خوشی کا حصول کیسے ممکن ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پاکستان میں تاریخ بدل جاتی ہے لیکن حالات جیسے تھے ویسے ہی رہتے ہیں۔ آئیے کھوج لگاتے ہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اس ماحول میں اپنے لیے خوشی کو کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

معاشی استحکام ہمیں وہ سپرنگ بورڈ عطا کرتا ہے جس پر اچھل اچھل کر خوشی حاصل کر نے میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔ ہوس زر البتہ وہ سراب ہے جس کے تعاقب میں خوشی کی تتلی ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ خوشی کا ایک سرا ہمارے خیالات و تصورات کے ہاتھ میں بھی ہے۔ ہم جس چیز پر توجہ دیتے ہیں وہی ہماری حقیقت بن جاتی ہے۔ جب ہم اپنی نعمتوں پر فوکس کرتے ہیں تو ہم اطمینان قلب سے ہم کنار ہوتے ہیں اور جب ہم اپنی محرومیوں کی گنتی کرتے ہیں تو بے اطمینانی کا زہر ہمارے وجود میں اترنا شروع ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں فی الحال تو خارجی حقائق اور بیرونی حالات کا عوام الناس کے لیے بدلنا دشوار ہے۔ اس لیے عام پاکستانی کو اپنے دستیاب حالات میں حصول مسرت کے لیے جو کچھ انفرادی طور پر اس کے اختیار میں ہے ، کم از کم وہ تو کرنا چاہیے بشرطیکہ وہ خوشی حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا/ رکھتی ہو۔ وسائل اور اخراجات میں توازن خوشی کی نیلم پری سے ہم کلام ہونے کی سعادت عطا کرتا ہے۔ بھیڑ چال کا شکار ہو کر غیر ضروری اخراجات کو بڑھاتے چلے جانا خوشی کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتا ہے۔

عام آدمی جب اپنے گھر کی افرادی قوت کو یہ سوچ کر بڑھاتا ہے کہ جتنے زیادہ ہاتھ ہوں گے اتنا ہی گھریلو آمدنی میں اضافہ ہو گا تو جلد ہی اس کا تجربہ گواہی دیتا ہے کہ کمانے والے ہاتھوں کے ساتھ کھانے والے منہ بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ قابل قدر روزگار کے حصول کے لیے منڈی کی معیشت میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جانے والی صلاحیتوں کا حامل ہونا ضروری ہے۔ یہ صلاحیتیں بازار میں مفت نہیں ملتیں، ان کا حصول مہنگے داموں ممکن ہوتا ہے۔

پاکستان کے عام آدمی کے پاس ان قابل قدر صلاحیتوں کو حاصل کرنے کے لیے نہ ہی کوئی طلب موجود ہے اور طلب اگر پائی بھی جاتی ہو تو اس کے پاس قوت خرید ہی موجود نہیں ہے جو ان قابل قدر صلاحیتوں کو خریدنے کے لیے موجود ہونی چاہیے۔ اس لیے کمائی کر نے والے ہاتھ کماتے کم ہیں جبکہ ان کے جینے کا خرچہ زیادہ ہوتا ہے۔ اسی سبب ان کے گھریلو بجٹ خسارے کا شکار ہو جاتے ہیں اور یوں معاشی تنگ دستی خوشی کے حصول کے لیے ناگزیر سپرنگ بورڈ کا خریدنا ناممکن بنا دیتی ہے۔

گھریلو ناچاقی جو معاشی بدحالی کا نتیجہ ہے خوشی کو کوسوں دور لے جاتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اپنے گھر کی افرادی قوت کو اتنا ہی بڑھانا چاہیے جتنا گھر کی چادر ہے۔ گھر کے اتنے افراد نہیں ہونے چاہئیں کہ ان کے سر ڈھانپیں تو پاؤں چادر سے باہر نکل جائیں اور پاؤں ڈھکے رہیں تو سر برہنہ ہو جائیں۔ ویسے بھی پاکستان میں وقت آن پہنچا ہے کہ ہم اب مقدار کی بجائے کوالٹی پر فوکس کریں۔ گدھوں کی بجائے گھوڑوں کی افزائش نسل کریں۔

وہ لوگ جن کی ساری توجہ اپنے اوپر مرکوز ہوتی ہے ان کے دل مسرور نہیں ہو سکتے ہیں۔ اپنے آپ میں گم رہنے والوں کے لئے قرار نہیں ہے۔ جب توجہ کا رخ خارج کی طرف ہو گا تو خوشی کا حصول ممکن ہو سکے گا اور جب انسان ہر وقت اپنے دکھوں اور مصیبتوں پر کڑھتا رہے گا تو اس کے مصائب کو ضرب لگنا شروع ہو جائے گی۔ جب ہم کسی اعلیٰ آدرش کے لیے زندہ رہتے ہیں تو ہماری بیٹریاں چارج رہتی ہیں اور جونہی ہماری توجہ کا چراغ ہماری اپنی ذات تک محدود ہو جاتا ہے تو ہماری زندگی کی حرارت سکڑنا شروع ہو جاتی ہے۔

جب ہم دوسروں سے توقعات وابستہ کر لیتے ہیں تو توقعات کے پورے نہ ہونے پر ہمیں اداسی گھیر لیتی ہے۔ بانو قدسیہ اپنے ٹی وی کھیل ”چٹان پر گھونسلہ“ میں لکھتی ہیں کہ ”توقعات کا کچھ پتہ نہیں چلتا کس وقت کیسے یہ دل میں پروان چڑھتی ہیں۔ بالکل ٹھہرے ہوئے پانیوں پر جیسے کائی آہستہ آہستہ نامعلوم طریقے سے چڑھ جاتی ہے۔ دل کا شفاف پانی کسی بھی توقع کی وجہ سے متعفن ہو سکتا ہے۔“ نیکی کر کے دریا میں ڈالنے کا حوصلہ ہو تو نیکی کرنی چاہیے نہیں تو نیکی کے بھاری پتھر کو چوم کر نیچے رکھ دینا چا ہیے۔

یہ دنیا اور اس میں بسنے والے لوگ اس لیے تخلیق ہی نہیں ہوئے کہ ہماری توقعات پر پورا اتریں۔ معلوم نہیں تخلیق کائنات کا کوئی مقصد ہے بھی کہ نہیں لیکن اتنا تو طے ہے کہ اس تخلیق کا کوئی تعلق ہماری توقعات کی تکمیل سے ہرگز نہیں ہے۔ ہر انسان کی بھی اپنی کائنات ہے۔ وہ بھی اس دنیا میں اپنی مرضی کرنے آیا ہے۔ ہماری مرضی کی پیروی کرنے کے لئے خلق نہیں ہوا ہے۔

جب ہم اپنی رضا مندی سے یہ تسلیم کر لیں گے کہ ہمیں حیات یہاں لے کر آئی ہے اور قضا یہاں سے لے کر چلی جائے گی تو خوشی مل جائے گی۔ جب ہم پیدائش کے وقت پیدا ہونے کے لیے تیار ہوں گے اور وقت رخصت رخصتی کے لیے تیار ہوں گے تو ہمیں خوشی مل جائے گی۔ زندگی کی منہ زور آبشار کے سامنے جب ہم پتھر بن کر مزاحمت کریں گے تو خوشی کا حمل ضائع ہو جائے گا۔ البتہ اگر ہم خس و خاشاک کی صورت اختیار کریں گے تو پانی کے سینے پر ہماری تاج پوشی کی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •