بینک کا سود حرام نہیں ہے [حصہ سوم]۔
قرآن و سنت کا منع کردہ ربا (یوزری) ، جیسا کہ پچھلے کالم میں وضاحت کی گئی ہے، محتاج لوگوں کو قرض دے کر ان کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے استحصالی شرح اضافہ وصول کرنے کا نام ہے۔ یوزری، اسلام کی طرح، دنیا کی تمام تہذیبوں اور مذاہب میں بھی یکساں طور پر ایک نا پسندیدہ عمل رہا ہے کہ دنیا میں کسی معاشرے کا اجتماعی ضمیر غریب افراد کے مالی استحصال کو گوارا نہیں کر سکتا۔ لیکن جب ہم آج کے دور کے بینکنگ سسٹم میں لیے اور دیے جانے والے انٹرسٹ کے حوالے سے دنیا میں دیگر اقوام کے تصور اور طرزعمل کا تقابلی جائزہ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت کے رویے سے کرتے ہیں تو ایک مختلف صورتحال نظر آتی ہے۔ ہمارے بیشتر علما اس انٹرسٹ کو ربا کے مترادف اور حرام سمجھتے ہیں اور اس کے کسی متبادل کی تلاش میں ہیں، جبکہ باقی دنیا عمومی طور پر بینکنگ انٹرسٹ کے لینے اور دینے میں اخلاقی لحاظ سے کوئی قباحت نہیں سمجھتی۔
Read more
