طلبا تنظیموں میں انتہاپسندی کے رجحانات کیسے پیدا ہوئے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا سب سے بنیادی المیہ انتہا پسندی ہے جو اس ملک کو مختلف طریقوں سے اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہے۔ آج ہم اس ملک میں موجود انتہا پسندی کی مختلف نوعیتوں پر بات کریں گے۔

یہ بات واضح ہے کہ فرد اور معاشرہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور افراد ہی بنیادی طور پر معاشرے کی مثبت نشو و نما میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ، اگر افراد کا رویہ معاشرتی ناہمواری اور معاشی کس مپرسی کی غمازی کرے اور سامراجی یا طبقاتی امتیاز کے فروغ کا باعث بنے تو ایسے میں معاشرے میں ایسے رویے اور رجحانات جنم لیتے ہیں جن سے معاشرے میں انتہا پسندی جیسے منفی رویے اور سوچیں جنم لیتی ہیں جو کسی بھی معاشرے کے لیے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

برصغیر کی تقسیم اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزادی اگست 1947ء میں ہوئی لیکن 1946ء کے اوائل میں ہی ہندوستان کے مختلف صوبوں میں نسلی اور مذہبی انتہا پسندی کے واقعات تواتر اور شدت سے رونما ہونے لگے ، جس کی ابتدا بنگال اور نواکھالی کے ضلع سے ہوئی۔ یہ واقعات روز بروز شدت اختیار کرتے چلے گئے اور تقسیم کے بعد جہاں پاکستان کو بہت سارے مسائل وراثت میں ملے ، وہیں انتہا پسندی جیسے رجحانات بھی ہمارے ملک میں در آئے جس کی مختلف ادوار میں ہمیں مختلف شکلیں نظر آتی ہیں۔

مذہب یا مسلک کے نام پر قتل و غارت ہوئی تو کہیں نسل یا زبان کی بنیاد پر، کہیں شخصی سطح پر یہ رویہ پروان چڑھا تو کہیں سیاست میں موجود آدم خوروں کی وجہ سے اس رویے کو پذیرائی ملی ۔ ہر دور میں یہ رویہ ترقی کرتا گیا اور کر رہا ہے جس سے ملک کی جڑیں نہ صرف کھوکھلی ہو رہی ہیں بلکہ یا یہ ناسور ملک کو اندر ہی اندر سے تباہ کرتا جا رہا ہے ، جس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

اس ملک کا سب سے پہلا اور بنیادی المیہ مذہبی یا مسلکی انتہا پسندی ہے۔ پاکستان اس انتہا پسندی کی لپیٹ میں پوری شدت کے ساتھ آ چکا ہے۔ وطن دشمن عناصر نے جب بھی اس ملک میں انارکی پھیلانا چاہی ، یہاں مذہب پرست ملاؤں نے یا تو مذہب کے نام پر جنگ شروع کی یا پھر مسلک کے نام پر۔ اس کام میں تمام وطن دشمن عناصر نے ان کا ہاتھ بٹانے کی بھرپور کوشش کی اور اس ملک کے عوام کو اسلام کے نام پر آپس میں ہی لڑا دیا۔

جب بھی کوئی مذہبی گروہ اپنے مقاصد پرامن گفت و شنید کے ذریعے حاصل نہیں کر سکتا یا وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا اثر و رسوخ اس حد تک معاشرے میں نہیں کہ اس کی بات قانون کے حوالے اور اسلامی دائرے میں سنی جائے تو وہ اولین ترجیح ”تشدد“ کو دیتا ہے اور یہ تشدد ہی انتہا پسندی کی بنیاد رکھتا ہے۔

ہم آزادی کے بعد آج تک اس تشدد اور انتہا پسندی کا کسی نہ کسی سطح پر شکار رہے جس سے یہ ہوا کہ ہم دیگر اسلامی ممالک اور دشمن ممالک کے سامنے مذاق کا نشانہ بن گئے۔ حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ ہم اس ملک میں مذہبی اور مسلکی تعصب کی جڑیں اکھاڑ کر اس ملک کو ایک رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے کی تلقین کرتے مگر افسوس ایسا نہیں ہے۔ ہر مذہبی پیشوا اور رہنما نے اپنی ایک الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لی اور اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگا ،یہ لوٹ مار دولت کی شکل میں بھی کی اور نظریاتی سطح کی بھی۔

ضرورت اس امر کی تھی کہ عوام کو اس چیز کا شعور دیا جاتا کہ وہ کسی بھی مذہبی یا مسلکی تنظیم یا گروہ کا حصہ بننے کی بجائے ملک میں اس امن اور رواداری کی تبلیغ کرتے، جس کا مینی فیسٹیو خطبۂ حجۃ الوداع کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ مذہب کسی بھی ملک کا حساس ترین ستون ہوتا ہے اور یہی وہ ستون ہوتا ہے جس پر ملک ترقی بھی کرتا اور دیگر ممالک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات بھی کر سکتا ہے۔ اگر ملک میں مذہب کے نام پر خانہ جنگی شروع کر دی جائے تو ملک کی نہ صرف جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں بلکہ ترقی کی بجائے زوال کا سفر شروع ہو جاتا ہے ۔

اس ملک کا دوسرا اہم ترین المیہ سیاسی انتہا پسندی ہے۔ طالب علموں نے ہمیشہ مختلف تحریکوں اور تنظیموں کے پلیٹ فارم سے مثبت کردار بھی ادا کیا اور منفی بھی۔ منفی کردار ان کی  انتہا پسندانہ سوچ سے پیدا ہوا جو ایک مخصوص طبقہ کرتا رہا۔ پاکستان میں طالب علم کی سیاسی تحریکوں کی شروعات مشرقی پاکستان اور کسی قدر صوبہ سندھ سے ہوئیں جہاں قیام پاکستان کے ساتھ ہی احساس محرومی پیدا ہونے لگا۔ یہ وہ صوبے تھے جہاں مسلمانوں کو ہندوؤں کی معاشی و سماجی بالادستی سے تو نجات مل گئی لیکن پنجاب اوریو پی سے تعلق رکھنے والے ان کے ہم خیال ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔

نیا ملک بننے کے نتیجے میں ہندو چلے گئے مگر اب ان کی جگہ پنجاب اور یو پی سے تعلق رکھنے والے سیاسی مسلمان سارے کاروبار اور بہترین ملازمتوں پر قابض ہو گئے۔ ایسے میں انہیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ اگر ایسے ہی یہ اہم ترین اداروں اور نوکریوں پر قابض ہوتے گئے تو ہم ایک دن خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب سندھ اور پنجاب میں مختلف طرز کی سٹوڈنٹس تحریکوں کا آغاز ہوا۔

گو کہ اس سے قبل پہلی کل ہندوستان سٹوڈنٹس کانفرنس جو اگست 1936ء میں لکھنو میں منعقد ہوئی ، میں آل انڈیا سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام سے ایک ملک گیر تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ اس کانفرنس میں مختلف صوبوں سے 986 کے قریب مندوبین نے شرکت کی تھی جس میں طلبا کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ یوں وقت کے ساتھ ساتھ طلبا تنظیمیں سیاسی اور مذہبی سطح پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرتی گئیں اور آج وہ تنظیمیں اس حد تک مضبوط ہو چکی ہیں کہ کہیں مذہب کے نام پر تو کہیں سیاست کے نام پر سٹوڈنٹس میں انتہا پسندی پھیلانے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

طلبا کسی بھی معاملے میں دماغ سے نہیں جذبات سے فیصلہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں،  انہیں صرف اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اگر آپ کو حق نہیں ملتا تو یا مار دو یا مر جاؤ۔ ان کی اس ذہنی تربیت کے پیچھے بھی ان کے سیاسی اور مذہبی پیشواؤں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ اپنے مقاصد اور اثر و رسوخ کو قائم کرنے کے لیے طلبا کو بطور مہرہ استعمال کرتے رہے اور ان کی تربیت ہی ایسی کرتے رہے کہ وہ اپنے پیشوا کے لیے کٹ جائیں ۔

نوجوانوں کو علامہ اقبال نے اس ملک کا شاہین قرار دیا کیونکہ نوجوان ہی وہ قیمتی اثاثہ ہیں جو اس ملک کی قسمت کو سنوار سکتے ہیں مگر افسوس وہ غلط ہاتھوں میں چلے گئے اور چند ڈکٹیٹروں کے کہنے پر اسٹیبلشمنٹ کو معاف کیا اور نہ ہی پارلیمنٹ کو۔ سو وہ ہر ایسا ہتھکنڈا استعمال میں لاتے رہے جس سے ان کا لیڈر بچ سکے۔

(یہ مضمون نمل یونیورسٹی ’لاہور کیمپس میں ہونے والے ایک قومی سیمینار میں پڑھا گیا)
۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *