کثرت سے دیکھنے میں آئے ہیں۔ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں ہمارے پاس کوئی ریسرچ یا شماریاتی جائزہ نہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے نظام تعلیم یا نظام صحت کے ذمہ دار حکام کو اس معاملے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں کہ موجودہ نسل کس سمت رواں دواں ہے۔

اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبا میں دن بدن منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال، ذہنی مسائل، اور خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ والدین، اساتذہ، روحانی پیشوا، ماہرین تعلیم و نفسیات کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے مسائل اور ان کو درپیش مختلف حالات کے مطابق ان کی کردار سازی اور اخلاقی تربیت پر توجہ دیں۔ تعلیمی اداروں میں ایسی معلوماتی نشستوں اور تربیتی ورکشاپس کا انتظام کیا جائے جو نئی نسل کی رہنمائی کر سکیں۔

والدین اور اساتذہ کو اپنی ترجیحات کا تعین سوچ سمجھ کر کرنا ہو گا۔ محض ڈگری یا سرٹیفیکیٹس کا حصول کافی نہیں، بلکہ بچے کو بہترین اخلاقیات اور اقدار سکھا کر اسے معاشرے کا ایک مثبت اور فعال کردار بنانا بھی ضروری ہے۔ ہر بچہ ڈاکٹر، انجینئر یا بینکر نہیں بن سکتا۔ اللہ نے اس میں جو خوبیاں یا صلاحیتیں رکھی ہیں، ان کو پہچانتے ہوئے اس کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کریں۔ ہو سکتا ہے کل کو وہ ایک کامیاب کاروبار کا مالک، سیاست دان، پولیس افسر ، استاد، سائنس دان، فنکار یا مصنف بن جائے۔

جذباتی تسکین کے لئے ضروری ہے کہ بچے کی نفسیاتی ضروریات کو سمجھا جائے تاکہ اسے چور رستوں کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔ غلطی ہو جانے کی صورت میں یا اگر بچہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہو جائے تو اس کو لعن طعن کی بجائے اتنا اعتماد دیں کہ وہ اپنی مشکل آپ سے بیان کر سکے۔ اس سلسلے میں ماہرین نفسیات سے ضرور رجوع کریں تاکہ وہ والدین اور بچوں کو مشکلات سے نمٹنے کے بارے میں بہترین مشورہ دے سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اسرار احمد یوسفزئی کی دیگر تحریریں