خرافات خرد: فکر کی جدلیات

پاکستان کی موجودہ فکری صورتحال کا ایک طائرانہ جائزہ یہاں فکری مکالمے کا کم اور مجادلے و مناظرے کا منظر زیادہ پیش کرتا ہے۔ اس صورتحال کو تشکیل دینے میں کوئی ایک سوچ یا مکتبہ فکر کے لوگ شامل نہیں بلکہ مختلف مکاتب فکر کے سے وابستہ لوگوں کی استردادی سوچ ہے۔ چونکہ پاکستان کے لوگوں کا ذہنی مزاج یہاں کے ایک خاص سماجی و ذہنی ماحول میں تشکیل پایا ہے، اس لئے نظریاتی لیبلز سے اوپر اٹھ کر جائزہ

Read more

غور و فکر کی معدومیت

جس طرح زندگی کے ہر پہلو میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، اسی طرح ہمارا دنیا کو دیکھنے کا طریقہ کار اور نقطہ نظر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ انسان کی سماجی تاریخ اس تبدیلی اور جمود کی حالتوں کی جدلیات سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔ جس دور میں آج ہم رہ رہے ہیں اس کو انفارمیشن اور ڈیجیٹل کا دور کہا جاتا ہے۔ اس میں معلومات اور اشیا با آسانی میسر ہوتی ہیں اور نظر آتی ہیں۔ اس لئے آج

Read more

شامی اور لبنانی مسلمانوں کی دیسی اسلام پر حیرت کے قصے

پاکستان میں اپنے زمانہ طالب علمی کے دوران یوں سمجھتا تھا کہ ساری دنیا کے مسلمان پاکستانی مسلمانوں جیسے ہی ہیں۔ مگر جوں جوں دیگر غیر مسلم اور مسلم معاشروں کو دیکھنے کا موقعہ ملا اندازہ ہوا کہ میرا تصور بالکل غلط ہے۔ اس لیے اس تصور کو میں نے مسترد کر دیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پہلا والا تصور مسلمان غلط تھا تو اس کی جگہ کس تصور نے جگہ پائی ہے؟ میرے اندر پاکستانی

Read more

عورت نے ارضی و سماجی زندگی کیسے تباہ کی؟

”آرٹ ایک جھوٹ ہے جو ہمیں سچ کو پانے میں مدد دیتا ہے“ پابلو پکاسو کہا جاتا ہے کہ عورت کے قہقہے سے جنت کی مضبوط دیواروں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں، اور انہی دراڑوں سے شیطانی مخلوق سانپ بن کر جنت میں داخل ہوتے ہیں۔ اندر داخل ہوتے ہی وہ سانپ حوروں کی صورت دھار کر وہاں پر موجود ان جنتی مردوں کو گمراہ کرتی ہیں جنہوں نے عورتوں کو دنیا کی ناپاکی سے بچانے کے لیے زندگی میں

Read more

پرویز ہودبھائی کا بیان: سائنس اور سماجی ضمیر

ڈاکٹر پرویز ہودبائی پاکستان کے ایک معروف سائنسدان ہیں۔ سائنسی سوچ کی ترویج کے لیے ان کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انھوں نے ملک کے مختلف معاملات، بشمول بھٹو خاندان، کے حوالے سے اپنی آرا پیش کیں۔ بھٹو خاندان کے متعلق ان کی رائے کو بعض حلقوں نے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ تنقید زیادہ تر سیاسی حلقوں یا بھٹو خاندان کے حلقہ ارادت میں شامل لوگوں کی طرف سے کی گئی۔ میری اس

Read more

کابوس زدہ معاشرہ

لگتا ہے عقل کے معاملے میں ہم ازلی بدقسمت واقع ہوئے ہیں۔ ہمیں ہمہ وقت ایسے لوگ ہی میسر آتے ہیں جن کا غور و فکر سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا مگر فکر کا پیکر بن کر سامنے آتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم خواب غفلت سے جاگنے کی بجائے جہالت کی نیند اور مغالطوں کے دلدل میں مزید پھنستے ہی چلے جاتے ہیں۔ یاد رکھئے خرد کی نیند صرف بلاؤں کو ہی جنم دے سکتی ہے۔ اور

Read more

خواہش مرگ میں مبتلا مردار معاشرہ

پچھلے دنوں پتوکی میں ایک پاپڑ فروش کو تشدد کر کے قتل کرنے کے بعد لاش کو سامنے رکھ کر کھانے کی ویڈیو نے مذمتوں کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ مذمت کرنا بری بات نہیں، مگر یہ اس وقت کی جاتی ہے جب معاشرہ ایک وحشی حرکت کو بری سمجھے۔ جب معاشرے سے اچھا یا برے کا تصور ہی ختم ہو جائے تو مذمت چہ معنی دارد۔ ہم تووہ معاشرہ ہیں جہاں پہ انسانیت سوز اعمال ہمارے احساسات

Read more

گلگت کی باہمت عورتیں جنہیں چڑیل قرار دیا گیا

انگلستان میں زمانہ طالب علمی کے ابتدائی ایام کے دوران میں آکسفورڈ یونیورسٹی دورہ کرنے کا موقع ملا۔ دورے کے دوران ٹور گائیڈ نے یونیورسٹی کے مرکز میں ایک جگہ دکھائی جہاں پہ چار سو سال پہلے عورتوں کو چڑیل قرار دیکر ایک ستون کے ساتھ باندھ کے آگ میں جلایا جاتا تھا۔ ان عورتوں کو انگلستان میں پادری یا چڑیلوں کی تلاش پر معمور سرکاری اہلکار چڑیل ہونے کی سند جاری کرتے تھے۔ اس قبیح رسم کی آگ میں

Read more

ہماری افسر شاہی اور محکومی کی نفسیات

ایک ایسا معاشرہ جو اندر سے کھوکھلا اور باہر سے محکوم ہو، وہ ایک ایسی ذہنیت کی تشکیل کرتا ہے جو خود نفسیات کے علم کی روشنی میں کسی طور پر بھی صحت مند نہیں کہلایا جا سکتا ہے۔ محکومی کی نفسیات ایک خاص طرز فکر کو جنم دیتی ہے اور یہی لوگوں میں مختلف رویوں اور اعمال کا سبب بنتا ہے۔ یہی اعمال پھر اسی ذہنیت کو ہی تقویت بخشتے ہیں جو ان کو جنم دیتی ہے۔ یوں معاشرہ

Read more

خلائی دور کی سازشیں

کرونا ویکسینیشن کے اثرات کے متعلق لوگوں سے پتہ چلا کہ اس کے ذریعے بل گیٹس ایک چپ لگا کر ہمارے ڈی این اے سے کچھ چرانا چاہتا ہے۔ اس لئے میں نے پہلے پہل تو ویکسین لگوانے سے مکمل اجتناب برتا، مگر اپنے ہمسایہ ملک انڈیا میں کرونا کے ہاتھوں مچی تباہی دیکھ کر جان کا خوف لاحق ہو گیا تو بل گیٹس کی تمام تر سازشی ہتھکنڈوں سے آگاہی ہونے کے باوجود مجبوری میں ویکسینیشن کروا لیا۔ اور تب ہی سے مجھے عجیب و غریب تجربات و کیفیات نے گھیرا ہوا ہے۔ ان کیفیات اور تجربات نے کرونا سے متعلق نہ صرف عوام کے شکوک و شبہات کو سچ ثابت کر دیا ہے بلکہ بل گیٹس کے مشکوک ارادوں کے متعلق میرے خدشات کو بھی صحیح ثابت کیا ہے۔ لہٰذا یہ تحریر کرونا کے وبا کے دنوں میں ذہنی وبا سے متاثرہ ایک شخص کی کہانی ہے۔

Read more

مولانا وحیدالدین خان:حیات اور افکار

سکول کے زمانے میں ہم ہر شام مکتب دینیہ جاتے تھے۔ یوں ہم ہمیں دین دنیا کو سمجھے اور رہنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ اس عبادت گاہ میں ایک بڑی لائبریری موجود تھی جس میں ہم ہر روز بیٹھ کر کچھ نہ کچھ پڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس زمانے میں ہمارے لئے اردو پڑھنا تو کجا، بولنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ زبان کے معاملے میں اس نالائقی کے دور میں ایک دن مولانا وحید الدین خان کی سرپرستی میں چھپنے والا رسالہ ”الرسالہ“ ہمارے ہاتھ لگا۔

Read more

ہم آزادی سے فرار کیوں چاہتے ہیں؟

میں گھر سے نکلتا ہوں تو اپنے ڈرائیور کے سامنے مالک کا نقاب پہنتا ہوں، آفس داخل ہو کے اپنے اسسٹنٹ کے سامنے افسر کا روپ دھار لیتا ہوں اور اپنے سپروائزر کے سامنے اسسٹنٹ کا نقاب اوڑھ لیتا ہوں مگر جب دوستوں کے سامنے موجود ہوتا ہوں تو ان میں سے کوئی نقاب کام نہیں آتا۔اس لئے عہدے سے متعلق جتنے نقاب ہیں ان کو اتار پھینک دیتا ہوں۔

انسان کی ذات اندر سے کھوکھلی تب ہونے لگتی ہے جب وہ باہر کے نقاب کو اندر کی ذات پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ اس عمل میں ہوتا یوں ہے کہ باہر کا نقاب آہستہ آہستہ ہمارے اندر سرایت کر جاتا ہے۔ ہم نقاب کے تقاضے پورے کرنے میں اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ اپنی ذات کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ اس بھولپن کو معروف جرمن فلاسفر مارٹن ہائڈیگر ذات سے غفلت یا ذات کی گمنامی کا نام دیتا ہے۔

Read more

جاپانی ہرن نے مجھے کیا سبق سکھایا؟

یہ دو ہزار اٹھارہ کی بات ہے۔ میں کچھ عرصے کے لئے جاپان فیلو شپ کے لئے گیا۔ اس دوران ہر ہفتے سیمنارز اور کانفرنسوں میں اپنے مقالے پڑھنے ہوتے اور ٹاک دینا ہوتی تھی۔ جاپانی ہمارا اتنا خیال رکھتے کہ وہ ہر ہفتے جاپان میں کسی بھی جگہ جانے کا خرچہ دیتے تھے۔ ایک ایسے ہی دورے میں ہم کیوٹو شہر پہنچے۔ اس کی خبر ہماری جاپانی فیلو میچیکو کو تھی۔ انہوں نے ہمیں ان کے اپنے قصبے نارا

Read more

میں پاگل خانے میں کیوں رہتا ہوں؟

سگمنڈ فرائیڈ علم نفسیات کے ان چند مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے جدید علم نفسیات کی نہ صرف بنیاد رکھی، بلکہ ذہن انسانی کے پوشیدہ پہلوؤں کو دریافت کیا اور نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ ان کے نفسیاتی طریقہ علاج میں ایک جدت تحلیل نفسی ہے۔

فرائیڈ جب کسی نفسیاتی مریض کی تحلیل نفسی کرتا تھا تو وہ مریض کو کرسی پہ سامنے بٹھانے کی بجائے ایک صوفے پر لٹا دیتا اور خود مریض کے سر کے پیچھے اسرخ پر بیٹھ جاتا کہ مریض اس کو دیکھ نہیں پاتا تھا۔ اس تکنیک سے مریض کے خیالات کی ترسیل میں نفسیات دان مانع نہیں ہوتا تھا، اور مریض اپنے لاشعوری خیالات کا بلاجھجھک اظہار کرتا تھا۔

Read more

پرانوں کے چبائے ہوئے نوالے چبانا کیسا ہے؟

ہر فکر، فکر فردا ہوتی ہے!

بے شک فکر اپنے زمان اور مکان میں پنپتی ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ انسان اپنے ذہنی افق کو وسیع کرتا جاتا ہے۔ یوں انسانی ذہن اپنے زمان اور مکان کے حدود سے ماورا ہو کر سوچنے کا اہل بن جاتا ہے۔ فلسفے کو اسی لئے فکر فردا بھی کہا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں اگرچہ فکر فردا مفقود ہے لیکن ماضی کے خیالات و افکار ہمارے ذہنوں میں اتنے راسخ ہیں کہ کسی تازہ فکر کے لئے ہمارے ذہنوں میں جگہ ہی باقی نہیں رہی ہے۔ باقی رہا سوال حال کے متعلق ہمارے خیالات کا، تو یہاں بھی سوچ اور غور و فکر کی زمین بنجر ہی نظر آتی ہے کیونکہ حال اتنا بے حال ہے کہ اس میں فردا کی فکر سرے سے ہی موجود نہیں۔

Read more