رُودادِ سفرِ حجاز کی آخری قسط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


درود پاک پڑھتے ہوئے نیچے جھک کر ہم غار میں داخل ہوئے اور غار کی زیارت کی۔ غار ثور غار حرا سے کشادہ ہے۔ آدمی یہاں بیٹھ اور لیٹ سکتا ہے مگر سیدھا کھڑا نہیں ہو سکتا، البتہ جھک کر کھڑا ہو سکتا ہے۔ کچھ پاکستانی مرد ابھی بھی وہاں لیٹے ہوئے تھے۔ چشم تصور سے نبی پاک ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیؓق کو اس غار میں بیٹھے دیکھا۔ حضرت ابو بکؓر اللہ کے نبی ﷺ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر اس غار تک لائے تھے، ان کی ہمت کو داد دی۔

انہوں نے غار کی صفائی کی، کپڑا بچھا دیا اورپ ﷺ کو آرام فرمانے کے لئے کہا۔ آپ ﷺ کی آنکھ لگ گئی اور آپ ﷺ کا سر مبارک حضرت ابوبکؓر کی گود میں تھا۔ انہوں نے ایک سانپ کا بل دیکھا جس میں سے سانپ سر نکال رہا تھا۔ حضرت ابو بکؓر نے اپنی ایڑھی اس سوراخ پر رکھ دی، سانپ نے ان کو ڈس لیا۔ تکلیف کی شدت سے حضرت ابو بکؓر کے آنسو نکل آئے اور حضور ﷺ کے چہرۂ اقدس پر گرے تو ان کی آنکھ کھل گئی۔ استفسار کرنے پر جب صورت حال معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنا لعاب مبارک اپنے یار غار کی ایڑھی پر لگایا تو اللہ کے حکم سے وہ با لکل ٹھیک ہو گئے۔

ایک کونے میں ایک سوراخ موجود تھا، شاید یہ وہی سوراخ ہو، واللہ علم۔ یہ غار اندر سے کچھ گہرائی میں ہے اور اندر بیٹھنے والے باہر پھرنے والوں کے قدموں کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے اس غار کے چاروں طرف گھوم کر جائزہ لیا اور تصور کیا جب سارا واقعہ پیش آیا ہو گا، کفار مکہ آپ ﷺ کی تلاش میں جب یہاں پہنچے ہوں گے تو اسی طرح گھوم کر ان کو ڈھونڈ رہے ہوں گے۔ حضرت ابو بکؓر دشمنوں کی آوازیں سن کر ڈر رہے تھے، مگر اللہ کے نبی ﷺ ان کو دلاسا دے رہے تھے کہ ڈرو مت، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ بے شک اللہ ان کے ساتھ تھا۔ سبحان اللہ۔

ہم نے وہاں بنے ہوئے ایک بقالے سے چائے لے کر پی اور پانی کی نئی بوتلیں خریدیں، پھر واپسی کا ارادہ کیا۔ سورج غروب ہونے سے پہلے پہاڑ سے نیچے اتر جانا بہتر تھا ورنہ اندھیرے میں کوئی حادثہ پیش آ سکتا تھا۔ ہم آہستہ آہستہ نیچے اترنے لگے، چڑھائی کی نسبت اترائی آسان تھی۔ نیچے اتر کر اللہ کا شکر ادا کیا، دوبارہ ایک ٹیکسی 16 ریال میں لی، راستے میں ہی مغرب کی اذانیں ہو نے لگیں، کمرے تک پہنچنے میں نماز قضا ہو چکی تھی، لہٰذا عشا کے ساتھ ملا کر مغرب بھی پڑھی۔

تھکاوٹ بہت زیادہ ہو چکی تھی، درد کی گولیاں کھائیں اور ٹانگوں پر پین کلر جیل لگائی اور کھانا کھا کر سو گئے۔ اگلے دن ہماری رہائش گاہ میں ایک نیا نوٹس لگ چکا تھا کہ 12 دسمبر بروز ہفتہ ہماری روانگی مدینہ کی طرف ہو گی، اور 11 دسمبر بروز جمعہ نماز وشا کے بعد مفتی صاحب آداب مدینہ کے موضوع پر حجاج کرام سے خطاب فرمائیں گے۔ لہٰذا مقررہ وقت پر مفتی صاحب نے آداب و فضائل سفر مدینہ پرخطاب فرما کر حجاج کرام کو اس سفر کے لئے تیار کیا۔

12 دسمبر بروز ہفتہ ہمارا سامان بعد نماز عصر بسوں میں لوڈ کر دیا گیا اور ہمیں بھی مغرب سے کچھ دیر پہلے بسوں میں بٹھا دیا گیا۔ ہم وضو کر کے اور حاجت کے نفل پڑھ کر اگلی منزل کے لئے بسوں میں سوار ہو گئے۔ مغرب اور عشا کی نمازیں بس میں ہی ادا کیں البتہ مرد حضرات نے ایک مقام پر گاڑی روک کر با جماعت نماز ادا کی۔ ساری رات سوتے، جاگتے، سفر میں گزری۔ فجر کی نماز کے وقت ہم اپنے ہوٹل مدینہ پہنچ گئے مگر سامان کی وصولی میں بہت دیر لگی۔

ہوٹل میں دیگر کئی مکاتب بھی ٹھہرنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ یہ 4 سٹار ہوٹل تھا اور مسجد نبوی سے بہت قریب تھا۔ اب مسئلہ سامان کو کمروں تک پہنچانے کا تھا۔ دو عدد لفٹ ہونے کے باوجود ناکافی محسوس ہو رہی تھیں اور ایک بھگدڑ مچی ہوئی تھی، ہر کوئی جلدی اپنے کمرے میں پہنچنا چاہتا تھا۔ سب لوگوں کو ان کے کمروں کی چابیاں دے دی گئی تھیں۔ ہمارا کمرہ فلور نمبر 10 پر تھا۔ میں اور سمیعہ واش روم جانا چاہتے تھے اس لئے منصور نے کہا کہ آپ لوگ سیڑھیوں کے راستے اوپر کمرے میں چلے جائیں، میں بعد میں سامان لے کر آ جاؤں گا۔

ہم نے کمرے میں جا کر نماز ادا کی۔ ساری رات جاگنے کی وجہ سے تھکاوٹ اور نیند کا غلبہ ہو نے لگا، ہم دونوں بہنیں سو گئیں، منصور بے چارہ سامان ڈھوتا رہا، اللہ کریم اس کو جزائے خیر عطا کے، آمین۔ تقریباً دو گھنٹے سونے کے بعد ہم جاگے، ہلکا سا ناشتہ کیا اور با وضو ہو کر مسجد نبوی ﷺ کا رخ کیا۔ تحیۃ المسجد کے نفل ادا کیے اور ظہر کی نماز پڑھی۔ وہاں خواتین کے لئے چند حصے مخصوص ہیں اور پردے کا معقول انتظام ہے۔ لوگ مختلف دروازوں سے داخل ہوتے ہیں۔

ہماری رہائش گاہ سے باب عثمان قریب پڑتا تھا۔ ہم وہیں سے آمد و رفت کرتے تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ خواتین کو روزانہ تین مرتبہ ریاض الجنۃ میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔ نماز فجر کے بعد دوگھنٹے کا وقت، ظہر کے بعد ایک گھنٹے کا وقت اور پھر نماز عشا کے بعد رات ساڑھے گیارہ بجے تک کا وقت۔ ہمیں لگا کہ عشا کے بعد کا وقت مناسب رہے گا، کیونکہ پہلی مرتبہ روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دینی ہے اور جنت کے ٹکڑے پر قدم رکھنے ہیں تو ذرا تسلی سے جانا چاہیے۔

تمام نمازیں مسجد نبوی میں ادا کیں، عشا کے بعد روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کے لئے تیار ہو گئے۔ مختلف ممالک سے آئی ہوئی خواتین کی راہنمائی کے لئے مدینہ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ بہت سی لڑکیاں جو عربی کے علاوہ بہت سی زبانیں جانتی تھیں، وہاں ڈیوٹی دے رہی تھیں۔ انہوں نے تمام ممالک کی خواتین کو الگ الگ ٹولیوں میں بانٹ کر گروپس بنا دیے پھر انہیں ان ہی کی زبان میں اہم اور ضروری باتیں مسجد نبوی ﷺ کے آداب و فضائل اور شرک و بدعت کے حوالے سے دیگر مسائل سمجھائے۔

جاتا ہے ۔ ہم بھی اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے درجہ بدرجہ آگے بڑھتے رہے۔ حتٰی کہ ایک مقام پر نظر روضۂ رسولﷺ پر پڑ گئی۔ زبان پر تو پہلے ہی درود پاک کا ورد جاری تھا، دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ دل کہہ رہا تھا کہ یا اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آج تو نے اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں پر پہنچنے کے لئے ساری دنیا کے مسلمان زندگی بھر ترستے اور تڑپتے ہیں، میرا بدن بھی لرز رہا تھا، قریب کھڑی گائیڈ لڑکی کا ہاتھ میں نے تھام لیا اور میری گرفت مضبوط ہو گئی، اس نے میری کیفیت کو محسوس کر لیا اور الحمد ا للہ، الحمدا للہ کا ورد کرنے لگی۔

خدا خدا کر کے ریاض ا لجنۃ میں داخل ہوئے، اپنی قسمت پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا، نوافل پڑھے، سجدے میں جا کر ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے، زندگی بھر کے گناہوں کی اللہ سے رو رو کر معافیاں مانگیں۔ اور کہا کہ اے باری تعالٰی! جس طرح تو نے اس جنت کے ٹکڑے میں داخل کیا ہے، یا اللہ! اسی طرح قیامت کے دن مجھے جنت میں داخل کر دینا۔ جیسے آج میں تیرے محبوب ﷺ کے روضے پر کھڑی سبز گنبد کو تک رہی ہوں، اسی طرح قیامت کے دن سرکار ﷺ کی شفاعت نصیب فرما دینا۔

دل کی حالت قابو اور بیان سے باہر تھی۔ ہر کوئی اللہ سے باتیں کر رہا تھا، دعائیں مانگ رہا تھا، رو رو کر معافیاں مانگ رہا تھا۔ میں اپنا آپ بھول گئی تھی۔ کچھ لوگ یہاں بھی دھکم پیل کر رہے تھے، راہنما لڑکیاں ہمیں جلدی باہر نکلنے کے لئے کہہ رہی تھیں، مگر دل کو تسلی نہیں ہو رہی تھی، زندگی بھر کی پیاس چند منٹوں میں تو نہیں بجھ سکتی تھی۔ لیکن دوسروں کو بھی موقع دینے کے خیال سے باہر آنا ہی پڑا۔ خواتین کی جانب سے روضۂ رسولﷺ پوری طرح نظر نہیں آتا اور قناعتیں لگانے کی وجہ سے بھی کافی چھپ گیا تھا۔

میں جی بھر کے ستونوں اور رسول پاک ﷺ کے ممب مبارک کو دیکھ بھی نہ پائی تھی، روتی بلکتی، دعائیں کرتی باہر نکل آئی۔ پھر باہر کھڑے ہو کر مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتی رہی۔ ریاض الجنۃ سے باہر اچانک نظر اوپر اٹھی تو سبز گنبد سامنے نظر آیا۔ درود شریف پڑھتے ہوئے، آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے آہستہ قدموں سے میں واپس چلی آئی۔ نہ جانے بہن کہاں تھی۔ میں واپس خواتین والے حصے میں آ کر شکرانے کے نفل پڑھ کر بہن کا انتظار کرنے لگی۔ جب وہ کافی دیر بعد لوٹی تو ہم ہوٹل واپس آئے اور کھانا کھا کر سو گئے۔

مدینہ میں ہمارا قیام 8 دن کا تھا، اس دوران ہمارا معمول یہی رہا ہم تہجد اور فجر پڑھ کر واپس کمرے میں آ جاتے، کچھ دیر آرام کرتے، ظہر سے پہلے دوبارہ مسجد نبوی ﷺ میں جاتے اور عشا تک وہیں قیام کرتے، عشا کے بعد کسی پاکستانی ہوٹل سے کھانا کھاتے۔ اس دوران مدینہ کی گلیوں میں گھومتے ہوئے اکثر مجھے قاری وحید ظفر قاسمی کی نعت یاد آجاتی۔

؎ ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے، اور گلیوں میں قصداً بھٹک جائیں گے
ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے

دل تو ہمارا بھی یہی چاہتا تھا کہ ان مقدس گلیوں کو چھوڑ کر نہ جائیں مگر ہمیں با لآخر واپس آنا ہی تھا۔ مدینہ میں ہم نے روزے بھی رکھنے شروع کر دیے تھے، رات کا کھانا کھا کر سو جاتے اور سحری میں صرف چاے ت کے ساتھ چند بسکٹ یا باقر خانی کھا کر روزہ رکھ لیتے۔ واپسی کے دن قریب آرہے تھے۔ ایک اور نعت کے اشعار میرے ذہن میں گونجتے اور میرے دل کی ترجمانی کرتے محسوس ہوتے۔ بقول شاعر۔

؎ زندگانی وہیں اپنی ہوتی بسر، کاش آتے نہ بہزاؔد ہم لوٹ کر
اور پوری ہوئی ہر تمنا مگر، یہ تمنائے قلب حزیں رہ گئی

ہم مکہ سے ہی آب زم زم کی بوتلیں لے آئے تھے البتہ کھجوریں مدینہ سے خریدی گئیں۔ یہی دو تحفے حجاز مقدس سے پاکستانیوں کے لئے بہترین تھے۔ نو ویں دن ہم نے ہوٹل سے چیک آؤٹ کیا۔ ہمارا سامان بسوں میں لادا گیا اور ہم جدہ ائر پورٹ کی جانب روانہ ہوئے۔ بوجھل دل سے اللہ کے محبوب ﷺ کے شہر کو الوداع کہا، بسیں شہر سے نکلتے ہوئے جب مختلف سڑکوں پر گھوم رہی تھیں تو مسجد نبوی کے مینار نظر آتے رہے اور میں آخری نظر تک انہیں دیکھتی رہی۔

تقریباً 8۔ 9 گھنٹے کے بعد ہم جدہ ائر پورٹ پہنچے۔ میری ٹانگوں اور پاؤں میں سوجن آ چکی تھی۔ سامان کی کلئیرنس کے مراحل سے گزرنے کے بعد دوبارہ لمبی لائنوں میں لگنا پڑا۔ ائر پورٹ پر ہمیں تمام حجاج کو تحفتاً قرآن پاک کے نسخے دیے گئے۔ ہماری فلائٹ جدہ سے راولپنڈی تک تھی۔ بھائی جان ظفر ائر پورٹ پر ہمیں لینے آئے ہوئے تھے۔ ایک رات ان کے گھر قیام کرنے کے بعد ہم واپس اپنے اپنے گھروں کو الحمدا للہ خیریت سے پہنچے، اس امید کے ساتھ کہ دیکھیں اللہ تعالٰی کب دوبارہ اپنے گھر بلاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply