تبدیلی کےدعوے، کرپشن اور احتساب کا ناقوس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سچ پوچھیں تو ہم بھی ان لوگوں میں شامل تھے جو دو جماعتی نظام اور باریوں کی سیاست سے تنگ آ چکے تھے اور ملک میں تیسری جماعت کو موقع دینا چاہتے تھے تاکہ ایک نئی جماعت اقتدار میں آ کر ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر کرے، ملک کو معاشی طور پر مضبوط اور سیاسی طور پر مستحکم کرے، باریوں کی سیاست کرنے والی دونوں جماعتوں سے نجات دلائے اور خاص طور پر ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والی کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔

یہی وجہ تھی کہ پاکستان تحریک انصاف ملک میں تبدیلی اور نئے پاکستان کا نعرہ لے کر میدان میں آئی تو لوگوں کی ایک بڑی اکثریت اس کے پیچھے چل پڑی ہے، ایسے میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کے پیچھے جہاں اور بہت سے ہاتھ شامل ہیں، وہاں ایک ہاتھ ہمارا بھی ہے جو پولنگ کے روز مہر لگانے میں استعمال ہوا اور اب ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو آج کل اپنے ہاتھ مل رہے ہیں یعنی جو ہاتھ تحریک انصاف کی کامیابی میں استعمال ہوا اسے ہم تحریک انصاف کی کارکردگی دیکھ کر مل رہے ہیں۔

واضح رہے احتساب کے پرکشش نعرے کی کہانی جنرل مشرف سے شروع ہوئی اور تحریک انصاف تک پہنچی، اس وقت بھی یہی بتایا گیا تھا کہ ہم غیر جانب دارانہ اور بے رحمانہ احتساب کے ذریعے لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے اور لٹیروں سے پائی پائی کا حساب لیں گے اور پھر تحریک انصاف نے بھی احتساب کے نعرے کو تھوک کے حساب سے بیچا۔ عمران خان نے انتخابی مہم کی طرح کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں بھی اپنے پہلے خطاب میں کہا ”قوم سے وعدہ کرتا ہوں جو تبدیلی ہم لے کر آئیں گے، یہ قوم سالوں سے اس تبدیلی کے لیے ترس رہی تھی۔ سب سے پہلے کڑا احتساب ہو گا، جن لوگوں نے ملک کو لوٹا مقروض کیا، ایک ایک آدمی کو نہیں چھوڑوں گا“

پھر کیا تھا ہم ایسے تبدیلی کی امید رکھنے والے لوگوں نے آنکھیں بند کر کے ان پر اعتماد کر لیا۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ آپ کی آنکھیں وہی کھولتے ہیں جن پر آپ آنکھیں بند کر کے اعتماد کرتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں آنے والی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے جس کے مطابق پاکستان کم کرپشن والے ممالک کی فہرست میں چار درجے تنزلی کے بعد 120 سے 124 نمبر پر چلا گیا ہے۔

اس طرح ملک میں کرپشن ہونے کے تأثر میں 4 درجے اضافہ ہوا یعنی 180 ممالک میں بدعنوانی کا احاطہ کرنے والی اس فہرست میں کم کرپشن کے حوالے سے 123 ممالک سے پیچھے ہے حالانکہ مبینہ طور پر چوروں اور لٹیروں کی حکومت کے خاتمے اور ایماندار حکمرانوں کی حکومت آ جانے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ کرپشن کم ہوتی مگر یہاں تو بڑھ گئی ہے۔

پریشانی یہ نہیں کہ ملک میں کرپشن بڑھ گئی ہے بلکہ پریشانی تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کے دور میں بڑھ گئی ہے، عمران خان نے چوروں اور لٹیروں کو لٹکانا تھا مگر یہاں تو کرپشن کے کیس ہی لٹکا دیے گئے ہیں۔ کل تک لوگ تبدیلی کے لیے ترس رہے تھے، آج کل ایک ایک لقمے کو ترس رہے ہیں۔

گو کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اس رپورٹ کو بوگس اور سابقہ حکومتوں کے اعداد و شمار پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ اگر سابقہ ادوار میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹیں قابل اعتماد تھیں تو آج انہیں کیسے مسترد کیا جا سکتا ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ تو محض مہر تصدیق ثبت کرتی ہے، ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن تو پہلے بھی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔  ایل این جی سیکنڈل، چینی سیکنڈل، آٹا سیکنڈل، ادویات سیکنڈل اور پھر ان میں ملوث لوگوں اور ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں سے پیچھے نہیں رہی بلکہ چار قدم آگے نکل گئی ہے۔

سوال تو یہ ہے کہ ایسے میں ہم عمران خان کی ایمانداری کو کس کھاتے میں ڈالیں، جب ملک میں چور بھی آزاد ہوں اور چوری بھی آزادی سے ہو رہی ہو۔

جہاں تک احتساب کی بات ہے احتساب ایک ایسا مذاق ہے جو ہر حکومت کرتی چلی آ رہی ہے مگر آج تک اس ملک میں نہ تو شفاف احتساب ہوا اور نہ ہی کرپشن ختم ہوئی کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ کرپشن ہمیشہ اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ کرتے ہیں اور احتساب ہمیشہ اپوزیشن کے لوگوں کا ہوتا ہے۔ یوں نہ تو حقیقی طور پر احتساب ہوتا ہے اور نہ ہی عملی طور پر کرپشن ختم ہوتی ہے بلکہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔

یہی کچھ دو جماعتی نظام میں ہوتا تھا اور یہی کچھ تیسری جماعت کے آ جانے کے بعد بھی ہو رہا ہے اور یہ سب اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک یہ فرسودہ اور استحصالی نظام چلتا رہے گا،  یہ نظام ہمیشہ طاقتور مافیاز کو تحفظ دیتا ہے اور یہ جماعتیں اس نظام کو تحفظ دیتی ہیں۔

اس ملک میں بھوک، غربت، بیروزگاری مہنگائی اور خاص طور پر کرپشن کا خاتمہ پارٹیاں بدلنے سے یا چہروں کے بدلنے سے ممکن نہیں بلکہ جب تک یہ فرسودہ اور استحصالی نظام نہیں بدلے گا، اس ملک اور قوم کا نصیب نہیں بدل سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply