پرانوں کے چبائے ہوئے نوالے چبانا کیسا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر فکر، فکر فردا ہوتی ہے!

بے شک فکر اپنے زمان اور مکان میں پنپتی ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ انسان اپنے ذہنی افق کو وسیع کرتا جاتا ہے۔ یوں انسانی ذہن اپنے زمان اور مکان کے حدود سے ماورا ہو کر سوچنے کا اہل بن جاتا ہے۔ فلسفے کو اسی لئے فکر فردا بھی کہا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں اگرچہ فکر فردا مفقود ہے لیکن ماضی کے خیالات و افکار ہمارے ذہنوں میں اتنے راسخ ہیں کہ کسی تازہ فکر کے لئے ہمارے ذہنوں میں جگہ ہی باقی نہیں رہی ہے۔ باقی رہا سوال حال کے متعلق ہمارے خیالات کا، تو یہاں بھی سوچ اور غور و فکر کی زمین بنجر ہی نظر آتی ہے کیونکہ حال اتنا بے حال ہے کہ اس میں فردا کی فکر سرے سے ہی موجود نہیں۔

ہم ماضی کے قبرستان سے اپنی زیست کے لئے معنی کشید کرتے چلے جا رہے ہیں۔ چونکہ ہر شخص ماضی سے ہی معنی کشید کر رہا ہے، اس لئے اب ماضی بھی انگور کی سوکھی ہوئی بیل کی مانند چٹخنے لگا ہے۔ نتیجتاً اب ماضی سے کشید شدہ فکری و علمی شراب میں وہ خمار نہیں رہا کہ جس کے زیراثر ہم ماضی کے عظمت کے خمار میں رہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جو ہمیں تفکر سے دور اور جہالت کے قریب کر دیتی ہیں؟ اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں معروف فلاسفر کارل پوپر کی طرز پر تحقیق کرنا ہو گا تاکہ علم کے مآخذ کا پتہ چلانے سے قبل یہ معلوم ہو سکے کہ جہالت کے سرچشمے کیا ہیں؟ اس سے آگاہی کے بعد ہی ہم جان سکتے ہیں کہ علم کے مآخذ کیا ہیں۔

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ اپنی ذات اور دماغ کو نئے تجربات، مشاہدات اور خیالات سے دور رکھنا ہے جس کے پیچھے خوف کا عنصر کار فرما ہے۔ کیونکہ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ نئے تجربات، علوم اور افکار ہمیں اپنے ان ’یقینوں‘ سے محروم کر دیں گے جو ہماری ذات اور نظریۂ حیات و ممات اور کائنات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ تحفظ کا متلاشی ایسا ذہن، کبھی بھی اپنی ذات کے جزیرے سے نکل کر علم کے سمندر کا شناور نہیں بن سکتا اور نہ ہی کائنات کو تسخیر کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ نہ تو سمندر کی گہرائیوں تک پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی کائنات کی وسعتوں کو جان سکتا ہے۔ اور تو اور یہ اپنی ذات کے وجودی معموں کو بھی نہیں جان سکتا۔ ہم میں خود آگاہی کی زندگی گزارنے کی سکت ہے ہی نہیں۔ ایسی کمزور ذات کے لیے خود فریبی ایک بہترین فرار ہے۔ سو ہم بھی خود فریبی کی زندگی جیے جا رہے ہیں۔ بقول باقی صدیقی:

خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے

جو فکر اپنے ذہن کے اندر محدود ہو جاتی ہے ، وہ اپنے آپ سے باہر دیکھنے اور سننے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔ اور ایسا ذہن بعد میں راسخ الیقین بن جاتا ہے۔ جب ہم میں ہر چیز کو جاننے کا زعم راسخ ہو جاتا ہے تو ہم دو وجوہات کی بناء دو چیزیں کرنے لگتے ہیں۔ پہلی یہ کہ جگالی کرنے کا چلن ہماری عام عادت بن جاتی ہے اور دوسری مکالمے کی قلت اور خود ستائشی و خودکلامی کی کثرت ہو جاتی ہے۔ ہم ایک ہی خیال اور ایک ہی بات کو دہرانے لگتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس کہنے کو کچھ نیا نہیں ہوتا۔ گویا ہم چبائے ہوئے کو بار بار چبانے لگتے ہیں یا پھر دوسرے الفاظ میں ہم جگالی کرتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کسی چیز پر سوال اٹھاتے ہیں نہ ہی تحقیق کرتے ہیں۔ نتیجتاً ہمارا ذہن رفتہ رفتہ ویسا بن جاتا ہے جیسی خوراک ہم اسے دیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں کتابوں کی صورت میں علم اور افکار سے زیادہ سازشوں، دقیانوسی نظریات اور رٹے کی صورت میں ذہنی چارہ زیادہ تیار ہوتا ہے۔ ہمارے نظام تعلیم کی طرف نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری علم کی عمرانیات سننے اور کہی ہوئی باتوں کو دہرانے سے معمور ہے اور اسی لیے ہم معاشرتی انسان کم اور جگالی کرنے والے انسان نما حیوان زیادہ پیدا کرتے ہیں۔ جب معاشرے میں علم کم اور لوگوں میں آراء زیادہ ہوں تو ایسے معاشرے میں فہم اور فراست کم اور دوسروں کے متعلق فیصلے اور فتوے زیادہ صادر ہونے لگتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں افکار کم اور لیبلز زیادہ ہو گئے ہیں۔ لیبل لگانا فہم و فراست کی صلاحیت کھونے کی علامت ہے۔ لوگوں کی سمجھ بوجھ جتنی کم ہو گی، لیبلز اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ یہی لیبلز ہماری اجتماعی نفسیات کا ایک ایسا حصہ بن گئے ہیں کہ اب ہمیں اپنے کہے اور لکھے پر علم کا گمان ہونے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے لیبل زدہ افراد چاہے وہ مذہبی، لبرل، سیکولر یا دہریے ہوں سب کے پاس ٹائٹل تو موجود ہیں مگر کسی کو ان کی سمجھ نہیں بلکہ ہرایک دوسرے کے لئے جاہل مجسم بن گیا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہم اپنی ذات کو اتنا کامل و اکمل سمجھ بیٹھے ہیں کہ دوسرا کوئی رنگ یا نظریہ ہمیں پسند ہی نہیں آتا۔ اسی لئے تو ہم دوسروں کو اپنے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے یک رخے ذہن کے سامنے اس سے مختلف زاویۂ نگاہ رکھنے اور سوچنے والا یا تو دوزخی ہے یا خر۔ اس کا مطلب ہے کہ جنت بھی ہماری جاگیر ہے اور خرد بھی! اس روش کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرے میں مکالمے کی جگہ خود کلامی نے جنم لیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم صرف اپنے حلقۂ یاراں اور ہم مکتبوں کی بات سننا، پڑھنا اور سمجھنا پسند کرتے ہیں جبکہ اختلافی خیالات کو خود سے کوسوں دور رکھتے ہیں۔ اس طرح کا رویہ ذہن انسانی میں تحفظ کا ایسا احساس پیدا کرتا ہے جہاں پراختلاف رائے نہیں بلکہ اتفاق رائے کی گنجائش ہوتی ہے اور جہاں سوال نہیں صرف ستائش ہوتی ہے۔ یوں ہم اپنے خول میں اتنے بند ہو جاتے ہیں کہ ہم اپنی ذات اور حلقے کے باہر کی چیزوں کو باوجود آنکھ ہونے کے، دیکھ نہیں سکتے، کان ہوتے ہوئے سن نہیں پاتے اور دماغ کے ہوتے ہوئے سمجھ نہیں پاتے ہیں۔

ہماری فکر و نظر اپنے محدود ذہن کے محدود دائرے میں قید ہوتی ہے لیکن ہم کمال ڈھٹائی سے ایسے بند ذہنوں کی جگالی زدہ پیداوار کو علم کا نام دیتے پھرتے ہیں۔ درحقیقت یہ علم نہیں بلکہ ہماری جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ گویا ہم ایک ایسے زندان کے قیدی ہیں جس میں نہایت چھوٹا سا روزن کھلا ہوا ہے اور اسی روزن سے باہر دکھائی دینے والے چند گنے چنے مناظر کو ہم نے پوری کائنات سمجھ لیا ہے جبکہ لامحدود کائنات کی وسعتیں ہماری اس خام خیالی پر ہمارا مذاق اڑاتی ہیں، مگر ہم اس کائناتی ہنسی کو بھی سن نہیں سکتے کہ ہم پہلے ہی بہرے ہوچکے ہیں۔ جب ہمیں اس روزن کے باہر دکھائی دینے والے مناظر میں چند لوگ آزاد گھومتے نظر آتے ہیں تو ہم ان کی آزادی کو بیماری سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی لئے علیژاندرو جوڈوروسکی نے کہا تھا کہ پنجرے میں پیدا ہونے والے پرندے اڑنے کو ایک بیماری سمجھتے ہیں۔

اب اپنے آپ کو اپنی قید سے اور علم کو جامد ذہن کی زنجیروں سے آزاد کرنے کے لئے لازمی ہے کہ ہم اپنی آرام طلب ذات، وجودی تحفظ اور اس کے آرام دہ گوشوں کو خیر باد کہہ دیں کیونکہ اس settled ذات اور حلقوں کو ترک کر کے ہی ہم علم کی راہ راہی بن سکتے ہیں۔ ایسی ذہنی خانہ بدوشی ہمیں رچی بسی زندگی کی ان ساری آسائشوں اور ستائشوں سے محروم کر دے گی جو ہمارے ذہن اور فکر کو مرتعش نہیں ہونے دیتی۔

علم پیدا ہی ان خانہ بدوشوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو ذہن کو مشقت کی بھٹی میں جھونکنا جانتے ہیں نہ کہ ان کی وجہ سے جو منبر، مدرسے، دقیانوسی خیالات اور ثقافتی یقینیات میں جکڑے ہوئے ہیں جہاں ذہنی مشقت کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس بات کی ترغیب دی جاتی ہے کہ سوچنا گناہ ہے اور بے سوچے سمجھے چلتے چلے جانا ہمارا طریق ہے۔ اسی لئے تو پچھلے سات سو سالوں سے ہم علم پیدا نہیں کر رہے ہیں بلکہ معاشرے کے راسخ ذہنوں کے چبائے ہوئے نوالے مسلسل کھا کر اس کی جگالی کر رہے ہیں۔ اور ہم اس سڑی ہوئی خوراک کی جتنی زیادہ جگالی کرتے جا رہے ہیں، اتنے ہی علم و انسانیت سے دور اور حیوانیت سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔

اب بھی وقت ہے کہ اپنی فکر و نظر کو سوچنے اور سوال کرنے والے ذہن کے تابع کر کے خود کو بدلتے وقت کے علمی تقاضوں کے ہم آہنگ کر کے خود کو مزید حیوانیت کا چارہ بننے سے بچایا جاسکتا ہے۔ مگر اپنا ذہنی تحفظ چھوڑ کر کون علمی خانہ بدوش بنے گا؟ ویسے بھی تحفظ کے بہت سارے فائدے ہیں، اور آج ہم ان ’فائدوں‘ کے نقصانات اٹھا رہے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں فائدوں کے نقصانات۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عزیز علی داد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply