محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ مستقبل کی تشکیل کا انحصار ہمیشہ آنے والی نسلوں پر ہوتا ہے۔ اور جو کہا جاتا ہے کہ مستقبل نوجوانوں کا ہے تو خلاف واقعہ نہیں۔ مستقبل واقعی ان لوگوں کا ہے جو آج نو عمر ہیں اور زندگی کا سفر شروع کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ گوئٹے نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ نوجوانوں میں ہماری دلچسپی کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے ایک درخشاں مستقبل ہوتا ہے۔ ان کی

Read more

اقبال کا پیغام

ہر سال 9 نومبر کا دن آتا ہے اور ہمیں اپنے قومی شاعر، فلسفی اور شاعر مشرق کے یوم پیدائش کی یاد دلاتا ہے تاکہ ہم حکیم الا مت اور ترجمان حقیقت کو خراج عقیدت پیش کر سکیں۔ اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق خاور پر بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں افق شاعری کا یہ تابندہ ستارہ 9 نومبر، 1877؁ کو پنجاب کے ایک گوشے سیالکوٹ میں طلوع ہوا اور اقبال نام پایا۔ اردو زبان جس شاعر

Read more

میں شرمندہ ہوں اس دور کی انسان ہو کر

فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ خدائے عزوجل کی نایاب تخلیق، انسان، خلد بریں سے روئے زمیں پر اپنے ساتھ کہکشائیں لایا، جس کے وجود سے کائنات کی رعنائیوں میں قوس قزح کے رنگ سمٹے۔ قادر مطلق نے اپنی اس تخلیق کو اصل داستاں اور کائنات کو فقط زیب داستاں ٹھہرایا۔ صرف اس لئے کہ وہ یکجہتی اور یگانگت کا منہ بولتا ثبوت ہو۔ دوسرے انسان کا دکھ اس کا اپنا المیہ ہو۔

Read more

عمیرہ احمد کا ناول ’ایمان، امید اور محبت‘

امان، امید اور محبت ” کو ہم علامتی (Symbolic) ناول کہہ سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس میں اپنے کرداروں کے ناموں ( ایمان اور امید ) کو علامتی طور پر پیش کیا ہے۔ اس ناول کے ذریعے مصنفہ نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ اگر انسان اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہے تو خدا سے اس کی امید کبھی ختم نہیں ہوتی اور طویل آزمائشوں کے بعد بالآخر انسان پر اچھا وقت ضرور آتا ہے۔ وہ اپنی

Read more

نمرہ احمد کا ناول: مصحف

قرآن میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں ہدایت موجود ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے، ”ذٰالک الکتاب لاریب فیہ، ہدًی للمتقین“ (یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شبہ نہیں، یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ہدایت ہے ) ۔ حضرت علیؓ کا قول ہے، ”جب تمہارا اپنے رب سے بات کرنے کو دل چاہے تو نماز پڑھا کرو اور جب تم چاہو کہ رب تم سے بات کرے تو قرآن پڑھا کرو“ ۔

Read more

مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ حج: منہ ول کعبے شریف

مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ حج، ”منہ ول کعبے شریف“ منفرد نوعیت کی تصنیف ہے۔ مصنف نے جہاں اس میں تمام مناسک حج کو تفصیل کے ساتھ قارئین کے سامنے بیان کیا ہے، وہاں ساتھ ساتھ تاریخ کو بھی مدنظر رکھا ہے۔ وہ جس جس مقام پر گئے، اس کے تاریخی حوالے بھی قارئین کے سامنے بیان کرتے گئے۔ اس لحاظ سے یہ سفرنامہ بہت معلوماتی اور دلچسپ بن گیا ہے۔ مصنف کا بڑا بیٹا ”سلجوق“ جدہ میں نائب کونسل

Read more

رُودادِ سفرِ حجاز کی آخری قسط

درود پاک پڑھتے ہوئے نیچے جھک کر ہم غار میں داخل ہوئے اور غار کی زیارت کی۔ غار ثور غار حرا سے کشادہ ہے۔ آدمی یہاں بیٹھ اور لیٹ سکتا ہے مگر سیدھا کھڑا نہیں ہو سکتا، البتہ جھک کر کھڑا ہو سکتا ہے۔ کچھ پاکستانی مرد ابھی بھی وہاں لیٹے ہوئے تھے۔ چشم تصور سے نبی پاک ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیؓق کو اس غار میں بیٹھے دیکھا۔ حضرت ابو بکؓر اللہ کے نبی ﷺ کو اپنے کندھوں پر

Read more

روداد سفر حجاز

12 ذی الحج کو میرا بھائی شہزاد جو ریاض سے حج کرنے آیا ہوا تھا اور اس کا خیمہ اور مکتب ہمارے خیمے سے کافی دور تھا، وہ آ گیا کہ میں باجی کو ویل چئیر پر رمی کروا دیتا ہوں مگر میں نے محسوس کیا کہ اگر آہستہ آہستہ چلیں تو میں پیدل چل سکتی ہوں۔ ہم چاروں یعنی ہم دونوں بہنیں، ہمارا بھائی اور میرا بیٹا، آہستہ روی سے رمی کرنے گئے، شہزاد ہمیں اوپر والی منزل پر

Read more

روداد سفر حجاز(قسط سوم)

ویسے تو 9 ذو ا لحج کو میدانِ عرفات میں پہنچنا ہوتا ہے، لیکن منتظمینِ مکتب نے یہ فیصلہ کیا کہ 5 نمازیں منٰی میں ادا کرنا ضروری ہوتا ہے، وہ پوری ہو چکی ہیں اس لئےرات کو ہی ہم عرفات روانہ ہو جائیں گے۔ لہٰذا ہمیں بسوں میں بٹھا کر رات کو ہی میدان عرفات میں پہنچا دیا گیا۔ دن کی بارش کی وجہ سے ( جو کہ اب تھم چکی تھی) خیموں کی چھت ٹپک رہی تھی، قالین

Read more

روداد سفر حجاز(قسط دوم)

ہم جدہ ائیر پورٹ پر اترے، لاؤنج میں ہمیں پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ ہماری گھڑیوں میں دن کے 9 بجے تھے، یہ پاکستانی وقت تھا، جبکہ سعودی عرب میں صبح کے 7 بجے تھے۔ ہم نے اپنی گھڑیوں کو 2 گھنٹے پیچھے کر لیا۔ جدہ ائیر پورٹ پر کاغذات کی چیکنگ، سامان کی وصولی اور پھر مکہ روانگی کے لیے بسوں کا انتظار، کل ملا کر 3 گھنٹے لگ گئے۔ پی آئی اے کے عملے نے مسافروں کو جہاز

Read more

رودادِ سفرِحجاز (پہلی قسط)

شب و روز اسی طرح گزر رہے تھے، ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ میں کسی بہت بڑے ہال میں ہوں۔ میری نظر ہال کی دیوار پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ وہاں ایک بہت بڑے سائز کی سلائیڈ چل رہی ہے جس پر بجلی کے سبز رنگ کے قمقموں سے ”محمد الرسول اللہ“ لکھا ہوا ہے۔ میری نظر اس پر ٹک گئی اور میں نے بھی پڑھنا شروع کر دیا۔ ایک سرور والی کیفیت تھی اورنجانے کتنے لمحے اس کیفیت میں گزر گئے۔ پھر میری آنکھ کھل گئی اور سارا منظر آنکھوں میں نقش ہو گیا۔ میں جتنی مرتبہ اس کو یاد کرتی ، اتنی مرتبہ لطف اندوز ہوتی۔ درود پاک کا ورد میری عادت میں شامل تھا۔ اب میں نے کلمے کا ورد بھی شروع کر دیا۔

Read more

ناول ’پیرِکامل‘، ایک جائزہ

ایک دوست اسے اپنی گرل فرینڈ امامہ کے بارے میں بتاتا ہے جس کا تعلق ریڈ لائٹ ایریا سے تھا تو سالار کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ اس سے درخواست کرتا ہے کہ مجھے اس سے ملا دو۔ لیکن وہاں پہنچ کر وہ جب دیکھتا ہے کہ وہ کوئی دوسری لڑکی ہے تو وہ وہیں سجدے میں گر جاتا ہے۔ اسے اللہ کی ایک نئی پہچان ہوتی ہے اور وہ اس کا شکر بجا لاتا ہے کہ اللہ نے اسے ایک بہت بڑی اذیت سے بچا لیا ہے۔ اللہ چاہے تو سب کچھ کر سکتا ہے۔

Read more

قومی ترانہ

پاک سر زمین شاد باد بڑے جوش اور جذبے سے پڑھا جاتا ہے۔ لیکن اکثریت اس کا مطلب جانے بغیر ہی اس کو پڑھتی اور سنتی ہے۔ یہ ترانہ بنیادی طور پر ایک دعا ہے جو ہم اپنے وطن، اپنی پاک سر زمین کو دیتے ہیں۔ آئیے آج اس کے پس منظر اور معنی پر بھی غور کریں۔ پاکستان کے ترانے کو تیار ہونے میں سات سال لگے۔ سب سے پہلے اس ترانے کی دھن ”احمد جی چھاگلہ“ نے 21

Read more

بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ کا جائزہ

یوں تو بے شمار قلم کاروں نے اس کتاب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو گا جن کا اردو ادب میں ایک بلند مقام ہے۔ میں تو اس میدان میں نو آموز ہوں۔ میرا ان سے ہر گز کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ میں نے تو اس کتاب کو پڑھنے کے بعد جو محسوس کیا اور جو سمجھا ان خیالات کو اپنے سادہ سے الفاظ میں آپ تک پہنچا نے کی ادنٰی سی کوشش کی ہے۔ پڑھ کر

Read more

آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی ﷺسے

پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی ﷺ سے آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی ﷺ سے والدین کی وفات کے بعد مجھے اپنی ملازمت کی مصروفیات کی وجہ سے ان کے گھر چکر لگانے کا کم ہی اتفاق ہوا۔ ویسے بھی وہاں جا کر والدین کو نہ پا کر ڈپریشن ہی طاری ہو جاتا تھا۔ پہلے تو شہزاد بھائی کی فیملی وہاں مقیم تھی۔ وہ خود ریاض (سعودیہ) میں ملازم تھا۔ تب تو کبھی کبھار شاہدرہ جانا ہو ہی جاتا

Read more