تبدیلی سرکار قدم بڑھاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعرے لگے، دعوے ہوئے اور پھر غبارے سے ہوا نکل گئی، اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ انسان کا ماضی فوراً سے پیشتر یوں سامنے لا کھڑا کرتی ہے کہ انسان چاہتے ہوئے بھی راہ فرار اختیار نہیں کر سکتا، جو اقتدار میں آنے سے قبل کے دعوے تھے ، جو نعرے تھے وہ کرسی پر بیٹھتے ہی ذہن سے محو ہو گئے مگر ٹیکنالوجی کی بدولت ایک ایک بیان محفوظ ہے، ذرا حالات حاضرہ اور ان کے چند بیانات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وہ بلند و بالا دعوے زمین بوس ہوئے کہ لوگ باہر سے یہاں نوکریاں کرنے آئیں گے اور حالت یہ ہے کہ دنیا سے ہم پاکستانی ڈی پورٹ ہو کر واپس پلٹ رہے ہیں۔

نعرے کی گونج میں سنائی دیا کرتی تھی کہ تبدیلی سرکار کے آنے کی دیر ہے ، پھر سبز پاسپورٹ کی دنیا میں عزت ہو گی مگر یہ کیا؟ ایسی کامیاب سفارت کاری کہ کئی ممالک ہم پر پابندیاں لگانے کے احکامات جاری کرنے لگے ہیں۔

یہ بھی اعلان سماعتوں کی نذر ہوا تھا کہ نوکریاں ہوں گی ، ہزاروں یا لاکھوں نہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ مگر آنکھ کھلی تو نظر آیا کہ جو سنائی دیا تھا، اس کا الٹ ہوا ہے، تبدیلی سرکار میں  بے روزگاروں کا جمعہ بازار لگتا ہے جس میں اتنا رش ہوتا ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی۔

اس پرفتن دور میں تبدیلی سرکار کی جانب سے جب یہ صدا سنائی دی کہ عوام کو لاکھوں گھر بنا کر دیے جائیں گے تو یقین نہیں آیا مگر جب آنکھوں نے دیکھا تو لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے تھے۔

تبدیلی کی بس دیکھنے میں انتہائی خوبصورت اور لگژری تھی مگر چلنے میں انتہائی سست اور کھٹارہ لگی، کچھ سواریاں کہیں سے ادھار لیں، کچھ کہیں سے اور شور مچاتی منزل کی طرف چلے جا رہی ہے ، عجیب بات یہ ہے کہ ڈرائیور نے بس کو ریورس گیئر میں ڈالا ہوا ہے۔

سبز باغ دیکھے تھے مگر باغ کے پھل تمام کے تمام کھٹے نکلے اور باغ کا ”مالی“ پھر بھی کھسیانی ہنسی کے ساتھ ”چھڑی“ سے پانی کا راہ بنانے کی کوشش میں جٹا ہوا ہے، مالی سے یاد آیا کہ نئے پاکستان میں ایسے نمونے موجود ہیں جو بانیان پاکستان کے ایسے مجسمے تراشتے ہیں کہ عقل دنگ ہے اور ضمیر شرمندگی سے پوچھ رہا ہے کہ اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں۔

بیان اور عمل میں کافی تضاد ہے، نت نئے تجربات کیے ہیں ، کبھی ملائیشیا ماڈل بنانے کی بات کی، کبھی چین کو کاپی کرنے پر زور دیا، کبھی ایرانی انقلاب تو کبھی یورپی ماڈل، کبھی ترکی سے متأثر ہوئے اور کبھی ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا مگر عوام کو کیا ملا، سوائے بیروزگاری، مہنگائی اور تماشے کے؟

تبدیلی کی ہوا چلی اور پردہ گرا تو معلوم ہوا کہ غریب پہلے بھی بھوک سے دم توڑ رہا تھا اور حکمرانوں کے گھوڑوں کے لیے طرح طرح کے مربے تیار کیے جا رہے تھے اور آج بھی عوام افلاس کے ہاتھوں مجبور ہیں اور حکمرانوں کے کتے سرکاری گاڑیوں میں پروٹوکول کے ساتھ گھومتے دکھائی دے رہے ہیں۔

تبدیلی کا خواب چکنا چور ہوا اور اس کی کرچیوں سے خود کو لہو لہو کر کے پھر بھی نوحہ کناں ہیں کہ پہلے بھی نہتے لوگوں پر گولیوں کی برسات ہوتی تھی اور آج بھی معصوم شہریوں کو سرکاری گولیوں سے دہشت گرد کہہ کر مارا جا رہا ہے۔

سنا تھا کہ تبدیلی کی ہوا چلے گی تو سب کچھ یکسر بدل جائے گا، انصاف گھر کی دہلیز پر دستیاب ہو گا، غریب خوشحال ہو گا، مہنگائی کا جن بوتل میں بند کر دیا جائے گا اور انتہائی مختصر کابینہ کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کو ترقی کے سفر پر تیزی سے رواں کریں گے مگرجب عقدہ کھلا تو سب کچھ ویسے کا ویسا ہی تھا بلکہ پہلے سے بھی شاید بدتر۔

ہر نئے سال میں جیسے ہندسہ بدل جاتا ہے ،اسی طرح تبدیلی سرکار میں صرف چہرے ہی تبدیل ہوئے ہیں ، باقی روایات اور رسم و رواج پرانے ہی ہیں، وہی انتقامی سیاست، وہی بیان بازی ، وہی اوروں کو مورد الزام ٹھہرانا، البتہ کچھ یہ تبدیلی ضرور آئی ہے کہ کرپشن کا ریٹ بڑھا ہے، عوام کی چیخیں بلند ہو گئی ہیں اور نت نئے انوکھے تجربات میں اضافہ ہوا ہے جس سے صرف قوم کا ہی نقصان ہوتا ہے۔

تبدیلی سرکار کے پاس وقت ہے ، شاید مستقبل قریب انہیں مزید تقویت دے دے، ادارے ان کے ساتھ ہیں، پاکستان کو ایشیائی ٹائیگر نہ بنائیں مگر کم سے کم کچھ ایسا کر جائیں کہ لوگ مدتوں یاد رکھیں ، مگر یہ تب ممکن ہے جب آپ انا کا خول اتار پھینکیں گے اور پاکستان کے لیے انتقامی سیاست کے باب کو دفن کر دیں گے تو امید ہے میرے دیس کے چمن میں بہار آئے گی اور سبز ہلالی پرچم پورے خطے میں منفرد انداز میں لہراتا دکھائی دے گا، قدم بڑھائیے تاکہ تبدیلی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے اور صحیح معنوں میں پاکستان ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply