ریڈیو کا عالمی دن اور ریڈیو پاکستان کے برطرف ملازمین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

13  فروری کو پوری دنیا میں ریڈیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور آج ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر ریڈیو پاکستان سے برطرف کئے گئے ایک ہزار سے زائد ملازمین غمزدہ ہیں۔ ان ملازمین کو پاکستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے برطرف کیا گیا ہے۔

ریڈیو پاکستان سے میرا تعلق تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کا ہے اور آج ریڈیو کے عالمی دن پر میں ریڈیو پاکستان سے علیحدگی اختیار کر رہا ہوں۔ ریڈیو پاکستان سے میں اپنا تعلق اس وقت تک معطل کر رہا ہوں، جب تک ان برطرف ملازمین کو بحال نہیں کیا جاتا۔

 1988  میں نوجوانی کے دنوں سے، پہلے میں پروڈیوسر اور پھر کمپیئر اور ڈرامہ رائٹر کی حیثیت سے ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہا۔ مارچ 2020 میں Covid-19 پھیلنے کی وجہ سے مینے کچھ ماہ کے وقفے کا فیصلہ کیا۔ جب دوبارہ ریڈیو جانے کا سوچا تو ان دنوں ایک ہزار سے زائد ریڈیو ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرکے بیروزگار کردیا گیا۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا نعرہ لگا کر عمران خان وزیراعظم بنے تو ان کی پارٹی پی ٹی آئی کی حکومت میں، ریڈیو پاکستان ہیڈکوارٹرز کی جانب سے ایک ہزار سے زیادہ ملازمین کو برطرف کرنے کے ظالمانہ اقدام کی وجہ سے میرا دل نہیں مانا کہ میں دوبارہ ریڈیو جا کر اپنا پروگرام جاری رکھوں۔ میں نے ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے 31 سال تک سندھی اور اردو میں کئی ڈرامے، ایک اردو ڈرامہ سیریل لکھی تھی اور 31 سال تک مسلسل ایک مقبول ترین پروگرام کا ہوسٹ رہا۔ وہ پروگرام میں نے ریڈیو پاکستان کے برطرف ملازمین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر چھوڑ دیا ہے۔

آج ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر ریڈیو پاکستان کے ایک ہزار سے زائد برطرف شدہ ملازمین اپنی ملازمتوں کی بحالی کے منتظر ہیں۔ ان میں بہت سے وہ ملازم بھی شامل ہیں جو دس سے بیس سال تک خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں اور اب وہ بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔ پاکستان کے اہل قلم کا فرض بنتا ہے کہ وہ ریڈیو پاکستان کے ملازمین کی برطرفی کے خلاف آواز اٹھائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply