راشد عباسی: پہاڑی زبان و ادب کی ترویج کے لئے سرگرداں شخصیت

فیس بک پر بہت سے قریبی لوگ اجنبی سے محسوس ہوتے اور کچھ لوگ، جن سے بالمشافہ کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہوتی پھر بھی وہ اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ چند سال قبل راشد عباسی صاحب سے فیس بک پر تعلق جڑا تو تھوڑے دنوں بعد ہی اجنبیت اپنائیت میں بدل گئی۔ فیس کے بعد واٹس ایپ پر رابطہ ہوا تو قربت مزید بڑھ گئی۔ راشد عباسی صاحب پہاڑی زبان اور اردو کے نامور لکھاری ہیں۔ وہ دونوں زبانوں میں

Read more

شاہد حنائی: خواب سا، فسانے سا…

شاہد حنائی صاحب نے آج تک کبھی فیس بک پر اپنی کوئی ایک تصویر بھی پوسٹ نہیں کی! اس لیے مجھے ان کے ساتھ اپنی تصویر فیس بک پر پوسٹ کرنے کی اجازت مانگی پڑی اور انہوں نے مروّت و محبت کی وجہ سے مجھے اجازت دے دی۔ شاہد حنائی صاحب اردو کے نامور لکھاری ہیں اور تواتر سے سندھی ادب کو اردو میں ترجمہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ شہرت سے دور بھاگتے ہیں اور خاموشی سے اپنا کام کرتے

Read more

نظریاتی کارکنوں کی فروخت شدہ قربانیاں!

1983 اور 1985 کی ایم آر ڈی تحریک کا لاڑکانہ شہر کی حد تک نہ صرف میرا روز کا مشاہدہ رہا بلکہ گرفتاریاں دینے والے کئی سیاسی کارکنان سے میری ملاقات بھی ہوتی تھی۔ گرفتاریاں دینے کے لئے کارکنان کو ذہنی طور پر تیار کرنے والے لوگوں سے بھی گفتگو ہوتی تھی اور کبھی کبھار ان کے رہنماؤں سے بھی بات چیت ہوتی تھی۔ سیاست کے علاوہ ادبی لحاظ سے بھی سندھ میں وہ بہت متحرک دور تھا۔ عوامی تحریک

Read more

ریڈیو کا عالمی دن اور ریڈیو پاکستان کے برطرف ملازمین

13  فروری کو پوری دنیا میں ریڈیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور آج ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر ریڈیو پاکستان سے برطرف کئے گئے ایک ہزار سے زائد ملازمین غمزدہ ہیں۔ ان ملازمین کو پاکستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے برطرف کیا گیا ہے۔ ریڈیو پاکستان سے میرا تعلق تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کا ہے اور آج ریڈیو کے عالمی دن پر میں ریڈیو پاکستان سے علیحدگی اختیار کر رہا ہوں۔ ریڈیو پاکستان سے

Read more

ایک بوڑھے کی دو کہانیاں

پہلی کہانی بانوے سال کا بوڑھا شخص دو سال کے بعد اسی دکان پر واپس گیا، جہاں سے نوے سال کی عمر میں اس نے کفن خریدا تھا۔ دکان پر پہلے ہی کچھ گاہک موجود تھے، اس کے باوجود دکاندار نے مسکرا کر نئے گاہک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، "آگے آجائیں جناب، کیا چاہیے؟” بوڑھا پیچھے ہی کھڑا رہا اور کھانستے ہوئے کہا، "آپ گاہکوں سے فارغ ہو لیں۔ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔” دکاندار دوسرے گاہکوں کے ساتھ

Read more

درد کے صحرا کا مسافر تاج بلوچ بھی بچھڑ گیا۔۔۔!

رواں سال میں سندھی ادب کی سنگ میل جیسی شخصیات ہم سے بچھڑ گئی ہیں۔ اس سال کی ابتدا بہت نامور سینئر افسانہ نگار حمید سندھی صاحب کی جدائی سے ہوئی تھی اور وبا کے حالیہ دنوں میں تین اہم مصنفین ہم سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے ہیں۔ پہلے نامور ڈراما نگار اور اور افسانہ نویس عبدالقادر جونیجو گئے۔ ابھی پرسوں ہی کی بات ہے کہ، دو سو کتابوں کے مصنف، محقق اور تاریخداں عطا محمد بھنبھرو وفات پا

Read more

میری بیٹی جیسی لڑکی

میں اس وقت کراچی کے اسٹیڈیم روڈ پر واقع، لال رنگ کی بلڈنگ والے بہت بڑے پرائیویٹ ہسپتال میں موجود ہوں اور وہیں سے یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ کل ہی کی بات ہے۔ میں ہسپتال کے کوریڈور میں فزیشن ڈاکٹر سعدیہ شیخ کے کنسلٹنٹ روم کے باہر پریشانی اور انتظار کے عالم میں کھڑا تھا۔ مجھے انتظار تھا اپنے بلاوے کا۔ کھڑے کھڑے تھک گیا تو دیوار سے پشت ٹکادی۔ کچھ اور لوگ بھی منتظر کھڑے تھے۔ اچانک میری

Read more

بچہ جمہورا اور احساس پروگرام کی بے حسی

"بچہ جمہورا۔” "جی استاد۔” "ادھر آ۔” "آ گیا۔” "گھوم جا۔” "گھوم گیا۔” "کدھر ہے؟” "پنجاب میں۔” "پنجاب میں کیا ہے؟” "بہت بھیڑ ہے استاد۔ غریب آدمی ایک دوسرے پر گر رہے ہیں۔” "بچہ جمہورا۔” "جی استاد۔” "ادھر آ۔” "آ گیا۔” "گھوم جا۔” "گھوم گیا۔” "کدھر ہے؟” "خیبرپختونخواہ میں۔” "خیبر پختونخواہ میں کیا ہے؟” "بہت بھیڑ ہے استاد۔ غریب آدمی ایک دوسرے پر گر رہے ہیں۔” "بچہ جمہورا۔” "جی استاد۔” "ادھر آ۔” "آ گیا۔” "گھوم جا۔” "گھوم گیا۔” "کدھر ہے؟” "بلوچستان

Read more

عبدالقادر جونیجو: پنچھی اڑ گیا لیکن ہم اب بھی اس سے مل سکتے ہیں۔۔۔!

عبدالقادر جونیجو پر لکھنے کے لئے نہ ہی میں انسائیکلوپیڈیا سندھیانا اٹھا کر ان کا پروفائل پڑھوں گا اور نہ اپنی اسٹڈی میں موجود ان کتابیں نکال کر، ان کی تحریروں میں سے کچھ حوالے تلاش کرکے ثابت کرنے کی کوشش کروں گا کہ وہ کتنے بڑے لکھاری تھے۔ نہ ہی میں تحقیق کے نام پر کاپی پیسٹ کروں گا۔ بس تھوڑا سوچوں گا اور اپنے دل کے اندر ہی جھانکوں گا۔۔۔ کہاوت کے مطابق ہاتھ میں پہنے کنگن کے

Read more

بیٹ، بیلٹ پیپر اور بچہ جمہورا

"بچہ جمہورا۔” "جی استاد۔” "ادھر آ۔” "آ گیا۔” "گھوم جا۔” "گھوم گیا۔” "جو پوچھے گا، سچ بولے گا؟” "ہاں استاد، سو فیصد ہم سچ بولے گا۔” "کہاں پہ ہو؟” "اپنے وطن میں۔” "وطن میں کیا ہے؟” "غصہ ہے۔۔۔” "کس کا غصہ؟” "سب کا ہے۔۔۔” "غصے کے پیچھے کیا ہے؟” "خاموشی ہے۔۔۔!” "کیسی خاموشی ۔۔۔!؟” "وہ خاموشی۔۔۔ جس کے پیچھے طوفان ہوتا ہے۔۔۔!” "تجھے کچھ سنائی دیتا ہے؟” "ہاں استاد۔” "کیا سنتا ہے؟” "تبدیلی۔۔۔ تبدیلی۔۔۔ تبدیلی۔۔۔” "کیسی تبدیلی۔۔۔؟” "نعرے والی تبدیلی

Read more

بچہ جمہورا نافرمان ہو گیا

"بچہ جمہورا۔” "جی استاد۔” "ادھر آ۔” "آ گیا۔” "میرے ہاتھ میں کیا ہے؟” "ڈنڈا ہے۔” "بچہ جمہورا۔” "جی استاد۔” "گھوم جا۔” "گھوم گیا۔” "کہاں پہ ہو؟” "سندھ میں۔” "سندھ میں کیا ہے؟” "لاک ڈائون ہے استاد۔” "کس نے کیا؟” "سید سائیں نے کیا۔” "بچہ جمہورا۔” "جی استاد۔” "گھوم جا۔” "گھوم گیا۔” "کہاں پہ ہو؟” "بلوچستان میں۔” "بلوچستان میں کیا ہے؟” "لاک ڈائون ہے استاد۔” "لاک ڈائون کس نے کیا؟” "کمال نے کمال کر دکھایا ہے۔” "بچہ جمہورا۔” "جی استاد۔” "گھوم

Read more

حیدر آباد 47 کلو میٹر

سپر ہائی وے پر سو کلو میٹرسے زیادہ کی رفتارسے ڈرائیو کرتے ہوئے سرمد سی ڈی پلیئر میں چلتے کشورکمار کے گیت سے سر ملانے کی کوشش کر رہا تھا: زندگی اک سفر ہے سہانا یہاں کل کیا ہو کس نے جانا اسی لمحے اس کے فون کی بیل، گیت کے ساتھ بجنے لگی۔ اس نے ڈیش بورڈ سے موبائل اٹھا کر دیکھا۔ موبائل کی سکرین پر اِرم کی تصویر دیکھ کر مسکرا دیا۔ اس نے سی ڈی پلیئر بند

Read more

پچھلے بينچ پر بیٹھا ہوا شخص

ويران شہر کے زبوں حال ريلوے اسٹيشن کے ملبے سے گزر کر، میں پليٹ فارم پر پہنچا۔ وہاں اتنا ملبہ نہیں تھا اور ريلوے ٹريک بالکل صاف تھا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ، "اس شہر سے آخری ٹرين نصف صدی قبل روانہ ہوئی تھی، جس کے بعد پھر دوبارہ کوئی ٹرین اس شہر میں نہیں آئی…” مگر ریلوے ٹریک کی پٹریاں یوں چمک رہی تھیں جیسے ان پر سے روزانہ جانے کتنی ٹرينیں گزرتی رہی ہوں۔ میں نے پليٹ فارم

Read more

قمبر کی بیبی باگڑی اور معصوم ہندو طلبا و طالبات

بیبی باگڑی سندھ کے چھوٹے سے شہر قمبر میں رہتی ہے۔ باگڑی بہت ہی پسماندہ ہندو طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ سندھ کے اکثر علاقوں میں باگڑی قبیلے کے مرد، عورتیں اور بچے بھیک مانگنے نظر آتے ہیں۔ بیبی اپنے شہر کی پہلی باگڑی لڑکی ہے جس نے سماجی تفریق کے باوجود بہت مشکل حالات میں تعلیم حاصل کی اور پھر اس نے باگڑی قبیلے کے بچوں کو تعلیم دینے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ اسے مقصد کے لئے اسے سخت

Read more

گُم شدہ منظر

زیب سندھی کا یہ افسانہ کوئی ربع صدی پہلے سندھی زبان میں لکھا گیا۔ محمد ابراہیم جمالی نے اسے اردو کا پیراہن دیا۔ جیسا دل کو چھو لینے والا افسانہ ہے، ویسا ہی کانٹے کی تول ترجمہ ہے۔ ایسی تحریر قلم سے نہیں، انگلیوں سے لکھی جاتی ہے۔ ***      *** وہ ٹیکسی سے اُتر کر ٹریول بیگ کو سنبھالتا ہوا، باؤنڈری وال کے گیٹ سے ہو کر بلڈنگ کی حدُود میں داخل ہو گیا۔ گیٹ پر بیٹھے ہوئے

Read more

انیلا پرمار کو سوشل میڈیا کے بلیک میلرز نے خودکشی پر مجبور کیا۔۔۔!

سائبر کرائم کی شکار ہندو طالبہ کو خودکشی سے بچایا جا سکتا تھا لیکن افسوس کہ اس کے ورثا سب کچھ معلوم ہوتے ہوئے بھی، بدنامی کے خوف میں مبتلا رہے اور بارہویں جماعت کی طالبہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوگئی۔ اس نے تو اپنے بابا کو اپنا دوست سمجھ کر سب کچھ بتادیا تھا لیکن بابا صرف بابا پی رہا اور بدنامی کے خوف میں مبتلا رہا۔۔۔ انیلا کا تعلق سندھ کے چھوٹے سے شہر ٹنڈو غلام علی کے

Read more

بارہ سالہ سنیل کمار، مٹھو پیر اور نسیم کھرل کا "کافر”

چند دن پہلے میڈیا پر ایک خبر گردش کرتی رہی تھی کہ، سندھ کے چھوٹے سے شہر ڈہرکی کا ایک بارہ سالہ بچہ سنیل کمار گھر سے ناراض ہوکر مقامی پیر میاں مٹھو کے ڈیرے پر پہنچا اور میاں مٹھو نے کلمہ پڑھا کر اسے مسلمان کر دیا۔ بچے کے والد کا کہنا تھا کہ اس کا بیٹا بغیر بتائے میلے پر چلا گیا تھا۔ اس بات پر اس نے بیٹے کو ڈانٹا تھا اور بیٹا ناراض ہوکر گھر سے

Read more

مغرب اور مشرق کے بھیڑیے

سرحدی علاقے کی انتہائی سرد اور خوفناک رات تھی اور اندھیرے میں تیز ہوا کے زناٹوں کے ساتھ، بیحد پراسرار آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے ہر طرف چڑیلیں دوڑ رہی ہوں۔ ایسے خوف کی حالت میں مشرق اور مغرب کے دو دشمن ممالک کے وہ دو سپاہی، نفسیاتی طور پر ایک دوسرے کے لئے سہارا بنے ہوئے تھے۔ دونوں دشمن ملکوں کی سرحد پر، کانٹے دار تاروں کی دونوں جانب، اپنے اپنے ملک کے اندر وہ

Read more

موہن جو دڑو کا موہن کیا کہتا ہے؟

ثقافتی سرکار کے سائیں نے میٹنگ میں موجود ادباء، شعراء اور ماہرین کی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا، "ہم نے موہن جو دوڑ کا رسم الخط پڑھنے کے لیے عالمی ورکشاپ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔” میٹنگ میں موجود تمام ادباء، شعراء اور ماہرین نے تالیاں بجا کر اور واہ واہ کے نعرے لگا کر ثقافت والے سائیں کو داد دی۔ ثقافت والے سائیں تالیوں کی گونج اور واہ واہ کے نعروں سے بہت خوش ہوئے اور کہا،

Read more

اردو کا جنازہ نہیں نکلے گا

جب رئیس امروہوی نے کہا تھا کہ "اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے” تب لاڑکانہ شہر کے میرے محلے میں لسانی تفریق نام کو بھی نہیں تھی۔ سندھی اکثریت والے شہر کے میرے جاڑل شاہ محلے میں بیس سے زائد گھر اردو بولنے والوں کے تھے، چار پنجابی بولنے والوں کے اور ایک گھر پٹھان فیملی کا بھی تھا۔ دو گھر سندھی ہندو اور ایک کرسچن فیملی کا بھی تھا۔ مختلف زبانیں بولنے اور مختلف مذاہب سے تعلق

Read more

پھول سی بیٹی جو کوئلہ بن گئی…

یہ بھیانک واقعہ چند ہی روز پہلے کا ہے، جس کی فیس بک پر موجود دو منٹ سولہ سیکنڈ کی وہ مختصر وڈیو مکمل طور پر دیکھنا میرے بس کی بات نہیں۔ دل پر پتھر رکھ کر میں بمشکل ایک منٹ ہی دیکھ سکا، کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ جلن بھی محسوس کی اور اپنی جلتی ہوئی آنکھیں بند کرلیں۔ اس آگ کی تپش میں نے اپنی آنکھوں سے لیکر دل تک محسوس کی ہے، جس

Read more

موہن جو دڑو کا خزانہ

حکومت کی جانب سے موہن جو دڑو پر عالمی سیمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد، مجھے ذمہ داری دی گئی تھی کہ میں پڑوسی ملک جا کر نہ صرف وہاں کے ادیبوں اور دانشوروں کو دعوت نامے پہنچائوں، بلکہ اس ملک میں موجود ایک بہت ہی اہم شخصیت کو بھی سیمینار میں شرکت کے لئے رضامند کروں۔ ہماری سرکار کے ثقافت والے سائیں کا خیال تھا کہ اس شخصیت کے شریک ہونے سے عالمی سیمینار کو چار چاند

Read more