الربا: قرآن و سنت کی روشنی میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ تعالی نے ہماری معاشی زندگی کے لیے چند بنیادی اصول طے کر دیے ہیں جن کی بنیاد پر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو استوار کر سکتے ہیں اور ان اصولوں کی روشنی میں اپنے معاشی معاملات کی حلت و حرمت کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں پہلا بنیادی اصول معاشرے میں عدل اور انصاف کا قیام ہے اور یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک معاشی زندگی کو ظلم اور استحصال کے عناصر سے پاک نہ کر دیا جائے۔

ارشادخداوندی ہے:

’’ہم نے اپنے رسولوں کو روشن نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں‘‘ (الحدید 25)

عدل اجتماعی کے پہلے اصول سے ماخوذ اور معاشی زندگی کا بنیادی شرعی قاعدہ یہ ہے کہ انسان صرف وہی مال لے جو اس کے لیے جائز ہو اور وہ دوسروں کے مال پر دست درازی نہ کرے۔

ارشادخداوندی ہے:
’’ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاو‘‘ (نساء 29)

سورہ نساء کی یہ آیت ہمارے معاشی معاملات میں حلال اور حرام کی بنیاد ہے۔ اسلام کے دیگر معاشی احکام مثلاً ربا، رشوت، چوری، غبن اور ذخیرہ اندوزی کی ممانعت، اسی آیت کی تشریح ہیں۔

ان دو بنیادی اصولوں کی پیروی اور ہمارے نفس میں ودیعت کردہ نیکی اور بدی کے شعور کی بناء پر ہم باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے ربا سے کیونکر منع کیا ہے اور آج کے دور کا بینکنگ انٹرسٹ ربا ہے کہ نہیں ہے۔

لغۃً ربا کے معنی زیادتی یا اضافہ کے ہیں۔ قرآن میں ربا کی حرمت کے حوالے سے جو آیات ہیں ان میں ربا، الف لام کے ساتھ، الربا آیا ہے۔ یعنی اس سے کوئی خاص قسم کا اضافہ مراد ہے جو شرعاً حرام قرار دیا گیا ہے۔

ربا کے متعلق قرآن کا تفصیلی اور حتمی بیان تیسرے پارے میں سورہ بقرہ کے اڑتیسویں رکوع میں ہے۔ ربا کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے اس پیرائے اور ترتیب کو مدنظر رکھنا ضروری ہے جس میں قرآن نے اسے بیان کیا ہے۔ چھتیسویں رکوع سے اللہ تعالی نے اس موضوع کی جو تمہید باندھی ہے اور اڑتیسویں رکوع میں جس سیاق و سباق کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے ، اسے اگر پیش نظر رکھا جائے تو ربا کے مسئلے کو سمجھنے میں کوئی دقت نہیں رہتی۔

سورہ بقرہ کے چھتیسویں رکوع کا آغاز ان آیات سے ہوتا ہے:

’’ان لوگوں کے مال کی تمثیل جو اپنے مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانے کے مانند ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں اور اس کی ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ اللہ برکت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اللہ بڑی گنجائش والا اور علم والا ہے‘‘ ( 261) ’’جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے پیچھے نہ احسان جتاتے نہ دل آزاری کرتے، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔ اور نہ تو ان کے لیے کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘ (آیت 262)

سینتیسویں رکو ع میں انفاق فی سبیل اللہ کی یہ تلقین جاری رہتی ہے:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔‘‘ ( 267)

خیرات اور صدقات کی اس ترغیب کے بعد اڑتیسویں رکوع میں ربا کا ذکر کا ذکر یوں کیا گیا ہے:

’’جو لوگ اپنے مال رات اور دن، پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے اور نہ ان کے لیے خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘ ( 274) ’’(اس کے برخلاف) جو لوگ ربا کھاتے ہیں، وہ قیامت میں اٹھیں گے تو بالکل اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے اپنی چھوت سے پاگل بنا دیا ہو۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے کہا ہے کہ بیع بھی تو آخر ربا ہی کی طرح ہے اور تعجب ہے کہ اللہ نے بیع کو حلال اور ربا کو حرام ٹھیرایا ہے۔(اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ نے اسے حرام ٹھیرایا ہے) ، لہٰذا جسے اس کے پروردگار کی تنبیہہ پہنچی اور وہ باز آ گیا تو جو کچھ وہ لے چکا، سو لے چکا، (اس کے خلاف کوئی اقدام نہ ہو گا) اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو (اس تنبیہہ کے بعد بھی) اس کا اعادہ کریں گے تو وہ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ ( 275)

’’اللہ ربا کو گھٹائے گا اور صدقات کو بڑھائے گا، اور اللہ ناشکروں اور حق تلفوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ ( 276) ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے بھلے کام کیے، نماز کا اہتمام کیا، زکوٰۃ ادا کی، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔نہ ان کے لیے کوئی اندیشہ ہو گا نہ ان کو کوئی غم لاحق ہو گا‘‘ ( 277) ’’اے ایمان والو، اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور جو ربا تمہارا باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو‘‘ (278) ’’لیکن اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ اوراس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبردار ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو تو تمھاری اصل رقم کا تمھیں حق ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو گے، نہ تم پر ظلم کیا جائے گا‘‘ (279) ’’اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو فراخی تک اس کو مہلت دو اور بخش دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم سمجھو‘‘ (280)

ان تین رکوعوں کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں اصل موضوع انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ لوگوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ محتاجوں کی ضروریات زندگی کے لیے محض رضائے الہی کی خاطر مال خرچ کریں۔ صدقات و خیرات پر ایمان والوں کو ابھارتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ ان کا اجر خدا کے ہاں ضائع نہیں ہو گا اور وہ لوگ آخرت میں سرخرو ہوں گے۔

غریبوں اور تنگ دستوں کے لیے صدقہ و خیرات کرنے والوں کے تقابل میں ربا لینے والے افراد کا ذکر کیا گیا ہے جو ان مجبور لوگوں پر خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی بجائے ان کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ظالمانہ شرائط پر قرض دے کر اس پر ربا وصول کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے ظالم شخض کون ہو گا جو صدقات کے مستحق لوگوں کا معاشی استحصال کر کے اپنی تجوریاں بھرے، لوگوں کی بدحالی کو اپنی خوشحالی کے لیے استعمال کرے، اور محتاجوں کی بے بسی کو اپنی دولت مندی کا ذریعہ بنائے۔

ایسے ظالم لوگوں کو نہ صرف جہنم کی وعید سنائی گئی ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ایسے لوگوں کے خلاف اعلان جنگ بھی کیا گیا ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالی نے مخبوط الحواس قرار دے کر اپنے طرز عمل سے رجوع کرنے کے لیے کہا ہے کہ وہ ان مجبور لوگوں کو اصل رقم کی واپسی کے لیے بھی تنگ دستی کی صورت میں مہلت دیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے قرض کو صدقے میں بدل کرمعاف ہی کر دیں۔

سورہ بقرۃ کی آیات ربا کے شان نزول کے متعلق عطاء اور عکرمہ کا قول ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ اور حضرت عثمان بن عفانؓ کے متعلق نازل ہوئی۔ یہ دونوں حضرات کھجور کی فصل کی بیع سلف (نقد رقم دے کر مستقبل کی پیداوار کی پیشگی خریداری) کا معاملہ کرتے تھے۔ جب فصل کی تیاری کا وقت آ جاتا تو کھجور والا کہتا کہ اگر آپ لوگوں نے اپنا پورا حق لے لیا تو میرے بال بچوں کے لیے کیا بچے گا، اس لیے صرف آدھی کھجوریں لے لیجیے، بقیہ آدھی کو دگنی کر کے آئندہ فصل میں لے لیجیے گا۔ اس پر بات طے ہو جاتی اور جب مقررہ وقت آتا تو یہ لوگ اضافے کے طالب ہوتے۔ جب یہ بات حضور ﷺ کو پتا چلی تو حضورﷺ  نے منع فرمایا اور اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی۔

قرآن کریم نے ربا خوروں کے اس دعوے کو سختی کے ساتھ مسترد کیا ہے کہ تجارت بھی ربا کی طرح ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ربا اور تجارت سے حاصل شدہ منافع میں واضح فرق ہوتا ہے :

1۔ تجارت میں منافع کا تعین مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور اشیاء کی طلب اور رسد سے طے ہوتا ہے جبکہ ربا کی شرح کا فیصلہ ضرورت مند کی مجبوری کی شدت اور ربا خور (یوزرر) کی ذاتی صوابدید پر ہوتا ہے۔

2۔ تجارت میں امیر اور غریب دونوں کو اشیائے صرف مارکیٹ میں عموماً اًیک ہی قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں جبکہ ربا کی استحصالی شرح کا شکار صرف تنگ دست اور مجبور ہی ہوتا ہے۔ ایک سرمایہ کار کیونکر ایسی شرح پر قرض لے گا جو اس کے متوقع منافع سے زیادہ ہو۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اگر تجارت میں بھی منافع کی شرح کو کسی ضرورت مند کی مجبوری سے ناحق فائدہ اٹھانے کے لیے بڑھا دیا جائے تو وہ منافع بھی ربا کی طرح ہی ناجائز اور حرام ہو گا۔

سورۃ آل عمران میں اللہ تعالی نے ربا کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
’’اے ایمان والو! یہ دگنا چوگنا بڑھتا ہوا ربا نہ کھاؤ۔ اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘ (130، 3)

سورہ بقرہ اور آل عمران کی ان آیات کی روشنی میں ربا کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے:

ربا وہ مالی زیادتی ہے جو محتاج اور ضرورت مند لوگوں کو قرض دے کر اس پر ظالمانہ شرح اضافہ کے تحت وصول کی جائے۔

ربا کے معاملے میں جو احادیث ہیں وہ عمومی طور پر دست بدست معاملات کے بارے میں ہیں ، اس لیے ان سے قرض والے معاملات کے حوالے سے مسائل کی تخریج غلطی پر مبنی ہے۔

سنن نسائی (کتاب البیوع) میں حضرت اسامہ بن زید ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ربا صرف ادھار میں ہے‘‘

صحیح مسلم (کتا ب المساقاۃ) میں حدیث ہے:
’’دست بدست معاملات میں ربا نہیں ہے‘‘

جو روایات کچھ صحابہ سے دست بدست معاملات میں ربا کے متعلق منقول ہوئی ہیں ، وہ اصل میں بیع مراطلت (بارٹر) اور بیع صرف (کرنسی ایکسچینج) کے متعلق ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے کچھ مواقع پر بعض اشیا (کھجور، جو، نمک اور گیہوں ) میں باہمی تبادلے کے ایسے معاملات سے منع فرمایا ہے جن سے کسی فریق کا نقصان ہونے کا احتمال تھا۔ اس کے علاوہ سونے اور چاندی کے غیر مساوی سکوں اور زیورات میں لگے ہوئے موتیوں اور نگینوں کی وجہ سے اصل قدر کے تعین میں مسائل کی بنا پر ان کے تبادلے کے معاملات میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی تھی۔

یہ روایات اس طرح سے خلط ملط ہو گئی ہیں کہ ان سے قرض اور ربا کے مسئلے میں محض الجھاؤ ہی پیدا ہوتا ہے اور ان کی تفہیم اور ان کا انطباق ایک لاینحل معما ہے اور ان سے موجودہ دور کے انٹرسٹ کے مسئلے کو سمجھنے میں کوئی مدد بھی نہیں ملتی۔ اس لیے ربا الفضل کے معاملات سے اس بحث میں صرف نظر کیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply