ضمیر کا سودا سپیکر ہاﺅس میں ہوا، اسد قیصر اور پرویز خٹک بھی موجود تھے: سابق رکن اسمبلی زاہد درانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارچ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں ضمیر کا سودا کرنے والوں کی ویڈیو سامنے آنے پر پی ٹی آئی سے نکالنے گئے سابق ایم پی اے زاہد درانی نے نئے انکشافات کر دیئے ہیں ۔

سابق ایم پی اے زاہد درانی نے نجی ٹی وی جیونیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ویڈیو اڑھائی سال پرانی ہے اور یہ ملاقات سپیکر ہاﺅس میں ہوئی جس میں پرویز خٹک بھی موجود تھے۔ اڑھائی سال بعد ویڈیو ریلیز ہوئی ہے۔ اس ملاقات میں سارے ہی موجود تھے، سپیکر سمیت وزیراعلیٰ اور اپوزیشن کے ارکان بھی آ رہے تھے۔ پورا میلہ لگا ہواتھا۔ انہوں نے ہمیں وہاں روک رکھا تھا کہ آپ نے تین مارچ تک یہاں سے باہر نہیں جانا، آپ کھائیں پئیں اور سو جائیں۔

زاہد درانی کا کہنا تھا کہ میں سور ہا تھا۔ انہوں نے بلیک میلنگ کرنے کے لئے کیمرہ فکس کر رکھا تھا۔ جب مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے کہا کہ آئندہ الیکشن نہ لڑ سکوں تو بے شک مجھے ٹکٹ نہ دیں، میں آپ سے پیسے نہیں لوں گا۔ میں نے پارٹی کو ووٹ دینا ہے اور دوں گا۔ ہمارے پینل سے ایوب آفریدی امیدوار تھے اور وہ کامیاب بھی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق نگراں وزیراعلیٰ منصور آفریدی کے ساتھ پچاس سے ساٹھ کروڑ میں ڈیل ہوئی اور پھر ان کی ویڈیو لیک ہوئی تھی جو کہ عمران خان تک پہنچیں تو انہوں نے کہا کہ اسے ڈراپ کر دیں۔ بہت سے لوگ گواہ ہیں کہ اس وقت کے وزیراعلیٰ یہ سارا معاملہ خود دیکھ رہے تھے۔

ان کا کہناتھا کہ یہ ڈیل تھی کہ سینیٹ کا ٹکٹ ایسے بندے کو نہیں دینا جو مالدار نہ ہو۔ فی سینیٹر 35 سے 40 کروڑ روپے لیے گئے۔ ان کا پی ٹی آئی سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا۔ ٹکٹ دینے میں ڈیلنگ ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply